جنید جمشید کے بغیر ایک سال کیسے گزرا؟

ابّا کی موجودگی میں اطمینان تھا کہ اگر غلطی ہوگئی تو وہ سنبھال لیں گے، مگر ان کے بعد مجھے فاسٹ فارورڈ کا بٹن دبانا پڑگیا
اپ ڈیٹ دسمبر 07, 2017 05:08pm

یہاں کب کس نے سوچا تھا کہ جنید جمشید کا ذکر کچھ اِس طرح ہوگا کہ اُنہیں خبر تک نہ ہوگی۔

درحقیقت معاملہ یہی ہے کہ اگر آج بھی کوئی یہ بات کہے کہ جنید جمشید اب ہم میں موجود نہیں تو اِس بات پر بھی یقین کرنا اتنا آسان نہیں رہتا۔ ہم میں سے اکثر کی شاید کبھی ایک ملاقات بھی اُن سے نہ ہوئی ہو، مگر اِس کے باوجود اُن کی رخصتی کی خبر نے وہی رنج و غم پہنچایا جو صرف اپنوں کے بچھڑنے پر پہنچتا ہے۔

مگر اِس میں بھی کمال تو جنید جمشید کی شخصیت کا ہی تھا جس نے ہر کسی کو یہ یقین دلایا ہوا تھا کہ اگر کوئی اُن کے سب سے زیادہ قریب ہے تو صرف وہ ہے۔

یہ بھی ایک سچ ہے کہ جنید جمشید کی رحلت کے بعد سے اب تک کا وقت اُن کے ہر چاہنے والے کے لیے آسان نہیں تھا، مگر یہ پورا عرصہ اگر کسی کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ اور مشکل گزرا ہے تو وہ جنید جمشید کے اہلخانہ ہیں، جنہوں نے بڑی ہمت اور حوصلے کے ساتھ اِن مشکل ترین حالات کا سامنا کیا۔

اِس خاندان کو گزشتہ ایک سال میں کیا مشکلات پیش آئیں، کن کن مراحل سے وہ گزرے، کب کب جنید جمشید کی سب سے زیادہ یاد آئی، اِن تمام سوالات کے جواب ڈھونڈنے کے لیے ’ڈان‘ نے اُن کے بڑے صاحبزادے تیمور جنید سے رابطہ کیا۔

اُن سے کیا بات ہوئی، آئیے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

ڈان: ہمارا آپ سے ابتدائی سوال تو یہ ہے کہ والد کی وفات کے بعد گزرا ہوا یہ ایک سال کیسا گزرا؟ لوگوں کے روئیوں میں تبدیلی آئی یا نہیں؟ اور یہ تبدیلی مثبت تھی یا منفی؟

تیمور: سال کا کوئی ایسا لمحہ نہ تھا جب اُن کی یاد نہ آئی ہو، ہر موقع پر مجھے اور تمام گھر والوں کو اُن کے مشوروں کی شدید کمی محسوس ہوئی، میں ہر چیز میں اُن سے مشورہ مانگتا تھا اور وہ مجھے ہر بات بڑی خوبصورتی سے سمجھاتے تھے، مطلب اگر میں کسی مشکل پھنس جاتا تو اُن کے پاس چلا جاتا تھا۔

وہ مجھے نہ صرف مشورہ دیتے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اللہ کی باتیں بھی بتایا کرتے، یوں اُن کے ساتھ بیٹھنے اور مشورے لینے سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا۔ ابّا کے جانے کے بعد لوگوں کے رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جن سے ابّا کی قربت تھی اور جنہیں ہم پہلے سے جانتے تھے اُن سے آج بھی تعلق استوار ہے بلکہ ایسے مزید لوگ بھی ہم سے جڑ گئے جو ابّا کے ساتھ رہے تھے اور ہماری اُن سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، جبکہ کچھ ایسے لوگ بھی رابطے میں آئے جنہوں نے بتایا کہ ابّا اُن کے کافی اچھے دوست تھے، اور اُن سے آج تک ہمارا رابطہ ہے۔

تیمور جنید کی اپنے والد جنید جمشید کے ہمراہ ایک یادگار تصویر۔
تیمور جنید کی اپنے والد جنید جمشید کے ہمراہ ایک یادگار تصویر۔

ڈان: جنید جمشید کے بعد آپ یعنی (اہلخانہ) کی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی کون سی آئی؟

تیمور: وہ گھر کے سربراہ تھے، وہ چلے گئے تو گھر کے معاملات میں ظاہر ہے کہ تھوڑا بہت بدلاؤ تو آیا، لیکن میں یہ بات بھی بتانا چاہوں گا کہ چونکہ وہ اکثر تبلیغ کے سلسلے میں مختلف جگہوں پر جاتے تھے، اگر تبلیغ میں نہ ہوں تب بھی دیگر پروگرامات کی وجہ سے وہ اکثر مصروف رہتے تھے، اِس لیے انہوں نے مجھے آہستہ آہستہ یہ سمجھانا شروع کردیا تھا کہ میں گھر کا بڑا ہوں، مجھے گھر کی ذمہ داری لینی چاہیے، یوں سمجھ لیجیے کہ وہ گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ٹریننگ دے رہے تھے، لیکن پھر بھی مجھے اُن کی موجودگی سے یہ اطمینان ضرور تھا کہ اگر کچھ غلطی ہوگئی تو وہ سنبھال لیں گے، مگر اُن کے جانے کے بعد مجھے اپنی زندگی میں فاسٹ فارورڈ کا بٹن دبانا پڑگیا اور بہت جلدی گھر کی ذمہ داری میرے سر پر آگئی۔

ڈان: والد کی وفات کے بعد کاروبار کے معاملات سنبھالنے میں کس قدر دشواریاں پیش آئیں؟ اور اِس حوالے سے کس نے مدد کی؟

تیمور: اللہ کا شکر ہے، کاروبار کا جو تسلسل چل رہا تھا وہ اُسی طرح چلتا رہا اور چل رہا ہے، جے ڈاٹ جس طرح چل رہی تھی وہ بھی اُسی طرح سہیل بھائی چلا رہے ہیں اور جو ’جزا‘ ہے وہ شروع سے ہی میں دیکھ رہا تھا اِس لیے اُس میں زیادہ مشکلات پیش نہیں آئیں۔ جب حادثہ پیش آیا تو دل و دماغ نے تو جیسے کام کرنا ہی بند کردیا تھا، اِسی لیے ایک سیٹ بیک تو ضرور آیا تھا لیکن خود کو سنبھالنے کے بعد ہم ایک بار پھر اُس ایڈوینچر (جزا) کو آگے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ابّا کا وژن تھا کہ دنیا بھر میں پاکستانی پراڈکٹ کا تاثر مثبت ہو اور یہ کام جے ڈاٹ کے ذریعے ہو ہی رہا تھا اور ہم اب جزا کے ذریعے بھی یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈان: جنید جمشید صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں کافی مقبول تھے، انتقال کے بعد کیا پاکستان سے باہر دوستوں نے کوئی رابطہ کیا تھا؟

تیمور: پاکستان اور دنیا پھر سے لاتعداد لوگوں نے میسجز کیے، فون کیے، تعزیت کے لیے پاکستان آئے، اور جس طرح اُن کا ابّا کے ساتھ رشتہ تھا میں نے بھی اُن سے وہی رشتہ قائم رکھا ہوا ہے۔ تعزیت کرنے والے لوگوں کی تعداد اِس قدر زیادہ تھی کہ اُن کا تعداد کا اندازہ لگانا بھی کافی مشکل ہے۔

ڈان: جنید جمشید گھر میں اور تبلیغ میں کتنا وقت دیا کرتے تھے؟

تیمور: ابّا کسی مسافر کی طرح گھر آیا کرتے تھے اور ہمیں کہتے تھے کہ اب تو بس جنت میں ہی مزے کریں گے، یہ زندگی اُنہوں نے پوری طرح اللہ کو وقف کردی تھی۔ ہمیں یہ محسوس ضرور ہوتا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارتے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے جو زندگی اپنائی اُسی میں اُنہیں حقیقی عزت ملی، میرا مطلب یہ کہ پہلے بھی وہ کافی مشہور تھے لیکن جب وہ اللہ کے رستے پر گامزن ہوئے تب اُنہیں بے پناہ عزت ملی اور یوں اُنہوں نے اپنی باقی زندگی اللہ کو وقف کیے رکھی۔

ڈان: جنید جمشید اپنی زندگی میں سب سے زیادہ پسند اور ناپسند کن افراد کو کرتے تھے؟

تیمور: ناپسند تو وہ کسی کو بھی نہیں کرتے تھے۔ وہ تو جس سے ملتے تھے نہایت پیار و محبت سے ملتے تھے اور ایسے ملتے تھے جیسے کئی سالوں سے اُنہیں جانتے ہوں، ابّا جس سے ملتے تھے بس پھر اُن سے خود ہی تعلق استوار کرلیتے تھے۔ ابّا کا ملنے کا انداز کچھ ایسا ہوتا کہ جیسے وہ اُس شخص کے بہت ہی قریبی دوست ہوں، مجھے کئی ایسے لوگ ملے جنہوں نے بتایا کہ اُن کی میرے والد کے ساتھ ایک خاص قربت تھی، اور کچھ لوگ ایسے بھی ملے جنہوں نے بتایا کہ ہم آپ کے والد سے کبھی ملے نہیں ہیں لیکن ہمیشہ اُن سے ملنے کی خواہش رہی، اللہ تعالٰی نے اُن کے لیے لوگوں کے دلوں میں بے پناہ عزت اور پیار پیدا کیا۔

ڈان: جنید جمشید مرحوم کا کون سا کلام آپ کو بہت پسند ہے اور کیوں؟

تیمور: مسدس حالی مجھے بہت پسند ہے اور اُس کی ترتیب اور ابّا نے جس خوبصورت طرز سے اُن کے کلام کو پڑھا ہے، شاید ہی اِس طرح میں پڑھ سکوں، اُنہوں نے نہایت ہی محبت اور عقیدت کے ساتھ اِس کلام کو پڑھا اور یہی وجہ ہے کہ یہ میرا سب سے پسندیدہ کلام ہے۔

ڈان: والد کے ساتھ آخری ملاقات کب اور کہاں ہوئی؟ اور وہ ملاقت کیسی تھی؟

تیمور: وہ امریکا سے واپس آئے تھے، وہ تمام گھر والوں سے ملے جس کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلے گئے، پتہ چلا کہ والد چترال کی طرف نکلنے لگے ہیں تو میں تقریباً 12 یا 1 بجے اُن کے پاس اُن کے کمرے میں گیا۔ جہاں ہم نے کاروبار کے حوالے سے گفتگو کی کہ 2017 سال شروع ہونے والا ہے اُس میں کیا کچھ کرنا ہے، جیسے ہم جو لائیو کوکنگ شو کر رہے ہیں، ہمارا ارادہ تھا کہ اِس کا آغاز 2017 کے شروع میں کیا جائے لیکن وہ شو کافی مہینوں کی تاخیر کے بعد شروع ہوا کیونکہ حادثے کے بعد کئی معاملات تاخیر کا شکار ہوگئے اور کئی پلانز متاثر ہوگئے تھے۔ آخری ملاقات میں والد نے کہا تھا کہ وہ چترال سے واپس آکر منصوبوں پر کام شروع کریں گے۔

ڈان: وہ نعتیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ رمضان ٹرانسمیشن کا بھی حصہ رہے، کیا والد کے بعد آپ بیٹوں میں سے کسی کا ارادہ ہے کہ اُن کی جگہ کام کریں؟

تیمور: اُن کی طرح ہم (بیٹے) بالکل بھی نہیں بن سکتے، اُن کا تجربہ، اُن کی شخصیت اور اندازِ بیان، ہماری عمر جتنا تو اُن کا تجربہ تھا۔ اُن کے پیغام دینے کا خوبصورت انداز، کہنے کا مقصد یہ کہ ہم اُن جیسے تو نہیں بن سکتے لیکن کوشش ضرور کرسکتے ہیں۔

میں نے اِس سال رمضان کی ٹرانسمیشن میں حصہ لیا، بہت سارے چینلز پر گیا لیکن مجھے احساس ہوا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ بس کیمرے کے سامنے چلے گئے اور بات شروع کردی، براہِ راست نشریات کرنا ایک بہت مشکل کام ہے اور اِس کام میں کئی گھنٹے لگتے ہیں اور آپ کو اپنا کافی زیادہ وقت دینا ہوتا ہے، رمضان میں آپ کو عبادت بھی کرنی ہوتی ہے، آپ کو اپنی معمولاتِ زندگی میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں تب جاکر آپ براہِ راست ٹرانسمیشن کا حصہ بن پاتے ہیں۔ یقیناً میں اُن کی لیگیسی کو جاری رکھنا چاہتا ہوں، لیکن میں اُن کی طرح بن نہیں سکتا البتہ کوشش ضرور کرسکتا ہوں۔

بابر اور تیمور کی اپنے والد جنید جمشید کے ہمراہ ایک یادگار تصویر—فائل
بابر اور تیمور کی اپنے والد جنید جمشید کے ہمراہ ایک یادگار تصویر—فائل

ڈان: جنید جمشید کو بچھڑے ایک سال ہو چکا ہے، اِس سال کے دوران کوئی ایسا لمحہ جب آپ کو اُن کی شدید کمی محسوس ہوئی ہو؟

تیمور: اُن سے وابستہ تمام یادیں آج بھی میرے ذہن اور دل پر نقش ہیں۔ لیکن مئی 2017ء میں میری بیٹی پیدا ہوئی تھی، اُس لمحے میں نے ابّا کو بہت زیادہ یاد کیا، میں ٹوٹ سا گیا تھا کہ، کاش ابّا ہوتے تو وہ اپنی پوتی کو گود میں لیتے اور اُس کے کان میں اذان دیتے، میری بیٹی اُن کی کسی بھی اولاد کی پہلی اولاد تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب مجھے اُن کی بے پناہ یاد آئی۔