ای میل

شمالی کوریا و امریکا: اختلافات سے ملاقات تک


ساگر سہندڑو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کے درمیان 12 جون 2018 کو جنوب مشرقی ایشیا کے جزیرہ نما ملک سنگاپور میں ہونے والی ملاقات کو عالمی تعلقات اور سیاست پر نظر رکھنے والے افراد سائنس فکشن اور فنٹیسی فلم کے مناظر کی طرح دیکھ رہے ہیں۔

دنیا کے 2 ایسے رہنماؤں کے درمیان اچانک خوشگوار موڈ میں ہونے والی ملاقات لوگوں کے لیے اس لیے بھی باعث تجسس رہی، کیوں کہ محض 12 ہفتے قبل یہ دونوں رہنما ایک دوسرے کو ’پاگل‘ اور ’نا سمجھ‘ جیسے خطاب دے چکے تھے۔

یہ ملاقات عہدے پر براجمان رہنے والے کسی بھی شمالی کوریا اور امریکی سربراہان کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات تھی، اس لیے بھی اس ملاقات کو تاریخی قرار دیا گیا۔

اس ملاقات سے قبل امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر اور شمالی کوریا کے سابق سربراہ کم سنگ کے درمیان 24 سال قبل جون 1994 میں ملاقات ہوچکی ہے، جسے امریکی حکام نے نجی ملاقات قرار دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان 1950 کے بعد دونوں ممالک کے ملنے والے پہلے برسراقتدار سربراہان ہیں—فوٹو: اے ایف پی
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان 1950 کے بعد دونوں ممالک کے ملنے والے پہلے برسراقتدار سربراہان ہیں—فوٹو: اے ایف پی

یہ ملاقات کسی غیر جانبدار ملک کے بجائے خود شمالی کوریا میں ہوئی تھی اور سابق امریکی صدر جمی کارٹر بظاہراس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد اس دورے پر گئے تھے۔

اس نجی ملاقات سے قبل بل کلنٹن انتظامیہ 1993 میں شمالی کوریا سے تعلقات بہتر بنانے کے ارادے سے اپنا ایک اعلیٰ وفد بھی شمالی کوریا بھیج چکا تھا، جس کی سربراہی اس وقت کے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ رابرٹ گلیشی نے کی تھی۔

بل کلنٹن انتظامیہ نے بھی 25 سال قبل شمالی کوریا کے ساتھ 1950 کے بعد پہلی بار تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ بھی دونوں ممالک کے درمیان جمی برف کو پگھلانے میں ناکام ہوگئے تھے۔

جمی کارٹر نے بل کلنٹن کے دور میں شمالی کوریا کا دورہ نجی حیثیت میں کیا—فوٹو: دی گارجین
جمی کارٹر نے بل کلنٹن کے دور میں شمالی کوریا کا دورہ نجی حیثیت میں کیا—فوٹو: دی گارجین

یوں شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان 1950 کی جنگ کے بعد خراب ہونے والے تعلقات کو 70 سال بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا موڑ دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

گزشتہ 70 سال میں جو کام 12 امریکی صدور نہیں کرسکے، وہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کر دکھایا اور دور اقتدار میں شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی ملاقات سے دنیا اور خصوصی طور پر دونوں ممالک کو کیا فائدہ ہوگا، کیا یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات سے دنیا اور خصوصی طور پر ان دونوں ممالک کے لوگوں کو کتنا فائدہ ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے، کیوں کہ 12 جون کو ہونے والی ملاقات میں جس معاہدے پر دستخط ہوئے اس پر عمل ہونا ابھی باقی ہے۔

صدر بل کلنٹن نے 1993 میں سیکریٹری اسٹیٹ رابرٹ گلیشی کی سربراہی میں اعلیٰ وفد شمالی کوریا بھیجا تھا—فائل فوٹو: اے پی
صدر بل کلنٹن نے 1993 میں سیکریٹری اسٹیٹ رابرٹ گلیشی کی سربراہی میں اعلیٰ وفد شمالی کوریا بھیجا تھا—فائل فوٹو: اے پی

معاہدے پر عمل ہونے کے بعد ہی دونوں ممالک کے عوام کو پہنچنے والے فوائد کا پتہ چلے گا۔

تواس معاہدے میں کیا ہے اور اس پر کب تک عمل ہوگا؟

عالمی میڈیا کے مطابق اس معاہدے کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ شمالی کوریا کو اپنے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنا پڑے گا، جس کے بعد ہی اس پر عائد پابندیوں کو سلسلہ وار نرم کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی جانب سے جس ’جامع معاہدے‘ پر دستخط کیے گئے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک عوام کی خوشحالی اور امن کے لیے پرعزم طریقے سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

دونوں ممالک میں معاہدے پر دستخط ہوجانے کے بعد یہ واضح نہیں ہے کہ معاہدے پر سب سے پہلے عمل کون کرے گا، تاہم عالمی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا جیسے ہی جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کا سلسلہ شروع کرے گا، اس پر عائد پابندیوں کو نرم کرنا شروع کردیا جائے گا۔

یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے اس معاہدے پر عمل کرنے اور اپنے جوہری ہتھیاروں کو بلاتاخیر تلف کرنے کے کتنے امکانات ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ ان کو ذہین بھی قرار دیا—فوٹو: اے ایف پی
ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ ان کو ذہین بھی قرار دیا—فوٹو: اے ایف پی

اس کا جواب شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان ماضی میں ہونے والے معاہدوں اور پیانگ یانگ کی جانب سے ان پر عمل نہ کرنے کی روایت سے لگایا جا سکتا ہے۔

12 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے جانے سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو تلف کرنے کے معاہدے ہو چکے ہیں، جن پر پیانگ یانگ نے عمل نہیں کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان 1994 میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو منجمد کرنے کا معاہدہ ’نان پرولیفریشن ٹریٹی‘ (این پی ٹی) ہوچکا ہے، جس کے تحت پیانگ یانگ کو ہر حال میں اپنا جوہری پروگرام ختم کرنا تھا۔

تاہم شمالی کوریا نے 2002 میں اس معاہدے کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے، 2003 سے اپنے جوہری تجربات کا پھر سے آغاز کردیا۔

معاملہ سنگین ہوجانے کے بعد اگست 2003 میں امریکا نے خطے کے دیگر ممالک یعنی جاپان، چین، روس اور جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کیے۔

یہ مذاکرات قدرے کامیاب ہوئے اور شمالی کوریا ایک بار پھر اپنے جوہری ہتھیار ختم کرنے پر رضامند ہوگیا، تاہم ایسا آج تک نہیں ہوسکا۔

امریکی صدر اور شمالی کوریا کے سربراہ نے معاہدے پر دستخط بھی کیے—فوٹو: اے پی
امریکی صدر اور شمالی کوریا کے سربراہ نے معاہدے پر دستخط بھی کیے—فوٹو: اے پی

شمالی کوریا 2009 میں ایک بار پھر ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے کے وعدے سے مکر گیا اور اب تک وہ 6 ایٹمی تجربات کر چکا ہے۔

گزشتہ برس شمالی کوریا کی جانب سے بیلیسٹک میزائل اور ہائیڈروجن بم کے تجربات کرنے کے دعووں کے بعد امریکا اور شمالی کوریا میں اختلافات شدید ہوگئے تھے۔

دونوں ممالک میں ایک سال سے زائد عرصے تک رواں برس فروری تک لفظی جنگ جاری رہی، جس سے یہ خدشات پیدا ہوگئے کہ دونوں ممالک کسی وقت بھی جنگ کا آغاز کردیں گے۔

2018 کے پہلے ہی دن کم جونگ ان نے امریکا کو دھمکاتے ہوئے بیان دیا کہ ان کی ٹیبل پر ہر وقت ایٹم بم کا بٹن موجود رہتا ہے، جس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 دن بعد ٹوئٹ کی کہ ان کا ایٹم بم کا بٹن بڑا اور طاقتور ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کو جامع اور اہم قرار دیا—فوٹو: اے پی
ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کو جامع اور اہم قرار دیا—فوٹو: اے پی

دونوں ممالک کے درمیان جاری رہنے والی لفظی جنگ کے بعد اچانک ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات نے دنیا کو نہ صرف حیران کردیا بلکہ لوگ ابھی تک اس ملاقات کو کسی سائنس فکشن اور فنٹیسی فلم کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔

ٹرمپ اور کم کی ملاقات کی راہ ہموار کیسے ہوئی؟

جنوری 2018 کے پہلے ہفتے میں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان ایک دوسرے کو ایٹم بم کے بٹن کی دھمکیاں دیتے دکھائی دیے، وہیں اگلے ہی ہفتے اچانک شمالی و جنوبی کوریا کے اعلیٰ عہدیدار 9 جنوری کو سرحد پر ملے۔

دونوں ممالک کی سرحد پر ہونے والی اس ملاقات کا مقصد فروری 2018 میں جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شرکت کے لیے شمالی کوریا کو دعوت دینا تھا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی—فوٹو: اے ایف پی
دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی—فوٹو: اے ایف پی

حیران کن طور پر شمالی کوریا نے اس دعوت کو نہ صرف قبول کیا، بلکہ دونوں ممالک نے اولمپکس میں ایک ٹیم کے طور پر شرکت کی۔

یہ بھی گزشتہ نصف صدی سے زائد کے عرصے میں پہلا موقع تھا کہ جنوبی و شمالی کوریا کے کھلاڑیوں نے ایک ٹیم کے طور پر اولمپکس میں شرکت کی اور یہ بھی کوئی عام واقعہ نہیں تھا۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اپنی بہن سمیت ایک وفد سرمائی اولمپکس کے لیے بھیجا، جس سے نہ صرف سیول اور پیانگ یانگ کے درمیان برف پگھلنا شروع ہوئی بلکہ اس سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید بھی نظر آئی۔

مارچ کے آغاز میں جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے شمالی کوریا کا دورہ کیا، جس نے خبر دی کہ کم جونگ ان نہ صرف جنوبی کوریا کا دورہ کرنے کے خواہشمند ہیں، بلکہ وہ امریکا سے بھی جوہری پروگرام پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

8 مارچ کو جنوبی کوریا کے ایک سفارت کار نے ٹرمپ سے ملاقات کرکے انہیں کم جونگ ان کی خواہش سے متعلق آگاہ کیا۔ کم جونگ ان نے اچانک 27 مارچ کو چین کا دورہ کرکے سب کو حیران کردیا۔

یوں اگلے ماہ 18 اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی ماہ کم جونگ ان پہلی بار جنوبی کوریا کے تاریخی دورے پر بھی پہنچے۔

اپریل اور مئی کے درمیان شمالی کوریا، امریکا، چین اور جنوبی کوریا میں غیر معمولی سیاسی سرگرمیاں دیکھی گئیں اور 12 مئی کو شمالی کوریا نے اعلان کیا کہ اس نے جوہری ہتھیاروں کی ایک تجربہ گاہ کو مسمار کردیا۔

30 مئی کو شمالی کوریا کا ایک اعلیٰ سرکاری وفد نیویارک پہنچا، جہاں امریکی صدر اور شمالی کوریا کے سربراہوں کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی گئی۔

یکم جون کو وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 12 جون کو سنگاپور میں کم جونگ ان سے ملاقات کریں گے۔

تاریخی ملاقات اور جامع معاہدہ

دونوں نے 38 منٹ تک ون آن ون ملاقات کی—فوٹو: اے ایف پی
دونوں نے 38 منٹ تک ون آن ون ملاقات کی—فوٹو: اے ایف پی

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان فنٹیسی فلموں کی طرح تاریخی ملاقات سنگاپور کے سیاحتی جزیرے سینٹوسا آئی لینڈ کے ہوٹل ’کیپیلا‘ میں ہوئی۔

عالمی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں 2 کروڑ سنگاپورین ڈالرز کا خرچہ آیا، جو میزبان ملک نے برداشت کیا۔

تاریخی ملاقات 38 اور 45 منٹ کے 2 ادوار پر مشتمل رہی۔

تاریخی ملاقات کا پہلا دور 38 منٹ تک جاری رہا، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان نے ون آن ون ملاقات کی، جس میں ان کے ساتھ صرف ان کے مترجم موجود تھے۔

دوسری ملاقات وفود کی صورت میں ہوئی، جو 45 منٹ تک جاری رہی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان بہتر و پر امن تعلقات استوار کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے اور جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک اور پر امن کرنے جیسے معاملات پر گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دونوں ادوار کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جسے امریکی صدر نے ’جامع اور اہم دستاویز‘ قرار دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے نے اس معاہدے کے مندرجات شائع کیے ہیں، جن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ممالک کے عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے پر امن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اس معاہدے کے مندرجات کے مطابق جزیرہ نما کوریائی خطے میں امن کے لیے امریکا اور شمالی کوریا مل کر کام کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان وفود کی صورت میں بھی ملاقات ہوئی—فوتو: اے ایف پی
دونوں ممالک کے درمیان وفود کی صورت میں بھی ملاقات ہوئی—فوتو: اے ایف پی

معاہدے میں یہ بھی کہا گیا کہ پیانگ یانگ رواں برس اپریل میں جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرے گا۔

معاہدے میں دونوں ممالک نے 1950 کی جنگ میں لاپتہ ہونے والے قیدیوں کو تلاش کرنے اور ایک دوسرے کے ہاں قید کیے گئے قیدیوں کو واپس اپنے اپنے ممالک میں بھیجنے پر بھی اتفاق کیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ’اہم اور جامع‘ معاہدے پر دونوں ممالک عمل کب اور کیسے کرتے ہیں، شمالی کوریا کب اپنے جوہری ہتھیار تلف کرتا ہے، امریکا کب خطے سے اپنی فوج واپس بلاتا اور کب پیانگ یانگ سے پابندیاں ہٹائی جائیں گی؟

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات اور معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کی گئی خصوصی پریس کانفرنس میں اس بات کی وضاحت کردی کہ شمالی کوریا پر کب تک پابندیاں عائد رہیں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ شمالی کوریا پر ابھی تمام پابندیاں عائد رہیں گی، انہیں تب تک کم نہیں کیا جائے گا، جب تک پیانگ یانگ جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کا سلسلہ شروع نہیں کرتا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی شمالی کوریا سے مذاکرات کرنے کی تجویز دی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ابھی شمالی کوریا کے سربراہ کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت نہیں دی، تاہم وہ مناسب وقت آنے پر انہیں امریکا آنے کی دعوت دیں گے۔

ملاقات پر 2 کروڑ سنگاپورین ڈالر خرچ آئے—فوٹو: اے ایف پی
ملاقات پر 2 کروڑ سنگاپورین ڈالر خرچ آئے—فوٹو: اے ایف پی

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قدرے طویل پریس کانفرنس میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذہین اور اچھی شخصیت کے مالک ہیں۔

شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان اختلافات کی تاریخ

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان اختلافات کو سمجھنے کے لیے ہمیں 70 سال قبل یعنی 1950 کے عشرے میں جانا پڑے گا، جب دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد سرد جنگ چھڑ گئی۔

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان اختلافات اس وقت پیدا ہوئے جب جنگ عظیم دوئم میں جاپان کو جزیرہ نما کوریا میں روس اور امریکا سے شکست ہوئی، جس کے بعد کوریا کو روس اور امریکا نے 2 حصوں میں تقسیم کردیا۔

کوریا کی سرزمین پر 1950 سے 1953 تک جنگ لگ چکی ہے—فوٹو: اے پی
کوریا کی سرزمین پر 1950 سے 1953 تک جنگ لگ چکی ہے—فوٹو: اے پی

کوریا کے شمالی حصے پر روسی اور جنوبی پر امریکی فوج قابض ہوگئی، اگرچہ حد بندی انتظامی تھی لیکن سرد جنگ کی شدت نے کوریا کو مستقل طور پر 2 حصوں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں تقسیم کردیا۔

1948ء میں کوریا کے جنوبی حصے جس پر امریکی فوج قابض تھی اس نے جمہوریہ کوریا جب کہ شمالی حصے جس پر روسی فوج قابض تھی اس نے عوامی جمہوریہ کوریا قائم کرنے کا اعلان کیا، یوں ایک ہی جزیرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہاں 2 حصوں میں تقسیم ہوگیا، وہیں شمالی کوریا امریکا سمیت کئی ممالک کے لیے درد سر اور دشمن بن گیا۔

اگلے ہی سال 1949ء میں جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان سرحدی لڑائی چھڑگئی اور جون 1950ء کو شمالی کوریائی افواج جنوبی سرحد پار کر گئیں اور حملہ کردیا، جس کا دفاع کرنے کی غرض سے امریکا برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور ترکی بھی اقوام متحدہ کے توسط سے جنگ میں کود پڑے اور یوں یہاں سے ہی ’سرد جنگ‘ کی شروعات ہوئی۔

کوریا کی یہ جنگ 1950 سے 1953 تک چلتی رہی، جس میں امریکا براہ راست شامل رہا، بعد ازاں جولائی 1953ء کو شمالی کوریا اور امریکا سمیت اس جنگ میں حصہ لینے والے دیگر ممالک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے، اس جنگ کے اختتام پر اندازاً جنوبی کوریا میں 3 لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے اور 4 لاکھ کے قریب افراد لاپتہ ہوئے، جب کہ شمالی کوریا کے مرنے اور لاپتہ ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 10 لاکھ کے قریب تھی۔

یوں جزیرہ نما کوریا پر لڑی گئی جنگ سے روس، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، چین اور آسٹریلیا جیسے ممالک تو قدرے آزاد ہوگئے، تاہم کئی سالوں سے ایک ملک کی حیثیت میں آباد جزیرہ نما کوریا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شمالی و جنوبی حصوں میں 2 مختلف ممالک کے روپ میں تقسیم ہوگیا۔

کوریا کی جنگ میں جہاں لاکھوں لوگ مارے گئے، وہیں لاکھوں تاحال لاپتہ ہیں—فوٹو: ہسٹری ڈاٹ کام
کوریا کی جنگ میں جہاں لاکھوں لوگ مارے گئے، وہیں لاکھوں تاحال لاپتہ ہیں—فوٹو: ہسٹری ڈاٹ کام