ای میل

پاکستان میں کم عمری کی شادیاں، وجوہات اور اُن کے نقصانات

تحریر و تصاویر: بلال کریم مغل

فاطمہ عمرکوٹ کے گاؤں کھاروڑو چارن میں اپنے نواسے کے ساتھ — فوٹو بلال کریم مغل
فاطمہ عمرکوٹ کے گاؤں کھاروڑو چارن میں اپنے نواسے کے ساتھ — فوٹو بلال کریم مغل

عمرکوٹ ایک مشہور شہر ہے۔ مغل بادشاہ اکبر 1542ء میں یہیں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین معزول بادشاہ ہمایوں اور ان کی کم سن اہلیہ حمیدہ بانو بیگم اس وقت اس چودہویں صدی کے قلعے میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

عمرکوٹ اپنے حاکم عمر سومرو کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن وہ تھر کے قریبی صحرا کے دورے پر تھے تو انہوں نے ایک کم عمر لڑکی مارئی کو دیکھا، جسے عام طور پر ماروی کہا جاتا ہے۔ مارئی اس وقت کنوئیں سے پانی بھر رہی تھی۔

مارئی کے حُسن کا عمر سومرو پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ وہ مارئی کو اپنے ساتھ ہی لے گیا اور اپنے قلعے میں محبوس کرکے اسے شادی کرنے کے لیے مجبور کرنے لگا۔

مارئی نے انکار کردیا۔

وہ لگاتار اس کی تمام پیشکشوں کو ٹھکراتی رہی اور اس کے محل کی آسائشوں کے جال میں آنے سے انکار کرتی رہی۔ اس کے بجائے وہ عمر سومرو سے منت سماجت کرتی رہی کہ وہ اسے واپس اپنے گاؤں جانے دے۔ جب عمر کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں، تو بالآخر اس نے اپنی ہار مانتے ہوئے مارئی کو تھر واپس بھیج دیا۔

سندھ کے سب سے مشہور صوفی شعراء میں سے ایک شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اٹھارہویں صدی کی اپنی کتاب شاہ جو رسالو کے ذریعے مارئی کی کہانی کو امر کردیا ہے۔ بھٹائی نے مارئی کو سندھ کی ان 7 سورمیوں یا مضبوط خواتین کرداروں میں شمار کیا ہے جنہوں نے پدرشاہی معاشرے کی کسی نہ کسی صورت میں مزاحمت کی۔

چنانچہ اس سال اکتوبر میں عمرکوٹ میں کم سنی کی شادیوں کے واقعات اکھٹا کرنے کے لیے موجود ہونا جہاں مناسب ہے تو وہیں ستم ظریفی بھی۔

کراچی کے شمال مشرق میں تقریباً 308 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ شہر ایک گرم اور خشک اتوار کے دن سرگرمیوں سے بھرپور ہے۔ بازار خریداروں سے بھرے ہوئے ہیں اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے سڑکیں جام ہیں۔ لگتا ہے کہ ہر کوئی جلدی میں ہے۔ مگر جیسے ہی شہر سے باہر نکلیں تو آپ خود کو ایک دیہی خاموشی میں پاتے ہیں۔

عمرکوٹ شہر کے مضافاتی گاؤں کھاروڑو چارن جانے والی سڑک پر ہو کا عالم طاری ہے۔ اس گاؤں کے ایک مٹی سے بنے گھر میں 3 سالہ بچے کی ماں امیراں ایک چارپائی پر بیٹھی ہے۔ گھر کی کوئی چار دیواری نہیں ہے اور حدود کی نشاندہی کرنے کے لیے کانٹے دار شاخیں رکھی گئی ہیں۔ بڑے سے صحن میں ایک دوسرے سے الگ تھلگ کئی کمرے اور تھر کی روایتی جھونپڑی چوئنرو بھی ہے، جسے سوکھے پتوں اور سرکنڈوں کی مدد سے بنایا جاتا ہے۔ گھر کے رہائشیوں کی برائے نام آمدن اور امیراں کی جسمانی کمزوری، دونوں ہی بالکل واضح ہیں۔

ہلکے پیلے رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس ہونے کی وجہ سے وہ اور بھی زیادہ کمزور محسوس ہو رہی ہے۔ اس کے چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ ہے اور وہ زیادہ بات نہیں کرتی۔ جب اس کی والدہ فاطمہ امیراں کی کہانی بیان کرتی ہیں، تو وہ کبھی کبھی ایک یا 2 نکتوں کا اضافہ کردیتی ہے، اور زیادہ تر صرف اثبات میں سر ہلاتی رہتی ہے۔

فاطمہ کو یاد نہیں ہے کہ امیراں کی پیدائش کب ہوئی تھی۔ ’(وہ) تقریباً 12 سال کی تھی جب ہم نے اس کی شادی کی تھی۔ آپ تو جانتے ہیں ہمارے دیہات میں لڑکی کا بلوغت کی عمر کو پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ شادی کے لیے تیار ہے۔‘

امیراں کی شادی وٹے سٹے کی تھی۔ اسے اس کے چاچازاد بھائی سے بیاہا گیا تھا۔ بدلے میں اس کی چاچازاد بہن صنم کی شادی امیراں کے بھائی سے کی گئی۔

شادی کے چند ماہ بعد ہی امیراں حاملہ ہوگئی۔ بچے کی پیدائش کا وقت قریب ہونے پر امیراں کے والدین اسے اپنے گھر لے آئے۔ بچے کی پیدائش کے دوران امیراں پر کیا کچھ گزری، یہ بتاتے ہوئے فاطمہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے گھر پر تمام کوششیں کیں، مگر جب اس کا دردزہ بہت طویل ہوگیا تو ہم اسے قریبی ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے امیراں کو بچے کو جنم دینے میں مدد دی جو کہ سانس بھی بمشکل لے پا رہا تھا، جبکہ امیراں تو تقریباً بے ہوش تھی۔

تب سے لے کر اب تک امیراں کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ بچے کی پیدائش کے تقریباً 7 ماہ بعد تک کمر اور ٹانگوں میں سخت درد کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سے چل پھر سکنے یا گھر کے کام کاج کرنے سے بھی قاصر رہی۔ اب بھی وہ کبھی کبھی اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے۔ فاطمہ کہتی ہیں کہ ’یہ جسمانی مشقت والا کوئی بھی کام نہیں کرسکتی۔ یہ اپنا خیال بھی نہیں رکھ سکتی۔‘

امیراں اپنے بچے شکیل کو اپنا دودھ بھی نہیں پلاسکی، چنانچہ اسے بکری کے دودھ پر پال کر بڑا کیا گیا ہے۔ وہ دکھنے میں کمزور ہے اور غذائی قلت کا شکار ہے۔ چوں کہ اس کی والدہ اس کا خیال نہیں رکھ سکتی، تو یہ ذمہ داری اس کی نانی کے اوپر ہے جن کے مطابق ’اس کا ڈائریا ختم نہیں ہوتا اور یہ کوئی ٹھوس غذا نہیں کھا پاتا، جبکہ اس کے دانت بھی سڑ رہے ہیں۔‘ شکیل، جو امیراں کو اپنی والدہ کے طور پر نہیں پہچانتا، اس کی بیماریاں گنواتے ہوئے فاطمہ بتاتی ہیں کہ بچہ پوری پوری رات نہیں سوتا۔

مقامی ہیلتھ ورکر اور خواتین کے حقوق کی کارکن رشیدہ ساند امیراں کی طرف دیکھتی ہیں اور افسوس کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’بیچاری لڑکی نے اتنی بیماریوں اور عارضوں کو گلے لگایا اور اب بھی اپنے بچے کے منہ سے 'ماں' کا لفظ سننے کے لیے بے تاب ہے۔‘

کھاروڑو چارن، عمرکوٹ میں امیراں کے گھر جاتا راستہ— فوٹو بلال کریم مغل
کھاروڑو چارن، عمرکوٹ میں امیراں کے گھر جاتا راستہ— فوٹو بلال کریم مغل

امیراں کا شوہر ایک مزدور ہے جس کی دیہاڑی 200 سے 300 روپے ہے، وہ بھی تب جب اسے کام ملے تو۔ اتنے پیسے صرف روز کی دال روٹی کے لیے کافی ہو پاتے ہیں۔ امیراں کے والدین نے اپنے کئی مویشی بیچ دیے ہیں تاکہ اس کا اور اس کے بچے کا علاج کروایا جاسکے۔ فاطمہ کہتی ہیں کہ ’ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کا علاج صرف حیدرآباد میں ہوسکتا ہے، مگر ہمارے پاس اسے وہاں لے جانے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔‘

گھر سے باہر نکلتے ہوئے رشیدہ اداس دکھائی دیتی ہیں۔ جیسے ہی ہم فاطمہ کی حدودِ سماعت سے دور آتے ہیں، تو رشیدہ کہتی ہیں، ’یہاں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں علاج کے بغیر بچہ زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ پائے گا۔‘


**نرما*** اوڈ برادری سے تعلق رکھتی ہیں جسے ہندو معاشرت میں نچلی ترین ذاتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے گھر کے کئی لوگوں اور کچھ بکریوں اور بھینسوں کے ساتھ ایک مٹی کے گھر میں رہتی ہیں، جو کہ ضلع عمرکوٹ کے دیہات کھاروڑو سید میں ہے۔ گلابی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس دبلی پتلی سی نرما اپنی عمر سے کچھ بڑی دکھائی دیتی ہیں۔

18 سال قبل نرما کے والدین نے اس کی شادی کردی تھی۔ اس وقت وہ 13 سال کی تھی جب کہ اس کا شوہر صرف دس سال کا تھا۔ یہ شادی بھی وٹے سٹے کی شادی تھی جس میں نرما کے بھائی کو اس کے شوہر کی بہن سے بیاہا گیا تھا۔

شروع کے 4 ماہ بڑے سکون سے گزرے، مگر پھر خوفناک رات کا آغاز ہوا۔ نرما کہتی ہیں، ’مجھ سے لگاتار کام کروایا جاتا جس میں جانوروں کا خیال رکھنا، پورے سسرال کا کھانا بنانا، گھر کو صاف ستھرا رکھنا اور برتن دھونا شامل تھا۔ میں نے یہ سب کام اپنے گھر پر نہیں کیے تھے۔‘

مشکلات میں اضافہ تب ہوا جب کچھ ہی عرصے بعد نرما حاملہ ہوگئیں۔ انہی دنوں نرما کے بھائی نے اپنی بیوی پر کسی وجہ سے ہاتھ اٹھایا۔ چوں کہ وٹے سٹے کی شادیوں میں ہر چیز کی ادلا بدلی ہوتی ہے، چنانچہ نرما کے سسرالیوں نے اس کے شوہر پر دباؤ ڈالا کہ وہ بھی اپنی بیوی کو مارے۔ نرما یاد کرتی ہیں کہ ’اس رات میرے سسرالیوں اور میرے شوہر نے مل کر مجھے کمرے میں بند کیا، میرے ہاتھ باندھ دیے، اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔‘ اس کے بعد تو جیسے مزید تشدد اور جبری مشقت کا سلسلہ شروع ہی ہوگیا۔ چھوٹی سے چھوٹی غلطیوں پر اسے بدترین جسمانی اور نفسیاتی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا۔ اس میں اس کے سسر کی جانب سے جنسی استحصال بھی شامل تھا مگر وہ یہ بات باتوں باتوں میں کہہ جاتی ہیں اور پھر رونے لگتی ہیں۔

نرما اکثر اوقات اپنی والدہ کو شکایت کرتیں جو اس سب کے خلاف آواز اٹھانے سے اس لیے ڈرتی تھیں کہ کہیں بدلے کی شادی کے لیے بھی مسائل نہ کھڑے ہوجائیں۔ ’امی کو لگتا تھا کہ میں سست ہوں اور گھر کے کاموں سے جان چھڑانا چاہتی ہوں۔‘ جہنم بن چکے اپنے سسرالیوں کے گھر میں نرما نے تقریباً 8 سال گزارے۔ پھر جب کثرتِ شراب نوشی کے باعث جگر کے امراض کی وجہ سے اس کے بھائی کا انتقال ہوگیا تو اس کی بیوی بھی اپنے گھر واپس چلی گئی۔

یوں نرما کو بھاگ نکلنے کا موقع ملا اور وہ 2008ء سے اپنے والدین کے گھر میں مقیم ہے۔ نرما کے سسر نے کئی دفعہ اسے واپس لے جانے کی کوشش کی۔ اس نے دھمکیاں بھی دیں اور پیسوں کی پیشکش بھی کی۔ ’شروع میں تو میرے والدین بہت خوفزدہ تھے مگر میں واپس نہیں گئی۔‘ چند دنوں بعد نرما کا شوہر بھی اس کے پاس آکر رہنے لگا۔ اب یہ دونوں ساتھ رہتے ہیں۔ جب نرما بات کر رہی ہیں تو اس کا شوہر اس کے ساتھ ہی بیٹھا ہے اور خاموشی سے سن رہا ہے۔ ’مجھے اس سے کوئی بھی شکایت نہیں ہے۔ ہم دونوں ہی شادی کے وقت بچے تھے۔‘

نرما اب عمرکوٹ میں لیڈی ہیلتھ ورکر ہیں اور ان کے 5 بچے ہیں جن میں سے ایک بیٹی بھی شامل ہے جس کی عمر 17 سال ہے۔ نرما کا عزم ہے کہ وہ 18 سال کی عمر سے پہلے اس کی شادی نہیں کروائیں گی۔ ’میں نہیں چاہتی کہ وہ بھی ان حالات سے گزرے جس سے میں گزری ہوں۔‘


عمرکوٹ کے ایک رہائشی محلے میں عبدالکریم منگریو اپنے گھر کی دیوار سے متصل ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ وہ پیک شدہ چپس، ٹافیاں اور دیگر گھریلو سامان فروخت کرتے ہیں۔ ان کے سرمئی بال اور سفید داڑھی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ 60 کے پیٹے میں ہیں۔ سندھی قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی کے سابقہ کارکن عبدالکریم منگریو اب اپنا فارغ وقت سماجی کاموں میں گزارتے ہیں، اور 2 نوجوان لڑکیوں حنیفاں اور حوا کی کہانی سے بخوبی واقف ہیں۔ ان دونوں کی پیدائش اسی محلے میں ہوئی تھی جہاں وہ رہائش پذیر ہیں اور منگریو برادری سے ہی تعلق رکھتی تھیں۔

عبدالکریم منگریو عمرکوٹ میں اپنی دکان میں کھڑے ہیں— فوٹو بلال کریم مغل
عبدالکریم منگریو عمرکوٹ میں اپنی دکان میں کھڑے ہیں— فوٹو بلال کریم مغل

ان کے مطابق حوا کے والدین نے اسے 2010ء میں پنجاب کے جنوبی ترین ضلعے رحیم یار خان کے علاقے احمد پور لامہ سے تعلق رکھنے والے نظام مہر سے 13 لاکھ روپوں کے عوض بیاہ دیا تھا۔ اس وقت وہ 12 سال کی تھی۔ شادی کے چند ماہ بعد اس نے اپنے والدین سے سسرالیوں کے بُرے سلوک کی شکایت کی مگر اس کی شکایتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ حوا بالآخر اپنے شوہر کے گھر سے بھاگنے میں کامیاب رہی اور کسی نہ کسی طرح 530 کلومیٹر فاصلہ بذریعہ سڑک طے کرکے اپنے والدین کے گھر عمرکوٹ پہنچ گئی۔

حوا کے سسرالیوں نے اس کا پیچھا کیا۔ انہوں نے اس کے والدین پر دباؤ ڈالا جنہوں نے شروع میں تو انکار کیا، مگر بعد میں بااثر لوگوں کے درمیان میں آنے کی وجہ سے وہ مان گئے اور حوا کو اس کے سسرالیوں کے حوالے کردیا گیا۔ منگریو کہتے ہیں کہ ’انہوں نے ہمیں یقین دہانی کروائی تھی کہ اسے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔‘

جولائی 2012ء میں حوا کی موت ہوگئی۔

منگریو بتاتے ہیں کہ ’حوا کے والدین کو اطلاع دی گئی کہ اسے حادثاتی طور پر کرنٹ لگا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کوئی تفصیلات نہیں دی گئیں۔‘ شروع میں انہوں نے نظام مہر اور اس کے خاندان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروانے کی کوشش کی، مگر بعد میں وہ خاموش ہوگئے۔ مبینہ طور پر حوا کے خاندان کو 3 لاکھ روپے دیے گئے تاکہ ’ان کا منہ بند کروایا جاسکے۔‘

حنیفاں کی موت بھی پُراسرار انداز میں ہوئی۔ اس کے والدین نے شمالی سندھ کے شہر ڈہرکی کی مہر برادری میں اس کی شادی کی تھی جب وہ ابھی بچی ہی تھی۔ اس کے سسرالیوں نے اس پر ناجائز تعلقات کا الزام لگا کر اسے قتل کردیا۔ منگریو کا دعویٰ ہے کہ حنیفاں کے والدین کو بھی 8 لاکھ روپے ادا کیے گئے تاکہ وہ قتل کا مقدمہ درج نہ کروائیں۔

منگریو کا الزام ہے کہ جنوبی سندھ کے چند قبیلوں میں جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ کے دور دراز علاقوں کے عمر رسیدہ مردوں کو کم عمر بچیاں فروخت کرنا معمول ہے۔ ان کی اکھٹے کیے گئے اخباری تراشوں سے یہ واضح ہے کہ ضلع عمرکوٹ، تھرپارکر، بدین اور سانگھڑ میں اس کام کی شرح خطرناک حد تک بلند ہے۔

وہ لوگ جو کم عمر دلہنیں ’خریدتے ہیں‘، انہیں غلام اور جنسی کھلونے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چند مقامات پر تو انہیں قربانی کے بکرے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جو شاید حنیفاں کے معاملے میں ہوا ہوگا۔

اس طرح کے واقعات میں پہلے لڑکیوں پر اس قبیلے یا ذات کے کسی شخص سے ناجائز تعلقات رکھنے کا الزام لگایا جاتا ہے جس سے دشمنی ہوتی ہے۔ پھر لڑکی اور لڑکے کو کاروکاری قرار دے کر قتل کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد لڑکیوں کے والدین کو پیسے دے کر انہیں خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ منگریو کہتے ہیں کہ ’اس طرح فروخت کی گئی تمام لڑکیاں قتل بھی نہیں ہوتیں، مگر بالآخر یہ ان کی قسمت ہوتی ہے۔‘

یا شاید بدقسمتی۔

منگریو کہتے ہیں کہ انہوں نے کم عمر دلہنوں کی فروخت کی معلومات فراہم کرتے ہوئے کئی سال گزار دیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی دفعہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ’لوگ اب پولیس سے ڈرنے لگے ہیں۔‘ مگر انہوں نے پکڑے جانے سے بچنے کا طریقہ بھی ڈھونڈ لیا ہے۔ ’اب لوگ دوسرے ضلعوں میں جاکر اپنی بچیاں فروخت کرکے انہیں بندھن میں باندھ کر آجاتے ہیں۔‘


واسو جھنگ شہر کے جنوب مغرب میں تقریباً 32 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ایک گاؤں ہے۔ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ظفر اقبال، ان کی اہلیہ حلیماں اور 2 بیٹے ان کے گاؤں کو قریبی قصبے اٹھارہ ہزاری سے ملانی والی سڑک کے ساتھ واقع ایک گھر میں رہتے ہیں۔ 6 ماہ قبل اقبال کے سب سے بڑے بیٹے جاوید نے جھنگ شہر میں رہنے والے ایک بلوچ خاندان کی لڑکی کو گھر سے بھگا کر شادی کرلی۔ اقبال کہتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ ان کا بیٹا اب کہاں ہے۔

لڑکی کے والد اعجاز خان نے جاوید کی بہن روبینہ کے شوہر سرفراز سنپال سے رابطہ کیا تاکہ اس جوڑے کا پتہ چلایا جاسکے۔ معلوم ہوا کہ یہ جوڑا فیصل آباد میں مقیم تھا، مگر چوں کہ ان کی شادی اب قانونی تھی، اس لیے انہیں الگ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اعجاز خان نے سنپال پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے بھائی امیر خان کو اپنی 8 سالہ بیٹی نزہت کا رشتہ دے تاکہ دونوں خاندانوں کے درمیان تنازعے کو ختم کیا جاسکے۔

18 ستمبر 2017 کو نزہت کی امیر خان سے شادی ہوگئی۔

نزہت جھنگ میں اپنے نانا نانی اور بھائی کے ساتھ— فوٹو بلال کریم مغل
نزہت جھنگ میں اپنے نانا نانی اور بھائی کے ساتھ— فوٹو بلال کریم مغل

سرفراز اور مقامی پولیس کا اس بات پر اختلاف ہے کہ شادی کس طرح ہوئی۔ 16 اکتوبر 2017ء کو پولیس کو جمع کروائی گئی درخواست میں سرفراز کا مؤقف ہے کہ اس کی بیٹی کو اغواء کیا گیا اور پھر اعجاز اور اس کے آدمیوں نے دباؤ ڈال کر اس سے شادی کرلی۔ سرفراز کا یہ بھی الزام ہے کہ اعجاز نے اسے اور اس کی بیوی روبینہ کو جھنگ سرگودھا ہائی وے کے ساتھ واقع ایک گاؤں میں محبوس رکھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ 20 دن بعد قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے، مگر روبینہ اب بھی اعجاز خان کی قید میں ہے۔

دوسری جانب پولیس نے سرفراز کی درخواست کے ایک دن بعد رپورٹ درج کی جس میں سرفراز پر اپنی کم عمر بیٹی کی شادی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اب سرفراز جیل میں ہیں اور مقدمہ جھنگ کی ایک عدالت میں زیرِ سماعت ہے جس نے حکم دیا تھا کہ نزہت کو اغوا کاروں سے چھڑوا کر اس کے نانا ظفر اقبال کے حوالے کیا جائے۔

ظفر اقبال جب اس کی آپ بیتی سناتے ہیں تو نزہت اپنی نانی کی بانہوں سے لپٹی ہوئی ہے۔ اس کے کانوں پر زخم موجود ہیں جو اب بھر رہے ہیں۔ نزہت کا کہنا ہے کہ یہ زخم اغواء کے دوران ہونے والے تشدد کی وجہ سے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس سے سارا دن گھر کا کام کروایا جاتا تھا جب کہ 24 گھنٹے میں صرف ایک بار کھانا دیا جاتا۔ اسے یہ بھی یاد نہیں ہے کہ راتوں میں اس کے ساتھ کیا ہوتا تھا۔ یاد ہے تو بس اتنا کہ سونے سے پہلے اسے پینے کے لیے کچھ دیا جاتا تھا۔ طبی رپورٹ کے مطابق اسے نیند میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔


**27 سالہ اکرم*** کا تعلق ضلع جھنگ کے جنوبی حصے میں موجود تحصیل احمد پور سیال سے ہے۔ وہ اپنے علاقے میں ایک پرائیوٹ اسکول چلاتے ہیں اور اکثر و بیشتر مقامی ویب سائٹس اور نیوز چینلز کے لیے فری لانس رپورٹر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ سیاہ پینٹ، سرخ ٹی شرٹ اور ایک جیکٹ میں ملبوس اکرم پُراعتماد اور پُرسکون دکھائی دیتے ہیں۔

اکرم صرف 5 سال کے تھے جب ان کے والدین نے ان کی شادی کردی تھی۔ یہ ایک وٹے سٹے کی شادی تھی جس میں ان کی بیوی صرف چند ماہ کی تھی اور اکرم کی بڑی بہن کے سسرال سے تعلق رکھتی تھی۔ اسے تب تک اپنے والدین کے ساتھ رہنا تھا جب تک ان کی باقاعدہ شادی نہ ہوجاتی۔ اکرم بتاتے ہیں کہ ان کی برادری میں ایسی شادیاں عام ہیں۔

جب اکرم کالج میں تھے تو انہیں احساس ہوا کہ ان کی ہونے والی بیوی بالکل بھی تعلیم حاصل نہیں کر رہی تھی۔ انہیں ایک ایسی شادی کی تکمیل کے تصور سے ہی بے چینی ہو رہی تھی جس میں ان کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ چنانچہ انہوں نے اس تعلق کو جاری رکھنے سے انکار کردیا۔ شروع میں تو ان کے انکار کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس شادی کو تحلیل کرنا ناممکن تھا کیوں کہ اس سے ان کی بہن کی بھی طلاق ہوجاتی، جیسا کہ عام طور پر وٹے سٹے کی شادیوں میں ہوتا ہے۔ 2014ء میں جب انہوں نے سرگودھا یونیورسٹی سے ماس کمیونکیشن میں ماسٹرز کرلیا تو ان کے خاندان نے شادی کے لیے تیاریاں کرنے کو کہا، مگر اکرم نے انکار کردیا۔

ان کے گھر والوں نے بات چیت کے ذریعے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔ ان پر نفسیاتی دباؤ بھی ڈالا۔ پھر ان کے سسرالیوں نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اکرم یاد کرتے ہیں کہ کس طرح ان کے گھر سے پانی کے نکاس کو روک دیا گیا تھا جس سے ان کے کمرے گندے پانی سے بھر گئے تھے۔ اکثر اوقات اکرم کی والدہ کو سرِعام طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا۔

تنگ آکر آخر انہوں نے گھر چھوڑ دیا اور اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنے میں شامل ہوگئے۔ وہ وہاں کئی ماہ رہے جب تک دھرنا جاری رہا۔ اس سے ان کے خاندان کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ ان کا سوشل بائیکاٹ جاری رہا اور ان کی بہن کو اکثر اوقات سسرال میں طنز کا سامنا کرنا پڑتا۔ اکرم پھر بھی اپنے انکار پر ثابت قدم رہے۔ بالآخر انہیں کہا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیں۔ انہوں نے یہ بات مان لی۔ ان کی بہن کے لیے شکر کا مقام یہ تھا کہ بدلے میں انہیں طلاق نہیں دی گئی کیوں کہ ان کے سسرالی اس بات کو سمجھ گئے تھے کہ اکرم نے ان کی بیٹی کو طلاق کسی ذاتی مخاصمت کی بناء پر نہیں بلکہ صرف اپنے نظریات کی وجہ سے دی تھی۔

انہیں اپنے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں اور بخوشی کہتے ہیں کہ ان کے اس اقدام کی وجہ سے اب ان کی برادری میں لوگ کم سنی کی شادیوں سے ہچکچانے لگے ہیں۔ اکرم کہتے ہیں کہ ’لوگ اب ڈرتے ہیں کہ کم سنی میں اگر شادی کروائی، تو یہ نہ ہو کہ بچے بڑے ہو کر اس شادی کو جاری رکھنے سے انکار کر دیں۔‘


کراچی کے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقے کے ساتھ واقع اختر کالونی میں رومن کیتھولک عیسائیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد ناکافی روشنی کی وجہ سے ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں کسی گھر کو اس کے نمبر سے پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن راستہ پوچھنے میں مشکل یہ ہے کہ مقامی ذریعے لوگوں کی نظروں میں آجائیں گے، جبکہ وہ اس توجہ سے بچنا چاہتے ہیں۔

جین* اور ان کے شوہر اپنے گھر کے باہر ہی کھڑے ہیں تاکہ ان کے گھر کو پہچاننے میں مشکل نہ ہو، ورنہ ان کا گھر علاقے کے دوسرے گھروں سے کچھ الگ نہیں ہے۔ وہ فوراً ہی مجھے گھر کے اندر لے جاتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ جان سکے کہ ایک صحافی ان کے گھر آیا ہوا ہے۔ وہ ستمبر 2016ء سے شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہیں جب جین کی میٹرک کی طالبہ بیٹی جولی* غائب ہوگئی۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے پڑوسی دوبارہ یہ واقعہ تازہ کرکے انہیں شرمندہ کریں۔

گھر اندر سے دیکھنے پر مکینوں کی غربت صاف جھلک رہی ہے۔ جین یاد کرتی ہیں کہ کس طرح جولی گزشتہ سال اسکول گئی اور پھر کبھی واپس نہیں آئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’اگلے دن ہمیں اپنے ایک مسیحی پڑوسی کا فون آیا جس نے بتایا کہ اس کے بھائی اور ہماری بیٹی نے اسلام قبول کرکے اپنی پسند سے شادی کرلی ہے۔‘ یہ کہہ کر وہ رک جاتی ہیں تاکہ اپنے آنسوؤں پر قابو پاسکیں۔ پھر وہ بات جاری رکھتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’اس وقت میری بیٹی صرف 15 سال کی تھی۔‘

جین اور ان کے شوہر اگلے دن مقامی پولیس اسٹیشن گئے تاکہ مقدمہ درج کروایا جاسکے کیوں کہ ان کی بیٹی شادی کی قانونی عمر تک نہیں پہنچی تھی، لہٰذا اس کی شادی غیر قانونی تھی۔ لیکن پولیس نے غیر قانونی شادی کے بجائے اغواء کا مقدمہ درج کیا۔ جولی کے شوہر مائیکل* نے اس مقدمے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ نتیجتاً عدالت نے جولی کے والدین کا درج کروایا گیا مقدمہ ختم کرتے ہوئے جولی کو اپنے شوہر مائیکل کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

جین کہتی ہیں کہ جج صاحبان نے جس چیز کو مدِنظر نہیں رکھا وہ یہ کہ جولی کی شادی میں سندھ کے بچوں کی شادی کے انسداد کے قانون 2013ء (سی ایم آر اے 2013ء) کی خلاف ورزی ہوئی تھی جس میں بچے کی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جج صاحبان کو اس بات پر بھی مسئلہ نہیں ہوا کہ شادی کے وقت جولی کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بھی نہیں بنا ہوا تھا کیوں کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی تھی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جین کے وکیل کہتے ہیں کہ اگر پولیس اور عدالت نے اس شادی کی قانونی حیثیت پر غور کیا ہوتا تو مقدمے کا نتیجہ مختلف نکلتا۔ جولی اس وقت اپنے شوہر کے بجائے اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ رہی ہوتی، جبکہ اس کا شوہر جیل میں ہوتا۔ اب وہ اس خاندان کا مقدمہ سپریم کورٹ میں لڑ رہے ہیں۔

اغواء کے مقدمے میں جج صاحبان چاہتے ہیں کہ اغواء کیے گئے شخص کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس سے پوچھا جاسکے کہ ان کی گمشدگی جبری تھی یا نہیں۔ ان کے وکیل سمجھاتے ہیں کہ ’اگر وہ شخص نا میں جواب دے، تو مقدمہ ختم کردیا جاتا ہے۔‘ ان کے مطابق یہ 'نا' اکثر دباؤ ڈال کر کہلوایا جاتا ہے، خاص طور پر تب جب مغوی کم عمر ہو۔

مذہب کی جبری تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی شادیوں جیسے مسائل ہی تھے جس کی وجہ سے سندھ میں کم سنی کی شادیوں کے خلاف قانون منظور کیا گیا تھا۔ جب پایا گیا کہ سندھ میں مسلمان مردوں سے شادی کے لیے اسلام قبول کرنے والی ہندو لڑکیوں کی اکثریت اپنی ابتدائی یا وسطی ٹین ایج میں تھی، تو قانون نے شادی کی قانونی عمر کو 18 سال کردیا۔


نومبر کے ابتدائی دنوں میں ننکانہ صاحب میں مذہبی میلے کا وقت ہے جبکہ اسموگ نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ وسطی پنجاب کے اس قصبے میں ہزاروں سکھ موجود ہیں تاکہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی پیدائش کا جشن منایا جاسکے۔

اسموگ سے بھرپور ایک دوپہر میں ننکانہ صاحب سے نکلنے والی سڑک بمشکل ہی نظر آرہی ہے۔ شہر سے تقریباً 15 کلومیٹر دور مغربی جانب ایک گاؤں چک وٹوواں 638 جی بی ہے۔ صابرہ بی بی نامی بیوہ خاتون اسی بستی میں کینال کے پاس رہتی ہیں۔ ان کی بیٹی کی حال ہی میں ایک پیچیدہ زچگی کی وجہ سے موت ہوئی ہے۔

صابرہ کے چھوٹے سے گھر میں 2 کمرے اور ایک چھوٹا سا صحن ہے۔ وہ فوج سے نان کمیشنڈ افسر کے طور پر ریٹائر ہونے والے اپنے مرحوم شوہر کی معمولی سی پینشن پر 10 لوگوں کا گھر چلا رہی ہیں۔ صابرہ کہتی ہیں کہ ’جیسے ہی لڑکی روٹیاں صحیح پکانی شروع کردے اور گھر کا کام سنبھالنے لائق ہوجائے تو اسے شادی کے لیے بالکل موزوں و قابل سمجھا جاتا ہے۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ کچھ والدین اپنی بیٹیوں کی جلدی شادی نہ کرسکیں تو پوری برادری ان پر ایسا جلد از جلد کرنے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔ صابرہ کہتی ہیں کہ ’معاشرے کے دباؤ کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ لوگوں کو خوف ہوتا ہے کہ اگر لڑکیوں کی شادی جلد نہ کی گئی تو وہ غلط مردوں کے جال میں پھنس سکتی ہیں، اور گھر سے بھاگ بھی سکتی ہیں۔‘

ننکانہ صاحب میں سورج غروب ہو رہا ہے۔ — فوٹو بلال کریم مغل۔
ننکانہ صاحب میں سورج غروب ہو رہا ہے۔ — فوٹو بلال کریم مغل۔

ننکانہ صاحب کے لاء چیمبر میں ایک وکیل بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’ان موبائل فونز نے تو مسئلے کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔‘ ان کے مطابق کم سنی کی شادیوں میں اضافے کی بڑی وجہ لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان روابط میں اضافہ ہے۔ ’ہر دوسرے دن ہمارے سامنے ایک کم سن بچی بیٹھی ہوتی ہے جو خود سے کچھ بڑے مرد کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہوتی ہے۔ پھر ہم سے درخواست کی جاتی ہے کہ ہم ان کی شادی میں مدد کریں۔‘

صابرہ نے اپنی بیٹی میمونہ شہزادی کی شادی 17 سال کی عمر میں کی تھی۔ میمونہ پنجاب میں لڑکیوں کے لیے شادی کی قانونی عمر سے ایک سال بڑی تھیں، مگر پھر بھی بچے پیدا کرنے کے لیے ابھی کافی کم عمر تھیں، جس کا اندازہ ان کے ساتھ ہونے والے واقعے سے لگایا جاسکتا ہے۔ اگلے 4 سال کے اندر اندر انہوں نے ایک بچے کو جنم دیا اور ان کا ایک حمل ساقط ہوگیا۔ ان کا جسم ان مشکلات کو نہیں جھیل سکا اور وہ اپنے دوسرے اور ناکام حمل کے پانچویں ماہ میں انتقال کرگئیں۔ صابرہ تسلیم کرتی ہیں کہ کم عمری کی شادی ان کی بیٹی کی موت کا ایک سبب ہوسکتی ہے۔ ’مگر ہمیں یہ پہلے سے معلوم نہیں تھا۔‘ صابرہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی حال ہی میں 16 سال کی ہونے والی بیٹی کی شادی ملتوی کرنے کی بھرپور کوشش کریں گی تاکہ وہ اپنا خیال رکھنے کے قابل ہوسکے۔

یہی وہ طبی مسائل ہیں جن کی وجہ سے عمرکوٹ کی ہیلتھ ورکر رشیدہ ساند اپنے علاقے کے لوگوں کو بیٹیوں کی جلد شادیاں کرنے کے خلاف قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین تو ان مسائل کو سمجھ جاتی ہیں مگر مرد نہیں سمجھ سکتے، اور فیصلہ ساز بھی وہی ہوتے ہیں۔ میمونہ کی موت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے ایسے فیصلوں کے نتائج انسانی المیے سے کم نہیں ہوتے۔

لیّہ کے ایک سرکاری ہسپتال کی ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر لبنیٰ اخلاق بتاتی ہیں کہ کس طرح کم عمری کی شادیوں کے کم عمر لڑکیوں پر دور رس طبی اثرات ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق چوں کہ لڑکی پوری طرح بڑھی نہیں ہوتی اور اس کی پیڑو کی ہڈیوں کی نشونما پوری طرح نہیں ہوئی ہوتی، چنانچہ اس بات کا بہت امکان ہے کہ اسے بچے کو جنم دینے کے لیے سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ ’(ایک کم عمر ماں) کو تشنج بھی ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر زیادہ ہوسکتا ہے اور جسم پھول سکتا ہے۔‘

میمونہ شہزادی کا ملازمتی کارڈ — فوٹو بلال کریم مغل
میمونہ شہزادی کا ملازمتی کارڈ — فوٹو بلال کریم مغل

کراچی میں مقیم مشہور ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر شیر شاہ سید، جوکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری رہ چکے ہیں، کہتے ہیں کہ کم عمری کی شادیاں آبسٹیٹرک فسٹولا نامی عارضے کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ ’یہ صورتحال کم عمر، غذائی قلت کی شکار اور جسمانی طور پر کمزور لڑکیوں میں عام ہے اور یہ تب پیدا ہوتی ہے جب وہ معمول سے زیادہ طویل دردزہ سے گزرتی ہیں۔‘ ان کے مطابق پیروں کی ہڈیوں پر دیر تک پڑنے والے دباؤ سے کھال کے بافتے مرنا شروع ہوجاتے ہیں جس سے ان کے ریکٹم (بڑی آنت کے آخری حصے) اور اندام نہانی کے درمیان یا پھر مثانے اور اندام نہانی کے درمیان سوراخ پیدا ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے پیشاب اور پاخانہ مسلسل اور خلافِ معمول جاری رہتا ہے۔

زچگی میں پیچیدگیاں اکثر اوقات موت کا سبب بھی بنتی ہیں۔ فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق ہر 20 منٹ میں زچگی کے دوران ایک پاکستانی خاتون کی موت ہوجاتی ہے۔ ہمارے ملک میں دورانِ زچگی ماؤں کی اموات کی شرح 1 لاکھ حاملہ خواتین میں 276 ہے جو کہ دنیا بھر کی سب سے بلند شرحوں میں سے ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادیاں ہیں۔


13 سالہ رانی بی بی ملتان شہر کے پاس یونین کونسل بدھلہ سنت میں رہتی ہیں۔ نومبر کے ایک سرد دن میں وہ اپنے مٹی سے بنے گھر کے صحن میں بیٹھی ہیں۔ آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’اللہ کا شکر ہے کہ میں خوش قسمت نکلی۔‘ جب رواں سال اگست میں ان کی شادی اپنے 25 سالہ خالہ زاد بھائی ندیم احمد سے ہو رہی تھی تو انسانی حقوق کے ایک مقامی کارکن نے اس کے بارے میں سن لیا اور پولیس کو آگاہ کردیا، اور یوں ان کی شادی رک گئی۔ ’میرے تمام گھر والے پریشان تھے مگر میں پُرسکون تھی اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں بغیر مرضی کی شادی سے بچ گئی۔‘

اس طرح کے واقعات جنوبی اور جنوب مغربی پنجاب کے غریب اور رسوم و رواج میں پھنسے علاقوں میں نہایت عام ہیں۔ جنوری اور اکتوبر 2017ء کے درمیان اس خطے کے صرف 8 ضلعوں میں بچوں کی شادیوں کے 16 واقعات منظرِ عام پر آئے۔ اگر ایک کیس سامنے آتا ہے تو کئی کیس نظروں میں آئے بغیر وقوع پذیر ہوجاتے ہیں۔

ان میں سے کچھ معاملات میں دولہا اور دلہن کے درمیان عمر کا فرق تشویشناک حد تک زیادہ ہوتا ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں 14 سالہ سلمیٰ بی بی کی شادی 76 سالہ شخص سے کی گئی۔ اسی طرح ضلع مظفرگڑھ میں 5 سالہ بچی کی شادی ایک بڑی عمر کے شخص سے کی گئی۔

دیگر معاملات میں کم عمر لڑکیوں کی اپنے بھائیوں اور چچاؤں کے سسرال کے کسی عمر رسیدہ شخص سے شادی وٹے سٹے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تنازعات کے تصفیے کے لیے بھی کم عمر لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں جیسا کہ ضلع لیّہ کی تحصیل کروڑ کے علاقے بستی درخان کی رہائشی 13 سالہ شاہین بی بی کے معاملے میں ہوا۔ جرگے نے حکم دیا کہ اس کی شادی 17 سالہ محمد ارشد کے ساتھ کردی جائے کیوں کہ شاہین کا بڑا بھائی محمد عثمان ارشد کی بہن رقیّہ بی بی کو بھگا کر لے گیا تھا۔ جرگے نے شاہین بی بی کے والد کو حکم دیا کہ یا تو شادی کے لیے راضی ہوجائے یا پھر 48 گھنٹوں کے اندر گاؤں چھوڑ دے۔

رضامندی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔


سندھ اسمبلی نے نومبر 2016 میں ایک قانون منظور کیا جس کے تحت 18 سال کی عمر سے پہلے مذہب تبدیل کرنا جرم قرار پایا۔ قانون کا مقصد کم عمر ہندو بچیوں کا مسلمان مردوں سے شادی کی خاطر مذہب تبدیل کروایا جانا روکنا تھا۔ کئی مسلم مذہبی جماعتیں فوراً احتجاج پر اتر آئیں اور قانون کو غیر اسلامی قرار دے دیا۔ چنانچہ صوبائی حکومت کی جانب سے قانون کو منظور کروا کر قواعد و ضوابط کا حصہ بنانے کا کام تاخیر کا شکار ہوگیا۔

دیکھا جائے تو یہ تاخیر بھی 18 سال سے کم عمر ہندو لڑکیوں کی مسلمان مردوں سے شادی روکنے میں مانع نہیں ہے کیوں کہ اس عمر کو پہنچنے سے قبل شادی کو روکنے کے لیے قانون ویسے ہی موجود ہے۔ جنوری 2015 میں ایک تاریخی مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ نے ایسا کر کے دکھایا۔ اس نے انجلی میگھواڑ، جس کا اسلام قبول کرنے کے بعد سلمیٰ نام رکھا گیا تھا، کو اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی، باوجود اس کے کہ انجلی نے جج صاحبان کو بتایا کہ انہوں نے اسلام قبول اور شادی اپنی مرضی سے کی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے کی بنیاد ایک میڈیکل بورڈ کی تحقیقات پر رکھیں جسے خاص طور پر انجلی کی عمر کا تعین کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اس کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان تھی۔ مگر چوں کہ انجلی نے اپنے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور ان کی شادی سی ایم آر اے 2013 کے تحت غیر قانونی تھی، چنانچہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں جا سکتی تھیں۔ لہٰذا عدالت کے پاس انجلی کو دارالامان بھیجنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسی عدالت نے جولی کے مقدمے میں الگ فیصلہ کیوں دیا، اس بارے میں صرف اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران — seharkamran.com
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران — seharkamran.com

کراچی کے ضلع جنوبی کے سینیئر سپرینٹینڈنٹ پولیس فیض اللہ کوریجو کہتے ہیں کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کے منتخب اور خامیوں سے بھرپور نفاذ کی ایک وجہ قانون میں پولیس کے کردار کا مبہم ہونا بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ابہام کی وجہ سے پولیس افسران بچوں کی شادیاں خود روکنے سے کتراتے ہیں، اور تب تک اقدام نہیں اٹھاتے جب تک کہ انہیں شکایت موصول نہ ہو۔ فیض اللہ، جو خود کئی غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ بچوں کے حقوق پر تربیت کار رہ چکے ہیں، کہتے ہیں کہ قانون کے نزدیک ایسی شادیاں غیر قانونی تو ہیں، مگر یہ غیر قانونی شادیوں کو فسخ نہیں کرتا۔ "یہ قانون اس بارے میں پوری طرح خاموش ہے۔ اگر ایسی کوئی شادی ہوگئی ہے، تو اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔"

بچوں کی شادیوں کے خلاف قوانین کا ایک دوسرا مسئلہ پاکستان بھر میں ان کا مختلف ہونا ہے۔ ایسا پہلا قانون چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 برطانوی انتظامیہ نے متعارف کروایا تھا۔ اس میں لڑکیوں کے لیے شادی کی عمر 14 سال اور لڑکوں کے لیے 18 سال رکھی گئی تھی۔ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 میں یہ عمر لڑکیوں کے لیے بڑھا کر 16 سال کر دی گئی۔ یہ دوسرا قانون تب تک عمل میں رہا جب تک کہ وفاقی حکومت نے 2010 میں 18ویں ترمیم منظور نہیں کر دی، جس کے بعد بچوں کی شادی ایک صوبائی مسئلہ بن گیا۔

سندھ بچوں کی شادیوں کے خلاف قانون منظور کرنے والا پہلا صوبہ تھا۔ 2013 میں منظور ہونے والے اس قانون میں بچوں کی شادیوں کو قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم بنا کر پولیس کو اس میں شامل افراد کو گرفتار کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ اسی قانون نے بچوں کی شادیوں کو ناقابلِ تصفیہ جرم قرار دیا تاکہ ملوث خاندان عدالت سے باہر معاملہ رفع دفع نہ کر لیں۔

عمرکوٹ کی ہیلتھ ورکر رشیدہ ساند۔ — فوٹو بلال کریم مغل
عمرکوٹ کی ہیلتھ ورکر رشیدہ ساند۔ — فوٹو بلال کریم مغل

پنجاب نے 2015 میں اپنا قانون نافذ کیا جس میں عمروں کی حدود 1961 کے آرڈیننس والی رکھی گئیں۔ یہ پولیس کو بچوں کی شادی روکنے اور مقدمہ درج کرنے کا اختیار تو دیتا ہے مگر خود سے گرفتار نہیں کرنے دیتا۔ اس دوران خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اب بھی 1929 والا قانون رائج ہے جو کہ پولیس کو مقدمہ درج کرنے تک کا بھی اختیار نہیں دیتا۔ ان میں سے کسی بھی قانون میں ایسی شادی کے فسخ کرنے کے حوالے سے کوئی شق موجود نہیں ہے۔

پاکستان بھر میں شادی کے لیے لڑکیوں کی کم از کم عمر یکساں کر دینے کے لیے کوششیں کی گئیں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر سحر کامران نے حال ہی میں اسی مقصد کے لیے ایک قانون متعارف کروایا مگر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ان کے قانون کو اکثریتی ووٹ سے مسترد کردیا۔ خود پی پی پی سے تعلق رکھنے والے کمیٹی سربراہ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سحر کا متعارف کروایا گیا قانون "اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا۔"

اگر قانون ساز مذہبی بنیادوں پر ایک بچے کو بالغ سے الگ کرنے والی عمر کا تعین کرنے پر اتفاق نہیں کر سکتے، تو یہ قابلِ فہم ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر کی گئی شادی کو فسخ کرنے سے کیوں ہچکچائیں گے، کیوں کہ اس کا مطلب بھی فتووں کی دنیا میں قدم رکھنا ہے۔ سحر خود بھی سمجھتی ہیں کہ پہلے بچوں کی شادی کی کم از کم عمر کا سوال حل ہونا چاہیے جس کے بعد ہی ہم بچوں کی شادیوں سے متعلق دیگر معاملات کی طرف بڑھ سکیں گے۔ فون پر انٹرویو کے دوران وہ کہتی ہیں کہ "کم عمری کی شادیاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں کیوں کہ یہ معصوم بچوں سے ان کا بچپنا چھین لیتی ہیں۔ اگر آپ 18 سال کی عمر سے پہلے ووٹ نہیں دے سکتے، الیکشن نہیں لڑ سکتے، قانونی معاہدے نہیں کر سکتے، تو شادی جیسی بڑی سماجی ذمہ داری کے لیے اجازت کس طرح دی جا سکتی ہے؟"

موجودہ قوانین میں تبدیلی لا کر انہیں مزید مؤثر بنانے، یا زیادہ مؤثر نفاذ یقینی بنانے کے لیے کئی تجاویز موجود ہیں۔ لیّہ کی ایک ہائی کورٹ کی وکیل نزہت یاسمین، سپریم کورٹ کے وکیل اور غیر سرکاری تنظیم اسپارک کے بانی انیس جیلانی، اور سینیئر وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن رانا آصف حبیب کے نزدیک شادی کے وقت لڑکی کی عمر کی تصدیق کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ یا کسی اور سرکاری دستاویز کا ہونا ضروری ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ شادی قوانین کے عین مطابق ہے۔ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ عدالتوں میں ہونے والی شادیوں میں بھی طلب نہیں کیے جاتے۔ رانا آصف حبیب کہتے ہیں کہ "یہ سلسلہ صرف تب رکے گا جب عدالتی عملے کو قوانین اور ان کے مطالب کا اچھی طرح علم ہوگا۔"

کراچی سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن ضیاء احمد اعوان بچوں کی شادیوں کو "معاشرے کا منظور کردہ تشدد" قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شادیاں صرف قانون سازی سے نہیں رکیں گی، مگر اس کے لیے حکومت، سول سوسائٹی اور میڈیا کی ہم آہنگ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ان تمام کو آپس میں مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ڈاکٹروں، وکیلوں، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر افراد میں بچوں کی شادیوں کے منفی اثرات کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے۔

اعوان مزید کہتے ہیں کہ شادیوں کے تمام ریکارڈز کو کمپیوٹرائز کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں، "شادیوں کا کوئی ڈیٹابیس موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں بتا سکتے کہ فلاں مرد یا عورت پہلے سے شادی شدہ، طلاق یافتہ ہے، یا بیوہ تو نہیں۔" وہ تجویز دیتے ہیں کہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے پاس شادیوں کا مکمل ڈیٹابیس ہونا چاہیے۔ "[یہ] بچوں کی شادیوں کو ختم کر سکتا ہے۔"

*شناخت کے تحفظ کے لیے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

اضافی رپورٹنگ از فرید اللہ چوہدری

انگلش میں پڑھیں۔ یہ فیچر ہیرالڈ میگزین کے دسمبر 2017 کے شمارے میں شائع ہوا۔ مزید پڑھنے کے لیے سبسکرائب کریں۔


بلال کریم مغل ڈان ڈاٹ کام کے سابق اسٹاف ممبر ہیں۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: [email protected]