لاہور: ’ریپ‘ کے بعد 7 سالہ بچی کی زندگی کیلئے جنگ جاری

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2020

ای میل

بچی کی حالت غیر ہونے پر ملزم وہاں سے فرار ہوگیا  تھا—فائل فوٹو: رائٹرز
بچی کی حالت غیر ہونے پر ملزم وہاں سے فرار ہوگیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز

لاہور:نواب ٹاؤن کے علاقے میں ایک دکاندار کی جانب سے 7 سالہ بچی کے مبینہ طور پر ریپ کے بعد اس کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بچی کے والد کی شکایت پر 35 سالہ ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

مذکورہ واقعہ لالازار کالونی میں اس وقت پیش آیا جب بچی کچھ چیزیں لینے کے لیے دکان پر گئی تھی۔

مزید پڑھیں: کشمور واقعہ: متاثرہ بچی متعدد انفیکشنز کا شکار

ایف آئی آر کے مطابق ملزم بچی کو دکان کے ایک حصے میں لے گیا جہاں اس نے بندوق کے زور پر مبینہ طور پر اس کا ریپ کیا اور اسے تشویشناک حالت میں دیکھ کر وہیں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

بعد ازاں بچی کے والد کو جب واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر اسے ہسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز نے اس پر ہونے والے ظلم کی تصدیق کی۔

علاوہ ازیں والد کی جانب سے پولیس کو مطلع کیا گیا جس پر مشتبہ ریپسٹ کے ٹھکانے پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ ملک میں گزشتہ کچھ عرصے سے بچوں کے ریپ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جبکہ اس سلسلے میں حکومت آرڈیننس پیش کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے تاکہ ایسے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے۔

12 نومبر کو صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے علاقے بلال کالونی میں مبینہ طور پر اغوا کے بعد جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بننے والا 4 سالہ بچہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں دوران علاج دم توڑ گیا تھا۔

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 4 سالہ بچہ بلال کالونی میں اپنے گھر سے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے باہر گیا اور تھوڑی دیر بعد بے ہوشی کے حالت میں ملا، اس کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی تھے اور پیشاب میں خون بھی آیا۔

قبل ازیں سندھ کے ضلع کشمور میں ایک ملزم نے نوکری کا جھانسہ دے کر کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون اور ان کی کمسن بیٹی کو کشمور بلانے کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: احساس پروگرام کے کلرک نے رجسٹریشن کیلئے آنے والی کمسن لڑکی کا ’ریپ‘ کردیا

بعد ازاں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی کو قومی ادارہ برائے اطفال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کردیا گیا تھا۔

این آئی سی ایچ کے سربراہ پروفیسر جمال رضا کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ بچی کے اعضائے رئیسہ بہتر حالت میں ہیں اور بچی وینٹی لیٹر کے بغیر سانس لے پارہی ہے لیکن وہ متعدد خطرناک جان لیوا انفیکشنز کا شکار ہے، مزید یہ کہ صورتحال دوسری سمت میں جاسکتی ہے کیونکہ یہ وائرس پورے جسم میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘۔