ای میل

بحر گر بحر نہ ہوتا، تو بیاباں ہوتا

جس سڑک سے میری گاڑی جا رہی تھی، اس کے دونوں اطراف ریت ہی ریت تھی۔ ریت میں اگی ہوئی جھاڑیاں، پودے اور کہیں کہیں چند درخت نظر آرہے تھے۔ جہاں تک نظر جا رہی تھی ریت کے ذرات ہی ذرات بکھرے ہوئے تھے۔ کہیں بکریوں کا ریوڑ جھاڑیوں میں منہ مار رہا تھا تو کہیں اونٹ پودے چر رہے تھے، مگر میری منزل تھی ننگر پارکر، جہاں صدیوں سے کارونجھر پہاڑ لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی مقناطیس ہے جس کی کشش ہر اس وجود کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے جو اس کے سحر میں گم ہونا چاہتا ہے۔

مگر اس سے پہلے مجھے کچھ وقت مٹھی شہر اور آس پاس کے دیہاتوں میں گزارنا تھا اور یہاں کے لوگوں کی سادہ زندگی دیکھنی تھی، جو آج بھی اسی انداز میں گزر رہی ہے جو صدیوں قبل تھی۔

بارش کی پہلی بوند ریت پر پڑتے ہی ان کے چہرے کھل اٹھتے ہیں، کیونکہ انہیں پتا ہے کہ یہاں برسنے والی بارش خوشحالی لاتی ہے، ہر طرف سبزہ اگ آتا ہے اور پانی کے گڑھے اور جوہڑ بھر جاتے ہیں۔

وہ خاندان جو قحط کی صورت میں سندھ کے بیراجی علاقوں میں محنت مشقت کرنے چلے جاتے ہیں، وہ لوٹ آتے ہیں۔ شاید انہیں بارش پڑتے ہی نم ہوتی ہوئی ریت کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہی ریت ان کے لیے سونا اگلنے لگتی ہے، جہاں بارش سب کے درد دور کرنے کی دوا سے کم نہیں ہے۔

تھر کے دیہات کا ایک منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر کے دیہات کا ایک منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر کے دیہات میں ایک چوئنرا— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر کے دیہات میں ایک چوئنرا— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر کے صحرا میں موجود ایک سایہ دار درخت— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر کے صحرا میں موجود ایک سایہ دار درخت— فوٹو اختر حفیظ۔

ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی صحرا ہیں یہ کبھی سمندر تھے۔ میں گاڑی کے باہر اس تپتی دھوپ میں صحرا کی ریت کو دیکھنے لگا جس پر سورج کی کرنیں برس رہی تھیں اور ریت چمک رہی تھی۔ تبھی مجھے اردو کے با کمال شاعر مرزا غالب کا شعر یاد آنے لگا۔

گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا

بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا

یہ بیاباں تھر کا ہے جو شاید کبھی بحر رہا ہو۔ تھر کا تصور ذہن میں آتے ہی ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ ایک ایسی بنجر زمین ہے جو لوگوں کو صرف بھوکا پیاسا رکھتی ہے، اور وہاں آباد لوگوں کو یہ صرف دکھ اور پریشانی میں مبتلا کرتی ہے۔ مگر جنہیں صحراؤں سے محبت ہو وہ ان کے لیے سونا بن جاتے ہیں۔

تھر دیس ہے مارئی کا، اسی مارئی کا جسے عمرکوٹ کے بادشاہ عمر نے بھالوا گاؤں سے اغوا کر کے شادی کرنے کی لالچ میں ہیرے جواہرات میں تول دیا تھا، مگر اس کا دل اپنے لوگوں اور گاؤں کے لیے تڑپتا رہا۔ مارئی کی داستان کو سندھی زبان کے عظیم شاعر شاھ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے کلام میں خوب پیش کیا، جس کے بعد مارئی وطن سے محبت کی ایک علامت بن گئی۔

تھر کی عورتوں کے ہاتھوں سے کیا گیا کڑہائی کا کام— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر کی عورتوں کے ہاتھوں سے کیا گیا کڑہائی کا کام— فوٹو اختر حفیظ۔

یہ دیس ہے روپلو کولہی کا، جس نے کارونجھر پر کھڑے ہو کر انگریز کو للکارا تھا۔ 1843 میں سندھ فتح کرنے کے بعد انگریزوں نے راجپوتوں کی فوج کا سامنا کیا۔ اس فوج کی بڑی تعداد کولہی قبیلے پر مشتمل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ روپلو کولہی اس کا سپہ سالار تھا۔ 1858 میں اس علاقے کو چارلس نیپئر نے کچھ پولیٹیکل ایجنسی میں شامل کیا۔ انگریزوں نے روپلو کولہی اور اس کے ساتھوں پر بغاوت کا مقدمہ چلا کر 22 اگست 1858 کو پھانسی دے دی۔

مٹھی تھر کا سب سے خوبصورت شہر ہے۔ ایک ایسا شہر جہاں امن اور سکون محسوس ہوتا ہے اور جہاں کی پکنک پوائنٹ گڈی بھٹ سے پورے شہر کا نظارا کیا جاتا ہے۔

رات کے وقت جب شہر کو گڈی بھٹ سے دیکھا جاتا ہے تو نیچے آباد گھروں کی روشنیاں آنکھوں کو موہ لیتی ہیں۔ بھٹ سندھی زبان میں بڑے سے ٹیلے کو کہتے ہیں۔ رات کے سناٹے میں روشن گھروں کا منظر آنکھیں بند کرنے کے بعد بھی کافی دیر تک تازہ رہتا ہے۔ اس وقت بھی خاموشی تھی اور لوگ نیند کے مزے لیتے ہوئے خوابوں کے سفر پر جاچکے تھے۔ میں کافی دیر تک گڈی بھٹ سے اپنے دوستوں کے ہمراہ شہر کو دیکھتا رہا۔ ایک ایسا شہر جو دن میں بھی سکون میں رہتا ہے اور کسی کو کوئی جلدی نہیں ہوتی۔

رات کے وقت گڈی بھٹ سے مٹھی شہر کا منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
رات کے وقت گڈی بھٹ سے مٹھی شہر کا منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
دن کے وقت گڈی بھٹ سے مٹھی شہر کا منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
دن کے وقت گڈی بھٹ سے مٹھی شہر کا منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
مٹھی میں موجود مرلی دھر کا مندر— فوٹو اختر حفیظ۔
مٹھی میں موجود مرلی دھر کا مندر— فوٹو اختر حفیظ۔

اگر تھر کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات کو شدت سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ وہاں کے لوگ خود کو شہر سے زیادہ گاؤں میں بہتر محسوس کرتے ہیں۔ آج بھی ان دیہاتوں میں رہنے کے طور طریقے صدیوں پرانے ہیں۔ ہر گاؤں میں آپ کو جھونپڑیوں والے گھر ملیں گے جنہیں چوئنرا کہا جاتا ہے۔ ایک گھر میں تین سے چار چوئنرے ہوتے ہیں، چوئنروں کے آگے چھوٹا سا آنگن، چند بکریاں یا اونٹ یہی ان کی دنیا ہے۔

چوئنروں کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جس چونرے کی چھت کے اوپر چونچ بنی ہو وہ ہندؤوں کا چونرا ہے اور جس پر چونچ نہ بنی ہو وہ مسلمان کا چوئنرا ہوتا ہے، مگر میں نے چند ایسے چوئنرے بھی دیکھے جن کی چونچ بھی تھی اور ان میں مسلمان آبادی بھی تھی۔ پھر پتہ چلا کہ جو لوگ اس میں رہ رہے تھے وہ پہلے ہندو تھے اور بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

چوئنرے کے اوپر چونچ  نظر آرہی ہے جو کہ ہندؤوں کے چونرے کی ایک مخصوص علامت ہے۔— فوٹو اختر حفیظ۔
چوئنرے کے اوپر چونچ نظر آرہی ہے جو کہ ہندؤوں کے چونرے کی ایک مخصوص علامت ہے۔— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر میں موجود چوئنرے— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر میں موجود چوئنرے— فوٹو اختر حفیظ۔

تھر کی عورت آج بھی مرد سے زیادہ محنت کرتی ہے۔ لکڑیاں چننے سے لیے کر پانی بھرنے اور گھر سنبھالنے تک کی تمام ذمہ داریاں عورت کے حصے میں ہیں۔

راجی بھیل مٹھی کے قریب ایک گاؤں میں رہتی ہے۔ اس سے جب ملاقات ہوئی تو اس نے جس بات کی شکایت کی وہ تھی میٹھے پانی کی عدم دستیابی۔ مگر جب اس نے مجھے جو پانی پلایا وہ میٹھا تھا۔ اور وہ کافی دور سے بھر کر لائی تھی کیونکہ ان کے گاؤں کا ایک کنواں سوکھ چکا تھا اور ایک کھارا ہو گیا تھا۔

"یہاں پانی بڑی مشکل سے ملتا ہے۔ مجھے بہت دور جانا پڑتا ہے پانی کے لیے۔ میرا پورا دن پانی بھرنے میں گزر جاتا ہے۔ مگر پانی صرف ہمیں نہیں ہمارے جانوروں کو بھی چاہیے اور میں انہیں یہ کھارا پانی تو نہیں پلا سکتی۔"

"آپ جس کنوئیں سے پانی بھرنے جاتی ہیں، اگر اس کا بھی پانی کھارا ہو گیا تو پھر؟"

پھر مجھے نئے کنوئیں کی تلاش کرنا پڑے گی۔ وہ جتنا بھی دور ہوگا میں جاؤں گی وہاں۔ میں اپنے بچوں کو پیاسا نہیں دیکھ سکتی، ان کے لیے کتنا بھی فاصلہ طے کرنا پڑے، میں کروں گی۔ پانی کے لیے ہم لوگ کہیں بھی جانے کو تیار ہیں۔"

تھر میں پانی کے لیے بچوں کو بھی شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر میں پانی کے لیے بچوں کو بھی شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر میں چھوٹی بچیاں بھی گھر کی دیکھ بھال میں مدد کرتی ہیں۔— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر میں چھوٹی بچیاں بھی گھر کی دیکھ بھال میں مدد کرتی ہیں۔— فوٹو اختر حفیظ۔

یہ ایک ماں کا اپنے بچوں کے لیے پیار تھا جو اسے صحرا میں پانی کے لیے بھٹکنے پر مجبور کر رہا تھا۔ مگر اس کا حوصلہ بلند تھا۔ اس کی آنکھوں میں میٹھے پانی کے خواب تھے۔

وہ مجھے اپنی بیٹی کی شادی کا قصہ بھی سنا رہی تھی جس کا رشتہ طے ہونے والا تھا، جسے وہ اپنے خاندان سے دور بیاہنے والی ہے، وہاں آباد ہندو مسلم کی شادی بیاہ کی رسومات بھی ایک جیسی ہیں۔ اس نے کہا

"میری بیٹی کی عمر اب 17 برس ہے اور وہ اب شادی کے لائق ہو گئی ہے"

17 سال میں شادی ہم شہر والوں کے لیے تو حیران کن ہے: "اس عمر میں شادی؟ مجھے تو لگتا ہے وہ ابھی چھوٹی ہے۔"

"میری جب شادی ہوئی تھی تو میں 15 سال کی تھی، ہمارے ہاں لڑکیوں کی شادی جلدی کی جاتی ہے۔ میری بیٹی کی عمر بھی ٹھیک ہے"، راجی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

تھر میں چھوٹی اور نابالغ عمر میں لڑکیوں کی شادی ہونا ایک عام سی بات ہے مگر اس کے نتائج انہیں تب بھگتنے پڑتے ہیں جب بچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ماں کے کم عمر ہونے کی وجہ سے کئی طبی مسائل جنم لیتے ہیں جن کا سامنا نہ صرف اسے خود کرنا پڑتا ہے، بلکہ یہ اس کی اولاد میں بھی نظر آتے ہیں۔

تھر کے اکثر گاؤں ایسے ہیں جہاں آج بھی پانی کی شدید قلت ہے اور لوگ پانی بھرنے کے لیے کنوئیں میں رسی ڈال کر لگ بھگ بیسیوں میٹر تک اسے کھنیچتے ہیں، تب جا کر انہیں پانی کا ایک ڈول نصیب ہوتا ہے۔ کچھ گاؤں ایسے بھی ہیں جہاں دور دور تک میٹھے پانی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

تھر کے لوگ کنوئیں سے رسی کی مدد سے پانی نکال رہے ہیں۔— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر کے لوگ کنوئیں سے رسی کی مدد سے پانی نکال رہے ہیں۔— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر میں چھوٹے بچے پانی گدھوں پر لاد کر اپنے گھروں کی طرف لے جا رہے ہیں۔— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر میں چھوٹے بچے پانی گدھوں پر لاد کر اپنے گھروں کی طرف لے جا رہے ہیں۔— فوٹو اختر حفیظ۔

تھر کی زندگی میں درد ہے، مصائب ہیں اور بہت محنت طلب زندگی ہے۔ اگر کچھ عرصہ قبل تھر میں روڈ نہ بنے ہوتے تو آج بھی لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں کئی دن لگ جاتے۔ مگر آج بھی اونٹ ان کے لیے ایک بہترین سواری ہے۔ جسے بارشیں پڑنے کے بعد زمین میں ہل چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مٹھی شہر کے قریب ہی حکومت کی جانب سے آر او پلانٹ لگائے گئے ہیں جو روزانہ ہزاروں گیلن میٹھا پانی فراہم کرتے ہیں۔ پاک اوئسس بھی ایک ایسا آر او پلانٹ ہے جو وہاں کے لوگوں کو میٹھا پانی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایشیا کا سب بڑا آر او پلانٹ ہے۔ آر او پلانٹس لگنے کے بعد پانی کا مسئلہ کسی حد تک حل ہوا ہے مگر جہاں جہاں یہ پلانٹس نہیں ہیں، وہاں پانی کے لیے لوگ آج بھی پیدل سفر کرکے دور سے پانی بھرنے جاتے ہیں۔

تھر میں موجود ایشیا کا سب سے بڑا آر او پلانٹ— فوٹو اختر حفیظ۔
تھر میں موجود ایشیا کا سب سے بڑا آر او پلانٹ— فوٹو اختر حفیظ۔
آر او پلانٹ کا اندرونی منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
آر او پلانٹ کا اندرونی منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
سولر پینل کی مدد سے پلانٹ کو بجلی فراہم کی جاتی ہے— فوٹو اختر حفیظ۔
سولر پینل کی مدد سے پلانٹ کو بجلی فراہم کی جاتی ہے— فوٹو اختر حفیظ۔

میرا سفر جاری تھا، آخرکار میں کارونجھر کے دامن میں پہنچ گیا۔ جیسے ہی میں وہاں پہنچا بادلوں نے سورج کو ڈھانپ لیا۔ پورا کارونجھر بادلوں کے سائے تلے تھا۔ گرینائیٹ سے بنے ہوئے اس پہاڑ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کوئی بوڑھا دیوتا ہے جو صدیوں سے ایک جگہ ٹکا ہوا ہے۔

اس پہاڑ کے ہر پتھر میں کوئی نہ کوئی صورت نظر آتی ہے۔ آپ جیسے جیسے پہاڑ کے اندر اور قریب ہوتے جائیں گے پہاڑ کے پتھر کی رنگت اور بھی گہری ہوتی جاتی ہے۔ کچھ وقت وہاں رہنے کے بعد یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ آپ بھی کارونجھر کا کوئی پتھر بن گئے ہیں۔

کارونجھر پہاڑ کا دور سے ایک منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
کارونجھر پہاڑ کا دور سے ایک منظر— فوٹو اختر حفیظ۔
کارونجھر کے دامن میں قائم جین مندر جو اب تباہی کا شکار ہے۔ — فوٹو اختر حفیظ۔
کارونجھر کے دامن میں قائم جین مندر جو اب تباہی کا شکار ہے۔ — فوٹو اختر حفیظ۔
کارونجھر پہاڑ کا علاقہ بارش کے بعد سبز و شاداب ہو جاتا ہے— فوٹو اختر حفیظ۔
کارونجھر پہاڑ کا علاقہ بارش کے بعد سبز و شاداب ہو جاتا ہے— فوٹو اختر حفیظ۔

اسی پہاڑ کے دامن میں جین مت کے وہ مندر ہیں جو ہزاروں سالوں سے خود کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ جنہیں پتھروں کو تراش کر بنایا گیا ہے۔ مگر اب ان کے پتھر آہستہ آہستہ چورا چورا ہو رہے ہیں۔ اس لیے اس قدیم ورثے کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ جب کارونجھر پر بارش پڑتی ہے تو پورے پہاڑ سے پانی اس طرح زمین پر گرنے لگتا ہے جیسے پہاڑ کے شریانوں سے پانی بہہ رہا ہو۔ جسے پہاڑ کے اندر ڈیم بنا کر جمع کیا جاتا ہے۔

سورج ڈھل رہا تھا، میرے لوٹنے کا وقت ہو چکا تھا۔ میں نے ایک بار پھر اس پہاڑ پر ایک نگاہ ڈالی مجھے روپلو کولہی کی وہ للکار سنائی دینے لگی جو اس نے انگریزوں کے خلاف بلند کی تھی۔ جس سے سارا کارونجھر گونج اٹھا تھا، اب شاید وہ بھی اسی کارونجھر کا کوئی پتھر بن گیا ہو۔


اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے.