سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا

اپ ڈیٹ 06 اگست 2020

ای میل

15 رکنی ان کیمرا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ہوا۔ فائل فوٹو:یو این ایس سی ویب سائٹ
15 رکنی ان کیمرا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ہوا۔ فائل فوٹو:یو این ایس سی ویب سائٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور 5 اگست 2019 کو پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا کہ 15 رکنی ان کیمرا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ہوا۔

شاہ محمود قریشی نے اس ملاقات کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایک سال میں ہونے والا یہ تیسرا اجلاس بھارت کے اس دعوے کی مکمل تردید ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے، اجلاس نے غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توثیق کی تصدیق کردی ہے'۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے آئینی دہشت گردی کی، راجا فاروق

چین جو سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، نے مقبوضہ وادی میں بھارت کے مظالم سے متعلق عالمی برادری کے خدشات کی نشاندہی کرنے کے لیے اس اجلاس کو منعقد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور تمام 15 ممبران نے اس مباحثے میں حصہ لیا۔

اگست میں کونسل کی صدارت رکھنے والے انڈونیشیا کے سفیر ڈیان تریانسیہ دجانی نے اجلاس کی صدارت کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج، جب دنیا نے بھارت کے کشمیر پر غیر قانونی قبضے کا ایک سال دیکھ لیا ہے، پاکستان یو این ایس سی کے اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی برادری اور یو این ایس سی کے ممبران کی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہے جو بھارتی فوج کے محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس اجلاس سے ظاہر ہوا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی پامالی اور انسانیت کے خلاف جرائم عالمی برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'پاکستان آج کے اجلاس کے انعقاد میں تعاون کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام ممبران بالخصوص چین کا شکر گزار ہے'۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں سے خطے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، بھارت بھی مسلم اکثریتی خطے کی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'بھارتی لابنگ کے باوجود آج کے مباحثے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقیم امن، سلامتی اور انسانی حقوق کے لیے عالمی برادری کی شدید تشویش کی عکاسی ہوتی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: جموں و کشمیر کی کہانی ایک کشمیری کی زبانی

جب کونسل غیر قانونی بھارتی کارروائی پر بحث کر رہا تھا تو ایل او سی کے دونوں اطراف کے کشمیری مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔

انہوں نے عالمی ادارہ پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے رپورٹ تیار کرنے کے لیے ایک وفد کشمیر بھیجے۔

انہوں نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ وہ 5 اگست 2019 سے لے کر اب تک کی جانے والی تمام غیر قانونی کارروائیوں کو واپس لے اور کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے دیں۔

امریکا میں مقیم کشمیری گروہ نے 8 لاکھ کشمیریوں کے دکھوں کو اجاگر کرنے کے لیے نیو یارک کے معروف ٹائمز اسکوائر میں شمع جلائے۔