دنیا بھر میں کورونا پھر تیزی سے پھیلنے لگا، کئی ممالک میں جزوی لاک ڈاؤن

اپ ڈیٹ 05 نومبر 2020
بار اور ریسٹورنٹ شام 6بجے بند کرنے کے حکومت کے ممکنہ فیصلے خلاف عوام روم میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز
بار اور ریسٹورنٹ شام 6بجے بند کرنے کے حکومت کے ممکنہ فیصلے خلاف عوام روم میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا ایک مرتبہ پھر تیزی سے پھیلتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے جبکہ امریکا میں الیکشن کے موقع پر ریکارڈ تعداد میں کیسز سامنے آئے۔

دنیا بھر میں اب تک 4 کروڑ 81لاکھ 7ہزار سے زائد افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اور ان میں سے 12 لاکھ 25 ہزار 463 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی دارالحکومت میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 7.7فیصد تک پہنچ گئی

سب سے زیادہ 94 لاکھ 86 ہزار 677 سے زائد افراد امریکا میں وائرس کا شکار ہوئے جبکہ اب تک وہاں 2 لاکھ 33ہزار 730 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں جو دنیا بھر میں کسی بھی جگہ مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق امریکا میں جاری صدارتی انتخاب کے دوران کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 86 ہزار سے زائد نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

امریکا میں سردیوں کی آمد سے قبل حالات بدترین شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کا نفاذ اور عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو آنے والے دنوں میں صورتحال پھر قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

امریکا میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کیسز میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ 7 دنوں کے دوران ہر روز اوسطاً 86ہزار 352 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اموات کے تناسب میں میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں اسی دورانیے میں روزانہ اوسطاً 846 اموات ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پراسرار طور پر کورونا سے متاثر الجیریا کے صدر جرمنی میں زیر علاج

ڈاکٹر رابرٹ مرفی نے قوم کو آنے والے دنوں میں ممکنہ سنگین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا بطور صدر موجودہ دور 20 جنوری کو اختتام کو پہنچے گا اور تب تک 86 دن میں اگر عوام نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو مزید ایک لاکھ امریکی موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔

ادھر انگلینڈ میں وائرس کے کیسز بڑھنے کے ساتھ ہی نئی پابندیوں کا اطلاق کردیا گیا ہے اور 5 کروڑ 60 لاکھ افراد کے لیے نئے لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا گیا ۔

وزیر اعظم بورس جانسن نے ہسپتال سے مستقل جاری کی گئی وارننگز اور 6 ماہ بعد اموات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے انگلینڈ بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے ۔

برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہسپتالوں میں جلد گنجائش ختم ہو جائے گی لہٰذا عوام احتیاط کریں لیکن بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود عوام نے اقدامات پر عمل نہ کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا میں گزشتہ ماہ انتقال کرجانے والا امیدوار الیکشن جیتنے میں کامیاب

برطانوی پارلیمنٹ میں 32 اراکین کی اقلیت نے لاک ڈاؤن کی مخالفت کی ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس سے معیشت اور عوام کی ذہنی حالت پر برا اثر پڑے گا۔

دوسری جانب یورپ کے دیگر ممالک کی طرح اٹلی نے بھی بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے رات میں کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپ میں ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اور انہیں وائرس کی اس دوسری لہر سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس جسم کے اندر کیا تباہی مچاتا ہے؟

اٹلی کے وزیر اعظم گوئسیپ کونٹے نے کہا کہ اس ڈرامائی حالات سے نکلنے کا ایک ہی حل ہے کہ ہم متحد رہیں۔

کونٹے نے شام 6 بجے ریسٹورنٹ اور بار بند کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن انہیں عوام کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے اس ممکنہ اقدام کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

تاہم اب مزید پھیلاؤ اور ماہرین صحت کے انتباہ کے بعد حکومت نے کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت رات 10 بجے سے صبح 5بجے تک عوام کو گھر میں رہنا ہو گا البتہ یورپ بھر میں نافذ کی گئیں یہ پابندیاں چند ماہ قبل لاگو کی گئی پابندیوں سے خاصی نرم ہیں۔

بیلجیئم میں انتہائی تیزی سے وائرس کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے سخت لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے اور پولیس خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: کووڈ کی وہ علامات جو 20 فیصد مریضوں میں ظاہر ہوتی ہیں

فرانس میں بھی لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا گیا ہے اور مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ لائبریری اور تفریحی مقامات ایک خاص وقت کے بعد بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے اور ماسک نہ پہننے پر بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں۔

روس میں گزشتہ روز 20ہزار نئے کیسز اور 389 اموات کے بعد حکومت پر پابندیوں کے نفاذ کے لیے اپوزیشن کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن صدر ولادمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

روس میں اب تک 17 لاکھ افراد وائرس کا شکار اور 29ہزار کی موت واقع ہو چکی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں