ای میل

سسی کا بھنبھور یا محمد بن قاسم کا دیبل؟

توصیف رضی ملک


نقشے آپ کو بتائیں گے کہ بھنبھور کراچی سے بمشکل 60 کلو میٹر دور ہے، ممکنہ طور پر اتنی ہی دور ہوگا مگر نقشے آپ کو قومی شاہراہ کی حالت کے بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے، جہاں گز بھر گہرے گڑھے سڑک پر موجود ہیں اور یہی خراب راستہ اس تاریخی شہر کی جانب لے جاتا ہے۔

وہاں جانے کی ڈرائیو ویسے تو ایک گھنٹہ طویل ہونی چاہیئے، مگر اس کا اختتام 2 گھنٹے کی سخت اور چیلنجنگ ڈرائیو کے بعد سندھ کے کھنڈرات سے گزر کر بھنبھور کے کھنڈرات پر ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ حالت ہمیشہ برقرار رہتی ہے چاہے آپ سندھ میں کہیں بھی چلے جائیں اور یہ حالت اُس صوبے کی ہے جسے صوبائی حکومت اپنی 'ماں' قرار دیتی ہے۔

بھنبھور پہنچنے کے بعد آپ کو یہاں جگہ جگہ کھنڈرات نظر آئیں گے، جن میں سے بیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور سے قبل کے ہیں، جبکہ دیگر کی ملکیت جائز طور پر سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت کے پاس ہے۔

بھنبھور کا مقام دریائے سندھ کے طاس پر گھارو کریک کے شمالی کنارے پر ابھرتا ہے، جو موجودہ ساحلی پٹی سے 30 کلو میٹر دور واقع ہے۔

یہ برجوں کے گھیرے میں ایک 'قلعے' پر مبنی ہے اور اس کا وسیع علاقہ ایسے کھنڈرات کا مجموعہ ہے جن میں بندرگاہ کا اسٹرکچر، شہری رہائش گاہیں، نواحی علاقے، کچی بستیاں، گودام، ورکشاپس اور مصنوعی بیراج وغیرہ قابل ذکر ہیں، یہ چھوٹے قلعے اور ارگرد پھیلے مقامات مل جل کر 65 ہیکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

مقبول لوک داستانوں میں بھنبھور کو وہ مقام قرار دیا جاتا ہے جہاں سسی-پنوں کی محبت کو فروغ ملا، جیسا کہ مانا جاتا ہے کہ سسی کا تعلق بھنبھور سے تھا۔

مگر کچھ تاریخ دانوں اور مقامی افراد اس کے لیے دیبل کے کھنڈرات کا حوالہ بھی استعمال کرتے ہیں، یعنی وہ شہر جسے محمد بن قاسم نے 712 عیسوی میں راجہ داہر کو شکست دے کر فتح کیا تھا۔

جب اطالوی مشن کی سربراہ پروفیسر ویلیریا پیاسینٹینی سے اس تاریخی الجھن کی وضاحت کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے کہا 'یہ دونوں باتیں ٹھیک ہوسکتی ہیں'۔

بھنبھور میوزیم کے نوادرات
بھنبھور میوزیم کے نوادرات

ان کا کہنا تھا ' محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے اور سسی کی زندگی کے درمیان آٹھ صدیوں کی دوری ہے، تو ہم تصور کرسکتے ہیں کہ یہ مقام دونوں کا مرکز رہا ہوگا'۔

غیر ملکی سیاح ان نوادرات میں دلچسپی لیتے ہوئے
غیر ملکی سیاح ان نوادرات میں دلچسپی لیتے ہوئے

پروفیسر ویلیریا کے خیال میں متعدد تاریخی مقامات اس پر پورا نہیں اترتے ' لہذا ہم یہ فرض کرسکتے ہیں کہ یہ مقام سسی کا بھنبھور اور قاسم کا دیبل دونوں ہوسکتا ہے'۔

انہوں نے مزید کہا ' ہمارا ماننا ہے کہ شہر کے کھنڈرات کا بیشتر حصہ اب بھی دریائے سندھ کے طاس کے اندر دفن ہے کیونکہ دریا ٹیلوں کے برابر سے گزرتا ہے'۔

اطالوی ماہرین اپنی مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے
اطالوی ماہرین اپنی مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے

اطالوی پروفیسر کا کہنا تھا ' ہم اب تک کسی ہیروغلیفی کو دریافت نہیں کرسکے کیونکہ وہ ممکنہ طور پر دریا کی تہہ میں دفن ہوسکتے ہیں، تو ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ مقام دیبل کا شہر تھا'۔

کھدائی کے مقام کے بارے میں بتاتے ہوئے اطالوی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر نکولو ماناسیرو نے کہا کہ' یہ جگہ لگ بھگ سمندری سطح اور دریائے سندھ کے طاس کے برابر واقع تھی، ہم توقع کرسکتے ہیں کہ بیشتر تاریخی آثار دریا کی تہہ میں دفن ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں نکالنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے'۔

پرانے بھنبھور شہر کا داخلی راستہ
پرانے بھنبھور شہر کا داخلی راستہ

انہوں نے اطالوی مشن کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ 'اس جگہ کی کھدائی کا سلسلہ 2012 میں فرنچ ٹیم کے ساتھ شروع ہوا مگر گزشتہ 2 برسوں سے کام رکا ہوا ہے کیونکہ ہمارا لائسنس ری نیو نہیں ہوسکا'۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ لائسنس اب تک ری نیو کیوں نہیں ہوا تو ان کا کہنا تھا 'یہ ایک مشترکہ مشن ہے، مگر فرنچ ٹیم نے اپنی رپورٹ جمع نہیں کرائی جس کی وجہ سے لائسنس کے ری نیو ہونے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی'۔

انہوں نے مزید بتایا 'ہم نے اپنا کام کرلیا، ہم نے کھدائی کی رپورٹ بھی جمع کرادی مگر فرنچ ٹیم اب تک ایسا نہیں کرسکی'۔

ڈاکٹر نکولو ماناسیرو نے کہا کہ ہمیں کام جاری رکھنے کی اجازت ملنی چاہیئے، ہم فرنچ ٹیم کے بغیر بھی بہتر کام کرسکتے ہیں، لیکن ہم قیمتی وقت، سرمایہ اور اسپانسر اس تاخیر کی وجہ سے ضائع کررہے ہیں'۔