کووڈ کی وہ علامات جو 20 فیصد مریضوں میں ظاہر ہوتی ہیں

اپ ڈیٹ 04 نومبر 2020
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی سب سے عام علامت بخار، کھانسی اور سونگھنے کی حس سے محرومی ہے۔

مگر ہر 5 میں سے ایک مریض میں یہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ معدے کے مختلف مسائل اس وبائی مرض کی نشانی ہوتے ہیں۔

یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یونیورسٹی آف البرٹا فیکلٹی آف میڈیسین اینڈ ڈینٹسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کی وبا کے دوران مریضوں میں معدے کے مسائل کے حوالے سے ڈاکٹروں کو محتاط رہنا چاہیے۔

معدے کی یہ علامات متعدد اقسام کی ہوسکتی ہیں مگر ان میں کھانے کی اشتہا ختم ہوجانا، قے، متلی، ہیضہ اور پیٹ میں درد قابل ذکر ہیں۔

طبی جریدے جرنل Abdominal ریڈیولوجی میں شائع تحقیق میں محققین نے اس رپورٹ پر نظرثانی کی تھی کہ کووڈ کے 18 فیصد مریضوں میں معدے سے جڑی علامات ہوتی ہیں جبکہ 16 فیصد میں صرف یہی علامات ہوتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایسے شواہد بڑھ رہے ہیں کہ معدے سے متعلق علامات کووڈ 19 کے مریضوں میں عام ہیں۔

تحقیق کے دوران 15 جولائی تک شائع ہونے والی 36 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا اور اس کے بعد یہ نتیجہ نکالا۔

معدے کی علامات کے ساتھ ساتھ تحقیق میں ان ممکنہ علامات کا تعین بھی کیا گیا جو کووڈ 19 کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔

ان علامات میں چھوٹی اور بڑی آنت میں ورم، آنتوں کی دیوار میں ہوا، مگر یہ علامات بہت کم ہوتی ہیں اور جن میں ہوتی ہیں، ان میں مرض کی شدت سنگین ہوسکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی علامات ضروری نہیں کہ کووڈ 19 کا نتیجہ ہو، بلکہ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مگر ان وجوہات میں سے ایک کورونا وائرس بھی ہوسکتی ہے اور موجودہ وبا کے لحاظ یہ بات اہمیت رکھتی ہے اور ماہرین کو مریضوں کے معائنے کے دوران اس امکان کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

کچھ ماہ پہلے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں کو نظام ہاضمہ کے مسائل خصوصاً ہیضے کا سامنا پہلی علامت کے طور پر ہوتا ہے۔

جریدے دی امریکن جرنل آف گیسٹروانٹرالوجی میں شائع تحقیق کے مطابق ایسے مریض جن میں ہیضہ پہلی علامت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، ان میں بیماری کی شدت معتدل تھی، نظام تنفس کی علامات بعد میں طاہر ہوئیں بلکہ کچھ کیسز میں تو ایسی علامات نظر ہی نہیں آئیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ کووڈ 19 کی عام علامات جیسے بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل کے بغیر اکثر ایسے کیسز کی تشخیص نہ ہونے کا امکان ہوتا ہے اور یہ مریض بیماری کو دیگر افراد تک پھیلا سکتے ہیں۔

مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نظام ہاضمہ کے امراض بہت عام ہیں اور ضروری نہیں کہ ان کے شکار افراد کووڈ 19 ہو، مگر اچانک ہیضے کی صورت میں وبائی مرض کے بارے میں سوچنا ضرور چاہیے، کیونکہ جلد تشخیص نہ ہونے پر یہ مریض صحت مند افراد کو اس وائرس کا شکار بناسکتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں