ای میل

پاکستان کے چند عہد ساز لمحوں پر ایک نظر

ندیم ایف پراچہ

ہجرت

1947 کے اواخر میں بانیءِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بڑے تحمل کے ساتھ کراچی میں ایک مہاجر کی شکایات سن رہے ہیں۔ اگست 1947 میں مختلف ہندوستانی شہروں، قصبوں اور دیہاتوں سے لاکھوں کی تعداد میں مسلم مہاجرین نوزائیدہ ملک پاکستان ہجرت کرکے آئے۔ ہجرت سے ایک بڑی آبادی نے یہاں کا رخ کیا۔

مہاجرین کی اکثریت سندھ اور پنجاب میں جلد بازی میں تعمیر کیے جانے والے مہاجر کیمپوں میں آباد ہوئی۔ 1960 کی دہائی تک، کئی مہاجر کیمپس (بالخصوص کراچی میں) کچی بستیاں بنی رہیں جہاں شرحِ جرم، بے روزگاری اور منشیات عام تھی۔ 1970 کی دہائی میں ایسی کئی بستیوں کو باضابطہ آبادیوں کا درجہ دیا گیا اور پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ یہ شہر کے چند سب سے زیادہ آبادیوں والے علاقے بنے رہے۔

اکتوبر 1951، آخری تصویر

تصویر عبدالرشید مہجل
تصویر عبدالرشید مہجل

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی آخری تصویر ان کے قتل سے 20 منٹ قبل لی گئی تھی۔ لیاقت علی خان راولپنڈی میں خطاب کرنے کے لیے جب چبوترے کی جانب بڑھ رہے تھے تب ایک انتہاپسند قوم پرست سعید اکبر نے انہیں گولیاں مار قتل کردیا، جس کے بعد اکبر کو بھی اُسی وقت پولیس نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

کئی مفروضوں کے مطابق اکبر درحقیقت حکومت اور بیوروکریسی میں شامل لیاقت مخالف عناصر کا کرائے کا قاتل تھا۔ تاہم ایسے دعوؤں کی کبھی حتمی طور پر کبھی تصدیق نہیں ہو پائی۔

پہلی دراڑ

1952 میں ڈھاکہ کی ایک دیوار پر بنی بڑی تصویر، جس میں بنگالی کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 1952 میں جب بنگالی سیاستدانوں اور دانشوروں نے بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تب مشرقی پاکستان میں پُرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔ کئی مظاہریں اِن فسادات میں مارے گئے۔ بالآخر 1954 میں (اردو کے ساتھ) بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔

خالقِ قومی ترانہ

1954 میں پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے والے حفیظ جالندھری اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کے ہمراہ۔ حفیظ جالندھری نے 1952 میں قومی ترانہ تخلیق کیا تھا۔ 1954 میں اِس ترانے کو ریاست پاکستان نے باضابطہ طور پر قومی ترانے کے طور پر اختیار کیا۔

اِس ملک نے اپنے قیام کے 7 برسوں بعد قومی ترانہ حاصل کیا۔ 1948 میں جب انڈونیشیا کے صدر پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہِ مملکت بنے، تب پاکستان کے پاس کوئی ترانہ نہیں تھا۔

حکومت نے ’ترانہ کمیٹی' پر 1950 میں دورہِ شاہ ایران سے قبل ترانہ تخلیق کرنے پر زور ڈالا۔ کمیٹی الفاظ پر متفق نہیں ہو پائی تھی مگر احمد غلام علی چھاگلہ کی ترتیب کردہ دھن کا انتخاب کرچکی تھی۔ اِس لیے 1950 اور 1954 کے درمیان، پاکستانی ترانے کے طور پر صرف موسیقی بجائی جاتی تھی۔

بالآخر 1952 میں جو الفاظ حفیظ جالندھری نے قلمبند کیے تھے انہیں 1954 میں منظور کیا گیا اور پہلی بار ریڈیو پر مکمل قومی ترانہ بجایا گیا۔ ترانے کے تمام بول فارسی میں ہیں ماسوائے اردو کے ایک لفظ (’کا‘) کے۔

آخری قبیلہ

تصویر: مائی ہسٹوریکل پاکستان
تصویر: مائی ہسٹوریکل پاکستان

1957 میں کراچی میں یہودیوں کی عبادت گاہ۔ بورڈ پر (اردو، بنگالی اور عبرانی زبان میں) ’پاکستان بنی اسرائیل مسجد‘ لکھا ہے۔ 1950 کی دہائی میں کراچی میں 1300 یہودی قیام پذیر تھے۔ یہ خاص یہودی عبادت گاہ قیام پاکستان سے 54 برس قبل 1893 میں تعمیر کی گئی تھی۔

1936 میں کراچی کے پہلے یہودی کونسلر، ابراہم ریوبن نے اِس عمارت کا مرمتی کام کروایا۔ کراچی میں مقیم آخری یہودی خاندان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 1960 کی دہائی میں یہاں سے (اسرائیل) ہجرت کرگئے تھے۔ عبادت گاہ کی یہ عمارت 1988 تک ایک تاریخی ورثے کے طور پر قائم رہی۔ جس کے بعد اِس عمارت کو مسمار کردیا گیا اور اِس مقام پر ایک شاپنگ پلازہ تعمیر کردیا گیا۔

طاقت کا اظہار

تصویر: لائیف
تصویر: لائیف

1958 میں ملک میں پہلی بار مارشل لاء کے نفاذ کے دوران کراچی کی سڑکوں پر ملٹری پولیس دکھائی دینے لگی۔ یہ مارشل لاء صدر اسکندر مرزا نے اُس وقت کے فوجی سربراہ ایوب خان کی مدد سے نافذ کیا تھا۔

دونوں نے سیاستدانوں اور بیوروکریسی پر کرپشن کرنے اور ’اسلام کے نام پر سیاسی مفادات‘ حاصل کرنے کے لیے 1956 کے آئین کو استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے آئین کو معطل کردیا اور ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان سے بدل کر صرف جمہوریہ پاکستان رکھ دیا۔

چند مہینوں کے اندر ہی ایوب خان نے اسکندر مرزا کو بھی عہدے سے ہٹا دیا اور 1959 میں خود صدر بن گئے۔

مختصر آغاز

یہ تصویر پاکستان کے پہلے ٹی وی اسٹیشن کی ہے۔ پاکستان میں ٹی وی نشریات کی ابتداء 1964 میں ہوئی۔ ملک کا پہلا ٹی وی اسٹیشن لاہور میں ایک بنگلہ نما عمارت میں قائم تھا۔ اِسے جاپان کی نیپون کارپوریشن کے ٹیکنیشنز اور تربیت کاروں کی مدد سے قائم کیا گیا تھا۔

نیپون اور ایک پاکستانی صنعتکار، سید واجد علی اِس منصوبے کے زیادہ تر شیئرز کے مالک تھے۔ اِس چینل کو پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کا نام دیا گیا جبکہ کراچی اور راولپنڈی میں بھی اِس کے پائلٹ منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔

1972 تک پی ٹی وی بڑی حد تک ایک نجی ادارہ رہا۔ 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اِس کارپوریشن کو مکمل طور پر قومی دھارے میں لیا اور پھر یہ ادارہ پوری طرح سے ایک ریاستی ادارہ بن گیا۔ پی ٹی وی کے لاہور، کراچی اور راولپنڈی اسٹیشنز کو وسعت دی گئی اور 1974 میں کوئٹہ اور پشاور میں نئے اسٹیشن تعمیر کیے گئے۔ آج کی بات کریں تو اب بھی پی ٹی وی ایک ریاستی ادارہ ہے اور اِس کے 6 مختلف چینلز ہیں۔

پی آئی اے کی پرواز

تصویر: محمود جمع
تصویر: محمود جمع

یہ تصویر 1965 کی ہے جس میں پاکستانی انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی ایئر ہوسٹسز کراچی ایئر پورٹ کے رن وے پر موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس 1955 تک اپنی قومی ایئر لائن نہیں تھی۔ 1955 میں اوریئنٹ ایئرلائن نامی نجی کمپنی کو قومی دھارے میں لایا گیا اور اس کا نام بدل کر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) رکھ دیا گیا۔

1969 کی دہائی میں پی آئی اے سب سے زیادہ ترقی کرنے والی ایئر لائنز میں شمار کی جانے لگی۔ یہ وہ واحد ایئر لائن بھی بنی جس نے فلائٹ کے اندر انٹرٹینمنٹ کی فراہمی کو متعارف کروایا۔ پی آئی اے کے جہاز کے عملے اور ایئر ہوسٹسز کی وردیاں مشہور فرانسیسی فیشن ڈیزائنر پیری کارڈن نے ڈیزائن کیے تھے۔

پی آئی اے نے اپنی بہتر کارکردگی کو جاری رکھا اور 1970 کی دہائی میں پی آئی اے، 5 صف اول بین الاقوامی ایئر لائنز کی فہرست میں شامل رہی۔ اِس ایئر لائن کی تنزلی کا آغاز 1980 کی دہائی کے آواخر سے ہوا اور 2000 کی دہائی کے وسط تک یہ دیوالیہ ہونے کے قریب تھی۔

صنعتی ترقی

1964 میں ایوب خان ایک صنعتی پلانٹ کا معائنہ کر رہے ہیں۔ ایوب خان کے دورِ حکومت کے ابتدائی 6 سالوں کے دوران پاکستان کی صنعت کاری میں 8.51 فیصد تک متاثر کن اضافہ ہوا۔ یہ اُس دور میں مختلف ایشیائی معیشتوں میں سے سب سے زیادہ شرح تھی، جبکہ 1959 اور 1967 کے درمیان ملک نے 6 فیصد کے اضافے کے ساتھ مسلسل اقتصادی ترقی کی۔

محفلِ جام

1966 میں لاہور کی ایک عمارت کے اوپر پاکستانی بیئر کے برانڈ 'مری' کا برقی قمقموں سے بنا ایک سائن نصب ہے۔ مری بیئر مری بریوری بناتی ہے جسے انیسویں صدی میں ایک کالونیل برطانوی گھرانے نے قائم کیا تھا۔ 1940 کی دہائی میں اُس کے شیئرز ایک زرتشتی تجارتی گھرانے نے خرید لیے تھے جو قائدِ اعظم کے علیحدہ ملک کے مطالبے کی تائید کرتا تھا۔

1950 کی دہائی میں مری بیئر اور وسکی (لائن) کا مقابلہ امپورٹڈ جرمن بیئر 'بیکس' اور جونی واکر وسکی سے کیا جاتا تھا۔ 1960 کی دہائی میں مری بریوری پاکستان کی سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی صنعتوں میں سے ایک بن چکی تھی۔ 1970 کی دہائی میں مری بریوری نے اپنی مصنوعات میں رم، جِن اور ووڈکا کا بھی اضافہ کیا۔

1977 میں پاکستان میں (مسلمانوں کو) شراب کی فروخت پر پابندی عائد کردی گئی۔ مری بریوری نے سندھ اور بلوچستان میں موجود لائسنس شدہ وائن شاپس کے ذریعے غیر مسلم صارفین کو اپنی مصنوعات کی فراہمی سے پابندی کا مقابلہ کیا۔

مری بریوری پاکستان میں اب بھی سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی صنعتوں میں شمار کی جاتی ہے اور حکومتِ سندھ وائن شاپس سے سالانہ 4 ارب روپے کے محصولات حاصل کرتی ہے۔ دکانوں نے شراب کی غیر قانونی خرید و فروخت کو بھی قابو میں رکھا ہوا ہے۔

باغی تحریک

1968 میں کراچی کے کلاک ٹاور علاقے سے ایوب مخالف ریلی گزر رہی ہے۔ ایوب حکومت نے اپنے ابتدائی 7 برسوں تک مضبوط اقتصادی ترقی کو برقرار رکھا۔ مگر ایسا کہا جانے لگا کہ ملک کی زیادہ تر دولت محض 22 گھرانوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

ہندوستان کے ساتھ 1965 کی جنگ (جس کا نتیجہ تعطل کی صورت میں برآمد ہوا) نے معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے اور 1968 تک امیر اور غریب کے درمیان کا فرق کافی حد تک وسیع ہوگیا تھا۔ عوامی سطح پر حکومت مخالف تحریک نے 1969 میں ایوب خان کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔

یکجہتی کا آخری اظہار

تصویر: ٹائم
تصویر: ٹائم

1970 کے عام انتخابات کے دوران مشرقی پاکستان، ڈھاکہ میں پاکستانی پرچم فروخت کیے جا رہے ہیں۔ انتخابات میں بنگالی قوم پرست جماعت، عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کے دو سب سے بڑے صوبوں میں کامیاب ہوئی تھی۔

1971 میں جب یحییٰ خان عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے میں ناکام ہوئے تب مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی چھڑ گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بھی پارلیمنٹ میں دوسری بڑی جماعت کی حیثیت کو ماننے سے انکار کردیا۔ خانہ جنگی انتہائی وحشت ناک تھی۔ مشرقی پاکستان الگ ہوا اور بنگلہ دیش بن گیا۔

ایک بالکل نیا آدمی

ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی عام انتخابات میں مغربی پاکستان میں کامیاب ہوئی تھی۔ دسمبر 1971 کے آواخر تک وہ ریاست اور حکومت کے سربراہ بن گئے تھے۔

نام میں تبدیلی

تصویر: شرمیلا فاروقی
تصویر: شرمیلا فاروقی

یہ تصویر 1973 کے آئین کے چند اصلی مسودوں میں سے ایک کی ہے۔ یہ پاکستان کا تیسرا آئین تھا۔ اِسے قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور حزب مخالف نے مشترکہ طور پر منظور کیا تھا۔ ایوب دور میں پاکستان کا نام بدل کر جمہوریہ پاکستان رکھا گیا تھا۔ اِسے تبدیل کرکے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا گیا۔ کئی اور زیادہ تر متنازع ترامیم کے بعد بھی یہ آئین اب بھی پاکستان میں نافذ العمل ہے۔

مشہور گزرگاہ

1974 میں جہاز سے لی گئی کراچی کے پرانے ایئرپورٹ کی ایک تصویر۔ 1970 کی دہائی میں کراچی ایئرپورٹ ایشیاء کے سب سے مصروف ترین ایئرپورٹس میں شمار کیا جاتا تھا اور جنوب، جنوبِ مشرق اور مشرقِ وسطیٰ میں پرواز کرنے والی تمام بین الاقوامی ایئرلائنز کے لیے ایک مرکزی اسٹیشن تھا۔

پی آئی اے پہلے ہی خود کو ایک برتر ایئرلائن کے طور پر قائم کرچکی تھی۔ پی آئی اے، ایئرپورٹ کے اندر موجود عالیشان کیفے/ریسٹورینٹ اور بار کی مالک تھی، جنہیں وہ خود چلاتی تھی اور ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل (ہوٹل مڈ وے) کی بھی مالک تھی۔

اِس ایئر پورٹ کو برطانوی حکومت نے 1943 میں تعمیر کروایا تھا۔ 1960 کی دہائی میں اِس ایئرپورٹ نے تیزی سے ترقی کی اور ایشیاء کا سب سے مصروف ترین ایئر پورٹ بن گیا۔ کراچی میں آنے اور جانے والے مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر دو مزید ٹرمینل کا اضافہ کیا گیا۔

1994 میں اِس ایئرپورٹ کو صرف کارگو جہازوں کے استعمال کے لیے مختص کردیا گیا اور اور ایک نیا ایئرپورٹ (جناح انٹرنیشنل) تعمیر کیا گیا۔ تاہم اُس وقت تک دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے منظرِ عام پر آنے اور پاکستان میں بڑھتے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے کراچی کی ایئر ٹریفک میں پہلے ہی کافی کمی واقع ہونا شروع ہوگئی تھی۔

اچھا دور

یہ تصویر 1974 کے ایک سیاحتی بروشر کے ایک حصے کی ہے جس میں کراچی میں راتوں کی تفریحات نظر آرہی ہیں۔ 1970 کی دہائی میں ملک کی سیاحتی صنعت میں دو گنا ترقی ہوئی۔

حکومت نے ٹورازم بورڈ کو بڑے پیمانے پر وسعت دی جس کی سربراہی ایک مشہور زرتشتی تاجر آردشیر کاوسجی کر رہے تھے۔ کراچی میں راتوں کی تفریحات کا مرکز (مرکزی طور پر صدر، طارق روڈ اور اولڈ کلفٹن کے علاقوں میں موجود) نائٹ کلبز، لائیو میوزک، بار، سینما اور کیفے تھے۔

اپریل 1977 میں جب ذوالفقار علی بھٹو دائیں بازو کے نو جماعتی اتحاد کی جانب سے شروع کی جانے والی تحریک میں گھرے تھے تب انہوں نے نائٹ کلبز کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ریسٹورینٹ، کیفے اور پی آئی اے کی پروازوں میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد کردی گئی۔ 1980 کی دہائی تک کئی سینما گھروں کو بھی بند کردیا گیا۔ سیاحتی صنعت بھی آہستہ آہستہ تنزلی کی جانب گامزن ہونا شروع ہوگئی تھی اور 1990 کی دہائی تک اِس صنعت میں زبردست کمی واقع ہوئی۔ تب سے لے کر اب تک یہ صورتحال جوں کی توں ہے۔

چپکے پیچھے سے یہ کون آیا

تصویر: ڈاکٹر غلام نبی قاضی
تصویر: ڈاکٹر غلام نبی قاضی

یہ تصویر 1976 کی ہے جس میں ذوالفقار علی بھٹو کے پیچھے فوجی سربراہ ضیاء الحق آ رہے ہیں۔ یہی فوجی سربراہ جلد ہی ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اپنے باس کی حکومت گرا دینے والا ہے۔

جولائی 1977 میں بھٹو کو اقتدار سے ہٹا دینے کے بعد ضیاء نے اِس بات پر زور دیا کہ قیام پاکستان کا مقصد ایک مذہبی ریاست کی تشکیل دینا تھا اور یہ کہ جو جماعتیں اِس بات سے متفق ہیں صرف اُنہیں ہی نئے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔

11 برس بعد ایک پُراسرار طیارہ حادثے میں ضیاء کی موت کے بعد نئے انتخابات منعقد ہوئے۔ بھٹو کو اپریل 1979 میں ایک جھوٹے مقدمے کے ذریعے پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔

ڈسکو کا دور

تصویر: نوشاد خالد
تصویر: نوشاد خالد

بھائی اور بہن کا گلوکار جوڑا، نازیہ اور زوہیب حسن اسلام آباد میں ضیاء الحق کے ساتھ ملاقات کے دوران۔ اِس گلوکار جوڑے کے پہلے البم ڈسکو دیوانے کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور یہ جوڑا جلد ہی سپر اسٹار بن گیا۔

1982 میں ضیاء حکومت نے اُن پر پابندی عائد کردی تھی کیونکہ ضیاء کے چند وزرا کا ایسا ماننا تھا کہ یہ ’گلوکار جوڑا نوجوان پاکستانیوں کی اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں خلل کا باعث بنتا ہے۔‘ تاہم، نازیہ اور زوہیب آمر کے ساتھ ملاقات کرنے میں کامیاب رہے، جس میں وہ اُن پر سے پابندی ہٹانے پر آمادہ ہوئے۔ لیکن جن وزرا نے اُن پر پابندی عائد کروائی تھی وہ خوش نہیں تھے۔

وسعت

1982 میں کراچی کی شارعِ فیصل۔ بے تحاشہ امریکی اور سعودی امداد اور نئی آزاد مارکیٹ پالیسیوں کے باعث 1980 کی دہائی میں ملکی معیشت میں زبردست ترقی واقع ہوئی۔ بڑھتی شہری ضروریات کو پورا کرنے اور بڑھتے ٹریفک کو سنبھالنے کی غرض سے نئی عمارتیں اور سڑکیں تعمیر ہونی شروع ہوئیں۔

معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ’کالے دھن کی معیشت‘ میں اضافہ ہو رہا تھا جس پر منشیات کے تاجر اور مافیا غالب تھی۔ یہی وہ دور تھا جب پاکستان سے آنے والے ہیروئن کے بڑھتے داخلی بہاؤ کے باعث کئی یورپی ممالک نے پاکستانیوں کو آمد پر ویزہ دینا بند کردیا۔

فتوحات کے سلسلے

پاکستان ہاکی ٹیم نے 1984 میں دوسری بار اولمپک ہاکی کا خطاب اپنے نام کیا۔ پاکستان 1971، 1978 اور 1982 میں ہونے والے عالمی کپ میں بھی فتح یاب ہوا۔ عالمی ہاکی پر پاکستان کی حکمرانی 1990 کی دہائی کے اوائل میں ڈگمگانے سے پہلے تک برقرار رہی۔

پردہ پوشی

یہ تصویر 1984 کی ہے جس میں ایک نیوز کاسٹر 9 بجے کا خبرنامہ پڑھ رہی ہیں۔ ضیاء حکومت ٹی وی پر آنے والی خواتین کے لیے اکثر نئے ’ڈریس کوڈز‘ (مخصوص ملبوسات) جاری کرتی۔ کبھی کبھار تو مردوں کو اُس وقت تک مغربی لباس پہن کر ٹی وی پر آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی جب تک کہ وہ ٹی وی ڈراموں میں منفی کردار ادا نہ کر رہے ہوں۔

خواتین کو کہا گیا کہ وہ دوپٹے اوڑھیں۔ ایسی ہدایات اچانک جاری کی جاتیں اور پھر واپس لی جاتیں اور پھر اور بھی سختی کے ساتھ نافذ کی جاتیں۔ ضیاء حکومت کے شروع سے آخر تک ٹی وی پر یہی سلسلہ چلتا رہا۔

پہلا دھماکہ

1987 میں کراچی کے علاقے صدر میں ہونے والے بم دھماکے کی اخبار میں شائع خبر۔ پاکستان میں شہریوں میں دہشت پیدا کرنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا دھماکہ تھا۔

کراچی کے رش زدہ خریداری کے علاقے ایمپریس مارکیٹ کے بیچ میں کھڑی گاڑیوں کے اندر نصب دو ٹائم بم پھٹے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد مارے گئے۔ حکومت نے اُن بم دھماکوں کا الزام افغانستان کی غیر فعال خفیہ ایجنسی خاد پر ڈالا۔ اُس کے اگلے ہی برس ضیاء کا جہاز دوران سفر فضاء میں پھٹ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ مارے گئے۔

جمہوریت کی واپسی

بینظیر بھٹو لاہور میں 1988 کے عام انتخابات سے قبل انتخابی ریلی کی قیادت کر رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی 1988 کے انتخابات میں کامیاب ہوئی جس کے نتیجے میں بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں۔

1990 میں اُن کی حکومت کو صدر نے کرپشن اور نااہلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ختم کردیا۔ 1993 میں وہ دوبارہ منتخب ہوئیں اور ایک بار پھر 1996 میں بھی اُنہی الزامات پر معطل کردی گئیں۔ وہ تیسری بار ملک کی وزیر اعظم بننے جا رہی تھیں کہ 2007 میں انہیں قتل کردیا گیا۔

سڑکوں پر محوِ رقص ہونے کے دن

1993 میں کراچی کے ’کے ایم سی اسٹیڈیم‘ میں پاپ فیسٹول کی ایک جھلک۔ 1990 کی دہائی میں بے تحاشہ پاکستانی پاپ بینڈ اور فنکار میدان میں آئے۔ یہ سلسلہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں امن و امان کی صورتحال بگڑنے سے پہلے تک جاری رہا۔

اسکواش میں تاریخی فتح

اسکواش چیمپئن جان شیر خان 1993 میں اپنے ہم وطن مدِمقابل جہانگیر خان کے خلاف ورلڈ اوپن فائنل کھیل رہے ہیں۔ جان شیر اور جہانگیر خان نے پاکستان اسکواش کو عالمی رینکنگز میں صف اول تک پہنچایا۔ دونوں کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کی اسکواش پر گرفت کمزور ہونا شروع ہوگئی۔

کرکٹ کا مرکز

1996 کے ورلڈ کپ کے دوران لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے میدان کو خشک کرنے میں ایک ہیلی کاپٹر اسٹیڈیم عملے کی مدد کر رہا ہے۔ یہ ایونٹ ہندوستان اور سری لنکا کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقد کیا گیا تھا۔

پاکستان اور ہندوستان نے 1987 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی بھی میزبانی کی تھی۔ پاکستان 1992 میں آسٹریلیا میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ میں فتحیاب ہوا مگر ورلڈ کپ 1987 کے سیمی فائنل اور 1996 ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل سے آگے نہیں بڑھ پایا۔

ایک ناراض وزیر اعظم

1993 میں نواز شریف کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اقتدار سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیے جانے کے بعد نواز شریف ٹی وی پر خطاب کر رہے ہیں۔ 1993 میں پہلی نواز حکومت کو صدر اسحاق نے کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے برطرف کردیا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو بحال کردیا تھا مگر بحال ہونے والی حکومت اور صدر اسحاق، جن کے پاس اب بھی نواز شریف کو برطرف کرنے کا اختیار حاصل تھا، کے درمیان تعطل پیدا ہوگیا تھا۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایک انوکھی ترکیب نکالتے ہوئے دونوں نواز شریف اور اسحاق کو استعفی دینے کو کہا۔ نواز شریف 1997 میں دوبارہ منتخب ہوئے۔ مگر تب تک اقتصادی صورتحال انتہائی پستی کا شکار تھی اور پنجاب میں فرقہ وارانہ تشدد میں کئی گنا اضافہ ہوچکا تھا۔ نواز شریف نے صورتحال مزید بگاڑ دی اور اپنے فوجی سربراہ، پرویز مشرف کو عہدے سے فارغ کرنے کی کوشش کی مگر 1999 میں پرویز مشرف نے ہی اُن کی حکومت گرا دی۔ نواز شریف 2013 میں ایک بار پھر وزیر اعظم بن گئے۔

دشمن کی سرزمین پر

2001 میں پرویز مشرف اور اُن کی اہلیہ ہندوستان میں موجود ہیں۔ مشرف پاکستان کے ’چیف ایگزیکیٹو‘ بنے اور بعد میں صدر بنے۔ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے۔ اِسی طرح معاشی حالات بھی بہتر ہوئے۔

مشرف حکومت کا زوال

پاکستان میں 2005 کے ہولناک زلزلے میں اسلام آباد کی ایک منہدم عمارت۔ اِس زلزلے کے بعد مشرف حکومت ہر طرح سے زوال پذیر ہونا شروع ہوگئی۔

معیشت کی حالت کمزور ہونا شروع ہو گئی، اُن کی حکومت کی مخالف بڑھنے لگی اور یہاں تک کہ 2007 کے بعد ملک میں دہشتگرد گروہوں کے حملوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ مشرف 2008 میں مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے۔ 2008 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی نے نئی حکومت تشکیل دی۔

عوام میں مقبول جنرل

2016 کے اوائل میں پاکستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی ماہانہ میگزین ہیرالڈ میں شائع ہونے والی ڈرائنگ۔ نواز شریف نے 2013 میں وزیر اعظم بننے کے بعد راحیل شریف کو آرمی چیف تعینات کیا تھا۔

جنرل راحیل شریف نے حکومت اور پارلیمنٹ کو شمال میں دہشت گرد گروپس اور کراچی میں جرائم پیشہ مافیا کے خلاف پوری قوت کے ساتھ فوجی آپریشن شروع کرنے پر دباؤ ڈالا۔ آپریشن کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر دہشتگردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔ جنرل راحیل شریف کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی تھی۔ 2016 کے اواخر میں بطور چیف آف آرمی اسٹاف اپنی 3 سالہ مدت ملازمت کے مکمل ہونے کے بعد راحیل شریف ریٹائر ہوگئے۔

انگلش میں پڑھیں


ندیم ایف پراچہ ڈان کے سینیئر کالم نگار ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر [email protected] کے نام سے لکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔