چکن تکہ سب سے پہلے کس نے بنایا؟

کیا آپ نے کبھی سوچا کے چکن تکہ سب سے پہلے کس نے بنایا، یا اس کی تخلیق کہاں سے ہوئی؟
شائع 10 ستمبر 2018 04:32pm

چکن تکہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بےحد پسند کیا جاتا رہا ہے، کوئی شادی ہو یا کسی بھی قسم کی تقریب، ہر مینو میں چکن تکہ ضرور شامل ہوتا ہے۔

ویسے تو لوگ چکن کو کئی انداز سے بناکر کھانا پسند کرتے ہیں، جیسے تندوری چکن، چکن کباب، لیکن ان میں سب سے زیادہ چکن تکہ پسند کیا جاتا رہا ہے۔

چکن تکہ کئی مصالحوں کے استعمال کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے، کوئی اس لذیذ پکوان کو چٹنی کے ساتھ کھاتا ہے، تو کوئی پراٹھوں کو اس کے ساتھ لازمی لیتا ہے۔

اس ڈش کی ابتداء، سب سے پہلے بنانے، اس کی تخلیق کے حوالے سے کئی باتیں مشہور ہیں۔

چکن تکہ برصغیر میں پنجاب کے علاقے میں بننے والی ڈش ہے، جو بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں ہی کافی مقبول سمجھی جاتی ہے۔

پہلے چکن کی بوٹیوں کو مصالحوں اور دہی میں میرینیٹ کرکے پکایا جاتا تھا، جب ہی اس کا نام ’چکن تکہ‘ پڑا، کیوں کہ تکے کا مطلب ٹکروں کے ہیں، تاہم بعد میں اس کی شکل تبدیل کردی گئی، اور اب چکن کا ایک بڑا حصہ مصالحے لگا کر بنایا جاتا ہے۔

لیکن کیا آپ نے کبھی بھی سوچا کے دنیا بھر میں پسند کی جانے والی یہ لذیذ ڈش آخر شروع کہاں سے ہوئی؟

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں موجود شیش محل نامی ایک ریسٹورنٹ میں چکن تکہ بنانے کی روایت ملتی ہے۔

ریسٹورنٹ کے مالک احمد اسلم علی کے مطابق 1970 کے دور میں وہاں کے لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے ایک ڈش بنائی جاتی تھی، جسے بعدازاں ایک گاہک کی فرمائش پر تھوڑا بہت تبدیل کیا گیا اور چکن تکہ مصالحہ کی شکل دی گئی۔

اس حوالے سے انٹرنیٹ پر کیفے ڈی خان نامی ایک فیس بک پیج پر ایک پوسٹ توجہ کا مرکز بنی۔

اس پوسٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں آج جو چکن تکہ دستیاب ہے یہ سب سے پہلے اس ریسٹورنٹ میں بنایا گیا، تاہم ایسا بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

پوسٹ کے مطابق 1960 کی دہائی میں اس ریسٹورنٹ میں چکن تکہ تخلیق کیا گیا، یہ ریسٹورنٹ تو اب بند ہوچکا ہے تاہم ان کی جانب سے تخلیق کیا گیا تکہ آج بھی کافی مقبول ہے۔

جبکہ کراچی کے ایک رہائشی سعد شیخ نے دعویٰ کیا کہ چکن تکہ سب سے پہلے ان کے دادا کے ریسٹورنٹ میں 1954 کے دور میں بنایا گیا۔

سعد شیخ کے مطابق ان کے دادا شیخ شوکت علی نے 1954 میں چکن تکہ کی لذیذ مصالحے دار ڈش بنائی، جس کے بعد سے یہ پاکستان بھر میں نہایت مقبول ہے اور ہر تقریب میں شوق سے کھائی جاتی ہے۔

اس ہوٹل کا نام فاروق ہوٹل تھا جو کہ کراچی میں صدر کے علاقے میں ہوا کرتا تھا تاہم سعد شیخ کے مطابق اب یہ بند ہوچکا ہے۔

انہوں نے فاروق ہوٹل سے متعلق 1959 کے دور کی چند دستاویزات بھی شیئر کیں، جن میں یہاں بنائے گئے تکہ کی تعریف کی گئی ہے۔

ایک سرٹیفیکیٹ ایسا بھی تھا، جس میں فاروق ہوٹل کو 1959 میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی ٹیسٹ میچ سیریز میں بہترین پکوان پیش کرنے پر سراہا گیا۔

یہ ریسٹورنٹ مقامی کھانوں کا مرکز مانا جاتا تھا، جہاں کی خاص ڈش چکن تکہ تھی، جسے شیخ شوکت علی نے بنایا تھا۔

سعد شیخ کے مطابق اس ریسٹورنٹ نے 1964 میں نیویارک ورلڈ فیئر میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی، جہاں اسے بہترین ریسٹورنٹ کا اعزاز دیا گیا۔

سعد شیخ کے والد یعنی اسد شیخ جو فاروق ریسٹورنٹ کے مالک شیخ شوکت علی کے بیٹے ہیں، نے بتایا کہ فاروق ریسٹورنٹ اور ہوٹل میں ان کے والد کے 50 فیصد شیئرز تھے، جو انہوں نے 1986 یا 1987 میں فروخت کر دیا تھا، یہ ریسٹورنٹ اور ہوٹل تو بند ہوچکا ہے لیکن اس کی عمارت صدر میں آج بھی موجود ہے۔

چکن تکہ ہر تقریب میں رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے، جسے گھروں میں خواتین اپنے اپنے انداز سے تیار کرتی نظر آتی ہیں۔

آپ کو چکن تکہ کتنا پسند ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔