ای میل

نیشنل پارکس پاکستان کا خوبصورت چہرہ

سعدیہ امین اور فیصل ظفر

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ پاکستان کو کتنا جانتے اور کتنا سمجھتے ہیں؟ گرد و پیش دہشتگردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت، کرپشن، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی۔ یعنی اچھے حوالے کم ہی ہوں گے اور جب آپ اتنے خراب حوالوں کے باوجود پاکستان سے اتنی محبت کر سکتے ہیں تو اچھے حوالے محبت کو کہاں سے کہاں پہنچا دیں گے، جس کی کوئی حد نہیں۔

کیونکہ یہاں دنیا کی سب سے خوبصورت وادی کاغان بھی ہے، نامعلوم گہرائی والی پریوں کی جھیل سیف الملوک بھی، سربہ فلک برف پوش چوٹیاں بھی، پرہیبت صحرا بھی یہاں موجود ہیں اور سرسبز وادیاں بھی، یہ سب کچھ دیکھا ہے آپ نے؟ اگر نہیں تو ہم نے کوشش کی ہے کہ اس حوالے سے ایک سیریز میں پاکستان کا وہ خوبصورت چہرہ سامنے لائیں جو میڈیا میں منفی رپورٹنگ کے باعث کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے، جس کا آغاز ہم نے سربہ فلک برف پوش چوٹیوں سے کیا اور اس کے بعد جنت نظیر جھیلوں اور گلیات کے خطے کا جائزہ پیش کیا جبکہ اب چوتھی کڑی کے طور پر ملک کا وہ حصہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ملکی ماحولیات کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے یعنی نیشنل پارکس، جن کی تعداد مجموعی طور پر 28 ہے جن میں سے بیشتر صوبائی حکومتوں کے زیرِتحت ہیں، ان میں سے چند ایک کی سیر آپ کے لیے ایک زبردست تجربہ ثابت ہوگی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی بلند ترین چوٹیاں

پاکستان کی سحر طاری کر دینے والی جھیلیں

پاکستان کی مزید سحر طاری کر دینے والی جھیلیں

پاکستان کا خوبصورت ترین خطہ گلیات


ہنگول نیشنل پارک


ہنگول نیشنل پارک بلوچستان اور پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو چھ لاکھ انیس ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ کراچی سے 190 کلومیٹر دور یہ پارک بلوچستان کے تین اضلاع گوادر، لسبیلہ اور آواران کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقہ میں بہنے والے دریائے ہنگول کی وجہ سے اس کا نام ہنگول نیشنل پارک رکھا گیا ہے، اس علاقے کو 1988 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ ہنگول نیشنل پارک اس وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں چار مختلف قسم کے ماحولیاتی نظام پائے جاتے ہیں۔

یہ پارک پہاڑ، ریت کے ٹیلوں اور دریا کے ساتھ سیلابی میدان وغیرہ میں بٹا ہوا ہے، ہنگول ندی نیشنل پاک سے ہو کر گزرتی ہے اور سمندر میں گرنے سے پہلے ایک مدو جزر والا دہانہ بناتی ہے جو کئی ہجرت کرنے والے آبی پرندوں اور دلدلی مگرمچھوں کا مسکن ہے۔

اس پارک میں ایبیکس، یورال، چنکارہ، لومڑی، گیڈر، بھیڑیا وغیرہ شامل ہیں۔ پرندوں میں تیتر، گراﺅس، ہوبارہ، بوسٹرڈ، باز، چیل، مرغابی، ترن، فالکن وغیرہ شامل ہیں جبکہ رینگنے والے جانوروں میں دلدلی مگرمچھ، لمبی چھپکلی، موٹی زبان والی چھپکلی، وائپر اور کوبرا ناگ وغیرہ کے علاوہ کئی اور سمندری حیوانات بھی شامل ہیں۔


کیرتھر نیشنل پارک


کیرتھر نیشنل پارک پاکستان کا دوسرا بڑا نیشنل پارک ہے جبکہ 1973 میں اپنے قیام کے بعد ملک کا پہلا نیشنل پارک ہونے کا اعزاز بھی اسے ہی حاصل ہوا تھا جو کہ تین لاکھ 58 ہزار سے زائد ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ کیرتھر نیشنل پارک پاکستان کے صوبۂ سندھ کے ضلع جامشورو اور کراچی میں موجود کیرتھر پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، یہاں متعدد انتہائی نایاب اور منفرد اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں جن میں چنکارہ ہرن، جنگلی بھیڑیں، اڑیال، صحرائی بلے، جنگلی چوہے اور مگرمچھوں کے ساتھ کئی اقسام کے سانپ نمایاں ہیں، اسی طرح سردیوں میں یہاں راج ہنس، سنہرے عقاب اور متعدد اقسام کے پرندوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔


خنجراب نیشنل پارک


یہ پاکستان کا تیسرا بڑا نیشنل پارک ہے اور شاہراہ قراقرم پر پاک چین سرحد پر واقع ہے، جو دو لاکھ 26 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کے خوبصورت پہاڑی مناظر دیکھنے والوں پر جادو کر دیتے ہیں جبکہ اس علاقے کو نیشنل پارک کا درجہ خوبصورت سینگوں والے مارکوپولو شیپ کی نسل کو بچانے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں برفانی چیتا، آئی بیکس، بھورا ریچھ، تبتی سرخ لومڑی اور خرگوش کے علاوہ کئی اقسام کے پرندے بھی پائے جاتے ہیں۔


چترال گول نیشنل پارک


چترال کا نام سنتے ہی ایک خوابوں کی نگر جیسی وادی کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے اور ان ہی جنت نظیر نظاروں کے درمیان یہ نیشنل پارک واقع ہے جس کا کل رقبہ 7745 ایکڑ ہے، یہاں برفانی چیتے، کالا ریچھ، مارخور، اڑیال اور لومڑی کے علاوہ دیگر کئی جانور اپنے قدرتی ماحول میں موجود ہیں اور انسانوں کی دسترس سے دور ہیں۔


ہزار گنج چلتن نیشنل پارک


ہزار گنج نیشنل پارک کوئٹہ سے 20 کلو میٹر دور جنوب مغرب میں واقع ایک انتہائی خوبصورت پارک ہے۔ اس کا رقبہ 32,500 ایکڑ ہے اور سطح سمندر سے 2021 سے 3264 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ اسے 1980 میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے قائم کیا گیا، یہ پارک قدرتی پہاڑی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں مغرب میں چلتن اور مشرق میں ہزار گنج پہاڑی سلسلہ ہے، اس پارک میں ایک بہترین عجائب گھر دیکھنے کے لائق ہے جبکہ یہاں تفریح کیلئے خوبصورت مقامات بھی ہیں جس کے باعث باہر سے سیر کیلئے آنے والے یہاں رہتے ہوئے اس خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

ہزار گنج کا مطلب ہزار خزانوں والی جگہ ہے، یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں پہاڑوں کی تہوں میں ہزاروں خزانے دفن ہیں۔ اس تاثر کی وجہ اس کا مخلتلف تاریخی افواج اور بلوچ قبائل کی گزرگاہ ہونا ہے۔ ابتداء میں اس پارک کے قیام کا مقصد چلتن جنگلی بکری اورمارخور کی نسل کو بچانا تھا۔ اب یہاں سلیمان مارخور بھی محفوظ ہیں اور دھاری دار چیتا اور لومڑیاں بھی ہیں۔ پارک کے قیام سے یہ جانور غیر قانونی شکاری کاروائیوں سے بچے ہوئے ہیں، ان کے علاوہ کئی اور نایاب جانور ور پرندے بھی یہاں موجود ہیں۔


مارگلہ ہل نیشنل پارک


اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں اور ارگرد کے علاقے کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا ہے، شکرپڑیاں اور راول ڈیم بھی اسی پارک کا حصہ ہیں جہاں سے کورنگ دریا نکل کر دریائے سون میں گرتا ہے۔ یہ نیشنل پارک چیتے، بندر، ہرن، نیولے، جنگلی سور اور کوبرا سانپوں کی بہترین پناہ گاہ ہے مشہور تفریح گاہ دامن کوہ سے آگے جا کر جبڑی کے مقام پر نایاب پرندوں کی افزائش کے لیے بھی ایک جگہ بنائی گئی ہے۔


ایوبیہ نیشنل پارک


ایوبیہ نیشنل پارک مری سے 26 کلومیٹر دور واقع ہے سابق صدر ایوب خان کے نام پر اس علاقے کا نام ایوبیہ رکھا گیا۔ چار مختلف پہاڑی مقامات گھوڑا گلی، چھانگلہ گلی، خیرہ گلی اور خانسپور کو ملا کر ایوبیہ نیشنل پارک بنایا گیا۔ پکنک مقامات، سیرگاہوں اور سرسبز علاقوں کہ علاوہ یہاں ایک چیئر لفٹ بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ پاکستان میں یہ اپنی طرز کی پہلی تفریحی سرگرمی تھی، یہ چیئر لفٹ علاقے کی سیاحت کا ایک بہتر ذریعہ ہے۔ پارک میں کئی اقسام کے پرندے جیسا کہ سنہری عقاب، جنگلی کبوتر، گدھ وغیرہ پائے جاتے ہیں جبکہ جانوروں میں کالا ریچھ، جنگلی لومڑی اور لگڑبگھڑ پائے جاتے ہیں۔


دیوسائی نیشنل پارک


دنیا کے بلند ترین نیشنل پارکس میں سے ایک دیوسائی نیشنل پارک سیاحوں کے لیے جنت سے کم نہیں، 35 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا یہ نیشنل پارک اسکردو سے 53 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس جگہ کو 1993 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تاکہ ہمالیائی بھورے ریچھ کی نسل کو خاتمے سے بچایا جاسکے کیونکہ اس نسل کے ریچھ کہیں اور نہیں پائے جاتے، اس کے علاوہ یہاں برفانی چیتے اور اڑیال سمیت کئی اقسام کے نایاب عقاب بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ پارک سال کے آٹھ سے نو ماہ تک مکمل طور پر برف سے ڈھکا رہتا ہے اور صرف جون سے اگست کے دوران سیاح یہاں آسکتے ہیں مگر یہاں رہائش کی سہولت دستیاب نہیں۔


پنجال مستان نیشنل پارک


پنجال مستان نیشنل پارک آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں سطح سمندر سے 8500 فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ پارک 300 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ نومبر سے اپریل تک پارک برف سے ڈھکا رہتا ہے، بہار کے موسم میں پارک پھولوں اور کئی اقسام کی تتلیوں کے ساتھ ایک منفرد نظارہ پیش کرتا ہے۔


لال سنہارا نیشنل پارک


بہاولپور سے 36 کلومیٹر دور ستاسی ہزار ایکٹر رقبے پر پھیلے اس پارک کا کچھ حصہ قدرتی جنگلات اور کچھ صحرائے چولستان پر مشتمل ہے، یہاں موجود جھیل اور اس میں ہزاروں بطخیں انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں۔ یہاں ایک چڑیا گھر بھی ہے جس میں کئی جانور موجود ہیں جبکہ نیشنل پارک میں کالے ہرن، چنکارہ، باز، دلدلی شکرے اور دیگر پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں۔


وادیٔ بروغل


بروغل کی وادی میں واقع یہ خوبصورت نیشنل پارک چترال شہر سے ڈھائی سو کلومیٹر سے زائد فاصلے پر گلگت بلتستان میں واقع ہے، بروغل کی وادی اپنے خوبصورت قدرتی مناظر، برف پوش چوٹیوں، شاندار کرمبر جھیل اور پچیس سے زیادہ چھوٹی جھیلوں کے ساتھ تین اہم گزرگاہوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ گزرگاہیں اس وادی کو مغرب میں کانخن پاس کے ذریعے واخان کوریڈور سے ملاتی ہیں۔


لولوسر۔ دودی پت نیشنل پارک


خیبرپختونخواہ کے مشرقی حصے میں واقع وادیٔ کاغان قدرتی وسائل، ناقابل یقین خوبصورت مناظر اور جسم میں سنسنی دوڑا دینے والی جھیلیں مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ یہاں کے مقامی افراد موسم گرما میں اپنے مویشیوں کے ہمراہ پہاڑوں کے اوپر چلے جاتے ہیں اور سردیوں میں واپس نیچے آجاتے ہیں۔ 2003 میں لولوسر اور دودی پت سر جھیلوں کو لولوسر۔ دودی پت نیشنل پارک قرار دیا گیا تھا، جس میں ضلع مانسہرہ کا تیس ہزار ایکڑ سے زائد کا علاقہ شامل تھا، جس کا مقصد اس علاقے کی انفرادیت اور حیاتیاتی تنوع کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔


سیف الملوک نیشنل پارک


ضلع مانسہرہ کی سب سے مشہور اور خوبصورت جھیل سیف الملوک ہے اور اس کے ارگرد کے علاقے کو 2003 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تھا، یہ مقام اپنے پھولوں، درختوں اور پرندوں کی بدولت جانا جاتا ہے۔ دو لاکھ بیس ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ نیشنل پارک سطح سمندر سے تقریباً 3244 میٹر بلندی پر واقع ہے۔

جھیل سیف الملوک میں ملکہ پربت اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے جو اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتے ہیں خاص طور پر جب ناران سے جھیل سیف الملوک تک چودہ کلومیٹر کا سفر طے کر کے اس پر پہلی نظر پڑتی ہے تو ایک جادو سا ہو جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اللہ نے جنت زمین پر اتار دی ہے۔