پی ٹی وی کے دس بہترین لانگ پلے

پی ٹی وی کے دس بہترین لانگ پلے

سعدیہ امین اور فیصل ظفر

ڈراموں کی روایت پاکستان میں لگ بھگ نصف صدی پرانی ہوچکی ہے اور اس میں قسط وار سیریلز کو ہی واضح سبقت حاصل ہے مگر طویل دورانیے کے کھیل یا ڈراموں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو ماضی میں ہفتے میں ایک یا دو بار دکھائے جاتے تھے مگر پھر بھی لوگ بے چینی سے ان کے منتظر رہتے تھے۔

ان ڈراموں میں کونسا موضوع ہے جس کو فلمایا نہیں گیا اور ہمارے معاشرے کی خامیوں، خوبیوں غرض ہر شعبے کو دکھایا گیا اور ہم نے ان سینکڑوں میں چند سب سے بہترین ڈراموں کو منتخب کر کے ایک فہرست مرتب کرنے کی کوشش کی ہے جو یقیناً آپ کے لیے بھی دلچسپ ثابت ہوگی۔


اب تم جاسکتے ہو


نوے کی دہائی کا یہ طویل دورانیے کا ڈرامہ معروف مصنفہ خدیجہ مستور کے ایک افسانے سے ماخوذ تھا جس کی ڈرامائی تشکیل منصور مانی نے کی جبکہ اس کی ہدایات مہرین جبار نے دیں، اس کی کاسٹ میں ہمایوں سعید، خالدہ ریاست اور ثانیہ سعید قابل ذکر تھے۔

یہ ڈرامہ عالیہ (خالدہ ریاست) کی کہانی تھا جو غیرشادی شدہ استانی تھیں اور اپنی بھانجی راحیلہ (ثانیہ سعید) کے ساتھ رہتی ہے، عالیہ راحیلہ کی زندگی کے ہر معاملے میں دخل دینے کی عادی ہوتی ہے اور وہ نوجوان لڑکی خود کو محصور محسوس کرنے لگتی ہے مگر اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت نہیں کر پاتی، حالات اس وقت ان دونوں کے لیے مکمل طور پر بدل جاتے ہیں جب ایک رشتے دار شوکت (ہمایوں سعید) وہاں آتا ہے اور پھر سب کچھ تبدیل ہوکر رہ جاتا ہے، درحقیقت اپنی مضبوط کہانی، زبردست اداکاری اور اچھے ڈائیلاگز کی بدولت یہ ایک کلاسیک طویل دورانیے کا ڈرامہ بن گیا سنجیدہ ڈراموں کے پرستار افراد کے لیے یہ کسی تحفے سے کم نہیں ہوگا۔


دبئی چلو


ایک زمانہ تھا جب پاکستان میں لوگوں کے اندر دبئی جانے کا جنون سا سوار ہوگیا تھا اور اسی زمانے میں یہ زبردست ڈرامہ نشر ہوا، عارف وقار کے اس ڈرامے کے سب ہی کردار ایک سے بڑھ کر ایک تھے مگر جس منظر نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ علی اعجاز کا تصویر اتروانا تھا جو کسی کے بھی چہرے پر مسکراہٹ بکھیر سکتا تھا، یہ ڈرامہ اتنا ہٹ ہوا کہ اسی کے اوپر ایک پنجابی فلم بھی بنائی گئی جس میں ڈرامے کی ہی کاسٹ کو لیا گیا اور وہ فلم بھی سپرہٹ ثابت ہوئی۔


روزی


معین اختر جس ڈرامے میں ہوں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہوتا اداکاری ہو یا گلوکاری یا پھر میزبانی، انہوں نے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا جبکہ بات ہو اگر ڈرامہ سیریل 'روزی' کی تو اس معاملے میں انہوں نے صنف نازک بننے سے بھی گریز نہ کیا اور اپنے کردار میں اتنا جچے کہ کئی ان پر دل ہار بیٹھے، اس ڈرامے میں معین اختر بحیثیت اداکار کام ڈھونڈنے میں ناکامی کا سامنا کرتے ہیں تو مجبوراً! انہیں لڑکی کا بہروپ لینا پڑتا ہے بس پھر کیا تھا ہنسی کے قہقہوں کے ساتھ معاشرے کی خواتین کے بارے میں سوچ بھی واضح ہوجاتی ہے جو ہمیشہ سے کچھ زیادہ کو اچھی نہیں لگتہ، ساحرہ کاظمی نے اس ڈرامے کو ڈائریکٹ کیا اور اس کی کاسٹ میں فضیلہ قاضی، لطیف کپاڑیہ، فریحہ الطاف اور اکبر سبحانی شامل تھے، اس ڈرامے نے اپنے وقت میں تو ریکارڈ قائم کیے ہی تھے آج بھی جب اسے دیکھا جائے تو روز اوّل جیسا ہی نیا محسوس ہوتا ہے۔


فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی


اشفاق احمد کا تحریر کردہ یہ طویل دورانیے کا ڈرامہ اپنی زبردست کہانی کی بناء پر کلاسیک کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا، درحقیقت اس میں ہر اداکار اپنے کردار میں نگینے کی طرح فٹ نظر آیا چاہے وہ جمیل فخری ہوں، نگہت بٹ، خورشید شاہد یا کوئی اور سب نے سحر سا طاری کر کے رکھ دیا اور یہی ہے کہ آج بھی لوگ اسے بھول نہیں سکے ہیں۔


قصہ سات راتوں کا


پُراسرار کہانیاں کس کے دل کو نہیں بھاتی اور پی ٹی وی کے لانگ پلے 'قصہ سات راتوں' کو اس حوالے سے سب سے بہترین قرار دیا جاسکتا ہے جس میں سعدیہ امام، شہود علوی، زینت یاسمین، نبیل اور دیگر شامل تھے اور اس کی کہانی ایک شخص کی جانب سے ایک پرانی حویلی میں سات راتوں تک رہنے کا چیلنج قبول کرنے کے گرد گھومتی ہے جو بھوت گھر بھی کہلاتا ہے، جبکہ نبیل ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور جب پچھتا کر واپس جا رہا ہوتا ہے تو حادثے میں مارا جاتا ہے، اسے ذکیہ اکبر نے تحریر اور اقبال انصاری نے ڈائریکٹ کیا تھا۔


کانچ کا پل


یونس جاوید کا تحریر کردہ طویل دورانیے کا یہ ڈرامہ ایک اور کلاسیک ہے جو روحی بانو کی لازوال اداکاری کی بناء پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انسانی کردار کی پیچیدگیوں کے گرد گھومتا ہوا یہ ڈرامہ روحی بانو کے ساتھ بیگم خورشید مرزا، فردوس جمال اور توقیر ناصر کے کریئر میں بھی ناقابل فراموش حیثیت رکھتا ہے، درحقیقت توقیر ناصر کا عروج کی جانب سفر ہی اس ڈرامے سے شروع ہوا تھا۔


دروازہ


روحی بانو کے کریئر کا سب سے یادگار کردار جس ڈرامے میں پیش ہوا وہ یہی تھا، منو بھائی کی تحریر کو ڈائریکٹر محمد نثار حسین نے ٹی وی اسکرین پر عکسبند کیا، یہ ایک خاتون کی ذاتی تکمیل کی جانب سفر کے اتار چڑھاﺅ پر مشتمل تھا، اس کی کاسٹ میں خالد عثمان، آصف رضا میر، سجاد کشور، ثروت عتیق، دردانہ بٹ اور عاصم بخاری بھی شامل تھے اور یہ کلاسیک ڈرامہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔


ذکر ہے کئی سال کا


پی ٹی وی کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر راحت کاظمی اور عتیقہ اوڈھو کا یہ زبردست ڈرامہ نشر ہوا جسے ڈاکٹر انور سجاد نے تحریر اور ساحرہ کاظمی نے ڈائریکٹ کیا، ایک جوڑے کے تعلق کی یہ کہانی آج بھی دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتی ہے۔


ایسی بلندی ایسی پستی


اشفاق احمد کے تحریر کردہ ڈراموں میں ہمیشہ سے ہی معاشرتی پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ان کے طویل دورانیے کے ڈراموں کی سیریز حیرت کدہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جس کے ایک کھیل 'ایسی بلندی ایسی پستی' میں دولت سے محبت کی سوچ کے نقصانات اور اس سے دوری اختیار کرنے کا پیغام بہت خوبصورتی سے دیا گیا۔


ذرا سی عورت


بشریٰ انصاریٰ کو اکثر لوگوں نے پُرمزاح انداز میں ہی دیکھا ہوگا مگر یہ ٹیلی فلم ان کے اندر کے سنجیدہ اداکار کی صلاحیت کو منواتی ہے، نورالہدیٰ شاہ کی تحریر اور سلطانہ صدیقی کی ہدایات سے اس ڈرامے میں بشریٰ انصاری، شفیع محمد قابل ذکر تھے اور یہ میاں بیوی کے باہمی تنازعات کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔