ای میل

عبداللہ شاہ غازی: 'طوفانوں سے بچانے والے بزرگ'

عبداللہ شاہ غازی: 'طوفانوں سے بچانے والے بزرگ'

اس وقت جب سمندری طوفان نیلوفر کراچی کی ساحلی پٹی سے چند سو کلومیٹر دور دھاڑ رہا تھا عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے قریب سکون کا احساس واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔

زائرین موج در موج مزار میں داخل ہو رہے تھے اور سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے فوری انخلاء اور دفعہ 144 کے نفاذ کی دھجیاں بکھیر رہے تھے۔

طوفان کے آگے بڑھنے کے مقام کی ہر گھنٹے سامنے آنے والی نیوز اپ ڈیٹس کو بابا غازی کے مریدوں کی جانب سے مکمل طور پر مسترد کیا جا رہا تھا۔

زیارت کے لیے آنے والی ایک خاتون نائلہ خان کے مطابق "میں یہاں گزشتہ بائیس سال سے آرہی ہوں اور میرے والدین اس سے بھی پہلے سے یہاں آرہے ہیں، بابا کی موجودگی سمندر کو واپس جانے پر مجبور کردے گی، ایسا کوئی امکان نہیں کہ طوفان ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے"۔

مزار پر 2010 کے خودکش حملے کے باوجود جس میں آٹھ افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوگئے تھے، پاکستان بھر سے مختلف امراض کے شکار، بانجھ اور شکرگزار افراد آج بھی یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔

لیاری سے تعلق رکھنے والے ایک عقیدت مند آٹھ سالہ رشید خان کا کہنا تھا "جب بھی شاہ غازی بلائیں گے ہم اس کی تعمیل کریں گے، کچھ برس قبل ایک طوفان سے مزار کے قریب کی ایک دیوار کو نقصان بھی پہنچا مگر ہم ہمیشہ کی طرح محفوظ رہے"۔

پھولوں کی دکانوں اور چائے کے پرشور اسٹالز کو نیچے چھوڑ کر زائرین پُرجوش انداز میں سیڑھیوں کی طویل قطار چڑھ کر اس جگہ پہنچتے ہیں جہاں عبداللہ شاہ غازی کا مزار ہے۔

اس چیمپبر کے اندر کی فضاء اگربتیوں کے گاڑھے دھویں سے مہک رہی ہوتی ہے جبکہ انتہائی سکوت طاری ہوتا ہے جو اکثر انتہائی دھیمے انداز میں منتیں مانگنے سے ٹوٹ جاتا ہے، یہاں مزار کی ریلنگ کو چھونے کے بعد فاتحہ پڑھنے والوں کے چہرے پر سکون اور ریلیف کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

پنجاب سے آنے والے ایک عقیدت مند محمد طارق کا کہنا تھا "جب بھی میں کراچی آتا ہوں تو میں بابا غازی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مزار پر آنا یقینی بناتا ہوں، یہاں سمندری طوفان کے آنے کا کافی شور مچا ہوا ہے مگر بابا کسی بھی طاقتور جیسے سمندر کو پیچھے دھکیل سکتے ہیں، تو یہ طوفان کیا چیز ہے؟ یہ سمندر یقیناً بابا کے حکم سے کراچی سے دور ہٹ جائے گا، میں اس پر اس لیے یقین رکھتا ہوں کیونکہ میں نے خود ایسی چیزیں دیکھی ہیں، اس لیے نہیں کہ میں صدیوں سے چلا آرہا ہوں اور کہانیاں سن رکھی ہیں"۔

عبداللہ شاہ غازی کراچی کے سرپرست صوفی بزرگ تصور کیے جاتے ہیں ان کے مرید اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ بزرگ کے تحفظ میں ہونے کی وجہ سے اس شہر کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ہے، ایسا ہی دعویٰ حال ہی میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کی جانب سے بھی سامنے آیا۔

متعدد افراد کی رائے ہے کہ صوفی بزرگ کی اصل طاقت ابھی تک کھل کر سامنے نہیں آسکی ہے، شاہ غازی کے مریدوں میں نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کے مطابق جب اس مزار کو تعمیر کیا جا رہا تھا تو اس علاقے میں صرف کھارا پانی ہی ملتا تھا، بابا کے ماننے والوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی نہ ہونے پر تشویش تھی مگر پھر اچانک ہی مزار کے پیچھے سے پینے کے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا، بزرگ کے عقیدت مندوں کا دعویٰ ہے کہ اس روز سے آج تک موجود اس چشمے کا پانی مسیحائی کی طاقت بھی رکھتا ہے۔

مزار کے متولی اکرم کے مطابق 'یہاں کا پانی مکمل کھارا تھا اور مقامی افراد اسے پی نہیں سکتے تھے مگر پھر ایک دن عبداللہ شاہ غازی نے اللہ سے دعا کی اور یہاں تازہ پانی کا چشمہ بہنے لگا اور اب تک بہہ رہا ہے، کسی کو نہیں معلوم کہ اس میں پانی کہاں سے آرہا ہے"۔

ایک شخص جس نے خود کو ملنگ قرار دیا، کا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنی پوری زندگی مزار پر گزاری ہے۔

اس کے بقول "نیلوفر طوفان ٹکرائے گا یا نہیں میں اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا، مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ اگر دنیا بھر کے تمام طوفان بھی میرے ارگرد دھاڑ رہے ہوں تو بھی میں سکون محسوس کروں گا کیونکہ میں اس مزار کے اندر موجود ہوں"۔

اس وقت جب مقامی انتظامیہ کراچی کے رہائشیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں عبداللہ شاہ غازی کے مرید اپنے تحفظ پر شکرانے کے طور پر دھمال ڈال رہے ہیں۔