تھرکول مائینگ سائٹ ، جہاں 24 گھنٹے کھدائی کا کام جاری ہے — فوٹو: عبدالرشید

تھر کول منصوبہ: 'اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچانا ممکن'

175ارب ٹن کوئلہ صرف تھرپارکر میں موجود ہے جو50ارب ٹن توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی
اپ ڈیٹ اکتوبر 03, 2018 08:09pm

سندھ کے انتہائی پسماندہ اور قحط کا شکار علاقے میں کوئلے کی دریافت نے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس علاقے کی جانب راغب کیا، وہیں مقامی کمپنیاں اور سرمایہ دار بھی بڑی تعداد میں اس منصوبے میں اپنی دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔

تھرپارکر میں 2016 سے حکومت سندھ اور اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ کی شراکت سے قائم کی جانے والی سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کی جانب سے کوئلہ نکالنے کے لیے کھدائی کاعمل جاری تھا کہ کچھ دن قبل ہی کمپنی نے دعویٰ کیا کہ وہ تھرپارکر کے لوگوں کی زندگیاں اور خاص طور پر پاکستان کے عوام کی زندگیاں بدلنے والے کوئلے تک پہنچ گئی ہے۔

ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی نے ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ 148 میٹر کی کھدائی کی جاچکی ہے جس کے ساتھ ہی کمپنی کو کوئلے کی پہلی 'پرت' مل گئی ہے جبکہ 160 میٹر تک کھدائی کی صورت میں کوئلہ مکمل صورت میں ملنا شروع ہوجائے گا اور 190 میٹر پر بہتر معیار کا کوئلہ برآمد کیا جاسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ فی الحال کھلی کان کی گہرائی میں کھدائی کا کام روک دیا گیا ہے جبکہ اسے پھیلانے کا عمل جاری ہے تاکہ پاور پلانٹ کی تکمیل اور اس کے کام کے ابتدا ہی سے مطلوبہ مقدار میں کوئلہ حاصل کیا جاسکے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاور پلانٹ کی تکمیل کا کام تیزی سے جاری ہے اور اسے مقرر وقت سے 5 ماہ قبل (دسمبر 2018) میں مکمل کرکے منصوبے کا 20 فیصد تخمینہ بچایا جائے گا، انہوں نے مزید بتایا کہ کوئلے کی کھدائی اور پاور پلانٹ کی تکمیل کے لیے 41 ماہ کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے وقت مقرر سے قبل ہی 37 ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا۔

تھر سے نکلنے والا کوئلہ دکھایا جارہا ہے — فوٹو: عبدالرشید
تھر سے نکلنے والا کوئلہ دکھایا جارہا ہے — فوٹو: عبدالرشید

ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا سب سے بڑا اور مہنگا منصوبہ ہے جس کے لیے کمپنی کا کمرشل آپریشن 4 جون 2019 سے شروع ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے سے 5 ہزار 200 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی جبکہ دسمبر 2018 میں کمپنی تجربے کے تحت 660 میگا واٹ توانائی کی پیداوار شروع کردے گی۔

تھرکول منصوبے کے پہلے فیز میں 38 لاکھ ٹن کوئلہ نکالا جائے گا جس سے 660 میگاواٹ (330 میگاواٹ کے دو پلانٹ) چلائے جائیں گے اور اس میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی نے بتایا کہ کوئلے کی پیداوار اور پاور پلانٹ کی تنصیب میں اضافہ کرکے توانائی کی پیداوار کو 5 ہزار 200 میگاواٹ تک پہنچایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مذکورہ منصوبے پر 3 ارب ڈالر کا خرچ آئے گا جس میں سے ایک ارب ڈالر، تھرپارکر تک سڑکوں، ایئرپورٹ کی تعمیر، پانی کی پائپ لائن اور این ٹی ڈی سی کی ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے کے لیے خرچ ہوئے جبکہ دیگر 2 ارب ڈالر میں کھلی کان کی کھدائی (مائیننگ) کے لیے 845 ملین ڈالر جبکہ پاور جنریشن کے لیے 1.1 ارب ڈالر مختص ہیں۔

منصوبے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ این ٹی ڈی سی نے مٹھیاری سے تھرپارکر 270 کلومیٹر کی ٹرانسمیشن لائن بچھائی ہے جس کی لاگت 275 ملین ڈالر ہے، اس کے علاوہ مائیننگ میں سندھ حکومت کا 54 فیصد شیئر جبکہ پاور جنریشن میں چائینا کا 51 فیصد حصہ ہے اور دیگر شراکت داروں میں اینگرو اور دیگر مقامی کمپنیاں شامل ہیں۔

ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ تھر پارکر مجموعی طور پر 19 ہزار اسکوئر کلومیٹر کا علاقہ ہے جہاں 9 ہزار اسکوئر کلومیٹر میں کوئلہ موجود ہے جبکہ حکومت نے ابتدا میں تھرپارکر کے جس مقام پر کوئلہ نکالنے کی اجازت دی ہے یہ 1300 اسکوئر کلومیٹر کا علاقہ ہے جسے 13 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر بلاک 100 اسکوئر کلومیٹر پر محیط ہے جس میں سے ایک بلاک 'ٹو' پر ایس ای سی ایم سی کام کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایس ای سی ایم سی کے علاوہ دیگر کمپنیوں کو 5 بلاک لیز پر دیے گئے ہیں جن میں سے ایک ڈاکٹر ثمر مبارک کی سربراہی میں وفاق کے ادارے یو سی جی بھی شامل ہے، جن کے پاس بلاک نمبر 4 ہے۔

کمپنی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایس ای سی ایم سی 2008 میں قائم کی گئی تھی لیکن مختلف موجوہات کی بنا پر 2016 میں کمپنی کو تھرپارکر میں مائینگ کی اجازت دی گئی جبکہ کمپنی اپنا کمرشل آپریشن 4 جون 2019 میں مکمل کرلے گی۔

تھر کول کے ساتھ منسلک پاور پلانٹ — فوٹو: عبدالرشید
تھر کول کے ساتھ منسلک پاور پلانٹ — فوٹو: عبدالرشید

منصوبے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ 1992 میں ایک امریکی کمپنی نے تھرپارکر میں سروے کے دوران کوئلے کے وسیع ذخائر کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا بعد ازاں چینی کمپنی نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں سرمایہ کاری کی پیش کش کی تھی لیکن وہ بھی حکومت کی غیر سنجیدگی کے باعث 2005 میں واپس چلے گئے تھے، بعد ازاں انہیں متعدد مرتبہ واپس منصوبے کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے انکار کردیا۔

تھرپارکر کے 9 ہزار اسکوئر کلومیٹر پر محیط کوئلے کے ذخائر کے حوالے سے ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز نے بتایا کہ یہاں ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 186 ارب ٹن کوئلہ موجود ہے جس میں سے 175 ارب ٹن کوئلہ صرف تھرپارکر میں موجود ہے جو 50 ارب ٹن توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اتنی توانائی سعودی عرب اور ایران کے مجموعی تیل کے ذخائر سے حاصل کی جاسکتی ہے (اتنی توانائی 2 ہزار ٹریلین کیوبک فٹ گیس سے حاصل کی جاسکتی ہے)۔

غیر ملکی زر مبادلہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت بجلی کی فی یونٹ پیداوار 11 روپے سے 14 روپے ہے جو ایل این جی، گیس اور فرنس آئل کے پلانٹس سے حاصل کی جارہی ہے جبکہ کوئلے کے استعمال سے بجلی کی فی یونٹ قیمت کو 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک لایا جاسکتا ہے۔

ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی نے کمپنی کے تھرکول منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ پہلے فیز کے تحت 2019 میں 2 پاور پلانٹ سے 660 میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہوگی جس کی لاگت فی یونٹ 11 روپے لگائی جارہی ہے جبکہ دوسرے فیز کے تحت 2021 میں مزید 2 پاور پلانٹس کا اضافہ کیا جائے گا اور 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس کے بعد فی یونٹ کی لاگت 9.6 روپے ہوجائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تیسرے فیز کے تحت 2022 میں مزید پاور پلانٹس لگائے جائیں گے اور مجموعی طور پر 3960 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس کے ساتھ ہی فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.2 روپے ہوجائے گی، 2024 میں 5280 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی جس کے بعد فی یونٹ ریٹ 7.1 روپے ہوجائے گی تاہم 2030 میں فی یونٹ لاگت 4.9 ہوجائے گی۔

توانائی کے لیے کوئلے کے استعمال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے برصغیر کی تقسیم کے فوری بعد 1948 میں تھرپارکر کے ساتھ منسلک علاقے راجستھان میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا کام شروع کیا جبکہ ان کے پاس موجود ذخائر پاکستان کے مقابلے میں 10 فیصد تھے، جس سے بھارت نے 40 سال تک 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی اور کوئلے کے ذخائر ختم ہونے پر انہوں نے کوئلہ باہر سے منگوایا تاکہ پلانٹ کام جاری رکھ سکیں، دوسری جانب پاکستان 70 سال بعد تھرپارکر سے کوئلہ نکال رہا ہے۔

ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ دنیا میں سب سے زیادہ کوئلے سے بجلی پیدا کی جارہی ہے اور اس کا توانائی کی پیداوار میں تناسب 39 فیصد ہے جبکہ ہائیڈرو سے 17 فیصد، نیوکلیئر سے 11، تیل سے 5، گیس سے 22، ہوا سے 3 اور دیگر ذرائع سے بھی 3 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

تھر کول مائینگ سائٹ اور اس پروگرام کے لے آؤٹ کا منظر — فوٹو: عبدالرشید
تھر کول مائینگ سائٹ اور اس پروگرام کے لے آؤٹ کا منظر — فوٹو: عبدالرشید

اس موقع پر ایس ای سی ایم سی کے عہدیدار کا دعویٰ تھا کہ تھرپارکر میں اس قدر کوئلہ موجود ہے کہ اس سے 200 سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو ملک کی ضروریات سے زائد ہے۔

تھرپارکر میں نکلنے والے کوئلے کے معیار سے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 'تھر سے نکلنے والا کوئلہ تقریبا ویسا ہی ہے جیسا کہ بھارت اور دیگر ایشیائی ریاستوں سے نکلنے والا کوئلہ ہے جس میں تقریبا 48 فیصد پانی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی نے کہا کہ مزکورہ کوئلے کو یہاں سے باہر منتقل کرنا بالکل ممکن ہے اور اس حوالے سے ان کا دعویٰ تھا کہ ایک مقامی کمپنی نے کیٹی بندر پر پاور پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کوئلے سے توانائی پیدا کرنے کی صورت میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی 40 فیصد آبادی کوئلے سے بجلی پیدا کرتی ہے، جیسا کہ جرمنی کوئلے کے ذریعے 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے، اس کے علاوہ امریکا میں بھی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایس ای سی ایم سی نے پاور پلانٹ کی چمنی کی لمبائی 180 میٹر رکھی ہے جبکہ عالمی طور پر چمنی کی کم سے کم لمبائی 120 میٹر ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سی ایف ٹی بوائلر کے ذریعے کوئلے سے بجلی بنانے کے دوران اس میں موجود سلفر ری ایکشن کے بعد جپسم میں منتقل ہوجاتا ہے جسے سیمنٹ انڈسٹری کو فراہم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مذکورہ منصوبے کے لیے کمپنی کو یہ جگہ 60 سال کی لیز پر دی ہے۔

تھر کول مائینگ سائٹ — فوٹو: عبدالرشید
تھر کول مائینگ سائٹ — فوٹو: عبدالرشید


ایک موقع پر مرتضیٰ اظہر رضوی نے بتایا کہ ایس ای سی ایم سی میں تقریبا 50 فیصد پاکستانی انجینئر، ہنر مند اور دیگر جبکہ 50 فیصد ہی چائینیز کام کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہاں مائینگ اور پاور جنریشن میں کام کرنے والے پاکستانیوں میں 75 فیصد مقامی (تھر) کے افراد ہیں جن میں چاروں شعبوں انجینئرنگ، ڈیولپمنٹ، ہنر مند اور غیر ہنر مند شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک 20 ملین کے قریب مین ہاور یا man hour مذکورہ پروگرام میں لگ چکے ہیں۔

ایس ای سی ایم سی میں کام کرنے والے ملازمین کے حوالے سے مرتضیٰ اظہر رضوی کا مزید بتانا تھا کہ کمپنی میں تقریبا 3 ہزار 4 سو 62 پاکستانی کام کررہے ہیں جن میں 2 ہزار 4 سو 73 تھر کے مقامی ہیں جبکہ دیگر ملازمین پاکستان کے دیگر شہروں اور صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ تھر سے تعلق رکھنے والے ملازمین میں skilled and non skilled دونوں طرح کے ملازمین کام کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تھر کے 75 انجینئرز کو تربیت کے لیے چائنا بھیجا گیا ہے، اس کے علاوہ 30 بچوں کو 2 سال کا ڈپلوما کروانے کے لیے ڈھرکی کے تعلیمی ادارے میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں وہ اپنا ڈپلوما مکمل کرنے کے بعد کمپنی واپس آکر ملازمت کا آغاز کریں گے۔

اس کے علاوہ تھر کے 50 بچوں کو کراچی منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ ایک مقامی این جی او کے تحت اپنا آئی ٹی کورس مکمل کریں گے اور انہیں روزگار کے مواقع میسر آسکیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ اس وقت کمپنی میں 7 ہزار ملازمین کام کررہے ہیں جبکہ 3 پاور پلانٹ کی تنصیب کے ساتھ ہی کمپنی کے ملازمین کی تعداد 12 ہزار تک پہنچ جائے گی۔