بھارتی انتخابات کے وہ حقائق جنہیں آپ ضرور جاننا چاہیں گے

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کا درجہ رکھنے والے ملک میں دنیا کے سب سے بڑے انتخابات ہوتے ہیں۔
اپ ڈیٹ اپريل 11, 2019 07:34pm

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں رواں ماہ 11 اپریل سے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات کا آغاز ہوگا۔

اس مرتبہ 90 کروڑ سے زائد افراد 17 ویں لوک سبھا کے لیے 543 اراکین کا انتخاب، 7 مراحل میں کریں گے۔

نئے منتخب ہونے والے لوک سبھا کے ارکان بھارت کی ریاستوں اور وفاقی حکومت کے زیر انتطام علاقوں سے منتخب کیے جائیں گے۔

لوک سبھا کے 543 ارکان عوامی ووٹوں سے منتخب ہوکر ایوان میں پہنچتے ہیں جب کہ 2 ارکان کو صدر مملکت اس وقت اسمبلی میں منتخب کرکے بھیجتا ہے جب انہیں احساس ہو کہ ’اینگلو انڈین‘ کمیونٹی کی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں۔

صدر مملکت کی جانب سے منتخب کیے جانے والے ارکان کا ’اینگلو انڈین‘ ہونا لازمی ہوتا ہے یعنی یہ ارکان ہندوستانی اور مغربی اور خصوصی طور پر انگریز نسل کا امتزاج ہوتے ہیں، اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد کولکتہ اور شملہ میں آباد ہیں۔

سترہویں لوک سبھا کے 7 مراحل اور تقریباً پونے 2 ماہ تک جاری رہنے والے انتخابات کے لیے ووٹنگ کے ابتدائی 4 مراحل اپریل میں ہوں گے جب کہ آخری 3 مراحل مئی میں ہوں گے اور اسی ماہ انتخابی نتائج کا اعلان بھی ہوگا۔

بھارت میں ووٹنگ کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو ہوگا، دوسرا 18 اپریل، تیسرا 23 اپریل، چوتھا 29 اپریل، پانچواں 6 مئی، چھٹا 12 مئی اور ساتواں 19 مئی کو ہوگا۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 90 کروڑ ووٹرز اس مرتبہ حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

اگلے وزیر اعظم کے لیے نریندر مودی اور راہول گاندھی کے درمیان مقابلہ ہوگا—فائل فوٹو: سی این این
اگلے وزیر اعظم کے لیے نریندر مودی اور راہول گاندھی کے درمیان مقابلہ ہوگا—فائل فوٹو: سی این این

لوک سبھا کے انتخابات بھارت کی 29 ریاستوں سمیت 7 وفاقی حکومت کے ماتحت علاقوں اور ہندوستان کے زیر تسلط رہنے والے جموں و کشمیر میں ہوں گے۔

انتخابات کے دوران اگرچہ کچھ ریاستوں کے ایک ہی دن تمام حلقوں پر پولنگ بھی ہوگی، تاہم کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں پر ساتوں مراحل میں ووٹنگ ہوگی۔

ایک ہی ریاست کے اندر حلقوں کی مختلف مراحل میں ووٹنگ سے جہاں وہاں کے عوام پریشان دکھائی دے رہے ہیں، وہیں انتخابات کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بھارت کی بڑی ریاستوں اترپردیش، بہار، آسام اور مغربی بنگال سمیت کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں ساتوں مراحل میں انتخابات ہوں گے اور ہر مرحلے میں ریاست کی 5 سے 10 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔

اس مرتبہ انتخابات میں بھارت کی 2 ہزار سیاسی جماعتوں کے 8 ہزار 136 ارکان میدان میں اتریں گے۔

لیکن 8 ہزار 136 ارکان میں سے خواتین ارکان کی تعداد 700 سے بھی کم ہوگی۔

اس مرتبہ لوک سبھا کے انتخابات کے لیے مجموعی طور پر 636 خواتین ارکان میدان میں اتریں گی، جس میں سے حیران کن طور پر چھوٹی جماعتوں اور چھوٹی ریاستوں سے زیادہ خواتین انتخابی دنگل لڑتی دکھائی دیں گی۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق اس مرتبہ انتخابات کے لیے 10 لاکھ سے زائد پولنگ اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

انتخابات کے دوران 11 لاکھ سے زائد ووٹنگ الیکٹرانک مشینوں کا استعمال کیا جائے گا۔

الیکشن کے عمل کو سر انجام دینے کے لیے انتخابی عملہ ہیلی کاپٹر، ٹرینوں، کوچز، کاروں، بسز، گھوڑوں، ہاتھیوں اور کشتیوں کے استعمال سمیت پیدل بھی سفر کرے گا۔

بھارت کے کئی دور دراز علاقے ایسے ہیں جہاں پر کوئی بس سروس موجود نہیں، اس لیے وہاں انتخابی عملے کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

بھارت کے بعض دور دراز علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ہیلی کاپٹرز کے لیے موسم موزوں نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسے علاقوں میں سڑکوں کا انفرا اسٹرکچر موجود ہوتا ہے، ایسے علاقے جنگلات اور دریاؤں کے گرد ہوتے ہیں، اس لیے ایسے علاقوں میں انتخابی عملے کو کشتیوں اور دریا کے راستے انتخابی حلقوں میں پہنچایا جائے گا۔

بعض حلقوں تک پہنچنے کے لیے انتخابی عملہ گھوڑوں اور ہاتھیوں کو بھی سواری کے لیے استعمال کرے گا۔

بھارت کے انتخابات کو دنیا کا سب سے بڑا انتخابی دنگل بھی مانا جاتا ہے کیوں کہ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 90 کروڑ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد مجموعی طور پر 13 کروڑ ووٹرز کا اضافہ ہوا، جس میں سے 9 کروڑ ووٹرز آخری 3سال میں رجسٹر ہوئے۔

مجموعی طور پر اس مرتبہ لوک سبھا کے انتخابات میں 13 کروڑ ووٹرز پہلی مرتبہ حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

کانگریس نے انتخابات سے قبل پریانکا گاندھی کو بھی سیاسی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں—فوٹو: رائٹرز
کانگریس نے انتخابات سے قبل پریانکا گاندھی کو بھی سیاسی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں—فوٹو: رائٹرز

ان ووٹرز کی عمریں 18 سے 20 سال کے درمیان ہیں اور مجموعی طور پر بھارت کی 2 تہائی آبادی 35 برس سے کم عمر ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ووٹر فہرست سے 2 کروڑ سے زائد خواتین کے نام غائب ہیں، یوں اب الیکشن کمیشن کی فہرست میں موجود 41 کروڑ خواتین ووٹ دیں گی۔

بھارت کی 2011 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق خواتین کی آبادی 58 کروڑ سے زائد ہے جس میں سے 43 کروڑ خواتین رجسٹر ووٹر ہیں، تاہم رجسٹر ووٹرز خواتین کی فہرست میں سے 2 کروڑ خواتین کے نام غائب ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جن خواتین کے نام ووٹرز فہرست سے غائب ہیں ان کی عمریں 18 سے 35 برس کے درمیان ہیں اور ان میں سے زیادہ تر غیر شادی شدہ خواتین ہیں جن پر اہل خانہ کی جانب سے کئی پابندیاں ہونے کا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس مرتبہ لوک سبھا کے انتخابات میں خواتین کے ووٹ کو انتہائی اہم اور حالات کو بدلنے والا سمجھا جا رہا ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرتبہ تقریبا 4 کروڑ خواتین پہلی مرتبہ اپنا حق رائی دہی استعمال کریں گی۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت کی 68 فیصد خواتین ملکی سیاست میں مردوں کی طرح دلچسپی رکھنے اور اس میں کردار ادا کرنے کی خواہاں ہیں۔

سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 20 فیصد خواتین کو اہل خانہ کی جانب سے سیاست میں دلچسپی لینے یا اس میں کردار ادا کرنے سے روکا جاتا ہے۔

اسی طرح 65 فیصد خواتین نے اس خیال کو بھی مسترد کیا کہ مرد سیاست میں خواتین سے بہتر ہوتے ہیں۔

اگرچہ بھارت میں خواتین کے ووٹ کو اہمیت دی جا رہی ہے تاہم ان کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاست اور حق رائے دہی میں ناروا سلوک پر اس مرتبہ عوام میں کھل کر بحث بھی ہونے لگی ہے اور یہ آوازیں بھی آنے لگیں ہیں کہ خواتین کے لیے لوک سبھا میں خصوصی نشستوں کا کوٹا ہونا چاہیے۔

بھارت کی 2011 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی مجموعی آبادی ایک ارب 21 کروڑ 5 لاکھ 69 ہزار 573 تھی جس میں سے 62 کروڑ 31 لاکھ 12 ہزار 843 مرد اور 58 کروڑ 74 لاکھ 47 ہزار 730 خواتین تھیں۔

نوجوان اور غیر شادی شدہ خواتین کو اہل خانہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے—فائل فوٹو: ڈی این اے انڈیا
نوجوان اور غیر شادی شدہ خواتین کو اہل خانہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے—فائل فوٹو: ڈی این اے انڈیا

جہاں بھارت کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ خواتین والے ممالک میں ہوتا ہے، وہیں وہاں خواتین کو انتخابات یا حکومت میں سب سے کم نمائندگی دی جاتی ہے۔

اس مرتبہ بھی بھارت کی سب سے بڑی جماعتوں بھارتی جنتا پارٹی (بی جی پی) اور کانگریس جیسی جماعتوں نے خواتین کو کم اہمیت دی ہے۔

بھارت میں 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں 543 اُمیدواروں میں سے صرف 69 خواتین امیدوار منتخب ہوئی تھیں جس میں سے سب زیادہ 31 خواتین ارکان کا تعلق حکمران جماعت بی جے پی سے تھا۔

دوسرے نمبر پر آل انڈیا ترینیمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کی خواتین ارکان تھیں جن کی تعداد 12 تھی جب کہ سیکولر جماعت تصور کی جانے والی کانگریس کی خواتین ارکان کی تعداد 4 تھی۔

اس مرتبہ صرف آل انڈیا ترینیمول کانگریس وہ واحد جماعت ہے جس نے 40 فیصد خواتین اُمیدوار میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔

کس مرحلے میں کتنے حلقوں پر انتخابات ہوں گے
الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں انٹرنیٹ اور بلیو ٹوتھ سے منسلک نہیں ہوتیں—فوٹو: رائٹرز
الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں انٹرنیٹ اور بلیو ٹوتھ سے منسلک نہیں ہوتیں—فوٹو: رائٹرز

لوک سبھا کے انتخابات 7 مرحلوں میں ہوں گے اور پہلا مرحلہ 11 اپریل کو شروع ہوگا لیکن سب سے زیادہ حلقوں پر انتخابات تیسرے مرحلے میں ہوں گے۔

11 اپریل کو پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 91 حلقوں پر انتخابات ہوں گے۔

18 اپریل کو دوسرے مرحلے میں 97 ارکان کا چناؤ ہوگا۔

23 اپریل کو تیسرے مرحلے میں سب سے زیادہ 115 حلقوں پر انتخابات ہوں گے۔

چوتھے مرحلے میں 29 اپریل کو 71 لوک سبھا ارکان کے لیے ووٹنگ ہوگی۔

پانچویں مرحلے میں 6 مئی کو سب سے کم 51 حلقوں سے ارکان منتخب کیے جائیں گے۔

چھٹے مرحلے میں 12 مئی کو 59 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

آخری اور ساتویں مرحلے میں 19 مئی کو بھی 59 حلقوں میں انتخابات ہوں گے۔

کس ریاست میں کتنے انتخابی حلقے ہیں؟

آبادی کے لحاظ سے بھارت کے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سب سے زیادہ 80 نشستیں ہیں، اس ریاست کی آبادی 20 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

انتخابی حلقوں اور آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر ریاست مہارا شٹر ہے، جہاں 48 نشستیں ہیں اور اس کی آبادی 11 کروڑ سے زائد ہے۔

آبادی کے لحاظ سے تیسری بڑی ریاست بہار ہے جہاں کی آبادی 10 کروڑ سے زائد ہے، مگر وہاں انتخابی حلقے ان سے چھوٹی ریاست آندھرا پردیش سے بھی کم ہیں۔

بہار میں 40 نشستیں ہیں جب کہ آندھرا پردیش میں 42 نشستیں ہیں اور وہاں کی آبادی 5 کروڑ کے قریب ہے۔

اسی طرح مغربی بنگال میں بھی 42 نشستیں ہیں اور وہ آبادی کے لحاظ سے چوتھی بڑی ریاست ہے، وہاں کی آبادی 9 کروڑ سے زائد ہے۔

ان ریاستوں کے بعد نشستوں کے حوالے سے سب سے بڑی ریاست تامل ناڈو ہے، جہاں سے 39 لوک سبھا ارکان کا انتخاب ہوگا اور یہاں کی آبادی 7 کروڑ سے زائد ہے۔

اورنا چل پردیش، گوا، میگھالیہ، منی پور اور تری پورہ ایسی ریاستیں ہیں جہاں سے ترتیب وار 2 لوک سبھا ارکان کا انتخاب ہوگا جب کہ میزورم، ناگالینڈ اور سکم ایسی ریاستیں ہیں جہاں سے ایک ایک رکن منتخب ہوگا۔

بھارت کی وفاقی حکومت کے ماتحت علاقوں سے ترتیب وار ایک جب کہ دہلی سے 7 ارکان منتخب ہوں گے۔

بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر سے 6 لوک سبھا ارکان کا انتخاب ہوگا۔

لوک سبھا کے 17 ویں انتخابات میں یوں تو چند دیگر وزرائے اعظم کے امیدوار بھی میدان میں اتریں گے تاہم سخت مقابلہ بی جے پی کے نریندر مودی اور کانگریس کے راہول گاندھی کے درمیان ہوگا۔

کسی بھی امیدوار کو وزیر اعظم بننے کے لیے پہلے لوک سبھا کا انتخاب جیتنا پڑے گا جس کے بعد اسے نو منتخت ارکان کے ووٹوں کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔

وزیر اعظم کے لیے امیدوار کو 272 ووٹوں کی ضرورت پڑتی ہے اور 2014 میں نریندر مودی اتحادی جماعت کی حمایت کے ساتھ 282 ووٹ لے کر وزیر اعظم بنے تھے۔

توقع کی جا رہی تھی کہ پریانکا گاندھی بھی لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ لیں گی—فوٹو: اے پی
توقع کی جا رہی تھی کہ پریانکا گاندھی بھی لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ لیں گی—فوٹو: اے پی

نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ کی مدت رواں برس 31 مئی تک رہے گی اور وہ انتخابات کے دوران اور انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد بھی بھارت کے وزیر اعظم رہیں گے۔

اس مرتبہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ ماضی کے مقابلے زیادہ رہے گا اور اس مرتبہ زیادہ سے زیادہ لوگ ووٹ کاسٹ کریں گے۔

گزشتہ انتخابات میں 80 کروڑ کے لگ بھگ ووٹرز میں سے 20 کروڑ سے زائد ووٹرز نے ووٹ کاسٹ ہی نہیں کیا تھا۔

گزشتہ انتخابات میں ووٹ نہ دینے والے افراد مجموعی طور پر حکومت بنانے والی پارٹی بی جے پی کو ووٹ دینے والے افراد سے بھی زیادہ تھے۔

بی جے پی نے 17 کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ کانگریس محض 10 کروڑ ووٹ ہی حاصل کر پائی تھی۔

نریندر مودی اور راہول گاندھی وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار ہیں — فوٹو: ٹائمز ناؤ
نریندر مودی اور راہول گاندھی وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار ہیں — فوٹو: ٹائمز ناؤ

نریندر مودی اس مرتبہ ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی (بنارس) کے حلقے سے لوک سبھا کا انتخاب لڑیں گے۔

دوسری جانب کانگریس کے صدر اور وزیر اعظم کے دوسرے مضبوط اُمیدوار راہول گاندھی 2 حلقوں سے میدان میں اتریں گے، راہول گاندھی ریاست کیرالہ کے ضلع ویاناڈ اور ریاست اتر پردیش کے ضلع امیٹھی سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

لوک سبھا کے اب تک ہونے والے انتخابات

بھارت کے ایوان زیریں کے پہلے انتخابات اپریل 1952 سے مئی 1952 تک جاری رہے اور پہلے انتخابات میں انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) نے کامیابی حاصل کی اور جواہر لال نہرو وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

دوسرے انتخابات بھی ٹھیک 5 سال بعد ان ہی مہینوں میں 1957 میں ہوئے اور ایک مرتبہ پھر کانگریس نے کامیابی حاصل کی اور جواہر لال ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے تیسرے انتخابات 5 سال بعد مئی اور اپریل 1962 میں ہوئے اور ایک مرتبہ پھر کانگریس کو فتح حاصل ہوئی اور جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے، تاہم 1964 میں ان کے موت کے بعد گلزاری لال نندا نگراں وزیر اعظم بنے، وہ نہرو کی حکومت میں وفاقی وزیر تھے۔

بعد ازاں گلزاری لال نندا کو کانگریس کی قیادت نے جون 1964 میں ہٹا کر لال بہادر شاستری کو وزیر اعظم بنایا، تاہم وہ بھی 1966 میں چل بسے اور ایک مرتبہ پھر کانگریس قیادت نے گلزاری لال نندا کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سونپی گئی۔

چوتھے انتخابات مارچ اور اپریل 1967 میں منعقد ہوئے اور اس مرتبہ کانگریس کو کئی سیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑا لیکن پھر بھی وہ اتحادی جماعتوں کی مدد سے حکومت بنانے میں کامیاب گئی اور ستیا نارائن سنہا وزیر اعظم بنے۔

پانچویں لوک سبھا کے انتخابات مارچ اور اپریل 1971 میں ہوئے اور اس مرتبہ اندرا گاندھی نے کانگریس کی کھوئی ہوئی مقبولیت کو پھر سے حاصل کیا اور اکثریت سے مضبوط وزیر اعظم بنیں، وہ بھارت کی پہلی اور اب تک کی واحد خاتون وزیر اعظم بھی ہیں۔

لوک سبھا کے چھٹے انتخابات مارچ اور اپریل 1977 میں ایک ایسے وقت میں ہوئے جب وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 1975 میں سول ایمرجنسی نافذ کر رکھی تھی اور ان کی پارٹی بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، انتخابات کے دوران ان کی پارٹی سے ہی جدا ہونے والے مرار جی ڈیسائی جنتا پارٹی کے تحت وزیر اعظم بنے، تاہم انہوں نے پارٹی کی خواہش پر 1979 میں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیا اور بعد میں چرن سنگھ وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے ساتویں انتخابات 1980 میں کرائے گئے اور اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنیں، تاہم اکتوبر 1984 میں انہیں قتل کردیا گیا اور ان کی ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے راجیو گاندھی نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا۔

لوک سبھا کے آٹھویں انتخابات دسمبر 1984 میں کرائے گئے اور ایک مرتبہ پھر کانگریس کی جیت ہوئی اور راجیو گاندھی وزیر اعظم بنے۔

نویں لوک سبھا انتخابات 1989 میں کرائے گئے اور ان میں بھی کانگریس کو کامیابی ملی اور راجیو گاندھی ایک بار پھر وزیر اعظم بنے، تاہم اسی سال انہیں برطرف ہونا پڑا اور وشوناتھ پرتاب سنگھ وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے دسویں انتخابات 1991 میں ہوئے اور انتخابی مہم کے دوران راجیو گاندھی کو ایک خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کے ایک دن بعد قتل کیا گیا تاہم الیکشن ملتوی نہیں ہوئے اور ملکی حالات کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کانگریس اور جنتا دل پارٹی نے کمزور اتحادی حکومت بنائی اور چندر شیکھر وزیر اعظم بنائے گئے۔

چندر شیکھر کے بعد کچھ دنوں کے لیے ارجن سنگھ کو وزیر اعظم بنایا گیا اور بعد ازاں نرسمہا راؤ کو جون 1991 میں وزیر اعظم بنایا گیا اور وہ گاندھی خاندان کے بعد پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور وہ 1996 تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے، ان کی دور حکومت میں بابری مسجد کو شہید کرنے کا سانحہ بھی پیش آیا۔

لوک سبھا کے 11 ویں انتخابات 1996 کو ہوئے اور ایک مرتبہ پھر پہلے نرسمہا راؤ وزیر اعظم منتخب ہوئے، جس کے بعد رام ولاس پاسوان اور بعد ازاں اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم بنے۔

اٹل بہاری واجپائی کو بھی جون کے بعد ہٹا دیا گیا اور ایچ بھی دیوے گوڑا کو وزیر اعظم بنایا گیا، ان کے وزیر اعظم بننے کو بھارتی سیاست میں معجزاتی وزیر اعظم بھی کہا جاتا ہے۔

ایچ بی دیوے گوڑا کے بعد 1997 میں اندر کمار (آئی کے) گجرال بھارت کے وزیر اعظم بنے اور وہ 1998 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔

بارہویں لوک سبھا انتخابات 1998 میں ہوئے اور بھارتی جنتا پارٹی کے اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے تیرہویں انتخابات اکتوبر 1999 میں ہوئے اور ایک مرتبہ پھر اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے 14 ویں انتخابات 2004 میں ہوئے، جس میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی اور من موہن سنگھ وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے 15 ویں انتخابات 2009 میں ہوئے اور ایک مرتبہ پھر من موہن سنگھ وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے 16 ویں انتخابات 2014 میں ہوئے اور حیران کن طور پر بی جے پی نے اکثریت حاصل کی اور نریندر مودی پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے 17 ویں انتخابات 11 اپریل سے 19 مئی 2019 تک جاری رہیں گے، 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور جون میں نئی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔