میٹھا یا سادہ، کراچی کی پان سے بے مثال محبت

تھکے ہارے مزدور سے لے کر سوٹڈ بوٹڈ شخص تک، کراچی میں ہر ایک کے لیے پان کی ورائٹی موجود ہے۔

اپ ڈیٹ دسمبر 07 2016 02:31pm

کراچی کے شہریوں کی چند خاص عادات ایسی ہیں جو اس شہر کی پہچان ہیں۔

ان عادات میں سے سمندر سے کراچی والوں کی محبت، شہر کے حالات جیسے بھی ہوں ’زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے‘ کی عادت، اور چائے سے نہ ختم ہونے والی الفت شامل ہے لیکن ایک اور چیز بھی ہے جو کراچی والوں کے حواس پر اس قدر سوار ہے کہ شہر بھر میں اس کے آثار دیکھے جاسکتے ہیں، وہ ہے کراچی والوں کی پان سے محبت۔

شہر میں جس جانب نظر گھمائیں، پان کا کھوکھا آپ کو ضرور نظر آئے گا، اور ان ڈھائی بائے چار فٹ کے کھوکھوں میں اتنے اجزا سمائے ہوتے ہیں جس سے پان کی متنوع اقسام تیار کی جاسکیں جو ایک تھکے ہارے مزدور سے لے کسی معروف سماجی شخصیت کے ذائقے کے لیے کافی ہوں۔

ہر موقع کا خاص پان

ہفتے کے عام دنوں میں دوپہر کے کھانے کے بعد، جب کراچی کی مشہور فوڈ اسٹریٹ برنس روڈ کی روایتی بھاگ دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جاتی ہے، کھانے پینے کی دکانیں لوگوں سے خالی خالی نظر آتی ہیں اور دکاندار متوقع رش سے نمٹنے کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں تب بھی پان کا کاروبار کرنے والے محمد عمر کا کام کچھ خاص متاثر نہیں ہوتا یہ پورا دن ہی چلتا رہتا ہے۔

محمد عمر کے چھوٹے سے کھوکھے پر خریدار ہر وقت موجود ہوتے ہیں، کوئی کھلی سگریٹ لے کر اسٹال کی کھڑکی پر موجود سلگتی ڈوری سے اپنے سگریٹ کو جلاتا ہے تو کوئی پان کی خریداری کے لیے وہاں موجود ہوتا ہے۔

عمر پھرتی اور مہارت سے پان تیار کرتے ہیں، ان کو یہ کام کرتے دیکھنا بھی کسی دلچسپی سے کم نہیں ہوتا، مختلف اجزا کو چنتے اور پان کے پتوں میں ان کی مناسب مقدار لپیٹنے کا یہ سلسلہ ہر وقت جاری رہتا ہے۔

محمد عمر اس کام سے طویل عرصے سے منسلک ہیں، انہوں نے پان لگانا اور بنانا اپنے والد سے سیکھا جو خود بھی ایک پان کا اسٹال چلاتے تھے۔

عمر کے سرخ ہونٹ بتاتے ہیں کہ ان کا کام صرف پان بنانے تک ہی محدود نہیں۔

بات کے آغاز میں لگا کہ شاید عمر فطری طور پر کم گو ہیں تاہم یہ تاثر اس وقت زائل ہوگیا جب انہوں نے پان کی پیک کی پچکاری پھینک کر باقاعدہ بات چیت کا آغاز کیا۔

عمر نے بڑھا چڑھا کر بتایا کہ وہ پان کے متعلق اس قدر جانتے ہیں جتنا کوئی اور نہیں جانتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ کام بہت لمبے عرصے سے کررہا ہوں، میں صرف لوگوں کو دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ انہیں کس قسم کا پان چاہیے‘۔ عمر کو ان کا کھوکھا سگریٹ ساز کمپنی نے فراہم کیا، سفید اور سنہری رنگ کا یہ اسٹال کمپنی کے برانڈ سے بھرا دکھائی دیتا ہے، عمر کو باقی دکانداروں کی طرح کرائے کا بھی جھنجھٹ نہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے پان دیگر دکانداروں کی نسبت کم قیمت ہیں، یا پھر جوڑیا بازار میں موجود پان مانڈی سے کم فاصلہ اس کی وجہ ہے، جہاں سے پان فروخت کرنے والے افراد اشیا کی خریداری کرتے ہیں۔

عمر کے اسٹال پر میٹھے پان کی قیمت 10 روپے ہے، جبکہ پان کی دیگر اقسام وہ 7 روپے میں فروخت کرتے ہیں۔

دوسری جانب پی آئی ڈی سی پر موجود موسیٰ پان شاپ پر دستیاب پان کی قیمت کافی زیادہ ہے، اور اگر دکاندارعبدالقادر ملباری کی بات پر یقین کرلیا جائے تو ان کا معیار بھی کافی بہتر ہے۔

عبدالقادر ملباری جو 20 سال سے اس کام سے منسلک ہیں، بتاتے ہیں کہ روڈ کنارے موجود کھوکھوں پر ملنے والا پان پاکستانی پتے میں بنایا جاتا ہے جو کہ ذائقے میں کڑوا ہوتا ہے۔

عبدالقادر کی دکان پر موجود مہنگا ترین پان بنگلادیش سے آنے والے ’سانچی‘ کے پورے پتے میں بنایا جاتا ہے، اس پان کی قیمت 120 روپے ہے، پان کے پتے کی ایک اور مہنگی قسم ’سلون‘ ہے جو سری لنکا سے آتا ہے۔

عبدالقادر کے مطابق یہ پتے ذائقے میں میٹھے ہوتے ہیں اور ساری خاصیت پان کے پتے اور خوشبو میں ہے۔

ایک نوجوان نے اپنی بہن کے ساتھ دکان پر آکر 20 پانوں کا آرڈر دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’انہیں سنہری پنّی میں لپیٹا جائے‘، نوجوان یہ پان اپنی بہن کے سسرال والوں کے لیے خریدنا چاہتا تھا۔

موقع چاہے خوشی کا ہو یا کام کا کوئی تھکا دینے والا دن، پان ہر موقع کے لیے موجود ہے۔

اسی اثنا میں موسیٰ پان شاپ پر آنے والا دوسرا شخص تمباکو والا پان خرید کر اپنے کام پر واپس روانہ ہوجاتا ہے۔

جب پان فروش سے پوچھا گیا کہ کس قسم کے خریدار تمباکو والا پان خریدتے ہیں تو دکاندار کے مطابق، تمباکو والا پان ’نشے کیلئے پان کھانے والے‘ خریدتے ہیں، وہ لوگ اس نشے کے بغیر اپنا دن نہیں گزار پاتے۔

پان کے ماہرین

ایسے ہی ایک پان کے عادی کو سندھی مسلم سوساٹی کے پان اسٹال پر دیکھا جاسکتا ہے، سلطان حسن نامی شخص انتہائی صبر سے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں، وہ رہتے تو گلشن اقبال میں ہیں لیکن اپنے مخصوص کھوکھے سے پان کی خریداری کے لیے روزانہ یہاں کا چکر لگاتے ہیں۔

سلطان کے مطابق، اس جگہ سب سے بہترین تمباکو والے پان موجود ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’سارا جادو (پان کے پتے پر لگائے جانے والے) کتھے میں ہوتا ہے‘۔

پان کی مختلف اقسام کے حوالے سے بتاتے ہوئے سلطان نے آگاہ کیا کہ ’پتی تمباکو، ممتاز تیز پتی مراد آبادی، 120 نمبر، انڈین پتی، شہزادی پتی، عزیزی پتی نامی اقسام موجود ہیں‘۔

مغل دور کے ناموں کے پان کے بجائے سلطان مکس تمباکو پان کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔

ادھیڑ عمر سلطان 20 سال کی عمر سے پان کھا رہے ہیں اور روزانہ 20 پان کھا لیتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’پہلی بار اپنے دوست کے ساتھ میں نے سونف خوشبو والا پان کھایا تھا ، میرے دوست نے اس قدر زنانہ قسم کا پان کھانے پر میرا مذاق اڑایا‘، اس کے بعد سے سلطان نے زیادہ مردانہ تمباکو والے پان کھانا شروع کردیئے۔

حسین کا خیال ہے کہ وہ اپنی اس عادت کو جب چاہے ترک کرسکتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ جب میں پورا رمضان روزے رکھتا ہوں، تو اس پورے ماہ سارادن ایک بھی پان نہیں کھاتا، افطاری سے لے کر سحری تک میں 10 پان کھالیتا ہوں اور یہ میرے لیے کافی ہے۔

ختم ہوتی روایت

ٹریفک جام سے بھرے جوڑیا بازار میں سفر کرنا بالکل آسان نہیں مگر یہاں موجود پان منڈی متجسس حد تک خاموش نظر آتی ہے۔

مختصر سی راہداری کے کناروں پر پان کی ٹوکریوں کے ساتھ پان فروش بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔

پان فروش عمرالدین شکوہ کرتے ہیں کہ گذشتہ تین ماہ سے کاروبار بہت مندا ہے، ’ایک وقت تھا جب چھٹی کے روز یہاں رش میں پیدل چلنا دشوار ہوتا تھا اور اب یہاں یہ حالت ہوچکی ہے‘۔

عمرالدین کی آمدن کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، اس کی آمدن کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کتنے خریدار بازار کا رخ کرتے ہیں۔

عام طور پر سانچی پان 100 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتے ہیں، جبکہ 50 گرام سلون پان 60 سے 80 روپوں میں بکتا ہے۔

پان فروش عمرالدین بتاتے ہیں کہ ایک وقت میں درآمد ہونے والے پان کے پتوں کی قیمت 300 سے 500 روپے فی کلو کے درمیان ہوتی تھی، لیکن اب وہ وقت کسی پرانی یاد جیسا لگتا ہے۔

20 سال سے پان کیبن کا مالک منور بتاتا ہے چند علاقوں میں ’گٹکا‘ عام ہوجانے سے پان کی مانگ میں واضح طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔ منور کا کھوکھا دھوبی گھاٹ میں واقع ہے، اور وہ صرف 5 روپے کی کم قیمت میں پان فروخت کرتے ہیں۔

جس پر ایک اور پان فروش مذاقاً ان کی بات کو کاٹ کر کہتے ہیں کہ ’جو تم فروخت کرتے ہو وہ پان نہیں ہوتا، وہ صرف ایک پتے میں لپٹے چھالیہ کے ٹکڑے ہوتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی قیمت پانچ روپے ہی ہوگی‘۔

اس کم قیمت کے باجود بھی کئی افراد کی دلچسپی پان خریدنے میں نہیں رہی، منور بتاتے ہیں کہ اب سب گاہک انڈیا سے آنے والے گٹکے کا تقاضا کرتے ہیں۔

اس کہانی کے شاید اور بھی رخ ہوں کیونکہ ایک دوسرے دکاندار سلمان بتاتے ہیں کہ کراچی میں تیار پانوں کو سلسلہ چاہے جاری ہو لیکن گھر میں پان تیار کرنے روایت اب دم توڑ رہی ہے۔

ان کے مطابق، پان کے پتے اور دیگر اشیا خریدنے والے افراد کی زیادہ تعداد دورِ بزرگی میں ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے والدین اور اپنے دادی نانیوں کے لیے پان خرید کر لے جاتے ہیں۔

لیکن یہ سچ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گھر پر پان بنا کر کھانے والی نسل آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جارہی ہے اور یہ تہذیب بھی۔

دادی کا پان دان

جویریہ عباس کے گھر کا رخ کرنے والے افراد شاید ان کے گھر پر موجود سنہرے پاندان کو ایک آرائشی نمونہ سمجھیں، لیکن نوجوان خاتون کے لیے یہ صرف ایک آرائشی شے سے بڑھ کر ہے۔

یہ ان کی دادی نعیمہ خاتون کا پاندان ہے۔

جویریہ بتاتی ہیں کہ وہ خود زیادہ پان نہیں کھاتیں مگر انہوں نے اپنی دادی سے پان بنانے کا طریقہ سیکھا تھا۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس بات کا مکمل یقین کیا جاتا ہے کہ چھالیہ سورج کی روشنی میں مکمل طور پر خشک ہو، کتھا دہلی کالونی کی خاص دکان کا ہو، اور پان کا پتہ ’سانچی‘ ہو، پان میں چونے کا استعمال کم مگر کتھا اچھا خاصا ہو، کیونکہ اسی سے تو ذائقہ آتا ہے۔

نعیمہ خاتون کے پان ان کے خاندان اور دوستوں میں بہت مشہور تھے، جبکہ ان کے گھر آنے والے مہمان بھی ان سے فرمائش کرکے پان بنوایا کرتے تھے۔

جویریہ بتاتی ہیں کہ کبھی کبھی ان کی دادی پریشان بھی ہوجاتی تھیں یہ سوچ کر پان کے لوازمات جلد ختم ہوجائیں گے لیکن انہیں اس بات کی بہت خوشی تھی کہ ان کے بنائے ہوئے پان لوگوں کو اس قدر پسند آتے ہیں۔

جویریہ کی دادی پچھلے سال نومبر میں انہیں چھوڑ کر چلی گئیں، اور اب جویریہ ان کے پاندان کو خاندان کی وراثت سمجھتی ہیں۔

جویریہ کے گھر میں پان کھانے کا رواج اب ویسا نہیں رہا، وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد کبھی کبھی پان کھاتے ہیں مگر وہ تیار پان بوٹ بیسن سے خرید لیتے ہیں۔