ای میل

سیب کھانے سے صحت کو ہونے والے 8 فوائد



کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ کھانے کی عادت ڈاکٹر کو دور رکھتی ہے جس کو طبی سائنس کافی حد تک درست بھی مانتی ہے۔

مگر حالیہ تحقیقی رپورٹس میں سیب کو دیگر غذاﺅں کے ساتھ ملانے یا دن کے مخصوص اوقات میں کھانے کے فوائد بھی سامنے آئے ہیں۔

ان سے واقفیت حاصل کرکے آپ سیب کے زیادہ سے زیادہ طبی فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔

سبز چائے اور سیب

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

انسٹیٹوٹ آف فوڈ ریسرچ کی تحقیق کے مطابق سیب اور گرین ٹی میں ایسے قدرتی کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو جسم کو سنگین طبی مسائل جیسے امراض قلب اور کینسر وغیرہ سے تحفظ دیتے ہیں۔ جب ان دونوں کو اکھٹے استعمال کیا جاتا ہے تو ان میں موجود قدرتی اینٹی آکسائیڈنٹس وی ای جی ایف نامی مالیکیول کو بلاک کرتے ہیں جو خون کی شریانوں میں چربی کو جمع نہ ہونے دینے والے عمل کو بڑھاتا ہے ، خیال رہے کہ شریانوں میں چربی جمنے سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں غذائیں خون میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار بھی بڑھا دیتی ہیں جس سے شریانوں کو پھیلنے میں مدد ملتی ہے اور اس کو ہونے والے نقصان کی روک تھام ہوجاتی ہے۔

سیب اور ٹماٹر

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

روزانہ ایک سیب یا ٹماٹر کا استعمال بڑھاپے کے اثرات کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ آئیووا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں سیب کے چھلکوں اور سبز ٹماٹروں میں ایک ایسا کیمیکل دریافت کیا گیا ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی تنزلی کی روک تھام کا کام کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ایک پروٹین اے ٹی ایف 4 پٹھوں یا مسلز میں کمزوری آنے لگتی ہے جس کی وجہ جینز میں آنے والی تبدیلی ہوتی ہے تاہم دو ماہ تک سیب یا سبز ٹماٹر کا استعمال اس کی روک تھام کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان دونوں چیزوں میں پائے جانے والا قدرتی عمر بڑھنے سے مرتب ہونے والے اثرات کی روک تھام کرتے ہیں۔

سیب اور مالٹے

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

سیب اور مالٹے آپ کی دماغی صحت کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں ان دونوں پھلوں کے اجزاءسے جانوروں کے دماغی خلیات پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا، جن سے معلوم ہوا کہ مخصوص اینٹی آکسائیڈنٹس ان خلیات کو آکسیڈیٹیو اسٹریس سے تحفظ دیتے ہیں۔ محققین کے مطابق تازہ پھل جیسے سیب اور مالٹے وغیرہ دماغی نقصان کی روک تھام اور الزائمر امراض سے تحفظ دے سکتے ہیں۔

سیب اور کیلے

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

روزانہ ایک سیب یا کیلا کھانا ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم کردیتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ روزانہ ایک کیلا یا ایک سیب خون کی شریانوں کی پیچیدگیوں سے لاحق ہونے والے امراض سے موت کا خطرہ ایک تہائی حد تک کم کردیتا ہے۔ تاہم تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ پھل تازہ ہونے چاہئے کیونکہ پراسیس شدہ پھل میں سے بیشتر طبی فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔

دوپہر کے کھانے کے بعد ایک سیب کھانا

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

دوپہر کی بے وقت بھوک کی روک تھام کے لیے کھانے کے بعد ایک سیب کھالیں، سیب میں فائبر موجود ہوتا ہے جو جسم میں پانی کو اپنی جانب کھینچ کر ایک جیل تشکیل دیتا ہے جو غذا کے ہضم ہونے کا عمل سست کردیتا ہے، اس سے آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے اور بلڈ شوگر لیول میں مستحکم جبکہ انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے۔

سیب اور چاکلیٹ کا امتزاج

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

سیب فلیونوئڈز کی ایک قسم quercetin کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ ڈارک چاکلیٹ فلیونوئڈز کی دوسری قسم catechin سے بھرپور ہوتی ہے۔ ایک اطالوی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں فلیونوئڈز خون کی شریانوں میں لوتھڑے یا رکاوٹ کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں جس سے بچا نہ جائے تو ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

فوڈ شاپنگ سے پہلے سیب کا استعمال

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جب کسی سپرمارکیٹ یا خریداری کے لیے نکل رہے تو ایک سیب کھالیں۔ اس عادت کو اپنانے کے نتیجے میں لوگ صحت بخش سبزیاں اور پھلوں کو خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ محققین کے مطابق خریداری سے پہلے ایک سیب کھالیں اور پھر زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ آپ صحت کے لیے فائدہ مند غذا خریدنے کو ترجیح دیں گے۔

کم از کم ایک سیب تو روز ضرور کھائیں

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

ایک سیب روزانہ فالج کی روک تھام کرتا ہے، ایک ڈچ تحقیق کے دوران 10 برسوں تک 20 ہزار سے زائد افراد میں پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کا جائزہ لیا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ سرخ سیب کھانے کی عادت رکھنے والوں میں فالج کا خطرہ 9 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ دیگر رنگوں والے پھلوں سے یہ فائدہ نہیں ہوتا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔