ای میل

ٹیکنالوجی ڈیوائسز کے حوالے سے 10 عام غلط فہمیاں



کیا اپنے اسمارٹ فون کو رات بھر چارج کرنا اسے نقصان پہنچاتا ہے؟ کیا کسی آئی فون کو آئی پیڈ کے چارجر سے چارج کیا جاسکتا ہے؟

اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ وغیرہ کا استعمال اب بہت زیادہ عام ہوگیا ہے مگر اب بھی ایسے متعدد سوالات ہمارے ذہنوں میں گردش کرتے رہتے ہیں جو ہوتے تو غلط ہیں مگر ہم ان پر آنکھیں بند کرکے یقین کرتے ہیں۔

یہاں کچھ ایسی ہی غلط فہمیوں کا ذکر ہے جو یہ ڈیوائسز استعمال کرنے والے افراد کے ذہنوں میں ہوتی ہے۔

زیادہ میگا پکسلز بہتر کیمرے کی ضمانت؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

کیا آپ 12 میگا پکسلز اور 8 میگا پکسلز کیمرے کے درمیان فرق بتا سکتے ہیں؟ یا ان میں زیادہ اچھا کونسا ہے یہ بات؟ اگر تو آپ کا خیال ہے کہ میگا پکسلز کے ہندسے بڑھنے سے کیمرے کی تصاویر کے معیار میں کوئی فرق آتا ہے تو جان لیں ایسا کچھ خاص بہتری نہیں آتی۔ درحقیقت کسی تصویر کے معیار کا تعین اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کا سنسر کتنی روشنی کو اپنے اندر جذب کرنے کے قابل ہے۔ بڑے سنسر میں پکسلز بھی بڑے ہوتے ہیں اور وہ روشنی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے تصویر کا رزلٹ بہترین آتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تصویر کریں کہ آپ موسلا دھار بارش میں ایک چھلا پکڑے کھڑے ہیں اور پانی کو پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب وہ چھلا جتنا بڑا ہوگا اس کے لیے اتنے زیادہ قطروں کو اسی وقت میں پکڑنا آسان ہوگا۔ یہاں چھلے سے مراد سنسر لی جاسکتی ہے ، اگر کم میگاپکسلز کیمرے میں بڑے سنسر ہوں تو وہ زیادہ روشنی جذب کرکے 13 یا اس سے زیادہ میگاپکسلز کیمروں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔

پرائیویٹ یا Incognito براﺅزنگ آپ کی شناخت چھپاتی ہے؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اس حوالے سے بھی لوگوں میں غلط فہمی موجود ہے کہ Incognito اور پرائیویٹ براﺅزنگ صارف کو انٹرنیٹ پر گمنام بنادیتی ہے۔ اگر آپ گوگل کروم میں Incognito کو استعمال کررہے ہیں تو اس کا سادہ مطلب بس یہی ہے کہ براﺅزر آپ کی ہسٹری، بک مارکس امپورٹ یا کسی بھی اکاﺅنٹ میں لاگ ان تفصیلات کو ریکارڈ نہیں کررہا، درحقیقت یہ ایسے کمپیوٹر میں اچھا فیچر ہے جو دیگر افراد کے لیے استعمال بھی رہتا ہو، مگر اس سے آپ کی شناخت نہیں چھپتی خاص طور پر ان ویب سائٹس میں جو آپ کھولیں یا آپ کی آئی ایس پی۔

رات بھر فون چارج کرنا نقصان دہ؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

آپ نے شاید سنا ہوگا کہ اپنے اسمارٹ فون کو رات بھر تک چارج کے لیے لگا چھوڑ دینا بیٹری کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔کیا آپ اس یقین کرتے ہیں ؟ اگر ہاں تو اس حوالے سے فکر مند ہونا چھوڑ دیں کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ درحقیقت اپنے فون کو رات بھر تک چارج ہونے کے لیے چھوڑ دینا بیٹری کو معمولی سا نقصان بھی نہیں پہنچاتا۔ آئی فون ہو یا کوئی اور ڈیوائس اگر ان میں لیتھیم آئیون یا لیتھیم پولیمر بیٹری کا استعمال ہورہا ہے تو رات بھر چارج پر لگے رہنے سے بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹریاں 100 فیصد پر پہنچنے کے بعد چارجنگ پاور کو خودکار طور پر چارجنگ سرکٹ سے کٹ کردیتی ہیں۔بنیادی طور پر اسمارٹ فون کی بیٹری بھی ڈیوائس کی طرح اسمارٹ ہوتی ہے۔

کسی ڈیوائس کا چارجر دوسری ڈیوائس پر استعمال کرنا خطرناک؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اس کا جواب اتنا سادہ نہیں، ایپل کی ویب سائٹ کے مطابق آئی پیڈ اڈاپٹر سے آئی فون اور آئی پیڈ دونوں چارج ہوسکتے ہیں، اور ایسا دیگر کمپنیوں کی مختلف ڈیوائسز کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ تاہم اس کو عادت بنانے سے ضرور گریز کرنا چاہئے۔

اپنے فون کو ڈیڈ ہونے تک چارج نہ کرنا ٹھیک ہے؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

کیا آپ اپنا موبائل فون اسی وقت چارج کرتے ہیں جب تک اس کی بیٹری لگ بھگ ختم یا ڈیڈ ہونے کے قریب نہ پہنچ جائے؟ اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لیتھیم بیٹریوں کو اس وقت تک چارج نہیں کرنا چاہئے جب تک وہ ڈیڈ ہونے کے قریب نہ پہنچ جائے کیونکہ ایسا کرنے سے بیٹری کمزور نہیں ہوتی۔ تاہم یہ خیال بالکل غلط ہے اور ایسا بالکل نہیں ہوتا۔ درحقیقت بیٹری کو جلد چارج کرنا اس کے لیے بہتر ہوتا ہے جس کی وجہ ان میں موجود محدود چارج سائیکل ہے۔ اگر تو آپ بہت تاخیر سے بیٹریز کو چارج کرتے ہیں تو بتدریج چارج کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو کھونے لگتی ہیں۔

کمپیوٹر کو روزانہ شٹ ڈاﺅن کرنا نقصان دہ؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

کیا اپنے لیپ ٹاپ کو ہر رات بند کرنا اسے نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے؟ اگر تو آپ ایسا سوچتے ہیں تو ایسے واحد صارف نہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ سوچ ہی غلط ہے۔ درحقیقت اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کو روزانہ بند کرنا اس کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ اگر تو آپ سوچتے ہیں کہ لیپ ٹاپ کو سلیپ موڈ پر ڈال کر اگلے روز یا کبھی بھی بغیر اسے بوٹ اپ کے بغیر آسانی سے استعمال کرسکیں گے تو سسٹم میں بتدرج خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کو روزانہ بند کرنے کے متعدد فوائد ہوتے ہیں اور ان میں سب سے بڑا یہ ہے کہ وہ زیادہ بجلی نہیں چوستا۔ اپنے کمپیوٹر کو بند نہ کرنے کی عادت اسے سست بنادیتی ہے اور اس کے سسٹم پر دباﺅ بھی بڑھتا ہے جس کے نتیجے میں زندگی میں کمی آتی ہے۔

مقناطیس کو کمپیوٹر کے قریب رکھنا ڈیٹا ختم ہونے کا باعث؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

تیکنیکی طور پر یہ غلط نہیں کیونکہ ماضی میں ایک فلاپی ڈسک کو مقناطیس کے ذریعے صاف کردیا جاتا ہے، مگر اس کے لیے آپ صحیح معنوں میں بہت بڑے اور طاقتور مقناطیس کی ضرورت ہوگی جو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کو صاف کردے۔ ماہرین کے مطابق جدید کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈرائیورز انتہائی طاقتور مقناطیس سے ہی متاثر ہوسکتی ہیں وہ بھی اگر مقناطیسی میدان ان کے گرد قائم کرلے تو، عام بچوں کے استعمال کے مقناطیس سے ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

زیادہ ریزولوشنز اچھے ڈسپلے کی ضمانت؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

درحقیقت اسکرین ریزولوشن کسی اسمارٹ فون کے لیے کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتے جس کی وجہ یہ انسانی آنکھ 300 پکسلز فی انچ سے زیادہ تفصیلات نہیں دیکھ سکتی۔ چونکہ آنکھ ایک خاص حد سے زیادہ تفصیلات نہیں دیکھ سکتی تو پکسلز چاہے 2560 x1440 ہو یا 1920 x 1080 کچھ ایسا خاص فروق محسوس نہیں ہوتا کیونکہ اس کی شارپ نس آنکھ بہت زیادہ محسوس نہیں کرتی۔

موبائل فون دماغی کینسر کا باعث؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اگرچہ موبائل فون سے ریڈی ایشن خرج ہوتی ہے جو انسانی ٹشوز میں جذب بھی ہوتی ہے مگر ایسے ٹحوس شواہد موجود نہیں کہ وہ کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکا کی نیشنل کینسر انسٹیٹوٹ کے مطابق اگرچہ موبائل فون سے خارج ہونے والی ریڈیو فریکوئنسی انرجی کے حوالے سے کچھ خدشات موجود ہیں جو سر کے رکھنے سے دماغ اور دیگر ٹشوز کو ہوسکتا ہے متاثر کریں، مگر اب تک ایسے شواہد نہیں ملے کہ یہ انرجی کینسر کا باعث بنتی ہے۔

زیادہ سگنلز بار اچھی کال سروس کی ضمانت؟

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اگرچہ سروس بار زیادہ ہونے سے موبائل سروس کو مدد مل سکتی ہے مگر یہ زبردست کوریج کی ضمانت نہیں ہوتے۔ یہ بار تو بس یہ عندیہ دیتے ہیں کہ آپ قریبی موبائل ٹاور سے کتنے قریب موجود ہیں مگر دیگر عناصر بھی ہیں جو فون کے افعال پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسے کتنے لوگ اس وقت موبائل نیٹ ورک کو استعمال کررہے ہیں وغیرہ۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔