'تھرکول منصوبے کے متاثرین کیلئے روزگار کے بہترین مواقع'

تھر فاؤنڈیشن کا مقصد اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے مقاصد کے تحت علاقے کو خود کفیل بناناہے،سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی
اپ ڈیٹ اکتوبر 03, 2018 04:55pm

سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کے تحت 2016 میں مقامی افراد کی سماجی اور معاشی بہبود کے لیے اقدامات اٹھاتے ہوئے تھر فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا جس کے بارے میں ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی نے بتایا کہ اس فاؤنڈیشن کا مقصد اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل گولز یا پائیدار ترقی کے مقاصد (ایس ڈی جیز) کے تحت علاقے کو خود کفیل بنانا ہے۔

ماڈل ولیج

مرتضیٰ اظہر رضوی نے بتایا کہ تھر کول مائیننگ منصوبے سے 2 گاؤں (تھاریو ہالی پوٹو اور سنہری درس) کے 750 خاندان متاثر ہورہے ہیں جن کو نئی جگہ منتقل کیا جائے گا جبکہ مذکورہ گاؤں کے 2014 کے سروے کے تحت ہر شادی شدہ جوڑے کو ایک مکان بنا کردیا جائے گا جس کی لاگت 40 لاکھ روپے ہے، اس کے ساتھ ہی کمپنی کے 3 فیصد شیئر مذکورہ گھرانوں کو دیے گئے ہیں، جس کے بعد ہر خاندان کو 5 لاکھ روپے کے شیئر ملیں گے اور ان پر سالانہ ایک لاکھ روپے ڈیویڈنٹ ملے گا۔

ماڈل ولیج میں ایک مکان کا منظر — فوٹو: عبدالرشید
ماڈل ولیج میں ایک مکان کا منظر — فوٹو: عبدالرشید

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ اقدام سے متاثرہ خاندان اپنے معاشی معاملات کو احسن طریقے سے چلا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: تھرکول منصوبہ،اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچانا ممکن

ایس ای سی ایم سی کے ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مائینز مرتضیٰ اظہر رضوی نے بتایا کہ 172 مکانات پر مشتمل ماڈل ولیج تقریباً تکمیل کے مراحل میں ہے اور یہاں آبادی کے لیے پانی کی ضروریات کو مکمل کرنے کے لیے 12 آر او پلانٹ نصب کیے جارہے ہیں۔

ہسپتال

مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ تھر فاؤنڈیشن کے تحت اسلام کوٹ میں مائیننگ سائٹ کے قریب ماروی کلینک قائم کیا گیا ہے تاکہ مقامی افراد کو صحت کی بنیادی اور جدید سہولیات فراہم کی جاسکیں، مذکورہ ہسپتال میں فیس نہیں لی جاتی جبکہ یہاں ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

ماروی کلینک — فوٹو: عبدالرشید
ماروی کلینک — فوٹو: عبدالرشید

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ صرف اسلام کوٹ سے تعلق رکھنے والے تھر کے مقامی لوگ کلینک ہسپتال میں علاج کے لیے نہیں آتے بلکہ دیگر علاقوں سے بھی لوگ یہاں علاج کی غرض سے آتے ہیں، جن کی تعداد یومیہ 100 کے قریب ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ماروی ہسپتال 2014 سے اینگرو کے تحت کام کررہا ہے اور اب اس ہسپتال کے انتظامی امور انڈس ہسپتال کو منتقل کردیے گئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ماروی کلینک میں 2 مرد اور ایک خاتون ڈاکٹر موجود ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ اسلام کوٹ میں تھر فاؤنڈیشن کے تحت ہی ایک 250 بستر کا ہسپتال بنایا جارہا ہے اور یہ 2020 تک مکمل ہوجائے گا جبکہ 2018 کے اختتام تک یہ ایمرجنسی اور او پی ڈی کی سہولیات فراہم کردے گا۔

تھرکول منصوبے کی سائٹ کے قریب قائم ماروی کلینک — فوٹو: عبدالرشید
تھرکول منصوبے کی سائٹ کے قریب قائم ماروی کلینک — فوٹو: عبدالرشید

اس کے علاوہ تھر فاؤنڈیشن کے تحت مائیننگ سائٹ کے بلاک (ٹو) میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کو پاک کرنے کے حوالے سے ویکسینیشن کا کام بھی جاری ہے۔

خواتین کی ترقی

اس کے علاوہ وومن امپاورمنٹ یا خواتین کی ترقی کے حوالے سے فاؤنڈیشن کے تحت مختلف پروگرامات کا آغاز کیا جاچکا ہے جن میں سے ایک مقامی خواتین کو ڈمپر ڈرائیور کی ملازمت دینا ہے، اس حوالے سے مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل مذکورہ پروگرام کو مد نظر رکھتے ہوئے 12 خواتین کو ڈمپر ڈرائیور کی تربیت دی گئی اور اب یہ بڑھ کر 28 ہوگئی ہے جبکہ اسے 140 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی کے ساتھ منسلک مقامی خاتون کرن، جو آئی ٹی انجینئر ہیں — فوٹو: عبدالرشید
سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی کے ساتھ منسلک مقامی خاتون کرن، جو آئی ٹی انجینئر ہیں — فوٹو: عبدالرشید

ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ اظہر رضوی نے دعویٰ کیا کہ تھر فاؤنڈیشن کے تحت شروع کیے گئے 'خوشحال تھر' پروگرام کے ذریعے دی جانے والی نوکریاں سو فیصد میرٹ پر دی جارہی ہیں، اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تھر کول مائیننگ سائٹ کے قریب ہی خوشحال تھر کا دفتر قائم ہے جس میں مقامی افراد آکر اپنی رجسٹریشن کرواتے ہیں اور جب بھی کمپنی کو لوگوں کی خدمات درکار ہوتی ہیں تو کمپنی مطلوبہ صلاحیت کے حامل افراد کے لیے رجسٹریشن سینٹر سے رابطہ کرتی ہے اور صلاحیت رکھنے والے افراد کو طلب کرلیا جاتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے مزدور کی تنخوا پنجاب حکومت کی جانب سے اعلان کردہ تنخواہ کے مساوی ہے جو 15 ہزار روپے ماہانہ ہے، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مزدور کی تنخوا 14 ہزار روپے ماہانہ ہے۔

مزید پڑھیں: تھرپارکر: زیر زمین 9 ارب کیو بک میٹر پانی کو قابل استعمال بنانا ممکن ہے

انہوں نے مزید کہا کہ 'خوشحال ماروی' پروگرام کے تحت مقامی خواتین کو 20 سلائی مشینیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ انہیں مقامی اسکولوں کے یونیفارم تیار کرنے کے لیے کپڑا بھی مہیا کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنا بہترین گزر بسر کرسکیں۔

اس کے علاوہ تھر ہنر گفٹ شاپ قائم کی گئی ہے جس میں مقامی خواتین کے ہاتھوں سے بنائی گئی مختلف اشیا فروخت کے لیے پیش کرتی ہیں۔

مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مقامی کلچر اور ورثے کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

اسکول

مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ مقامی بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے تھر فاؤنڈیشن کے تحت تھرپارکر میں 24 اسکول قائم کیے گئے ہیں جن کی تعمیر پر 600 ملین روپے خرچ ہوئے ہیں۔

ٹی سی ایس کے تحت چلنے والا اسکول — فوٹو: عبدالرشید
ٹی سی ایس کے تحت چلنے والا اسکول — فوٹو: عبدالرشید

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اسکولوں کی تعمیر کے بعد ان کے انتظامی امور دی سٹی فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) کو دے دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 کے اختتام تک تقریبا 5 ہزار بچے ان اسکولوں میں تعلیم کا آغاز کردیں گے جبکہ 2019 کے اختتام تک یہ تعداد دگنی ہوجائے گی۔

اسکول کی عمارت کے چند مناظر — فوٹو: عبدالرشید
اسکول کی عمارت کے چند مناظر — فوٹو: عبدالرشید