لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ: نیپرا نے کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

اپ ڈیٹ 24 جولائ 2020

ای میل

جواب جمع نہ کرانے پر کے الیکٹرک کے خلاف یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، نیپرا — فائل فوٹو / کے الیکٹرک ویب سائٹ
جواب جمع نہ کرانے پر کے الیکٹرک کے خلاف یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، نیپرا — فائل فوٹو / کے الیکٹرک ویب سائٹ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ کے معاملے پر 'کے الیکٹرک' کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

شوکاز نوٹس تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں جاری کیا گیا ہے اور کے الیکٹرک سے 15 روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

نیپرا کا کہنا ہے کہ جواب جمع نہ کرانے پر کے الیکٹرک کے خلاف یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور یہ سمجھا جائے گا کہ کے الیکٹرک کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں اور کیوں نہ کے الیکڑک کے خلاف لوڈشیڈنگ پر کارروائی شروع کی جائے۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کے پاس کے الیکٹرک کا لائسنس معطل یا منسوخ کرنے، جرمانہ اور اضافی جرمانہ عائد کرنے کا اختیار ہے۔

اتھارٹی نے کہا کہ کے الیکٹرک نے اپنے پاور پلانٹس کم صلاحیت پر چلائے اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافے میں ناکام رہا۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا تحقیقات کی روشنی میں کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

نوٹس میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک بجلی کی ترسیل کے نظام کو محفوظ بنانے، بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور اپنے لائسنس کی شرائط پر عملدرآمد میں مسلسل ناکام رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیپرا نے کہا کہ تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر تقریباً ایک درجن خلاف ورزی کے الیکٹرک کی جانب سے متعدد خلاف ورزیاں اور کوتاہیاں پائی گئیں جس میں سے چند درج ذیل ہیں:

رپورٹ میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک کا بجلی پیدا کرنے کا لائسنس واضح کرتا ہے بی کیو پی ایس 1 کے لیے ایک لاکھ 20 ہزار ٹن فرنس آئل ذخیرہ کرنے کے لیے 6 اسٹوریج ٹینکس موجود ہوں لیکن تفتیشی ٹیم کو اس قسم کا کوئی ذخیرہ نہیں ملا۔

دوسرا لائسنس کے مطابق بی کیو پی ایس1 کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت ایک ہزار 104 میگا واٹ ہے لیکن ہر گھنٹے کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تو اس میں یہ بات سامنے آئی کہ بی کیو پی ایس1 کو کم استعمال کیا جارہا ہے اور صرف 915 میگا واٹ بجلی بنائی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: کے-الیکٹرک کا گیس فراہمی میں کمی کا دعویٰ جھوٹا ہے، سوئی سدرن

تیسرا کے الیکٹرک کا اپنا پاور پلانٹ بی پی کیو ایس 1 پلانٹ کم بجلی پیدا کررہا ہے اور اس کی وجہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مشینیں خراب ہونا بتائی گئی حالانکہ نیپرا نے ملٹی ایئر ٹیرف کے تحت 25 ارب روپے کے مینٹیننس اخراجات منظور کر رکھے ہیں۔

چوتھا کے الیکٹرک کراچی میں بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے دسمبر 2019 تک بی پی کیو ایس3 کو فعال کرنے کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔

پانچواں کمپنی نیپرا کی واضح ہدایات کے باوجود پیداواری پلانٹ کو مسلسل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹیڈ کے ساتھ گیس فراہمی کے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا۔

چھٹا کے الیکٹرک مقررہ وقت میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو ایندھن کا آرڈر دینے میں ناکام رہی۔

ساتواں کے الیکٹر صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے ٹپال اور گل احمد کے ساتھ کیے گئے انرجی پرچیز ایگریمنٹ پر عمل کرنے میں بھی ناکام رہی۔

آٹھواں کے سی سی پی پی اور پی کیو پی ایس 2 دونوں بجلی گھر پیداواری لائسنس کے تحت قدرتی گیس، ڈیزل یا آر ایل این جی استعمال کرسکتے ہیں جس کا انفراسٹرکچر بھی موجوف ہے لیکن کے الیکٹرک نے دونوں پلانٹس کو متبادل ایندھب پر نہیں چلایا اور لائسنس کی ایک اور خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی۔

کے الیکٹرک نے نیپرا کا شوکاز نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت میں ریگولیٹر کے نوٹس پر جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کراچی میں مستقل لوڈشیڈنگ کی تحقیقات کے لیے نیپرا کی جانب سے قائم کمیٹی نے دو روز قبل اپنی رپورٹ جمع کرائی تھی جس کی روشنی میں کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ چند ہفتوں سے شدید گرم اور مرطوب موسم میں کراچی کے مکینوں اور تاجروں کو طویل دورانیے کی بجلی کی بندش اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے علاوہ کے-الیکٹرک کی جانب سے زائد بلنگ کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

توانائی کی تقسیم کار کمپنی نے بجلی کی بندش کو طلب و رسد میں فرق اور فرنس آئل کی قلت سے منسلک کیا تھا۔

شہر میں جاری بجلی کی طویل بندش اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں توانائی کمپنی نے بجلی کی طلب میں اضافے، فرنس آئل کی کمی اور ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کی فراہمی میں 50 ایم ایم سی ایف ڈی کمی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر بجلی کی فراہمی 3 ہزار 150 میگا واٹ سے کم ہو کر 2800 میگا واٹ رہ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: نیپرا کا کراچی میں لوڈشیڈنگ کی انکوائری کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ

تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے-الیکٹرک کے دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے کہا تھا کہ ’کے-الیکٹرک جھوٹا دعویٰ کررہی ہے کہ ایس ایس جی سی نے گیس کی فراہمی کم کردی ہے‘۔

دوسری جانب وزارت توانائی نے کے-الیکٹرک کی جانب سے کراچی میں بجلی کی طویل بندش کو مارکیٹ میں فرنس آئل کی کمی کا ذمہ دار قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیاں اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

9 جولائی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا تھا کہ کراچی میں بجلی کی ترسیل اور منتقلی کے نظام میں جو تبدیلی لانی تھی وہ نہیں لائی گئی اور کہا تھا کہ کراچی میں بجلی کی تقسیم اور ترسیل کے نظام میں بہتری کے منصوبوں پر ریکارڈ مدت میں عملدرآمد ہوگا۔

بعد ازاں 10 جولائی کو نیپرا نے اس حوالے سے عوامی سماعت کے بعد کراچی میں لوڈشیڈنگ کی انکوائری کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

دوسری جانب کراچی میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے کے-الیکٹرک کے دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ بھی لگایا، جبکہ گزشتہ روز جماعت اسلامی نے بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف شہر کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا تھا اور 11 جولائی کو شاہراہ فیصل پر دھرنا بھی دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا کا کراچی میں زیادہ لوڈشیڈنگ کی شکایات پر عوامی سماعت کا فیصلہ

11 جولائی کو کراچی میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسدعمر نے کہا تھا کہ کراچی میں 12 جولائی (بروز اتوار) سے غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔

ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ حکومتی ارکان نے کے الیکٹرک کو خبردار کیا تھا کہ اگر ادارہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہا تو حکومت اسے اپنی تحویل میں لے سکتی ہے۔

تاہم اسد عمر کے دعوے کے برعکس شہر بھر میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔