امریکا: جوبائیڈن کی تقریب حلف برادری کے دوران ہنگاموں کے پیش نظر سیکیورٹی سخت

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2021

ای میل

دارالحکومت میں 15 ہزار تک اہلکار تعینات کیے جاییں گے—فائل فوٹو: رائٹرز
دارالحکومت میں 15 ہزار تک اہلکار تعینات کیے جاییں گے—فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی خفیہ ایجنسیوں کے انتباہ کے بعد ملک بھر میں نئے صدر کی تقریب حلف برادری سے قبل ہی سخت سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کرلیے گئے۔

امریکا کے 46 ویں صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برادری آئندہ ہفتے 20 جنوری کو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے علاقے کیپیٹل ہل میں ہوگی۔

جوبائیڈن کی تقریب حلف برادری کیپیٹل ہل میں واقع نیشنل ہال اور کیپیٹل بلڈنگ کے درمیان ہوگی۔

نئے صدر کی تقریب حلف برادری عین اس علاقے میں ہوگی، جہاں پر گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے حملہ کرکے ایوان اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے تقریب حلف برادری سے قبل کیے گئے پرتشدد مظاہروں کے پیش نظر امریکی فیڈرل انٹیلی جنس بیورو (ایف بی آئی) سمیت دیگر خفیہ اداروں نے وہاں پھر سے پرتشدد مظاہروں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سیکیورٹی سمیت دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق جوبائیڈن کی تقریب حلف برادری کے موقع پر نہ صرف کیپیٹل ہل بلکہ پورے امریکا میں پرتشدد مظاہروں کا خطرہ ہے۔

تقریب حلف برادری کی جگہ پر انتظامات کو حتمی شکل دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے—فوٹو: اے پی
تقریب حلف برادری کی جگہ پر انتظامات کو حتمی شکل دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے—فوٹو: اے پی

ایف بی آئی کی جانب سے جاری کیے گئے انتباہ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی تمام ہی 50 ریاستوں میں 16 سے 20 جنوری جب کہ دارالحکومت واشنگٹن میں 17 سے 20 جنوری کے درمیان کسی وقت بھی ہنگامے پھوٹ سکتے ہیں۔

اسی حوالے سے خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا کہ ایف بی آئی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی تقریب حلف برادری کے دوران گزشتہ ہفتے کیپیٹل ہل میں کیے جانے والے ہنگاموں سے زیادہ خطرناک مظاہرے کر سکتے ہیں۔

ایف بی آئی سمیت دیگر اداروں کی رپورٹس کے بعد ہوم لینڈ سیکیورٹی نے سیکیورٹی کے انتظامات سخت کرتے ہوئے دارالحکومت میں 15 ہزار نیشنل سیکیورٹی گارڈ بھجوا دیے جب کہ وہاں پر 24 جنوری تک سیاحوں کے داخل ہونے پر بھی پابندی عائد کردی۔

نیشنل گارڈ عہدیداروں کے مطابق ابتدائی طور پر کیپیٹل ہل کے علاقے میں 10 ہزار گارڈز تعینات کیے جائیں گے اور مزید 5 ہزار اہلکار کسی وقت بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا، 4 افراد ہلاک

دوسری جانب دارالحکومت واشنگٹن کی مقامی انتظامیہ کے مطابق تقریب حلف برادری کے پیش نظر 11 سے 24 جنوری تک کیپیٹل ہل کے علاقے میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی ہوگی۔

جوبائیڈن 20 جنوری کو حلف اٹھائیں گے—فوٹو: اے پی
جوبائیڈن 20 جنوری کو حلف اٹھائیں گے—فوٹو: اے پی

عام طور پر کیپیٹل ہل کا علاقہ سیاحوں کے لیے کھلا رہتا ہے اور تقریب حلف برادری دیکھنے کے لیے پورے امریکا سے لوگ آتے ہیں، تاہم اس بار ہنگاموں کے پیش نظر بہت زیادہ افراد تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

کیپیٹل ہل کے علاقے میں ہی امریکی کانگریس اور ایوان زیریں سمیت سپریم کورٹ اور اہم سرکاری عمارتیں ہیں اور اسی جگہ نئے صدر کی تقریب حلف برادری ہوگی۔

خوف زدہ نہیں ہوں، جوبائیڈن

فرانسیسی نشریاتی ادارے فرانس 24 نے اسی حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نو منتخب صدر جوبائیڈن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقریب حلف برادری میں پرتشدد مظاہروں کی اطلاعات سے خوف زدہ نہیں۔

جوبائیڈن نے تقریب حلف برادری میں ہنگاموں کی اطلاعات پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کی زندگی داؤ پر لگانے والوں کا کڑا احتساب ہونا چاہیے، تاہم انہوں نے براہ راست ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہیں لیا۔

کیپیٹل ہل کے علاقے میں سیاحوں کی آمد پر پابندی عائد کردی گئی—فوٹو: اے پی
کیپیٹل ہل کے علاقے میں سیاحوں کی آمد پر پابندی عائد کردی گئی—فوٹو: اے پی