ہر دور کے مقبول ترین پاکستانی کامیڈی ڈرامے

سعدیہ امین اور فیصل ظفر


ڈراموں کی دنیا میں پاکستان کی صلاحیت کا اعتراف تو دیگر ممالک بھی کرتے ہیں چاہے ہندوستان ہو یا اردو سمجھنے والی دنیا کی کوئی بھی برادری ہر جگہ پاکستان کے سیریل پسند کیے جاتے ہیں اور یہ صرف عام سماجی یا سنجیدہ موضوعات پر مبنی ڈراموں کی بات نہیں سٹ کام یا کامیڈی کے میدان میں بھی ہم ہر دور میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔

آج کے دور میں بلبلے اوردیگر متعدد سٹ کامز مختلف چینیلز پر نشر ہو رہے ہیں تاہم جو بات ماضی کے پی ٹی وی کے ڈراموں میں تھی وہ آج کے ان تفریحی پروگرامز میں نظرنہیں آتی اسی کو دیکھتے ہوئے ہم نے پرانی تاریخ کے سب سے بہترین کامیڈی ڈراموں کی فہرست مرتب کی ہے جو کہ یقیناً سب کی توقعات پر پوری اترے گی۔


الف نون


کمال احمد رضوی اور ننھا پر مشتمل ڈرامہ 'الف نون' جس نے بھی دیکھا ہوگا کبھی بھول نہیں سکتا، کیونکہ ایک تیز شخص کی چالاکیوں کا بھانڈہ اس کا سادہ لوح ساتھی کس طرح پھوڑتا ہے وہ دیکھنے کے لائق ہوتا تھا، ڈرامے کی ہر قسط میں ہی معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کو بہت خوبصورت اور تفریحی انداز میں پیش کیا جاتا تھا چاہے وہ کوئی انگلش میڈیم اسکول ہو یا کسی بلڈر کا آفس- کمال احمد رضوی کے قلم کا نشتر معاشرتی بگاڑ کو ہی نشانہ بناتا تھا۔


آنگن ٹیڑھا


مزاح اور حاضر جوابی کے جملے سے بھرپور یہ ڈرامہ انور مقصود کے کریئر کا بھی سب سے بڑا شو سمجھا جا سکتا ہے۔ اپنے پہلے روز سے یہ ڈرامہ سلیم ناصر، شکیل، بشریٰ انصاری اور دردانہ بٹ کی بے مثال اداکاری کے باعث لوگوں کے دلوں میں ایسا بسا کہ اب تک اسے نکالا نہیں جا سکا ہے۔ ہر قسط میں مختلف مسائل کو ایسے پُر مزاح انداز میں پیش کیا جاتا کہ کسی کو گراں بھی نہیں گزرتا اور سماجی شعور بھی پیدا ہوتا۔ یہ ڈرامہ اب تک متعدد بار دوبارہ نشر ہو چکا ہے اور ہر نسل اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتی ہے جبکہ اس پر ایک سٹیج ڈرامہ بھی تیار کیا گیا ہے۔


ففٹی ففٹی


ففٹی ففٹی شعیب منصور جیسے باصلاحیت ڈائریکٹر کا شاہکار تھا جس میں اسماعیل تارا، ماجد جہانگیر اور دیگر اداکاروں کے خاکوں نے اس دور میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا تھا بلکہ وہ آج بھی تازہ لگتے ہیں جس کی وجہ ان معاشرتی برائیوں کا تاحال موجود ہونا ہے، یہ اس دور کا ڈرامہ ہے جب ملک پر فوجی صدر ضیاءالحق کی حکومت تھی اور پی ٹی وی پر کافی پابندیاں تھیں ففٹی ففٹی کے خاکوں میں شگوفوں کے دوران ایسے معاملات کو دکھا دیا جاتا تھا جس کا تصور کرنا بھی مشکل لگتا تھا۔ مثال کے طور پر ففٹی ففٹی کا مشہور ٹریفک سارجنٹ (اسماعیل تارا) جو معاشرے میں موجود کرپشن کی منہ بولتی تصویر تھی-


خواجہ اینڈ سن


خواجہ اینڈ سن 1985 میں پی ٹی وی پر نشر ہونے والا ایک اور یادگار کامیڈی ڈرامہ ہے جو خواجہ صاحب (علی اعجاز) اور بیٹے جواد کے گرد گھوتا ہے، باپ اپنے بیٹے کی ہر غلطی یا غلط اقدام کو فوری طور پر پکڑنے میں ماہر ہوتا ہے اور اسے ٹھیک کراتا ہے، جبکہ اپنی نو بہنوں کے واحد بھائی جواد کو اپنی شاعری کی بدولت کافی جانا جاتا ہے اور پڑوسن تو اس کی دیوانی ہو جاتی ہے، یہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں مزاح کے ساتھ اصول، خاندانی اقدار اور بزرگوں کے احترام جیسے اہم معاملات کو بھی تفریحی انداز میں پیش کیا گیا اور خواجہ، جواد اور لڈن میاں سمیت دیگر کئی کردار تو پاکستانی گھروں کے جانے مانے اسٹارز بن کر رہ گئے۔


سونا چاندی


ایک اور کلاسیک پی ٹی وی کامیڈی ڈرامہ سونا چاندی ہے جس کے اندر اس دور کے لاہور کے حقیقی کردار نظر آتے تھے- بنیادی طور پر یہ ایک جوڑے یعنی سونا چاندی کے گرد گھومنے والا ڈرامہ ہے جو سادہ مزاج اور معصوم میاں بیوی ہوتے ہیں اور مختلف گھروں میں کام کرتے ہوئے متعدد افراد کے مسائل حل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک حقیقی جوڑے سونا اور چاندی سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا تھا جو ضلع بھکر کے رہائشی تھے، ڈرامے کے مصنف منو بھائی نے برصغیر کی تقسیم سے پہلے اسی جگہ تعلیم حاصل کی تھی اور اس جوڑے سے متاثر ہو کر ہی انہوں نے اسے تحریر کیا جسے راشد ڈار نے انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا۔


گیسٹ ہاؤس


گیسٹ ہاوٴس پی ٹی وی کا ایک اور ایسا ڈرامہ ہے جس نے اپنے دور میں مقبولیت کے نت نئے ریکارڈز بنا دیے تھے جس میں مسافروں کو درپیش مسائل کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کیا جاتا تھا اور جس کا اصل ہیرو افضل خان عرف 'جان ریمبو' تھا۔ اس میں افضل خان نے ایک 'گیسٹ ہاوٴس' کے خاکروب کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ کردار اس قدر مشہور ہوا کہ نہ صرف لوگوں کے دل میں گھر کر گیا بلکہ افضل خان کو فن کی دنیا میں امر کر گیا۔


اندھیرا اجالا


ایڈونچر پسند ناظرین آج تک پی ٹی وی پر نشر ہونے والے جرائم کی تحقیقات پر مبنی ڈرامے 'اندھیرا اجالا' کو نہیں بھولے۔ 1984-85 میں یونس جاوید کی تحریر اور رشید ڈار کی ہدایات میں بننے والے اس ڈرامے کو پاکستان میں جرائم کے خلاف پولیس کی مثبت کاوشوں کے اظہار کا پہلا ڈرامہ بھی کہا جا سکتا ہے تاہم یہ درحقیقت اس دور میں کامیڈی ڈرامے کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ قوی خان نے اعلیٰ پولیس افسر کی شکل میں مرکزی کردار ادا کیا جبکہ جمیل فخری اور عرفان کھوسٹ نے بھی اپنے کرداروں کو لازوال بنایا۔ اس ڈرامے کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے عہد کے معروف اداکار فیصل قریشی بھی اس میں چائلڈ اسٹار کے طور پر موجود ہیں۔


تنہائیاں


تنہائیاں اسٹار کاسٹ جیسے شہناز شیخ، آصف رضا میر، بدر خلیل، بہروز سبزواری اور مرینہ خان سے سجا ہوا تھا۔ اس ڈرامے کے ہر اداکار نے اپنے کردار سے مکمل انصاف کیا اور اسے شاہکار بنا دیا۔ حسینہ معین کا اسکرپٹ اور شہزاد خلیل کی ہدایات میں بننے والا یہ ڈرامہ دو بہنوں کے گرد گھومتا ہے جو ایک حادثے میں اپنے والدین سے محروم ہوجاتی ہیں اور خالہ کے ساتھ مل کر زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے اور منزل کی جانب سفر جاری رکھتے ہوئے ان کا واسطہ کئی دلچسپ کرداروں سے پڑتا ہے اور یہ سفر دیکھنے والوں کو بھی اپنے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔


ان کہی


ان کہی پاکستان کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ایک ہے خاص طور پر شہناز شیخ، جاوید شیخ، شکیل، سلیم ناصر، بہروز سبزواری اور جمشید انصاری کی بے مثال اداکاری اور دلوں میں گھر کر جانے والے ڈائیلاگز آج تک یاد کئے جاتے ہیں۔ شعیب منصور نے 1982 میں نشر ہونے والے اس ڈرامے کی ہدایات دی تھیں جبکہ یہ حسینہ معین کے قلم کا شاہکار تھا۔ یہ وہ دور تھا جب پی ٹی وی پر حسینہ معین اور شہناز شیخ کا طوطی بولتا تھا اور اس ڈرامے میں بھی ان کا جادو سرچڑھ کر بولا۔ خاص طور پر شہناز شیخ کی اوٹ پٹانگ حرکتیں ناظرین کے دلوں میں ایسی بسیں کہ آج تک وہی موجود ہیں جبکہ اسی تھیم پر ہندوستان میں کئی فلمیں بھی تیار کی گئیں۔


سچ مچ


معین اختر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں جنہوں نے مزاحیہ سے لے کر سنجیدگی تک ہر کردار کے ساتھ بھر پور انصاف کیا اب وہ چاہے میزبانی ہو یا اداکاری، گلوکاری ہو یا طنزو مزاح، ان کا ثانی کہیں موجود نہیں۔ پی ٹی وی سے نشر ہونے والا ڈرامہ سچ مچ اس کی ہی ایک مثال ہے جس میں انہوں نے سیٹھ منظور دانا والا کا کردار بخوبی نبھایا اور بھاری بھر کم جسم کے ساتھ اس کردار میں نگینے کی طرح فٹ نظر آئے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کردار ان کے علاوہ کوئی بھی بہتر طور پر نبھا سکتا تھا، کنجوس سیٹھ، اس کی دو بیویوں اور حاضر جواب نوکر کی شوخیوں نے اس ڈرامے کو زبردست ہٹ بنایا اور پی ٹی وی کے علاوہ دیگر چینلز نے بھی اس کو دوبارہ فلمایا۔


فیملی فرنٹ


کون ہے جو نوے کی دہائی کے ڈرامے فیملی فرنٹ کو بھول سکتا ہے؟ پی ٹی وی ورلڈ جو اب پی ٹی وی نیوز بن چکا ہے پر نشر ہونے والے اس سٹ کام نے جو مقبولیت اپنے نام کی وہ بہت کم ڈراموں کے ہی حصے میں آتی ہے۔ اداکار وسیم عباس نے اس کے ذریعے ڈائریکشن کے سفر کا آغاز کیا جبکہ محمد یونس بٹ کی تحریر کے ساتھ ساتھ صبا حمید، ثمینہ احمد، وسیم عباس، نسیم وکی، میرا ہاشمی اور شہزاد نسیم کی بہترین اداکاری اسے دیکھنے والوں کو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے پر مجبور کردیتی تھی، یہی وجہ ہے کہ یہ اپنے وقت کے سب سے بہترین ڈراموں میں سے ایک مانا جاتا تھا۔


خالہ خیرن


خالہ خیرن وہ ڈرامہ تھا جسے تازہ ہوا کا جھونکا بھی کہا جاتا تھا، جو ایک مختلف کرداروں کے درمیان گھومتا تھا جیسے ایک کرائے دار(قاضی واجد) جو کرایہ ادا کرنے کے لیے یا گھر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور گھر کے مالکان اسے نکالنے کے لیے خالہ خیرن کی خدمات حاصل کرتے ہیں تاکہ قاضی واجد اور ان کے خاندان کو نکالا جاسکے، بس پھر کیا تھا ڈرامے میں روزمرہ کے جھگڑے، شگوفے اور چال بازیاں لوگوں کو دیوانوں کی طرح قہقہے لگانے پر مجبور کردیتی تھیں، خالہ خیرن کا کردار عذرا شیرانی نے ادا کیا، جبکہ محمود علی، مشی خان، عشرت ہاشمی، سلطانہ ظفر اور ذہین طاہرہ سمیت ہر ایک اپنے کردار میں بالکل حقیقی نظر آتا تھا، جبکہ رفعت ہمایوں نے اسے ڈائریکٹ اور تحریر کیا تھا۔


تین بٹا تین


تین بٹا تین نوے کی دہائی کا ایک اور مقبول کامیڈی ڈرامہ ہے جو پی ٹی وی پر نشر ہوتا تھا، اسے جواد بشیر نے ڈائریکٹ اور عدیل ہاشمی نے تحریر کیا، جبکہ اس کی کاسٹ میں عدیل ہاشمی، فیصل قریشی، علی طاہر، میرا ہاشمی، وجہیہ طاہر اور فاطمہ شامل تھے۔ اس کے کردار لوسی، جونی اور شافو یعنی تین بٹا تین لوگوں میں بہت مقبول ثابت ہوئے، درحقیقت یہ تین نوجوانوں کی کہانی تھی جو کہ اپنی پڑوسی لڑکیوں کو متاثر کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ شہر میں عام زندگی بھی گزارتے تھے، تو ان کی حماقتیں لوگوں کے دلوں کو کچھ زیادہ ہی بھا گئی تھیں جس نے لوگوں میں اسے مقبول بنا دیا۔


چھوٹی سی دنیا


یہ ایک سادہ مگر بہت زبردست تفریحی ڈرامہ تھا جو لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کر دیتا تھا، اس کی کہانی ایک ایسے گاﺅں کے باسیوں کی تھی جہاں بیرون ملک سے ایک شخص واپس آتا ہے اور وہاں اسے صاحب کا درجہ مل جاتا ہے، مگر پھر اس کا ٹاکرا انگریزی بولنے کے میدان میں جانو جرمن نامی شخص سے ہو جاتا ہے جو دیکھنے والوں کو لوٹ پوٹ ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ہارون رشید کی ڈائریکشن اور عبدالقادر جونیجو کی تحریر کو یوسف علی، سکینہ سموں، انور سولنگ، آفتاب عالم اور دیگر نے بہت خوبصورتی کے ساتھ پردہ اسکرین پر پیش کیا۔


جنجال پورہ


پی ٹی وی کا ایک ایسا ڈرامہ جس کے کردار آج بھی پاکستان کے معاشرے اور خاص کر آج کے سیاسی حالات میں نظر آتے ہے جیسے ماسی پھتو، راجو نائی، جنجال پورے کے سب سے مشہور کردار خواجہ سرا ریما اور ریشم، کم گوہ سادہ مزاج کھری بات کرنے والا پہلوان اور اس کے بیٹے کی محبت کی اور سادگی بھری باتیں۔ فیملی پلاننگ والوں کی چالاک نرسیں اور نئی آنے والی ڈاکٹر صاحبہ، جس میں سب لوگ بظاہر ایک محلے میں رہتے ہیں مگر سب ایک دوسرے سے ناخوش، ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا اپنی زندگی میں کامیابی اور اصل مقصد سمجھتا۔