ای میل

شنگرئی: سوات کی گنگناتی آبشار

فلک بوس پہاڑوں، گھنے جنگلات، بل کھاتی ندیوں، سحر انگیز آبشاروں اور میٹھے جھرنوں کی سرزمین وادیء سوات کو پروردگار نے ملکوتی حسن سے نوازا ہے۔ اس وادی کے حسن کو چار چاند لگانے میں اگر ایک جانب سیدگئی، کنڈول، سپین خوڑ، درال اور بشیگرام جیسی خوبصورت جھیلوں کا کردار ہے، تو دوسری جانب جاروگو، جامبل اور اوشو جیسے آبشار رہی سہی کسر پوری کر دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک سحر انگیز آبشار ’شنگرئی‘ بھی ہے جس کے بارے میں باقی ماندہ ملک تو درکنار خود سوات کی بیشتر آبادی بھی لاعلم ہے۔

آبشار کو مقامی لوگ ’ڈنڈ‘ یا ’چڑھ‘ کہتے ہیں۔ دونوں دراصل پشتو زبان کے الفاظ ہیں، لیکن پشتو زباں میں جھیل کے لیے موزوں ترین لفظ ڈنڈ (جو کہ سندھی میں ڈھنڈ ہے) اور آبشار کے لیے چڑھ ہے۔

شنگرئی آبشار سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے نواحی علاقہ منگلور کے پہاڑوں میں واقع ہے۔ مذکورہ پہاڑوں میں ایک سرسبز و شاداب گاؤں ’شنگرئی‘ کے نام سے بھی آباد ہے۔ یہ گاؤں سوات کے مرکزی شہر سے لگ بھگ 18 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مینگورہ شہر سے بذریعہ سڑک 45 منٹ میں شنگرئی گاؤں باآسانی پہنچا جاسکتا ہے۔

شنگرئی آبشار تک جانے والا راستہ جو ہائیکنگ کے لیے موزوں ہے۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی آبشار تک جانے والا راستہ جو ہائیکنگ کے لیے موزوں ہے۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی گاؤں کے کچے پکے بے تربیت گھروں کا ایک منظر۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی گاؤں کے کچے پکے بے تربیت گھروں کا ایک منظر۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی گاؤں۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی گاؤں۔— فوٹو امجد علی سحاب

پہاڑوں کے اوپر واقع شنگرئی گاؤں میں مٹی اور گارے سے بنے گھر بکھرے موتیوں کی طرح بے ترتیب آباد ہیں۔ آبشار تک رسائی کے لیے کئی راستے ہیں مگر ان میں سے دو کا استعمال زیادہ ہے۔ ایک تو گاؤں پہنچنے سے پہلے وہ کچا راستہ ہے جو آبشار کے ساتھ رہائش پذیر آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت پہاڑ کا سینہ چیر کر بنایا ہے۔ اس پر موٹر سائیکل یا پھر سائیکل کی مدد سے باآسانی آبشار تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

دوسرا راستہ قدرے صبر آزما اور کم استعمال کیا جانے والا ہے جو پہاڑ کی چوٹی سے ایک اچھی خاصی ہائیک کے ذریعے نیچے آبشار تک جاتا ہے۔ چوٹی سے نیچے آبشار تک گاؤں والوں نے واکنگ ٹریک بنایا ہے جسے مقامی و غیر مقامی سیاح ہائیکنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

15 مارچ سے لے کر 30 اپریل تک مذکورہ ٹریک پر ہائیکنگ کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔ راستے میں رنگ برنگے خودرو پھول دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ یہ پھول آبشار کے ساتھ کھیتوں کے کنارے یا پھر پگڈنڈیوں پر کھلتے ہیں۔ یہ نیلے، پیلے اور لال رنگ کے ہوتے ہیں۔ بہار کی آمد کے ساتھ ہی آبشار کے تمام راستے ان پھولوں سے اٹے پڑے رہتے ہیں جو دامن دل کھینچنے میں ذرہ بھر دیر نہیں کرتے۔

مقامی و غیر مقامی سیاح مارچ کے وسط سے لے کر اکتوبر کی آخری تاریخ تک شنگرئی آبشار آتے رہتے ہیں۔ سیاح آبشار کے احاطے میں واقع بڑے بڑے پتھروں کے اوپر چڑھ کر آبشار کے دلفریب مناظر کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرتے ہیں، اور پھر انہی پتھروں کے اوپر چٹائی یا دری بچھا کر کھانا کھاتے ہیں یا جوس و دیگر روایتی مشروبات کا لطف اٹھاتے ہیں۔ بیشتر سیاح آبشار پہنچتے ہی تصاویر اتارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

چجو گٹ سے نیچے منگلور گاؤں اور دریائے سوات کا ایک دلفریب نظارہ۔— فوٹو امجد علی سحاب
چجو گٹ سے نیچے منگلور گاؤں اور دریائے سوات کا ایک دلفریب نظارہ۔— فوٹو امجد علی سحاب
خمبو ڈنڈ۔— فوٹو امجد علی سحاب
خمبو ڈنڈ۔— فوٹو امجد علی سحاب
راستے میں پہاڑی سے پھوار کی شکل میں بہنے والا پانی، نیلا آسمان اور بادل۔— فوٹو امجد علی سحاب
راستے میں پہاڑی سے پھوار کی شکل میں بہنے والا پانی، نیلا آسمان اور بادل۔— فوٹو امجد علی سحاب

شنگرئی آبشار کا قطر تقریباً 70 فٹ جبکہ اونچائی 35 فٹ کے قریب ہے۔ آپ جب آبشار کے بالکل سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو سیدھے ہاتھ پہاڑ کے دامن میں ایک اچھا خاصا جنگل نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہ علاقہ سرسبز و شاداب ہے اور ہر طرف کھیت ہی کھیت نظر آتے ہیں جن میں زیادہ تر گندم اور مکئی کی فصل کاشت کی جاتی ہے۔

شنگرئی آبشار چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھری ہے۔ یہ جگہ بیضوی شکل لیے ہوئے ہے۔ آبشار کا پانی ایک ندی کی شکل میں نیچے منگلور خوڑ کے ساتھ ملتا ہے جو آگے جا کر دریائے سوات میں شامل ہوجاتا ہے۔ اپریل کے آخر تک آبشار کا پانی اتنا ٹھنڈا ہوتا ہے کہ اسے صرف چھوا ہی جا سکتا ہے۔ مئی کے وسط تک سیاح منہ ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے ہیں جبکہ جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں یہاں بیشتر سیاح پانی میں غوطے لگاتے نظر آتے ہیں۔

مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بارشوں کی وجہ سے آبشار میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے جبکہ مئی، جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی برف پگھلنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے، جس سے آبشار میں پانی کا تیز بہاؤ برقرار رہتا ہے۔ دونوں موقعوں پر نیچے گرتا پانی دور دور تک پھوار کی شکل میں اڑتا رہتا ہے اور قریب آنے والے سیاحوں کو تر کر دیتا ہے۔

شنگرئی گاؤں سے آبشار کا ایک دلفریب منظر۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی گاؤں سے آبشار کا ایک دلفریب منظر۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی آبشار۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی آبشار۔— فوٹو امجد علی سحاب
گرتا پانی سحر طاری کردیتا ہے۔— فوٹو امجد علی سحاب
گرتا پانی سحر طاری کردیتا ہے۔— فوٹو امجد علی سحاب

پھوار پڑتے وقت تھکے ہارے سیاحوں میں گویا جان سی پڑجاتی ہے اور اس وقت ان کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے۔ تصاویر اتارنے کے بعد آگ روشن کرنے کے لیے لکڑیوں کو اکٹھا کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے اور آخر میں آگ روشن کر کے کھانا تیار کیا جاتا ہے۔

واپسی کے وقت چوٹی تک چڑھنے کا عمل ایک صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے جس میں 30 سے لے کر 45 منٹ تک صرف ہوسکتے ہیں۔ سیاح اپنے ساتھ لائے ہوئے پانی کی بوتلیں آبشار کے پانی سے بھرتے ہیں اور واپس پہاڑ پر چڑھتے وقت پیاس بجھانے کے لیے وقتاً فوقتاً پیتے رہتے ہیں۔

شنگرئی گاؤں تک آنے والی سڑک بے حد خراب ہے۔ یہ سچ ہے کہ شنگرئی مرکزی سڑک سے قدرے دور ہے لیکن اس گاؤں میں اچھی خاصی آبادی ہے اور سب سے بڑھ کر شنگرئی آبشار ہے جس کا شمار پاکستان کے خوبصورت آبشاروں میں ہوتا ہے، مگر انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے یہاں تک لوگوں کی رسائی مشکل سے ہوتی ہے۔

شنگرئی کے راستے میں خودرو مگر خوبصورت پھول دامن دل کھینچتے ہیں۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی کے راستے میں خودرو مگر خوبصورت پھول دامن دل کھینچتے ہیں۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی آبشار۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی آبشار۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی گاؤں۔— فوٹو امجد علی سحاب
شنگرئی گاؤں۔— فوٹو امجد علی سحاب

افسوس کا مقام یہ ہے کہ پہاڑوں کے بیچ واقع اس گاؤں کی اہم اور واحد سڑک پر پچھلے کئی سالوں سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی سڑک تنگ اور خستہ حال ہے۔ پہاڑوں میں بل کھاتی ہوئی اس خراب سڑک سے گزرنا واقعی ایک کٹھن عمل ہے۔

اگر حکومت وقت نے شنگرئی آبشار تک آنے والی سڑک اور پہاڑ کی چوٹی سے نیچے آنے والے ٹریک پر تھوڑی سی توجہ دی، تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ خوبصورت جگہ دیگر مشہور سیاحتی مقامات کا مقابلہ نہ کر سکے۔


امجد علی سحاب فری لانس صحافی ہیں اور تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔