لاہور کی ڈولفن فورس، عوامی وسائل کا ضیاع؟

تین ماہ کے اندر ہی یہ فورس بدانتظامیوں میں گھری ہوئی نظر آنے لگی ہے۔
شائع جولائ 11, 2016 06:32pm

لاہور کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پولیس فورس میں ہونے والے حالیہ اضافے کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، اپنے نئے یونیفارم، جدید موٹر بائیکس اور بلیو ٹوتھ سے لیس ہیلمٹس پہنے لاہور کی سڑکوں پر گشت کرتے ڈولفن فورس (ڈی ایف) کے اہلکار باآسانی پہچانے جاسکتے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ جب ڈولفن فورس سڑکوں پر ہوتی ہے تو پولیس کو جرائم کے حوالے سے آنے والی کالز کی شرح کم ہوجاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاؤن اور صدر میں جرائم کی شرح کم ہوگئی ہے خاص طور پر ڈولفن فورس کے گشت کے دوران یہ شرح مزید کم ہوجاتی ہے۔

اعداد و شمار بھی جرائم میں کمی کے حوالے سے حیدر اشرف کے دعوؤں کو کسی حد تک درست ثابت کرتے ہیں لیکن ابتدائی طور پر کامیابی کی رپورٹس سامنے آنے کے باوجود کیا لاہور کی اس نئی پولیس فورس پر ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری سودمند ہوگی؟ اور کیا اس فورس کا مستقبل پہلے سے موجود فورسز سے کچھ مختلف ہوسکے گا جو بدعنوانی اور وسائل کی کمی کی شکار ہیں۔

ڈولفن اسٹریٹ کرائم کنٹرول فورس کے اہلکار اپنی ڈیوٹی کے پہلے روز شہر میں گشت کررہے ہیں—فوٹو / اظہر جعفری/ وائٹ اسٹار
ڈولفن اسٹریٹ کرائم کنٹرول فورس کے اہلکار اپنی ڈیوٹی کے پہلے روز شہر میں گشت کررہے ہیں—فوٹو / اظہر جعفری/ وائٹ اسٹار

بظاہر شاندار لیکن غیر موثر

ڈولفن فورس کے پہلے بیچ میں شامل افسران ابھی سے وسائل کی عدم دستیابی اور غیر موثر منصوبہ بندی کا رونا روتے نظر آرہے ہیں، گشت پر مامور 700 اہلکاروں کو صرف ایک ایک یونیفارم دیے گئے ہیں، روزانہ 8 گھنٹے کی شفٹ ہوتی ہے جس کے بعد اہلکاروں کو مجبوراً اگلے روز وہی یونیفارم استعمال کرنا پڑتا ہے۔

یونیفارم کی کم تعداد کا مسئلہ اپنی جگہ لیکن ناقص منصوبہ بندی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ایک یونیفارم پر 50 ہزار روپے لاگت آئی اور یہ پیراشوٹ کے میٹیریل سے تیار کیا گیا ہے، لاہور کی جھلسا دینے والی گرمی میں ایسا یونیفارم بنانا کوئی سمجھداری کی بات نہیں، جبکہ سونے پہ سہاگہ اس یونیفارم کا 'سیاہ' رنگ ہے جو گرمی کو دوآتشہ کردیتا ہے۔

ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موسم کے اعتبار سے سیاہ کپڑا بہت گرم لگتا ہے، چند گھنٹے بعد ہی سڑکوں پر گشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ڈولفن فورس کے چار اہلکار دوران ڈیوٹی بیہوش بھی ہوچکے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یونیفارم کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے اور اہلکار پیراشوٹ میٹیریل کا یونیفارم پہن کر 8 گھنٹے سڑکوں پر اپنی ڈیوٹی موثر طریقے سے انجام نہیں دے سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہم نے یونیفارم کا کپڑا تبدیل کرنے کی درخواست دی ہوئی ہے، اور اب اہلکاروں کو کاٹن کے کپڑے سے بنے یونیفارم دستیاب ہوں گے۔

نئے یونیفارم سیالکوٹ میں تیار کیے جارہے ہیں اور آئندہ ماہ تک ان کی تیاری مکمل ہوجائے گی، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کی تیاری پر کتنی لاگت آئی گی۔

ڈولفن فورس کی تیاری کے دوران ایک اور مہنگی پڑھنے والی غلطی کی گئی اور یہ تھی 500 سی سی ہیوی بائیکس کا انتخاب، ان میں سے ہر ایک ہیوی بائیک کی قیمت 10 لاکھ روپے ہے اور ابتدائی طور پر 35 موٹرسائیکلیں ڈی ایف کو فراہم کی گئیں اور ان کی تعداد 300 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

صوبائی حکومت تو ڈی ایف کیلئے 2500 سی سی کی موٹرسائیکلیں خریدنا چاہتی تھی لیکن ترک پولیس ماہرین کی تجاویز کے بعد 500 سی سی پر اکتفا کرنا پڑا۔

لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب شہر میں ایک بھی ایسی ورکشاپ موجود نہیں جو ان بائیکس کی مرمت کرسکے تو پھر ان بائیکس کا انتخاب کیوں کیا گیا۔

بائیک میں کوئی بھی خرابی ہونے کی صورت میں اسے گیراج میں کھڑا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کہتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ہونڈا پاکستان کے ساتھ معاہدہ طے پاچکا ہے، وہ بائیکس کی مرمت کیلئے تمام ضروری آلات یہاں لائیں گے۔

تاہم حیدر اشرف نے اس معاہدے کے حوالے سے کوئی تحریری دستاویز نہیں دکھائے۔

ڈولفن فورس کے اہلکار جو ہیلمٹ استعمال کررہے ہیں انہیں 35 ہزار روپے فی ہیلمٹ کے حساب سے خریدا گیا ہے اور لگتا ایسا ہی ہے کہ مستقل قریب میں اس ہیلمٹ سے بھی مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا، کیوں کہ ہیلمٹ میں لگے بلیو ٹوتھ کو اب تک فورس کے کمیونیکیشن سسٹم سے منسلک نہیں کیا گیا۔

ڈولفن فورس کے اہلکاروں کے یونیفارم پر کیمرے بھی لگائے جانے تھے تاکہ گشت کے دوران وہ ریکارڈنگ کرسکیں تاہم اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کیمرے نہیں لگائے گئے جبکہ ٹریکنگ ڈیوائس کی تنصیب کا کام بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔

فوٹو—کاشف بھٹی
فوٹو—کاشف بھٹی

مجموعی منصوبہ بندی

ڈولفن فورس پر آنے والا ایک اور بڑا خرچ تربیت کاروں کی تربیت تھا، لاہور سے 25 پولیس افسران کو تربیت کے لیے ترکی بھیجا گیا جس پر 5 کروڑ روپے کے اخراجات آئے۔

ٹریننگ کے بعد واپس آکر ماسٹر ٹرینرز نے پوری ڈولفن فورس کو تربیت فراہم کی لیکن 25 لوگوں کے لیے پوری فورس کو ٹریننگ دینا مشکل ثابت ہوا اور انہیں ساتھی اہلکاروں کو تربیت دینے کیلئے 3 ماہ تک اپنی ڈیوٹی سے دور رہنا پڑا جس کی وجہ سے گشت کرنے والے اہلکاروں کی تعداد بھی کم رہی۔

اہلکاروں کی تربیت کے دوران بعض تکنیکی مسائل بھی سامنے آئے۔

ایک ماسٹر ٹرینر نے بتایا کہ ترکی میں ہمیں بی ایم ڈبلیو کی 660 سی سی موٹر بائیکس پر تربیت دی گئی جبکہ یہاں ہم دوسرے ماڈلز استعمال کررہے ہیں، دونوں بائیکس میں بظاہر صرف 160 سی سی کا فرق ہے لیکن یہ بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے اہلکاروں کو تربیت فراہم کرنے سے قبل ہمیں خود بھی ان بائیکس پر مہارت حاصل کرنی ہوگی۔

ڈولفن فورس کا ایک اور مسئلہ کم تنخوا بھی ہے، اہلکاروں کی ماہانہ تنخواہ 22 ہزار روپے ہے جو ایک عام پولیس کانسٹیبل کے برابر ہے، ٹرینرز کو ڈولفن فورس کے نئے اہلکاروں کو تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پٹرولنگ بھی کرنی ہوتی ہے اور ٹرینرز تنخواہ کے کم ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔

ایک افسر کا کہنا ہے کہ اگر ہم سے زیادہ بہتر کام کی توقع کی جاتی ہے تو تنخواہ بھی اسی حساب سے ہونی چاہیے، ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ہمیں اضافی 10 ہزار روپے دیے جائیں گے لیکن یہ وعدہ اب تک وفا نہیں ہوا۔

غیر تکنیکی مسائل

حال ہی میں ڈولفن فورس کے 4 کانسٹیبلز کو فیصل ٹاؤن کے ایک منشیات فروش سے تقریباً 90 ہزار روپے رشوت لینے پر ملازمت سے برطرف کیا گیا۔

رشوت لینے کے علاوہ ان اہلکاروں نے ڈیلر کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ماہانہ کی بنیاد پر معاملہ طے کرنے کی بھی کوشش کی۔

ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کو ملازمت سے نکال دیا گیا تاکہ دوسروں کے لیے ایک مثال قائم ہوسکے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان افسران کی برطرفی سے دیگر کے دلوں میں خوف پیدا ہوگا۔

پولیس کو ڈولفن فورس سے حسد؟

ڈولفن فورس سے قبل لاہور میں پولیس کے اسپیشل پیٹرولنگ یونٹس ہوا کرتے تھے اس کے علاوہ محافظ فورس بھی گشت کرتی تھی جو اب بھی موجود ہے۔

اس نئے ڈولفن فورس کے قیام کے حوالے سے موجودہ پولیس یونٹس کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، لاہور کے کئی پولیس اسٹیشنز ایسے ہیں جہاں صرف دو گاڑیاں موجود ہیں ایسے میں حکومت کی جانب سے موٹر بائیکس پر پیسے خرچ کرنے پر بعض سینئر پولیس افسران نالاں بھی نظر آئے۔

اس کے علاوہ ڈولفن فورس کا حصہ نہ بننے پر کئی پولیس اہلکار خوش بھی ہیں، ڈولفن فورس کے اہلکار جدید آلات سے لیس ضرور ہیں لیکن تنخواہ زیادہ نہ ہونے اور کام کے حوالے سختی کی وجہ سے عام پولیس کانسٹیبل اس فورس سے دور رہنے میں ہی عافیت جان رہا ہے۔

یہ بات بھی واضح نہیں کہ آیا لاہور کو حقیقت میں ڈولفن فورس کی ضرورت تھی بھی یا نہیں کیوں کہ جرائم کی شرح تو صرف چند علاقوں میں ہی کم ہوئی ہے۔

بہرحال لوگوں میں ڈولفن فورس کے حوالے سے تجسس پایا جاتا ہے اور لاہوریوں کو اکثر ڈولفن فورس کے افسران کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

لیکن کیا یہ فورس لوگوں میں پولیس کی ساکھ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہورہی ہے یا پھر محض سفید ہاتھی کو سجانے سنوارنے کے مترادف ہے؟

چاہے جو بھی ہو وزیر اعلیٰ پنجاب کا تو یہی خیال ہے کہ ترک طرز کے اس قانون نافذ کرنے والے یونٹ پر پیسہ لگایا جانا چاہیے۔

فوٹو—اظہر جعفری/وائٹ اسٹار
فوٹو—اظہر جعفری/وائٹ اسٹار


دانیال حسن ڈان نیوز ٹی وی لاہور کے بیورو چیف اور ڈاکیومینٹری پروڈیوسر ہیں۔ وہ [email protected] کے نام سے ٹوئیٹ کرتے ہیں۔