ہاتھی درآمد کرنے کیلئے کمپنی کا سپریم کورٹ سے رجوع

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2020

ای میل

کمپنی کا کہنا تھا کہ اسکا ملک بھر کے مختلف چڑیا گھروں کے لیے جانور درآمد کرنے اور ان کی نقل و حمل کا خاصہ تجربہ ہے—فائل فوٹو:اے ایف پی
کمپنی کا کہنا تھا کہ اسکا ملک بھر کے مختلف چڑیا گھروں کے لیے جانور درآمد کرنے اور ان کی نقل و حمل کا خاصہ تجربہ ہے—فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان میں ایک چڑیا گھر کے لیے ہاتھیوں کی درآمدات سے متعلق تنازع سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق محمد حنیف اینڈ انجینئر کنسٹرکشن لمیٹڈ نامی ایک کمپنی نے پشاور ہائی کورٹ میں سبزی خور ممالیہ جانوروں کی درآمد کے لیے درخواست دائر کی تھی جو مسترد ہوگئی تھی، چنانچہ کمپنی نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ کمپنی نے ہاتھیوں کی درآمد کے لیے 2019 میں پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت کے دوران وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ درخواست گزار کو ایک ماہ کے عرصے میں تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) جاری کردیا جائے گا۔

وکیل کے مطابق جب ایسا نہ ہوا تو درخواست گزار نے 2020 میں ہائی کورٹ میں دوبارہ درخواست دی تا کہ ہائی کورٹ کے 4 فروری 2020 کو جاری کیے گئے فیصلے میں کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کروایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا جلد محروم ہوجائے گی ان زبردست جانوروں سے

تاہم دوسری درخواست ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کردی کہ حکومت نے کوئی توہین عدالت نہیں کی۔

درخواست میں وضاحت کی گئی کہ درخواست گزار ایک رجسٹرڈ کمپنی ہے اور اس کا ملک بھر کے مختلف چڑیا گھروں کے لیے جانور درآمد کرنے اور ان کی نقل و حمل کا خاصہ تجربہ ہے۔

درخواست کے مطابق کمپنی نے پشاور چڑیا گھر کے لیے سامبر ہرن، بارکنگ ہرن، دو کوہان والے اونٹ، زیبرا، چیتا اور ہاتھی درآمد کرنے کے لیے نیلامی کے عمل میں حصہ لیا تھا۔

نیلامی کے عمل کے دوران کمپنی کو کامیاب قرار دیا گیا تھا اور اس کی لگائی گئی بولی کو متعلقہ حکام نے قبول کرلیا تھا۔

بعدازاں رسمی کارروائیاں پوری کرنے کے بعد درخواست گزار کو پشاور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر نے ان جانوروں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہمارے ماحول کی بقا کے ضامن جنگلی حیات خطرے میں

جس پر درخواست گزار نے مقامی طور پر کچھ جانوروں کا انتظام کر کے انہیں فراہم کردیا تھا تاہم زیبرے اور چیتے کو جوہانسبرگ (جنوبی افریقہ) سے درآمد کرنا تھا جس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ پشاور چڑیا گھر سے باقاعدہ این او سی جاری کیا تھا۔

درخواست کے مطابق اس کے بعد درخواست گزار نے چڑیا گھر کے لیے بہترین ہاتھی کی تلاش میں یوگنڈا، کینیا، جنوبی افریقہ اور زمبابوے کا دورہ کیا اور زمبابوے حکومت نے نہ صرف پاکستان کو جانور فراہم کرنے پر اتفاق کیا بلکہ اس کے نمائندوں نے پشاور چڑیا گھر کے ماحول کا جائزے لینے کے لیے دورہ بھی کیا تھا۔

چنانچہ زمبابوے حکومت کی طے کردہ ضروری کارروائیوں کو پورا کرنے کے بعد درخواست گزار کو صوبائی حکومت کے ذریعے ہاتھیوں کی نقل و حمل کی اجازت دی گئی جس کے لیے وفاقی حکومت کا این او سی درکار تھا۔

درخواست کے مطابق 6 نومبر 2019 کو درخواست گزار کو ہاتھیوں کی نقل و حمل کے لیے سی آئی ٹی ای ایس (نایاب جانوروں کی بین الاقوامی تجارت سے متعلق کنوینش) کی جانب سے بھی اجازت مل گئی تھی لیکن وزارت ماحولیاتی تبدیلی سے بغیر کسی جواز کے اس میں تاخیر کی۔

یہ بھی پڑھیں: بقا کی جنگ لڑنے والی جنگلی حیات کا ریکارڈ مرتب کرنے کا آغاز

درخواست گزار نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنی پٹیشن میرٹ پر نہیں نمٹائی جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کی سستی کی وجہ سے درخواست گزار کی سرمایہ کاری پر بھاری ضرب پڑی۔

چنانچہ سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالمی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے وزارت ماحولیاتی تبدیلی، آئی جی جنگلات، خیبرپختونخوا کے محکمہ جنگلاتی ماحول اور جنگی حیات کے سیکریٹری کے علاوہ ڈائریکٹر پشاور چڑیا گھر اور کے پی میں چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف کو نوٹسز جاری کردیے۔