کراچی میں شدید گرمی، لوڈشیڈنگ نے عوام کا برا حال کردیا

اپ ڈیٹ 06 اگست 2020

ای میل

کے الیکٹرک کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ شہر بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی — تصویر: کے الیکٹرک ویب سائٹ
کے الیکٹرک کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ شہر بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی — تصویر: کے الیکٹرک ویب سائٹ

شہر قائد میں جہاں شدید گرمی اور حبس کا راج ہے ایسے میں شہر کو بجلی فراہم کرنے وال کمپنی کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کا جینا اجیرن کردیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے بن قاسم پاور پلانٹ کے یونٹ میں فنی خرابی کے باعث شہر کو فراہم کی جانے والی 130 میگا واٹ بجلی تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔

تاہم آج جاری بیان میں کے الیکٹرک انتظامیہ نے بتایا کہ بی کیو پی ایس-2 پر بجلی کی پیداواری صلاحیت مکمل طور پر بحال ہے البتہ گھارو کے ونڈ کوریڈور سے 120 میگاواٹ کے قریب بجلی کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے۔

بجلی کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت اور نمی میں اضافے سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، رسد اور طلب میں بڑھتے ہوئے فرق کے باعث لوڈ مینجمنٹ کے تحت لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کے-الیکٹرک کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو وفاق اس کا کنٹرول حاصل کرلے گا، اسد عمر

اس سے قبل کے الیکٹرک کی جانب سے گزشتہ روز جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ پاور پلانٹ پر مرمتی کام جاری ہے اور لوڈ متوازن رکھنے کے لیے شہر میں اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

تاہم شہریوں کی جانب سے طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی شکایات سامنے آئیں، خاص کر کے کے الیکٹرک نے شہر کے بیشتر علاقوں میں آدھی رات کو بجلی کا سلسلہ منقطع کیا جس کے باعث شہریوں کا سکون برباد ہوگیا۔

خیال رہے کہ محکمہ موسمیات نے شہر میں آج شدید گرمی اور محسوس ہونے والا درجہ حرارت 41 سے 42 ڈگری ہوجانے کی پیش گوئی کی تھی تاہم موسم کا حال بتانے والی ویب سائٹس کے مطابق آج شہر میں گرمی کی شدت 45 ڈگری تک محسوس کی گئی۔

شدید گرمی کے موسم میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بندش پر شہری بلبلا اٹھے اور علی الصبح کے الیکٹرک کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا جس میں شہری بجلی کمپنی پر اپنی بھڑاس نکالتے نظر آئے۔

مزید پڑھیں: لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ: نیپرا نے کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

پاور پلانٹ بند ہونے کی وجہ سے کراچی میں بجلی کی طلب رسد میں فرق 400 میگاواٹ تک پہنچ گیا تھا اور لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی 3 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

کے الیکٹرک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ شہر بھر میں کسی قسم کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی اور کچھ مستثنیٰ علاقوں میں عارضی لوڈمینجمنٹ کے تحت لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

تاہم ڈان نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے بی کیو پی ایس پاور پلانٹ پر شیڈول کے مطابق مرمتی کام کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا کا کراچی میں لوڈشیڈنگ کی انکوائری کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ

انہوں نے مزید کہا کہ صارفین کی سہولت کے لیے لوڈشیڈنگ کا شیڈول ویب سائٹ پر موجود ہے جبکہ رجسٹرڈ صارفین کو 8119 ایس ایم ایس سروس کے ذریعے اطلاع بھی دی جاتی ہے۔

کے الیکٹرک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بجلی سے متعلق شکایات کے لیے صارفین 118 کال سینٹر یا 8119 پر ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔

وفاقی حکومت کی تنبیہہ

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی کے الیکٹرک کی جانب سے شہر میں بجلی کی آنکھ مچولی کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہوگئے تھے جس کے بعد ملک میں بجلی کے ریگولیٹر ادارے نیپرا اور وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیا تھا۔

شہر میں بجلی کی بندش پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں، صارفین کے غصے اور کے الیکٹرک کی خراب کارکردگی کے بعد وزیراعظم نے اپنی ٹیم کو کمپنی انتظامیہ سے ملاقات کرنے اور کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کی ہدایت کی تھی۔

وزیراعظم کی ہدایات کے ایک روز بعد وفاقی وزیر اسد عمر کراچی پہنچے اور گورنر سندھ کے ہمراہ کے الیکٹرک انتظامیہ سے ملاقات کی اور انہیں سخت تنبیہ کی کہ اگر ادارہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہا تو حکومت اسے اپنی تحویل میں لے سکتی ہے۔

کے الیکٹرک کو نیپرا کا نوٹس

دوسری جانب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کی انکوائری کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

بعدازاں 23 جولائی کو نیپرا نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ کے معاملے پر 'کے الیکٹرک' کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کے الیکٹرک سے 15 روز میں جواب طلب کیا تھا۔

کے الیکٹرک کی کوتاہیاں/خلاف ورزیاں

نیپرا نے کہا تھا کہ تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر تقریباً ایک درجن خلاف ورزی کے الیکٹرک کی جانب سے متعدد خلاف ورزیاں اور کوتاہیاں پائی گئیں جس میں سے چند درج ذیل ہیں:

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کے الیکٹرک کا بجلی پیدا کرنے کا لائسنس واضح کرتا ہے بی کیو پی ایس ون کے لیے ایک لاکھ 20 ہزار ٹن فرنس آئل ذخیرہ کرنے کے لیے 6 اسٹوریج ٹینکس موجود ہوں لیکن تفتیشی ٹیم کو اس قسم کا کوئی ذخیرہ نہیں ملا۔

دوسرا لائسنس کے مطابق بی کیو پی ایس ون کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت ایک ہزار 104 میگا واٹ ہے لیکن ہر گھنٹے کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تو اس میں یہ بات سامنے آئی کہ بی کیو پی ایس ون کو کم استعمال کیا جارہا ہے اور صرف 915 میگا واٹ بجلی بنائی جارہی ہے۔

تیسرا کے الیکٹرک کا اپنا پاور پلانٹ بی پی کیو ایس ون پلانٹ کم بجلی پیدا کررہا ہے اور اس کی وجہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے مشینیں خراب ہونا بتائی گئی حالانکہ نیپرا نے ملٹی ایئر ٹیرف کے تحت 25 ارب روپے کے مینٹیننس اخراجات منظور کر رکھے ہیں۔

چوتھا کے الیکٹرک کراچی میں بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے دسمبر 2019 تک بی پی کیو ایس تھری کو فعال کرنے کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔

پانچواں کمپنی نیپرا کی واضح ہدایات کے باوجود پیداواری پلانٹ کو مسلسل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ گیس فراہمی کے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا۔

چھٹا کے الیکٹرک مقررہ وقت میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو ایندھن کا آرڈر دینے میں ناکام رہی۔

ساتواں کے الیکٹرک صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے ٹپال اور گل احمد کے ساتھ کیے گئے انرجی پرچیز ایگریمنٹ پر عمل کرنے میں بھی ناکام رہی۔

آٹھواں کے سی سی پی پی اور پی کیو پی ایس ٹو، دونوں بجلی گھر پیداواری لائسنس کے تحت قدرتی گیس، ڈیزل یا آر ایل این جی استعمال کرسکتے ہیں جس کا انفرا اسٹرکچر بھی موجود ہے لیکن کے الیکٹرک نے دونوں پلانٹس کو متبادل ایندھن پر نہیں چلایا اور لائسنس کی ایک اور خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی۔