— S&G and Barratts/EMPICS Sport

حنیف، ریٹائرمنٹ لو ورنہ...

1969 میں محمد حنیف کو زبردستی ریٹائر ہونا پڑا، مگر اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں؟
اپ ڈیٹ اگست 17, 2016 05:51pm

میں کچھ سال اور ملک کی خدمت کر سکتا تھا لیکن ایک مخصوص ٹولے نے اپنی انا کی خاطر مجھے اس اعزاز سے محروم کردیا۔ — حنیف محمد


سال 2016 میں بہت سی لازوال شخصیات بشمول عبد الستار ایدھی اور امجد صابری ہم سے پہلے ہی بچھڑ چکی تھیں کہ اب گذشتہ ہفتے پاکستان کی اولین ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے ایک اور مایہ ناز کھلاڑی حنیف محمد بھی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں فتوحات حاصل کرنے کے لیے آج کرکٹ پر راج کرنے والے ممالک ہندوستان، نیوزی لینڈ اور دیگر کو بہت طویل انتظار کرنا پڑا لیکن پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں سے ہے جسے اپنی تاریخ کے دوسرے ٹیسٹ میں ہی فتح حاصل ہوئی اور حنیف محمد اس تاریخ ساز ٹیسٹ ٹیم کا حصہ تھے۔

پاکستان کے حصے میں آنے والے جیت کے بعد جیت، اور ریکارڈ کے بعد ریکارڈ میں اوول ہیرو فضل محمود کے ساتھ جس شخص کا کلیدی کردار تھا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ حنیف محمد تھے۔


نصف سنچری اور چھوٹے ہاتھ

پاکستان کی طرف سے پہلی ٹیسٹ سنچری لکھنؤ میں نذر محمد نے بنائی تھی تو پاکستان کی طرف سے اولین نصف سنچری بنانے کا اعزاز حنیف محمد کو حاصل ہے۔ حنیف نے یہ کارنامہ 1952 میں دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں پاکستان کے پہلے ٹیسٹ میچ میں روایتی حریف ہندوستان کے خلاف سر انجام دیا تھا۔

فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان ٹیسٹ کرکٹ کی طویل ترین اننگز کھیلنے اور سر ڈان بریڈمین کا ریکارڈ توڑ کر دو ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کرنے پر حنیف محمد کو 1958 میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی دے رہے ہیں۔ فوٹو ڈان اخبار۔
فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان ٹیسٹ کرکٹ کی طویل ترین اننگز کھیلنے اور سر ڈان بریڈمین کا ریکارڈ توڑ کر دو ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کرنے پر حنیف محمد کو 1958 میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی دے رہے ہیں۔ فوٹو ڈان اخبار۔

اس ٹیسٹ میں حنیف محمد نے وکٹ کیپنگ کے فرائض بھی نبھائے تھے اور انہیں پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں بحیثیت وکٹ کیپر اولین شکار کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

حنیف نے ابتدائی تین ٹیسٹ میچوں میں وکٹ کیپنگ کی لیکن پھر اپنے کپتان عبدالحفیظ کاردار کے اصرار پر یہ ذمہ داری امتیاز احمد کے سپرد کر دی۔

کاردار کا خیال تھا کہ حنیف کے محمد کے ہاتھ چھوٹے ہیں جس کی وجہ سے ان کو گیند پکڑنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ پاکستان اپنے اس دورے میں شکست سے دوچار ہوا لیکن نووارد ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے مضبوط اور تجربہ کار حریف کا جم کر مقابلہ کیا اور ان کو ایک ٹیسٹ میں شکست بھی دی۔

اس دورے کے دوران حنیف محمد ممبئی میں 96 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اس طرح وہ پاکستان کی تاریخ میں نروس نائینٹیز کا شکار ہونے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔


انگلستان کو انگلستان میں شکست

پاکستان نے ہندوستان کے دورے کے بعد اپنا دوسرا دورہ دو سال کے وقفے کے بعد کرکٹ کے بانی ملک انگلستان کا کیا۔ ایک عام خیال یہ تھا کہ انگلستان کی مضبوط ٹیم کے لیے پاکستان تر نوالہ ثابت ہوگا اور ابتدائی تین ٹیسٹ میچوں میں یہ بات بالکل درست ہوتی ہوئی دکھائی دی۔

ایجبسٹن کے مقام پر پاکستان کو شکست ہوئی جبکہ بارش کی بدولت لارڈز اور مانچسٹر کے ٹیسٹ میچ برابری پر ختم ہوئے۔ ابتدائی تین میچوں میں غیر تسلی بخش کارکردگی کے بعد پاکستان نے اوول کے آخری ٹیسٹ میچ میں شاندار کارکردگی پیش کی اور فضل محمود کی 12 وکٹوں کی بدولت قومی ٹیم نے یہ میچ 24 رنز سے جیت لیا۔

حنیف محمد اس ٹیسٹ میچ میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی تو نہیں دکھا سکے لیکن آخری کھلاڑی کو پوائنٹ پوزیشن سے براہ راست تھرو پر رن آؤٹ کر کے پاکستان کی تاریخی فتح پر مہر ثبت کردی۔ پاکستان ٹیلی ویژن کئی عشروں تک پاکستان کی تاریخی فتوحات کے مناظر میں اس منظر کو شامل کرتا رہا۔ حنیف محمد 181 رنز بنا کر انگلستان کے اس دورے میں پاکستان کے سب سے کامیاب بیٹسمین رہے۔


970 منٹ، 337 رنز

ہندوستان کے خلاف 1955 میں بہاولپور کے مقام پر حنیف محمد نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی پہلی سنچری بنائی۔ 1955 سے 1956 کے دوران ہندوستان، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی میزبانی کرنے کے بعد پاکستان 1958 میں ایک اور کٹھن غیر ملکی دورے پر روانہ ہوا۔

اس مرتبہ قومی ٹیم کی منزل جزائر غرب الہند تھی۔ ویسٹ انڈیز کی وہ ٹیم آج کی ٹیم سے بہت مختلف تھی۔ طویل القامت تیز رفتار باؤلرز اور شاندار بلے بازوں کی موجودگی کے باعث ویسٹ انڈیز کی ٹیم آسانی سے حریفوں کو زیر کر لیا کرتی تھی۔ اپنی تباہ کن کارکردگی کی وجہ سے عرف عام میں کالی آندھی بھی کہا جاتا تھا۔

ویسٹ انڈیز کا یہ دورہ پانچ ٹیسٹ میچوں پر محیط تھا اور ہر میچ کا دورانیہ چھ دن تھا۔ سیریز کا ابتدائی میچ برج ٹاؤن بارباڈوس کے مقام پر کھیلا گیا۔

بارباڈوس اس زمانے کی تیز ترین پچ تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پچ کو دن کے اختتام پر ڈھانپا نہیں جاتا تھا اور تیز باؤلرز بھی ہر پابندی سے آزاد تھے اور ایک اوور میں اپنی مرضی اور حکمت عملی کے مطابق باؤنسر کا استعمال کر سکتے تھے۔

امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور 1959 میں کراچی میں حنیف محمد سے ہاتھ ملاتے ہوئے۔ — فوٹو وائٹ اسٹار۔
امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور 1959 میں کراچی میں حنیف محمد سے ہاتھ ملاتے ہوئے۔ — فوٹو وائٹ اسٹار۔

جنوری 1958 میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور اپنی پہلی اننگز میں 579 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کر کے پاکستان کو دباؤ میں ڈال دیا۔ ویسٹ انڈیز کے اس بڑے مجموعے کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں صرف 106 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کی پہلی اننگز کا اختتام تیسرے دن کھانے کے وقفے کے بعد ہوگیا تھا۔ ٹیسٹ میچ میں ابھی ساڑھے تین دن کا کھیل باقی تھا اور ایک عام خیال یہ تھا کہ یہ میچ جلد ہی ویسٹ انڈیز کی فتح پر ختم ہوجائے گا۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔

حنیف محمد ویسٹ انڈیز اور فتح کے درمیان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح حائل ہوگئے اور ایک ایسی تاریخی اننگز کھیلی جس کی تقلید آج بھی کوئی نہیں کرسکا۔

حنیف محمد نے تقریباً تین دن سے زیادہ ویسٹ انڈین باؤلنگ کی مزاحمت کی اور 337 رنز اسکور کیے۔ اس اننگز کے دوران حنیف محمد نے امتیاز احمد، علیم الدین، سعید احمد اور اپنے بڑے بھائی وزیر محمد کے ساتھ سنچری شراکتیں بنائیں۔

حنیف محمد کی اس تاریخی اننگز نے ایک ہاری ہوئی بازی کو باعزت برابری میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی آمد کا طبل بجا دیا۔ 970 منٹ پر محیط حنیف محمد کی یادگار اننگز آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے طویل دورانیے کی اننگز ہے۔

حنیف محمد کی اس رومانوی اننگز کے ساتھ کچھ افسانے بھی منسلک ہیں۔ معروف مبصر ایس ایم نقی کے مطابق حنیف محمد کی مالش کرنے والا شخص ہر سیشن کے آغاز پر سوجاتا تھا، اس یقین کے ساتھ کے حنیف محمد ناٹ آؤٹ واپس آئیں گے اور اسے پھر سے ان کی مالش کر کے انہیں تر و تازہ کرنا ہوگا تاکہ وہ ایک نئے ولولے اور جوش کے ساتھ ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کا سامنے کریں۔

حنیف محمد اپنی اس تاریخ ساز اننگز کے دوران لین ہٹن کے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک اننگز میں بنائے گئے سب سے بڑے اسکور 364 رنز سے صرف 27 رنز دور تھے جب امپائر کے غلط فیصلے نے ان کو عالمی ریکارڈ توڑنے سے محروم کر دیا، لیکن حنیف اپنی شاندار کاوش کی بدولت پاکستان کو یقینی شکست سے بچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی 140 سالہ تاریخ میں حنیف محمد سے پہلے نہ ان کے بعد کوئی بھی کھلاڑی اتنی شاندار مزاحمتی اننگز کھیل سکا ہے۔

حنیف محمد سابق پاکستانی ٹیسٹ کپتان ظہیر عباس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے۔ — فوٹو وائٹ اسٹار۔
حنیف محمد سابق پاکستانی ٹیسٹ کپتان ظہیر عباس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے۔ — فوٹو وائٹ اسٹار۔

حنیف محمد کے 337 رنز آج بھی پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔ حنیف محمد کے کریئر کی تاریخی اننگز میں 1964 کے میلبرن ٹیسٹ کی دونوں اننگز یقیناً شامل ہیں۔ یہاں بھی حنیف محمد کی شاندار کارکردگی کی بدولت ایک مضبوط حریف پاکستان کو شکست دینے سے قاصر رہا۔ پہلی اننگز میں سنچری بنانے کے بعد حنیف محمد دوسری اننگز میں نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے اور صرف سات رنز کی کمی سے دونوں اننگز میں سنچری بنانے کے اعزاز سے محروم رہے۔

حنیف محمد نے سترہ سال کے عرصے پر محیط اپنے ٹیسٹ کریئر میں 55 ٹیسٹ کھیلے اور 43.98 کی اوسط سے 3915 رنز بنائے جس میں 12 سنچریاں اور 15 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ حنیف محمد نے اس زمانے میں ٹیسٹ کھیلنے والے تمام ممالک کے خلاف ان کی اپنی سرزمین پر سنچری اسکور کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہوا ہے۔


ریٹائرمنٹ لو، ورنہ۔۔۔

حنیف محمد کے علاوہ ان کے تین بھائیوں اور حنیف محمد کے بیٹے شعیب محمد نے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں نمائندگی کی ہے۔ پاکستان کی ابتدائی کرکٹ میں حنیف محمد اور ان کے خاندان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے پہلے 101 ٹیسٹ میچوں میں محمد خاندان کا کم از کم ایک فرد ٹیم کا حصہ ضرور رہا ہے۔

حنیف محمد کے شاندار ٹیسٹ کریئر کا اختتام بہت متنازع طریقے سے اس وقت ہوا جب اس زمانے کے کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتاؤں نے حنیف محمد کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا تھا کہ اگر حنیف محمد نے ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا تو ان کے بھائی صدق محمد کو آئندہ ٹیم میں منتخب نہیں کیا جائے گا۔

حنیف محمد۔
حنیف محمد۔

اپنے چھوٹے بھائی کے کریئر کو بچانے کے لیے حنیف محمد نے 1969 میں کرکٹ سے جبری ریٹائرمنٹ لے لی۔ حنیف محمد کو اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کا ہمیشہ افسوس رہا۔

وہ اکثر کہتے تھے کہ میں کچھ سال اور ملک کی خدمت کر سکتا تھا لیکن ایک مخصوص ٹولے نے اپنی انا کی خاطر مجھے اس اعزاز سے محروم کردیا۔

حنیف محمد کا آخری ٹیسٹ ان کے بھائی صادق محمد کا پہلا ٹیسٹ تھا۔ کراچی کے نیشنل اسٹڈیم میں کھیلا گیا یہ ٹیسٹ واحد میچ ہے جس میں تین بھائیوں نے ایک ساتھ قومی ٹیم کی نمائندگی کی ہو۔

حنیف محمد تکنیکی اعتبار سے ایک درست بیٹسمین تھے۔ حنیف محمد کا فلسفہ یہ تھا کہ آپ نئی بال کو عزت دیں اور پھر جب گیند پرانی ہوجائے تو اس سے فائدہ اُٹھائیں۔ حنیف محمد اور ان کے دیگر ساتھیوں کے ٹیسٹ کرکٹ کے ابتدائی دور میں پیش کیے گئے شاندار کھیل نے پاکستان کو اقوام عالم میں ایک مقام اور شناخت دی اور پاکستان کے عوام کی دلچسپی کرکٹ میں بڑھائی اور لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ کرکٹ خواص کا نہیں بلکہ عوام کا کھیل ہے۔


حقیقی لٹل ماسٹر

حنیف محمد اپنے شاندار کھیل کے باعث دنیائے کرکٹ میں لٹل ماسٹر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے مایہ ناز بلے باز سچن ٹنڈولکر کو بھی لوگ لٹل ماسٹر کہتے ہیں لیکن ہندوستان کے کئی کھلاڑیوں بشمول سنیل گواسکر اور خود سچن ٹنڈولکر نے متعدد مواقع پر صحافیوں اور ناقدین کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ اصل لٹل ماسٹر تو حنیف محمد ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ ساتھ حنیف محمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی متعدد طویل انگز کھیلی ہیں۔ 11 اگست 1959 کو کراچی کی طرف سے کھیلتے ہوئے بہاولپور کے خلاف حنیف محمد نے 499 رنز کی اننگز کھیلی۔

ہندوستان کے مایہ ناز بیٹسمین سچن ٹنڈولکر 2006 میں کراچی میں حنیف محمد کو شیلڈ پیش کر رہے ہیں۔ — فوٹو اے ایف پی۔
ہندوستان کے مایہ ناز بیٹسمین سچن ٹنڈولکر 2006 میں کراچی میں حنیف محمد کو شیلڈ پیش کر رہے ہیں۔ — فوٹو اے ایف پی۔

اس اننگز میں اپنا پانچ سو واں رن مکمل کرنے کی کوشش میں حنیف محمد رن آؤٹ ہو گئے۔ حنیف محمد کی یہ اننگز 35 سال تک فرسٹ کلاس کرکٹ کی سب سے بڑی اننگز رہی اور ان کا یہ ریکارڈ 1994 میں دورِ حاضر کے عظیم بلے باز برائن لارا نے انگلش کاؤنٹی کے ایک میچ کے دوران توڑا۔

حنیف محمد ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن تھے. یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ حنیف محمد کا انتقال اس تاریخ کو ہوا جس تاریخ کو انہوں نے 57 سال پہلے اپنے کرکٹ کیریئر کی سب سے طویل اننگز کھیلی تھی۔


خرم ضیاء خان مطالعے کا شوق رکھتے ہیں اور اسپورٹس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔