جب پاکستان ورلڈ چیمپیئن بنا

وسیم کی جانب سے ایلن لیمب اور کرس لوئس کو کرائی گئی لگاتار دو گیندوں نے وکٹیں اکھاڑ پھینکیں اور انگلش ٹیم سنبھل نہ سکی
اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020 06:18pm

87 ہزار سے زائد تماشائیوں سے بھرے میلبورن کرکٹ اسٹیڈیم میں ہرسوسبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا اور پاکستان زندہ باد کے نعروں نے پورے گراؤنڈ میں ایک سماع سا باندھ رکھا تھا۔ ایک طرف فتح کے متمنی پاکستانی شائقین کا جوش آسمان کی حدوں کو چھو رہا تھا تو دوسری جانب ایک اور ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے خوف سے پریشان برطانوی شائقین پر لرزہ طاری تھا اور وہ کسی معجزے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔

انگلینڈ کو جیت کے لیے مزید 23 رنز درکار تھے اور اس کی صرف ایک وکٹ باقی تھی، ایسے میں پاکستانی ٹیم کے قائد عمران خان نے میچ کی 599ویں گیند کرانے کے لیے بھاگنا شروع کیا، دوسری جانب گیارہویں انگلش بلے باز رچرڈ النگ ورتھ موجود تھے جنہوں نے خان کی گیند کو اونچا کھیلنے کی کوشش کی اور گیند کے فضا میں بلند ہوتے ہی گراؤنڈ اور ٹی وی پر میچ دیکھنے والے دونوں ملکوں کے لاکھوں شائقین کرکٹ کی نگاہیں رمیز راجہ پر جم گئیں جنہوں نے مڈ آف پر تاریخی کیچ پکڑنے کے ساتھ گرین شرٹس کو 22 رنز کی فتح اور دنیائے کرکٹ کے شہنشاہ کے اعزاز سے نواز دیا۔

جی ہاں یہ میچ کوئی اور نہیں، 1992 میں آسٹریلین سرزمین پر کھیلا گیا فائنل تھا جہاں یقیناً کسی معجزے کی طرح پاکستانی ٹیم نے ورلڈ چیمپیئن ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔

ایونٹ کے آغاز سے قبل ہی پاکستان کو فیورٹ کی دوڑ سے باہر کردیا گیا تھا اور ابتدائی مقابلوں کے بات یہ بات کچھ ثابت ہوتی بھی نظر آتی تھی لیکن پھر جو کچھ ہوا اس پر دنیائے کرکٹ آج تک حیران ہے۔

یہ ایونٹ اس لحاظ سے بھی یادگار تھا کہ پہلی مرتبہ کسی ورلڈ کپ میں سفید گیند، رنگ برنگی کٹ ، فلڈ لائٹس اور تھرڈ امپائر کا استعمال کیا گیا جس نے ٹورنامنٹ میں چار چاند لگا دیے اور یہی وجہ ہے 25 برس گزرنے کے باوجود یہ آئی سی سی کے کامیاب ترین ٹورنامنٹس میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

ورلڈ کپ سے قبل گرین شرٹس کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب سعید انور اور ابھرتے ہوئے اسپیڈ اسٹار وقار یونس انجری کے باعث ایونٹ سے باہر ہو گئے خصوصاً ایونٹ کے آسٹریلین اور نیوزی لینڈ کی سرزمین پر انعقاد کے سبب وقار کا اسکواڈ سے باہر ہونا کسی بڑے دھچکے سے کم نہ تھا جبکہ ایونٹ کے لیے عمران خان کی فٹنس پر بھی سوالیہ نشان برقرار تھا۔

بہرحال نوجوان کھلاڑیوں کی اکثریت سے بھرپور ٹیم ٹورنامنٹ کے لیے فیورٹ قرار دیے جانے والی ویسٹ انڈین ٹیم کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلنے آسٹریلیا کے میلبورن اسٹیڈیم پہنچی۔

میچ میں پاکستانی روایت کے برخلاف بلے بازوں نے صرف دو وکٹ کے نقصان پر 220 رنز اسکور کیے جس میں رمیز راجہ کی ناقابل شکست سنچری اور جاوید میانداد کی ففٹی قابل ذکر تھی لیکن تمام ہی حلقوں کی جانب سے آٹھ وکٹیں ہاتھ میں ہونے کے باوجود عمران الیون کے کچھوے کی رفتار سے کیے گئے رنز پر حیرانگی کا اظہار کیا گیا حالانکہ وکٹ بیٹنگ کیلئے انتہائی سازگار تھی۔

جواباً ڈیسمنڈ ہینز اور برائن لارا پر مشتمل اوپننگ جوڑی نے اپنی ٹیم کو 175 رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا اور لارا کے زخمی ہونے کے باعث پویلین لوٹنے کے باوجود ویسٹ انڈین ٹیم نے باآسانی دس وکٹوں سے کامیابی اپنے نام کر لی۔

اگلے میچ میں قومی ٹیم نے عامر سہیل کی سنچری اور میانداد کے 89 رنز کے ساتھ ساتھ وسیم اکرم کی شاندار باؤلنگ کی بدولت آسان حریف زمبابوے کے خلاف 53 سے کامیابی اپنے نام کی لیکن اگلے میچ جو کچھ ہوا اس کی شاید کسی کو امید نہ تھی۔

گزشتہ دو میچوں میں بہتر بیٹنگ فارم کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم کپتان عمران کی غیر موجودگی کا دکھ نہ جھیل سکی اور انگلش باؤلنگ کے سامنے صرف 74 رنز پر پویلین لوٹ گئی اور پھر میانداد کی زیر قیادت ایک اور میچ میں عبرتناک شکست پاکستان کی منتظر دکھائی دینے لگی۔

لیکن قسمت کی دیوی کو کچھ اور ہی منظور تھا، بارش کی مداخلت کے باعث انگلینڈ کو ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت جیت کے لیے 16 اوورز میں 64 رنز کا ہدف ملا، انگلش ٹیم نے آٹھ اوورز میں 24 رنز بنائے ہی تھے کہ آسمان سے مینہ آ برسا اور پھر ایسا برسا کہ میچ شروع نہ ہو سکا جس نے پاکستان کو ناقابل یقین قیمتی ایک پوائنٹ دلا دیا۔ کسے پتہ تھا کہ یہی ایک پوائنٹ اس ٹیم کو ورلڈ کپ کا فاتح بنا دے گا۔

سڈنی میں کھیلے جانے والے اگلے میچ کے لیے شائقین ایک عرصے سے منتظر تھے اور کیوں نہ ہوں کہ جب پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے ہوں۔ یہ پہلا موقع تھا جب ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں اور پاکستان کو 43 رنز سے شکست ہوئی، میچ میں سچن ٹنڈولکر نے 54 رنز کی شاندار اننگ کھیل کر اپنے شاندار مستقبل کی نوید سنائی۔

اس میچ میں پاکستانی اعتبار سے واحد یادگار چیز ہندوستانی وکٹ کیپر کرن مورے کے جملوں پر جاوید میانداد کا اچھوتے انداز میں اچھل کود کرنا تھا۔

اگلے میچ میں پاکستان کا مقابلہ کرکٹ کی دنیا میں واپسی کرنے والی پرعزم جنوبی افریقی ٹیم سے تھا، اس میچ میں شکست کے باوجود جونٹی رہوڈز کا انضمام الحق کو شاندار حیرت انگیز انداز میں رن آؤٹ کرنا آج بھی کرکٹ کے متوالوں کو یاد ہے۔

پانچ میچوں میں محض ایک کامیابی کے بعد گرین شرٹس کا ایونٹ سے باہر ہونا طے تھا خصوصاً ایسی صورتحال میں جب اس کا دونوں میزبانوں سے میچ کھیلنا باقی تھا لیکن اس موقع پر یہ عمران کی شاندار قائدانہ صلاحیت ہی تھی جس نے ناکامیوں کے گرداب میں پھنسی ٹیم کی کشتی کو بھنور سے نکالا اور ٹیم میں ایک نئی روح پھونک دی جبکہ یقیناً اس میں قسمت کی یاوری بھی شامل حال رہی۔

اگلے ہی میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف کسی زخمی شیر کی مانند ایونٹ میں واپسی کی عامر سہیل کی بلے بازی اور گیند بازوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت میچ میں 48 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

پھر سری لنکا کے خلاف اگلے میچ میں جاوید میانداد اور سلیم ملک کی نصف سنچریوں کی بدولت قومی ٹیم نے چار وکٹ کی فتح اپنے نام کر کے ٹورنامنٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھی لیکن اصل امتحان ابھی باقی تھا۔

پاکستان کا آخری لیگ میچ میں ٹورنامنٹ کی سب سے کامیاب ٹیم اور میزبان نیوزی لینڈ سے سامنا تھا، ایک ایسی ٹیم جس کو ابھی تک کسی بھی حریف نے شکست نہ دی تھی لیکن ہمیشہ سے ناقابل اعتبار قرار دی جانے والی ٹیم نے وسیم اکرم کی شاندار باؤلنگ کی بدولت کیویز کو صرف 166 رنز پر ٹھکانے لگادیا، اکرم نے میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں ایک موقع پر 9 رنز پر دو وکٹوں سے محروم ہونے والی ٹیم نے رمیز راجہ کی ایونٹ میں دوسری سنچری کی بدولت لگاتار تیسری فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سیمی فائنل کی دوڑ میں بھی نام شامل کر لیا لیکن اسے ایک بار پھر قسمت کی مدد درکار تھی۔

صورتحال کچھ یوں تھی کہ ویسٹ انڈیز کا آخری لیگ میچ میں آسٹریلیا سے سامنا تھا اور اس میچ میں فتح کی صورت وہ آخری ٹیم میں جگہ بنا سکتے تھے اور ایسی صورت میں پاکستان باہر ہوجاتا جبکہ دوسری جانب بدترین کارکردگی کی حامل آسٹریلین ٹیم تھی جس کی فتح کی امیدیں نہ ہونے کے برابر تھیں اور ہار یا جیت اس کے لیے کوئی معنی نہ رکھتی تھی، دونوں ہی صورتوں میں ان کا ایونٹ سے باہر ہونا پہلے سے طے تھا۔

میچ ہوا اور آسٹریلیا نے ڈیوڈ بون کی سنچری سے تقویت پاتے ہوئے 216 رنز اسکور کیے جو ویسٹ انڈین بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے ایک آسان ہدف معلوم ہوتا تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہر چیز پاکستان کے حق میں ہے۔ ایونٹ میں رنز کے انبار لگانے والی بیٹنگ لائن آسٹریلیا کے خلاف 159 رنز پر اوندھے منہ گر کر ایونٹ سے باہر ہو گئی اور اس طرح پاکستان نے ایک بار پھر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا۔

سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مارٹن کرو کے 91 رنز کی بدولت 262 رنز کا بھاری مجموعہ اسکور بورڈ کی زینت بنایا۔

جواب میں پاکستان ایک موقع پر 140 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا، اہم وکٹیں گرنے اور گیند و رنز کے بڑھتے فرق کے باعث میچ میں پاکستان کے جیتنے کی امیدیں ماند پڑتی دکھائی دینے لگیں۔

اس موقع پر مستقبل کے سپر اسٹار انضمام الحق کی میدان میں آمد ہوئی جن پر کپتان عمران خان نے خراب طبیعت کے باوجود اعتماد برقرار رکھا اورمیچ میں کھلانے کا بڑا رسک لیا، پھر یہی وہ فیصلہ تھا جو فرق ثابت ہوا۔

انضمام نے وکٹ پر آتے ہی پہلی ہی گیند سے جارحانہ بلے بازی شروع کی اور صرف 37 گیندوں پر ایک چھکے اور سات چوکوں کی مدد سے 60 رنز بنا کر بنا کر پاکستان کو فتح کی دہلیز پر پہنچا دیا اور یوں پاکستان نے ایک اوور قبل ہی ہدف تک رسائی حاصل کر کے تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا۔

ایونٹ کا دوسرا سیمی فائنل ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کے عجیب و غریب مقابلوں میں سے ایک تھا اور اس کے بعد بارش کے ڈک ورتھ لوئس قانون پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے۔

انگلینڈ کے 253 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی کامیاب انداز میں پیش قدمی جاری تھی اور اسے جیت کے لیے 13 گیندوں پر 22 رنز درکار تھے کہ اسی دوران میچ میں بارش نے مداخلت کر دی۔

جب بارش کے بعد میچ دوبارہ شروع ہوا تو صرف ایک گیند پر 22 رنز کے عجیب و غریب ہندسے نے گراؤنڈ سمیت دنیا بھر میں موجود کرکٹ شائقین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

اس متنازع قانون کی کرم فرمائی کے ساتھ ہی انگلینڈ نے پانچویں ورلڈ کپ میں چوتھی بار فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔

25 مارچ 1992 کو میلبورن اسٹیڈیم میں 87 ہزار سے زائد شائقین میچ دیکھنے کے لیے موجود تھے جہاں کپتان عمران خان نے ماضی میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے فائنل میں ہدف تک رسائی حاصل نہ کرنے کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔

صرف 24 رنز پر دونوں اوپنرز سے محروم ہونے کے بعد 1975 کا ورلڈ کپ کھیلنے والے عمران اور میانداد کریز پر یکجا ہوئے اور محتاط انداز میں بلے بازی شروع کی۔

اس موقع پر نو کے انفرادی اسکور پر عمران سے ایک غلطی سرزد ہوئی جب وہ ایک گیند کو اونچا کھیل بیٹھے لیکن ان کے انگلش ہم منصب گراہم گوچ کیچ ڈراپ کرنے کی غلطی کر بیٹھے، انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ غلطی انہیں ورلڈ کپ سے محروم کردے گی۔

عمران اور میانداد نے اسکور کو 163 تک پہنچا کر پاکستان کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا اور جب 197 کے اسکور پر عمران 72 رنز بنا کر پویلین لوٹے تو کریز پر انضمام اور وسیم اکرم کی جوڑی اکٹھا ہوئی۔

دونوں نے اختتامی اوورز میں انگلش باؤلنگ کی خوب خبر لی اور اسکور کو 249 تک پہنچا دیا، قومی بلے بازوں نے اختتامی چھ اوورز میں 52 رنز بٹورے۔

جواب میں انگلش بیٹنگ 69 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہو چکی تھی لیکن اس کے بعد نیل فیئر برادر اور ایلم لمب نے ٹیم کو سنبھالا دیا اور اسکور کو 141 تک پہنچا دیا۔

ایک ایسے موقع پر جب یہ شراکت خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی تھی، عمران خان اپنے سب سے اہم ہتھیار وسیم اکرم کو باؤلنگ کے لیے واپس لے کر آئے۔

اور پھر وسیم نے وہ کر دکھایا جس کا شاید انہوں نے خود بھی نہ سوچا ہو، پاکستان کرکٹ سے واقف شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو وسیم کی ان دونوں گیندوں سے واقف نہ ہو جنہوں نے انگلش صفوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

وسیم کی جانب سے ایلن لیمب اور پھر کرس لوئس کو کرائی گئی لگاتار دو گیندوں (جو ان کی زندگی کی بہترین گیندوں میں سے تھیں) نے وکٹیں اکھاڑ پھینکیں اور اس کے بعد انگلش ٹیم سنبھل نہ پائی۔

اننگ کے آخری اوور میں عمران کی گیند پر رمیز راجہ کے کیچ کی بدولت پاکستان نے عالمی چیمپیئن کا تاج سر پر سجا لیا۔

پاکستان میں اٹھارہ رمضان المبارک کی اس شام لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا اور دن بھر کے روزے کے باوجود لوگ افطاری کو پس پشت ڈال کر فتح کا جشن منانے میں مصروف تھے۔

اس ایونٹ میں میانداد 437 رنز کے ساتھ ایونٹ کے دوسرے کامیاب ترین بلے باز رہے جبکہ گیند بازوں میں وسیم اکرم 18 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست رہے اور مشتاق احمد نے 16 وکٹیں لے کر ان کا ساتھ نبھایا۔

چالیس سالہ عمران خان نے فاتح کپتان کی حیثیت سے ورلڈ کپ کی کرسٹل ٹرافی تھامنے کے ساتھ ہی عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے کر خود کو امر کر لیا۔

افسوسناک امر یہ کہ ماضی میں دنیا کی بڑی بڑی ٹیموں کیلئے ایک کڑی آزمائش سمجھی جانے والی ٹیم کی آج کل کارکردگی انتہائی افسوسناک ہے اور ٹی20 کے سوال گرین شرٹس کو کھیل کے دونوں بڑے فارمیٹس میں مستقل جدوجہد کا سامنا ہے۔

امید ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پاکستانی ٹیم ایک بار پھر کامیابیوں کا سفر طے کرتی ہوئی ماضی کی درخشاں و تابندہ روایات کو ایک مرتبہ پھر زندہ کرتے ہوئے تاریخ رقم کرنے میں کامیاب رہے گی۔


یہ مضمون آج سے تین سال قبل شائع کی گیا تھا اور شائقین کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے آج معمولی ترمیم کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔