مطیع اللہ جان اغوا کیس سے متعلق پولیس رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

اپ ڈیٹ 06 اگست 2020

ای میل

صحافی مطیع اللہ جان کو 21 جولائی کو دن دہاڑے اغوا کرلیا گیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک
صحافی مطیع اللہ جان کو 21 جولائی کو دن دہاڑے اغوا کرلیا گیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے رپورٹ جمع کروائی ہے کہ انہیں صحافی کے اغوا سے پردہ اٹھانے کے لیے مختلف محکموں سے طلب کی گئی معاونت پر جواب کا انتظار ہے۔

یہ بات انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس عامر ذوالفقار خان کی جانب سے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) نے سپریم کورٹ میں 52 صفحات پر مشتمل جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اس واقعے میں ملوث مجرمان کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں اس سلسلے میں مزید تحقیقات کے لیے مختلف محکموں سے رپورٹ کا انتظار ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے 'اغوا'

اپنی رپورٹ میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس (انویسٹی گیشن) کی سربراہی میں 5 رکنی خصوصی تفتیشی ٹیم صحافی کے اغوا کی تفتیش کررہی ہے اور اغوا کے فوراً بعد پولیس نے وزارت دفاع سے انٹیلی جنس بیورو، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹر سروسز اٹیلیجنس کے ذریعے ان کا پتا لگانے کی درخواست کی تھی تا کہ تحقیقات میرٹ پر کی جائیں۔

رپورٹ کے مطابق تفتیشی افسر نے وفاقی دارالحکومت کے تمام ہسپتالوں، ایدھی سینٹرز، ہیلتھ سیکریٹری، پریس کلب انچارج، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کمشیر کے آئی جیز پاکستان ریلویز، سیکریٹری فاٹا اور جیل خانہ جات کو خطوط ارسال کردیے تھے۔

خطوط میں درخواست کی گئی تھی کہ متعلقہ عملے سے اپنے ادارے کا ریکارڈ چیک کرنے کا کہا جائے اور اگر کوئی کام کی معلومات حاصل ہو تو مقامی پولیس کو اطلاع دی جائے تا کہ اس سلسلے میں قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے۔

مزید پڑھیں: صحافی مطیع اللہ جان گھر واپس پہنچ گئے

رپورٹ میں کہا گیا کہ اغوا کاروں کا سراغ لگانے کے لیے سپرنٹنڈنٹ پولیس (انویسٹی گیشنز) کو بھی جائے وقوع کی جیو فینسنگ کرنے کی تحریری ہدایات دی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ آس پاس کے تمام اضلاع کے تھانوں کو بھی وائرلیس کے ذریعے پیغام دیا گیا تھا کہ کہیں صحافی ان کی حدود میں کسی کیس میں ملوث تو نہیں لیکن پولیس رپورٹ کے مطابق صحافی پر کوئی مقدمہ نہیں تھا نہ ہی انہیں مقامی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعلقہ حلقوں کو صحافی کے موبائل فون کا سی ڈی آر حاصل کرنے کی بھی درخواست کی گئی تھی اس کے ساتھ جائے وقوع کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے لیے سیف سٹی پروجیکٹ کے ڈائریکٹر کو درخواست بھیجی گئی جو اب تک زیر التوا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مبینہ ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو ارسال کی گئی تا کہ ملزمان کی شناخت کی جاسکے اور اس پر بھی اب تک کام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مطیع اللہ جان کا اغوا: کس کی اتنی ہمت ہے کہ پولیس کی وردی میں یہ کام کیا، عدالت

پولیس نے یقین دہانی کروائی کہ اس جرم میں ملوث تمام ملزمان کا سراغ لگا کر گرفتار کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں کوئی غفلت نہیں برتی جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم کے اراکین کو واقعے کے تفتیش سے متعلق پیش رفت سے روزانہ کی بنیاد پر حکام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پولیس ڈپارٹمنٹ اور تحقیقاتی ٹیم کے اراکین اغوا ہونے والے صحافی اور دیگر محکموں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر کوشش کی جائے گی۔

یاد رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت سے ایک روز قبل 21 جولائی کو دن دہاڑے اغوا کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس، پولیس سے رپورٹ طلب

تاہم صحافیوں، سول سوسائٹی اراکین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب اس معاملے پر زور و شور سے آواز اٹھانے پر انہیں رات گئے رہا بھی کردیا گیا تھا۔

جس کے اگلے روز وہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت میں پیش ہوئے، سماعت میں چیف جسٹس پاکستان پر مشتمل 3 رکنی پینچ نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو اغوا کے واقعے سے متعلق صحافی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کی تھی۔


یہ خبر 6 اگست 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔