Dawn News Television Logo

’آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد کیا چھڑی اور گھڑی کی سیاست ختم ہوسکے گی؟‘

ہماری سیاست جنرل الیکشن اور جنرل کی سلیکشن کے درمیان کی دوڑ ہے اور دونوں ہی اہم ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
اپ ڈیٹ 24 نومبر 2022 09:00pm

حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی تھا کہ ’کون بنے گا نیا آرمی چیف‘۔ یہی وہ سوال تھا جس کے گرد ملکی سیاست گردش کررہی تھی۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کی ایک بڑی وجہ بھی یہ اہم تعیناتی تھی۔

لیکن اس سوال کا جواب بلآخر آج مل گیا اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر کو پاک فوج کا نیا سربراہ نامزد کردیا جبکہ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیرِاعظم عمران خان سے ملاقات کرنے کے بعد اس سمری پر دستخط بھی کردیے۔ یوں جنرل عاصم منیر پاک فوج کے 17ویں سپہ سالار بن گئے ہیں۔ وہ 29 نومبر کو موجودہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپنے عہدے کا چارچ لیں گے۔

اگر پاکستانی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو جتنی سیاست اس تقرری پر ہوئی ہے اور جس حد تک سخت عوامی بحث اس تقرری کے حوالے سے ہوئی اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ شاید یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک سابق وزیرِاعظم کی جانب سے فوج کے سربراہ کی تعیناتی کو عوامی جلسوں میں موضوع بحث بنایا گیا جس سے یہ تقرری بھی سیاست کی نظر ہوئی۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں نے ہی اس تقرری کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کی پوری کوشش کی۔

ہم نے اس اہم تعیناتی کے حوالے سینیئر تجزیہ کاروں اور صحافیوں سے رابطہ کیا اور ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ ہم نے ان سے دریافت کیا کہ وہ جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی کو کس طرح دیکھتے ہیں، کیا اس کے بعد ملک کی موجودہ صورتحال تبدیل ہوتی نظر آتی ہے اور یہ کہ نئے آرمی چیف کے سامنے کیا بڑے چیلنجز ہوں گے۔

اویس توحید


کسی بھی آرمی چیف کی تعیناتی یا اس کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کے حوالے سے ہماری سیاست میں ہلچل دیکھنے میں آتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس بار پاکستانی سیاست میں جو طوفان برپا تھا اس کی نظیر نہیں ملتی پھر چاہے وہ اپوزیشن کی سیاست ہو یا عمران خان کا لانگ مارچ۔

میڈیا ٹاک شوز میں نہ تو سیلاب کا تذکرہ کیا گیا نہ خوراک کے مسئلے پر بحث کی گئی اور نہ ہی بگڑی ہوئی معیشت کے حوالے سے کوئی گفتگو ہوئی۔ صرف ایک ہی معاملہ میڈیا کی شہ سرخی بنا رہا اور وہ تھا ’کون بنے گا نیا آرمی چیف‘۔ دنیا بھر میں یہ معاملہ احسن انداز سے طے پاتا ہے۔

پہلے افواہیں گرم تھیں کہ جنرل قمر باجوہ کو توسیع دی جائے گی۔ جب ان افواہوں نے دم توڑا کو کہا گیا کہ جنرل اظہر عباس آرمی چیف بنیں گے۔ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ کس امیدوار کا جھکاؤ کس طرف ہے اور عمران خان کے حمایتی حلقوں میں صرف یہی کہا جارہا تھا کہ عاصم منیر کو آرمی چیف نہ بنایا جائے۔ جب جنرل عاصم منیر آئی ایس آئی کے چیف تھے تب عمران خان نے ان کی جگہ جنرل فیض حمید کو تعینات کردیا تھا۔ سب واقف تھے کہ فیض حمید عمران خان کے کتنے نزدیک ہیں اسی لیے عمران خان کے حمایتی حلقے جنرل عاصم منیر کی جگہ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف دیکھنا چاہتے تھے۔

آرمی چیف کی دوڑ میں شامل سبھی امیدواروں کی طرح جنرل عاصم منیر ایک قابل شخص ہیں۔ جنرل عاصم منیر کی آرمی چیف تعیناتی اور ساحر شمشاد مرزا کی جوائنٹ چیف آف اسٹاف تعیناتی کا یہ فارمولہ موجودہ حکمران اتحاد اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے مابین اتفاق رائے سے طے کیا گیا ہے۔ اطلاعات ملی تھیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکمران جماعت کو یہ پیغام دیا تھا کہ آپ 3 ناموں میں سے ایک کو آرمی چیف اور ایک کو جوائنٹ چیف آف اسٹاف منتخب کرلیں۔ یوں قرعہ فال جنرل عاصم منیر کے نام کا نکلا۔

مریم نواز صاحبہ اور دیگر نون لیگی رہنما تو یہ تک کہتے تھے کہ عمران خان کو جنرل عاصم منیر کی تعیناتی پر اس لیے اعتراض ہے کہ مبیّنہ طور پر انہوں نے عمران خان کی اہلیہ کی مبیّنہ رشوت کے حوالے سے اس وقت کے وزیرِاعظم کو آگاہ کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی قیاس آرائیاں ایک طرف، سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعیناتی شریف خاندان کو راس آئے گی؟ کیونکہ ماضی کی تعیناتیاں انہیں راس نہیں آئیں اور اس حوالے سے وہ ہمیشہ گلا شکوہ کرتے نظر آئے۔ کبھی چوہدری نثار کو پرویز مشرف کی تعیناتی کا مشورہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کبھی عبدالقادر بلوچ کو جنرل راحیل شریف کی تعیناتی کا مشورہ دینے پر قصوروار ٹھہرایا۔

عمران خان کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے فیصلے کا غیرمقدم کرنا چاہیے اور اس فیصلے پر کوئی احتجاج نہیں کرنا چاہیے لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید وہ اپنے لانگ مارچ میں اس حوالے سے احتجاج جاری رکھیں گے کیونکہ عمران خان کے نزدیک یہ حکومت جسے وہ ’امپورٹڈ حکومت‘ کہتے ہیں اس اہم عہدے پر تعیناتی کرنے کی اہل ہی نہیں۔

اس فارمولے سے واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان آرمی چیف کے عہدے پر جسے دیکھنا چاہتے تھے وہ اب اس دوڑ سے باہر ہوچکے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اب عمران خان کی احتجاجی تحریک اسی زور و شور سے جاری رہے گی یا پھر وہ آہستہ آہستہ دم توڑ دے گی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بطور آرمی چیف یہ کہہ دیا ہے کہ اب فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی جو خوش آئند بیان ہے لیکن یہ بیان اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ ماضی میں ہونے والی حکومتی تبدیلیوں، حکومت کو گرانے اور بنانے اور انتخابات میں کہیں نہ کہیں ادارے کا عمل دخل رہا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی چھڑی جنرل عاصم منیر کو سونپنی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مسقبل میں ہماری سیاست گھڑی اور چھڑی سے باہر نکلے گی؟ اور قوم کو درپیش بنیادی مسائل اور اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے دہائیوں پر محیط حکمتِ عملی تیار کی جائے گی یا پھر حالات اسی طرح برقرار رہیں گے؟ اور کیا ہمارا میڈیا بنیادی مسائل پر توجہ دے گا؟

آنے والے دن کمزور مخلوط حکومت اور شدید معاشی مسائل کا سامنا کرتے اس ملک کے لیے مزید چیلنجز لے کر آئیں گے۔

ضرار کھوڑو


ہماری سیاست جنرل الیکشن اور جنرل کی سلیکشن کے درمیان کی دوڑ ہے اور دونوں ہی اہم ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ تمام نظریں اس تعیناتی کے بعد آنے والے مستقبل پر تھیں۔ اس تعیناتی کے بعد شاید ہم ایک یا ڈیڑھ ماہ کے لیے سیز فائر دیکھیں۔ بہرحال نئے آرمی چیف کو فوری طور پر کام کرنا ہوگا۔

عمران خان کے لہجے میں نرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اس کا حصہ نہیں تھی تو وہ اس پورے عمل کو روک بھی سکتے تھے۔ لیکن ہم نے آرمی چیف کو عمران خان کے خلاف سخت بیانات دیتے ہوئے بھی دیکھا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ کیا عمران خان کی لڑائی صرف ایک شخص کے ساتھ تھی یا پھر پورے ادارے کے ساتھ۔

اس کے لیے دیکھنا ہوگا کہ نئے آرمی چیف کی کیا پالیسی ہوگی۔ جب نئے آرمی چیف کو کسی مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے گا تب ان کا رویہ واضح طور پر ظاہر ہوگا۔ مقرر ہونے والے نئے آرمی چیف پہلے سے ہی عمران خان کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ عمران خان کے ذہن کو سمجھنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ دیکھا جائے تو نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد کچھ عرصے کے لیے تمام فریقین کو سانس لینے کا موقع مل جائے گا لیکن یہ پاکستان ہے یہاں اگلے 4 گھنٹوں کا کچھ پتا نہیں ہوتا، اگلے 4 مہینوں کے حوالے سے بات کرنا تو بہت دُور کی بات ہے۔

ایک مہینے کے بعد ہی شاید واضح ہوسکے کہ اس فیصلے سے ملک میں کس حد تک استحکام آیا ہے۔ عمران خان نے کہا تھا کہ عارف علوی ان کے پارٹی کے کارکن ہیں اور وہ اس سمری پر ان سے مشاورت کریں گے۔ اس سب سے واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان نے پہلے ہی دن سے نئے آرمی چیف کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی ہے۔

نادیہ مرزا


آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے دیکھنا یہ چاہیے کہ ملک و قوم کے لیے کیا بہتر ہے۔ اب یہ تعیناتی ہوچکی ہے اور اس پر مزید بات کرنا شاید مناسب نہیں۔

اس سے قبل ہم نے اس حوالے سے بہت بات کی کہ جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ 27 نومبر کی ہے جبکہ جنرل باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہوں گے لیکن اب ہمارے پاس اس تعیناتی پر مزید بات کرنے یا اسے متنازع بنانے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ مہینوں سے ہم اس منجدھار میں پھنسے تھے کہ کون نیا آرمی چیف بنے گا۔

اب تمام سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا چاہیے اور یہ سب کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ کھلے دل سے اس بات کو تسلیم کریں کہ اب آرمی چیف کا تقرر ہوچکا ہے اور وہ ایک ادارے کے سربراہ ہیں۔ آرمی چیف نہ تیرا ہوتا ہے نہ میرا۔ یہ سوچ کر کسی کو تعینات نہیں کرنا چاہیے کہ یہ میرے لیے کام کرے گا کیونکہ یہ آرمی چیف کا کام ہی نہیں ہے۔

جہاں تک نئے آرمی چیف کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ جنرل عاصم منیر پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان پر ماضی میں آنے والے آرمی چیف کی نسبت کچھ مختلف ذمہ داریاں ہوں گی۔ اس وقت فوج پر جس قسم کی تنقید ہورہی ہے، جس کا ذکر جنرل باجوہ نے بھی کیا، اس کو دیکھتے ہوئے جنرل عاصم منیر کو اپنی روایتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ فوج کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بھی کام کرنا ہوگا۔ یہ اس وقت ہوگا جب زبانی باتوں کے علاوہ عملی اقدامات سے بھی ثابت کیا جائے گا کہ اسٹیبلشمنٹ اب غیر سیاسی ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ نئے آرمی چیف کے ہر ہر قدم پر نظر رکھی جائے گی اور ان کے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ کی اہمیت ہوگی۔

سب سے اہم بات یہ کہ اب آگے بڑھنا چاہیے اور ملک کو استحکام کی جانب لے جانا چاہیے۔ جنرل باجوہ نے اپنے آخری خطاب میں کہا کہ ہم نے گزشتہ سال فیصلہ کرلیا تھا کہ ہم نے اب سیاست سے دُور رہنا ہے لیکن یہ کہتے کہتے بھی سیاسی بیان دے گئے۔ میرا خیال ہے کہ اب اگر فوج نے یہ فیصلہ کرہی لیا ہے تو اس پر من و عن عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

  جنرل عاصم منیر پر فوج کی ساکھ بحال کرنے کی ذمہ داری بھی ہوگی
جنرل عاصم منیر پر فوج کی ساکھ بحال کرنے کی ذمہ داری بھی ہوگی

جنرل عاصم منیر کی تقرری بہرحال خوش آئند اقدام ہے، وہ سینیئر ترین جنرل تھے، ہاں یہ درست ہے کہ ان کے لیے قانون میں کچھ تبدیلی کی گئی لیکن بہرحال اب ان کی تقرری ہوچکی ہے اور اب ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا یہ ادارہ اپنی ماضی کی ساکھ دوبارہ حاصل کرے گا اور عوام کو اپنے ساتھ لے کر چلے گا کیونکہ فوج کی اصل طاقت عوام ہوتے ہیں۔ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ سیاست سے دُور رہے گا، ادارے کے افراد اپنے حلف کی پاسداری کریں گے اور میرے خیال سے پاکستان کی بقا اور ترقی اسی میں ہے۔

حبیب اکرم


بہت سارے لوگوں کا یہی کہنا تھا جنرل عاصم منیر ہی نئے آرمی چیف بنیں گے۔ خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے لوگ یہی کہتے تھے۔ لیکن جنرل عاصم منیر کی تقرری اس وجہ سے خوش آئند ہے کہ اس وقت پاکستان میں فوج کے اندر قیادت کی تبدیلی بہت ضروری ہوچکی تھی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو جنرل باجوہ کو 6 سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا اور پھر پاکستانی سیاست میں ان سے جو چیزیں منسوب ہوتی تھیں وہ مجموعی طور پر فوج کے لیے کچھ بہتر نہیں تھیں۔ لہٰذا اب ہر حوالے سے فوجی قیادت میں تبدیلی کا وقت آچکا تھا۔ یوں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف آمد خوش آئند ہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا اب اس تقرری کے بعد ملکی صورتحال تبدیل ہوگی یا نہیں تو مجھے ابھی بھی اس میں کچھ شک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے منصوبہ بندی کرنے والا ملک نہیں بلکہ ردِعمل دینے والا ملک رہا ہے۔ ہمیں معاشی طور پر بھی جب بہت مشکل پیش آئی تو ہم نے اس پر ردِعمل دیا ورنہ اس سے قبل ہمارے پالیسی ساز قبل از وقت اس قسم کے نازک معاملات کی جانب توجہ نہیں کرتے تھے کہ ایسی کوئی نوبت پیش ہی نہ آئے۔ ہاں چونکہ جس بڑی خبر کا انتظار تھا اب وہ آچکی ہے تو ممکن ہے کہ ہمارا میڈیا اور سیاستدان اب دوسری جانب توجہ دیں۔

اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پاکستانی سیاست میں اس وقت بہت تناؤ ہے۔ ایک جماعت فوری انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ حکومت وقت سے ایک دن پہلے بھی انتخابات کروانے پر راضی نہیں ہے۔ اس تناؤ کی کیفیت میں حکومت نے ہی کچھ کرنا ہے اور کیا حکومت کچھ کرسکتی ہے یا نہیں یہ بھی ایک سوال ہے۔

ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ عمران خان نے نہیں اٹھایا تھا، بلکہ ابتدائی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اٹھایا تھا۔ ہاں، عمران خان سے مزید آگے لے گئے تھے۔ مارچ میں تحریک عدم اعتماد سے قبل یہ بات واضح طور پر کہی جارہی تھی کہ چونکہ عمران خان وزیرِاعظم ہیں اور وہ نومبر میں فلاں شخص کو آرمی چیف لگائیں گے جس سے پی ڈی ایم جماعتوں کو مشکل پیش آئے گی، لہٰذا عمران خان کا ہٹنا ضروری ہے۔

یعنی موجودہ حکومت تو وجود میں ہی اس لیے آئی تھی کہ اسے آرمی چیف کا تقرر کرنا تھا اور عمران خان کو آرمی چیف کی تعیناتی سے محروم کرنا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ عمران خان اس وقت کسی بھی ادارے کے ساتھ کسی قسم کا تصادم رکھنا چاہیں گے۔ بلکہ اپنی جماعت کو اس تصادم کی فضا سے نکالنا ان کے لیے بہتر ہوگا۔ لہٰذا مجھے لگتا ہے کہ وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کریں گے یا کم از کم اچھی توقعات کا اظہار ضرور کریں گے۔

ابصا کومل


حکومت نے بہت احتیاط سے کام لیتے ہوئے آخری وقت تک تمام معاملے کو خفیہ رکھا، پھر انہوں نے آرمی ایکٹ میں بھی تبدیلی کی اور جنرل عاصم منیر کو ریٹین بھی کرلیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عمران خان بھی اس تقرری کے گرد ہی اپنی تمام سیاست کررہے تھے اور اسی سلسلے میں وہ راولپنڈی آنے کی بھی بات کررہے تھے۔ اب وہ آئیں گے یا نہیں، مجھے اب اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔

یہ تقرری بہت اہم تھی کیونکہ جو پورا تنازع تھا اس میں دفاعی اور سیاسی ماہرین کی رائے یہی تھی کہ سینیئر ترین فرد کو چیف لگایا جائے جو جنرل عاصم منیر ہی تھے۔ ہم یہ بھی سن رہے ہیں کہ وہ سعودی عرب میں بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ چونکہ اس وقت ہم معیشت پر بہت توجہ دے رہے ہیں تو اس ضمن میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ سعودیوں کے لیے بھی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ چند دن قبل شائع ہونے والے ایک مضمون میں وائٹ ہاؤس کی معاونت کرنے والی ایک امریکی خاتون کا کہنا تھا کہ ہماری نظر پاکستان میں وزیرِاعظم سے زیادہ آرمی چیف پر ہوتی ہے۔

اس صورتحال میں میرا خیال ہے کہ بہت ہی مناسب فیصلہ ہوا ہے جو متوقع بھی تھا۔ عمران خان صاحب کے پاس کوئی گنجائش نہیں بچتی کہ اس فیصلے پر اعتراض کریں کیونکہ بہت امکان ہے کہ وہ اس کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن دوسری جانب یہ ان کو ملنے والا ایک موقع بھی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرلیں۔

یہاں آئندہ انتخابات کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے تو کہہ دیا ہے کہ اب فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ تاہم ہم اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آئندہ انتخابات میں کیا ہوگا کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ ایک فرد کے جانے کے بعد اس کی اختیار کی گئی پالیسیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔

عمران خان نے ماضی میں جس طرح جنرل باجوہ کے ساتھ ون پیج کی بات کی وہ مثالی تھا لیکن جس طرح ان کی راہیں جدا ہوئیں وہ بھی مثالی تھا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی سیاستدان نے یا وزیرِاعظم نے افراد کا نام لے کر اس طرح کھلے عام فوج کے حوالے سے تنقید کی ہو۔ وہ آنے والے دنوں میں کیا کریں گے، کیا اپنا بیانیہ برقرار رکھیں گے یا اسے تبدیل کریں گے یہ سب کچھ 26 نومبر کو بہت حد تک طے ہوجائے گا۔