پاکستان: آمریت بمقابلہ منتخب نمائندے

21 وزرائے اعظم مجموعی طور پر 16218 سے زائد دن عہدے پر فائز رہے جبکہ 4 فوجی آمروں نے ملک پر 12116 دن تک حکومت کی۔
اپ ڈیٹ اگست 19, 2018 09:45am

پاکستان 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر ایک جمہوری ملک کے طور پر سامنے آیا اور بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ملک کے پہلے گورنر جنرل بنے جبکہ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان تھے، پاکستان میں فوری طور پر آئین سازی تو نہ ہو سکی، تاہم ملک مشکلات کا شکار ضرور رہا اور ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو دوران تقریر قتل کر دیا گیا۔

لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملک میں متعدد مرتبہ جمہوری حکومت کے قیام کی کوشش کی گئی، مختلف ادوار میں اس حوالے سے متعدد سازشیں بھی سامنے آتی رہیں، 14 اگست 1947 سے تاحال، لیاقت علی خان سے لے کر شاہد خاقان عباسی تک متعدد منتخب وزرائے اعظم نے حکومت کی، کئی بار فوجی مداخلت ہوئی، بعض دفعہ صدور نے حکومت ختم کی جبکہ 2 بار عدلیہ سے وزرائے اعظم نااہل قرار پائے، جس کے باعث کوئی بھی وزیراعظم 5 سال تک وزارت عظمیٰ کا دور مکمل نہ کر سکا۔

اس رپورٹ کی اشاعت تک 21 وزرائے اعظم مجموعی طور پر 16218 سے زائد دن پاکستان پر حکومت کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ 4 فوجی آمروں نے ملک پر مجموعی طور پر 12116 دن تک حکومت کی۔


لیاقت علی خان

14 اگست 1947 سے 16 اکتوبر 1951

4 سال 2 ماہ 2 دن (1524 دن)

لیاقت علی خان — فوٹو: ڈان آرکائیو
لیاقت علی خان — فوٹو: ڈان آرکائیو

14 اگست 1947 میں آزادی کے بعد نومولود ملک کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے لیاقت علی خان کو پہلا وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ وہ 4 سال 2 ماہ اور 2 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے.

جنوبی ایشیا کی اس نئی ریاست کے پاس آئین نہیں تھا جبکہ اس کے امور چلانے کے لیے متحدہ ہندوستان کے 1935 کے آئین میں ترامیم کرکے اسے عبوری آئین کے طور پر ملک میں نافذ کیا گیا، اس وقت لیاقت علی خان نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک قرار داد تیار کی، جس میں علما کا تعاون بھی حاصل رہا، اس مسودے کو ’قرارداد مقاصد‘ کا نام دیا گیا، پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 12 مارچ 1949 کو قرار داد مقاصد کی منظوری دی۔

یہ قرارداد 7 مارچ 1949 کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اسمبلی میں پیش کی تھی، جس کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے آئین کا ڈھانچہ یورپی طرز کا نہیں ہوگا بلکہ اس کی بنیاد اسلامی جمہوریت و نظریات پر ہوگی۔

خیال رہے کہ 2 مارچ 1985 کو صدر محمد ضیاء الحق نے ایک صدارتی فرمان کے ذریعہ آئین پاکستان میں 8ویں ترمیم کی تھی، جس کے مطابق قراردادِ مقاصد کو آئین پاکستان میں شامل کر لیا گیا تھا۔

جسٹس حمود الرحمٰن نے قراردادِ مقاصد سے متعلق کہا تھا کہ ’اسے ابھی تک کسی نے منسوخ نہیں کیا، نہ کسی عہدِ حکومت، فوجی یا سول میں اِس سے اِنحراف کیا گیا‘۔

لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو راولپنڈی میں ایک سیاسی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے قتل کردیا گیا تھا، ان کے قتل کے بعد 16 اکتوبر 1951 سے 17 اکتوبر 1951 تک وزارت عظمیٰ کی نشست خالی رہی، ان کے بعد خواجہ ناظم الدین نے ان کی جگہ لی۔


خواجہ ناظم الدین

17 اکتوبر 1951 سے 17 اپریل 1953

ایک سال 6 ماہ (548 دن)

خواجہ ناظم الدین
خواجہ ناظم الدین

مسلم لیگ سے ہی تعلق رکھنے والے خواجہ ناظم الدین، قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل بنائے گئے تھے اور انہوں نے لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملک کے دوسرے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔

تاہم ایک سال اور 6 ماہ اپنے عہدے پر رہنے کے بعد اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے 17 اپریل 1953 کو ان کی حکومت تحلیل کردی تھی۔


محمد علی بوگرا

17 اپریل 1953 سے 12 اگست 1955

2 سال 3 ماہ 26 دن (847 دن)

محمد علی بوگرا
محمد علی بوگرا

خواجہ ناظم الدین کی حکومت تحلیل کیے جانے کے بعد مسلم لیگ سے ہی تعلق رکھنے والے محمد علی بوگرا نے 17 اپریل 1953 کو ان کی جگہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔

اس سے قبل محمد علی بوگرا 1948 میں برما میں پاکستان کے سفیر مقرر کیے گئے، انہیں 1949 میں کینیڈا میں پاکستان کا ہائی کمشنر مقرر کیا گیا تھا جبکہ 1952 میں انہوں امریکا میں سفیر کی خدمات انجام دی تھیں۔

انہوں نے پاکستان کا آئین بنانے کا آغاز کیا، جس میں پانچ صوبوں کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی، جن میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور مشرقی پاکستان شامل تھے، جبکہ اس حوالے سے کچھ تجاویز بھی پیش کی گئیں، تاہم مذکورہ تجاویز پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد انہوں نے متنازع ’ون یونٹ‘ فارمولا بنانے کا کام شروع کیا جس کا مقصد تمام صوبوں کو ایک ریاست میں تبدیل کرنا تھا۔

محمد علی بوگرا نے 22 نومبر 1954 میں ون یونٹ کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کوئی بنگالی نہیں، کوئی پنجابی نہیں، کوئی سندھی نہیں، کوئی پٹھان نہیں، کوئی بلوچی نہیں، کوئی بہاولپوری نہیں اور نہ ہی کوئی خیرپوری، علاقائی تقسیم کی عدم موجودگی پاکستان کی سالمیت کو مستحکم کرے گی‘۔

تاہم بعد ازاں اس وقت کے صدر سکندر مرزا نے اختلافات کے باعث انہیں 12 اگست 1955 کو برطرف کردیا۔


چوہدری محمد علی

12 اگست 1955 سے 12 ستمبر 1956

ایک سال ایک ماہ (397 دن)

چوہدری محمد علی
چوہدری محمد علی

مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد علی نے 12 اگست 1955 کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا، ان کے دور حکومت میں ملک کا پہلا آئین 29 فروری 1956 کو منظور کیا گیا جبکہ اسے 23 مارچ 1956 کو نافذ کردیا گیا، جس میں ریاست کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔

ریاست کے پہلے آئین کا مسودہ تفصیلی تھا، جس میں 234 آرٹیکلز کو 13 حصوں اور 6 شیڈول میں تقسیم کیا گیا تھا، اس آئین میں حکومت بنانے کے لیے طاقت کا محور پارلیمان قرار دیا گیا تھا، اس کے علاوہ اختیارات مقررہ کابینہ کو سونپے گئے جبکہ اس کی دیگر ذمہ داریوں میں قانون سازی بھی شامل تھی، مذکورہ کابینہ کا سربراہ وزیراعظم کو بنایا گیا تھا۔

علاوہ ازیں مذکورہ آئین کے مطابق ملک میں صرف ایک ایوان پارلیمنٹ ’قومی اسمبلی‘ کا اعلان کیا گیا جبکہ گورنر جنرل کے عہدے کو صدر کے عہدے سے تبدیل کیا گیا، جنہیں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں گے، 1956 کے آئین میں آزادی اظہار رائے اور تقریر کو جمہوری حق قرار دیا گیا، اس کے علاوہ شہری حقوق، جن میں زندہ رہنے کا حق، آزادی اور ملکیت کا حق بھی شامل تھا۔

پاکستان کے پہلے آئین میں عدلیہ کو بنیادی حقوق نافذ کرنے کے لیے اختیارات دیئے گئے۔

مذکورہ آئین تحریری صورت میں ایک طویل دستاویز تھی، یہ ایک سخت آئینی مسودہ تھا جس میں قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ سے ایک تہائی منظوری کو لازمی قرار دیا گیا، اس میں ریاست کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیا گیا، وفاقی اور پارلیمانی نظام متعارف کرائے گئے، صوبوں کی خود مختاری کو واضح کیا گیا، اسلامی قوانین کو متعارف کرایا گیا جبکہ آزاد عدلیہ اور بنیادی حقوق کی ازادی کا تصور پیش کیا گیا۔

تاہم گورنر جنرل کے ساتھ اختلافات کے باعث محمد علی چوہدری نے وزیراعظم کے عہدے سے 12 ستمبر 1956 کو استعفیٰ دے دیا۔

ملک کے پہلے آئین کو صرف 2 سال بعد ہی 1958 میں فوج کی جانب سے ملک میں پہلے مارشل کے نفاذ کے ساتھ ہی معطل کردیا گیا۔


حسین شہید سہروردی

12 ستمبر 1956 سے 17 اکتوبر 1957

ایک سال ایک ماہ 5 دن (400 دن)

حسین شہید سہروردی
حسین شہید سہروردی

چوہدری محمد علی کے مستعفی ہونے کے بعد عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے حسین شہید سہروردی 12 ستمبر 1956 سے 17 اکتوبر 1957 تک تقریبا ایک سال ایک ماہ اور 5 دن تک ملک کے وزیراعظم رہے۔

حسین شہید سہروردی نے اپنے دور حکومت میں ملک کے مغربی حصے میں توانائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کو قائم کیا اور ڈاکٹر نظر احمد کو اس کی نگرانی کی دعوت دی۔

اس کے علاوہ انہوں نے ملک کے مغربی اور مشرقی حصے سے محصولات کے حصول کے لیے جاری نیشنل فنانس کمیشن پروگرام (این ایف سی پی) کو روک دیا اور ملک میں خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لیے امریکی امداد پر انحصار کرنے لگے، جس کے لیے انہوں نے امریکی صدر کو گندم اور چاول کی مستقل بنیادوں پر فراہمی کی درخواست کی۔

بعد ازاں ملک کی مرکزی حکومت نے حسین شہید سہروردی کی سربراہی میں معاشی منصوبے کے نفاذ پر توجہ دینا شروع کی، علاوہ ازیں انہوں نے ملک کے مشرقی اور مغربی حصے کے درمیان ایک کروڑ ڈالر کی تقسیم اور مغربی حصے کے ریونیو سے شپنگ کارپوریشن کے قیام کا اعلان کیا۔

اس اعلان کے بعد حسین شہید سہروردی اور بزنس کمیونٹی کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے اور نئی معاشی پالیسی پر ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہڑتالیں ہونے لگیں۔

اس کے علاوہ حسین شہید سہروردی نے ملک کی خارجہ پالیسی کو امریکی حمایت میں سوویت یونین کے خلاف بنانے کی ہدایت کی، جس کے بعد وہ ملک میں امریکی نواز شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔

حسین شہید سہروردی پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے چین کا دورہ کیا اور بیجنگ میں چینی وزیراعظم چو این لائی سے ملاقات کی جبکہ اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات دوستانہ انداز میں استوار ہونا شروع ہوئے۔

صدر اسکندر مرزا
صدر اسکندر مرزا

حسین شہید سہروردی نے معاشی پالیسی پر کارباری طبقے اور نجی شعبے کی مخالفت کی ، جبکہ اسکندر مرزا سے اختلافات کے بعد 1957 میں استعفیٰ دے دیا۔


ابراہیم اسماعیل چندریگر

17 اکتوبر 1957 سے 16 دسمبر 1957

ایک ماہ 29 دن (60 دن)

ابراہیم اسماعیل چندریگر
ابراہیم اسماعیل چندریگر

مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے ابراہیم اسماعیل چندریگر کو اسکندر مرزا نے سہروردی کے مستعفی ہونے کے بعد ملک کا وزیراعظم نامزد کیا تھا وہ 2 ماہ تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے اور انہوں نے 16 دسمبر 1957 کو استعفیٰ دے دیا۔


فیروز خان نون

16 دسمبر 1957 سے 7 اکتوبر 1958

9 ماہ اور 21 دن (295 دن)

فیروز خان نون
فیروز خان نون

ابراہیم اسماعیل چندریگر کے مستعفی ہونے کے بعد ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے فیروز خان نون 16 دسمبر 1957 سے 7 اکتوبر 1958 تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔

فیروز خان نون نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو انہیں سب سے پہلے گوادر کے معاملے پر عمان سے مذاکرات کا سامنا کرنا پڑا تاہم وہ مذاکرات میں کامیاب ہوئے اور گوادر کے بدلے 30 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا معاہدہ طے پایا اور اس کے بعد 8 ستمبر 1985 کو اس خطے کو پاکستان میں شامل کردیا گیا۔

اس کے بعد انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھی بھارت سے بات چیت کا آغاز کیا تاہم متعدد معاملات پر ان کے اور صدر اسکندر مرزا کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے اور 1958 میں اسکندر مرزا کی جانب سے انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔


جنرل ایوب خان

7 اکتوبر 1958 سے 25 مارچ 1969

10 سال 5 ماہ اور 18 دن (3822 دن)

جنرل ایوب خان
جنرل ایوب خان

صدر اسکندر مرزا نے اکتوبر 1958 میں فوج کو ملک کے مختلف حصوں میں تعینات کرتے ہوئے پہلی بار آئین کو معطل کر دیا، جبکہ وزیراعظم فیروز خان نون کو بھی عہدے سے ہٹا دیا، ساتھ ہی انہوں نے ملک میں مارشل لگانے کا اعلان کیا جبکہ جنرل ایوب کو اپنا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر (سی ایم ایل اے) تعینات کیا تاہم انہیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اس کا برملا ذکر اخبارات کو جاری ایک اعلامیے کے ذریعے بھی کیا۔

بعد ازاں انہوں نے جنرل ایوب کو ہٹانے کے لیے فوج میں اپنے قابل بھروسہ لوگوں کی تلاش شروع کی تاکہ جنرل ایوب خان کو اس عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ میں لیا جائے، اسی دوران ایوب خان کو ملک کا وزیراعظم بنانے کی ناکام کوشش کی گئی جبکہ انہیں اپنی کابینہ میں ٹیکنوکریٹ کابینہ بنانے کو کہا گیا، تاہم جنرل ایوب خان نے ان کے مذکورہ فیصلے کی بھرپور مخالفت اور مزاحمت کی۔

جب تنازع شدت اختیار کرگیا، تو جنرل ایوب خان نے فوج کو صدارتی محل پر تعینات کرکے اسکندر مرزا کو برطانیہ بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا، صدر کو ہٹائے جانے کے معاملے کو عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ ایئر مارشل اصغر خان نے مارشل لاء کی حمایت کی.

بعد ازاں جنرل ایوب خان نے جنرل موسیٰ کو آرمی چیف مقرر کرتے ہوئے خود کو فوج میں فائیو اسٹار جنرل اور فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی، تاہم ناقدین کے مطابق وہ مذکورہ ترقی کے اہل نہیں تھے۔

جنرل ایوب خان نے 1960 میں ریفرنڈم کرایا اور اس میں 95.6 فیصد کامیابی کے بعد صدارتی نظام میں تبدیلیاں کیں اور آئندہ 5 سال کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوگئے۔

17 فروری 1960 کو ایوب خان نے ملک کے سیاسی مستقبل کا منظر نامہ وضع کرنے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا، جس کی سربراہی چیف جسٹس محمد شہاب الدین کر رہے تھے، اس کمیشن میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے نمائندے جبکہ ریٹائرڈ جج، وکلاء، صنعت کار اور دیگر طبقہ زندگی کے افراد شامل تھے۔

کمیشن نے 6 مئی 1961 کو صدر ایوب خان کو ایک رپورٹ پیش کی، جس کا انہوں نے اور ان کی کابینہ نے تفصیلی جائزہ لیا جبکہ کابینہ نے جنوری 1962 میں ملک کے دوسرے آئین کو حتمی منظوری دے دی، مذکورہ آئین کے مسودے پر صدر ایوب خان نے یکم مارچ 1962 کو دستخط کیے اور اسے 8 جون 1962 کو نافذ کردیا گیا، 1962 کا آئین 250 آرٹیکلز پر مشتمل تھا، جسے 12 حصوں اور 3 شیڈول میں تقسیم کیا گیا تھا۔

نئے آئین میں ریاست کو ریپبلک آف پاکستان قرار دیا گیا جبکہ یہ آئین ملک کو وفاقی نظام مہیا کرتا تھا، جس میں ملک کے دونوں حصوں، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو دو صوبے قرار دیا گیا جہاں علیحدہ صوبائی حکومتیں تشکیل دی جانی تھیں، اس آئین میں بھی قومی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار دیا گیا جبکہ اس کے ارکان کی تعداد 157 کردی گئی اور اسے دونوں صوبوں میں برابر تقسیم کیا گیا، دوسرے آئین میں ملک کا طرز حکومت صدارتی رکھا گیا۔

1962 کے آئین کے مطابق ملک کا صدر 5 سال کے لیے منتخب کیا جانا تھا جبکہ وہ ریاست کا چیف ایگزیکٹو ہوگا اور اس کے پاس ملک کے تمام انتظامی معاملات پر فیصلوں کا اختیار ہوگا، ملک کے دوسرے آئین کی نمایاں خصوصیات میں اس کا تحریری ہونا، وفاقی نظام، صدارتی طرز حکومت، صوبائی حکومتیں، صوبائی قانون سازی، اسلامی قوانین، بنیادی حقوق، عدلیہ کا کردار اور سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام شامل تھا۔

اس کے علاوہ ایوب خان کا دور صنعتی اصلاحات اور دیہی ترقی کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کو صنعتی ترقی حاصل ہوئی جبکہ ملک میں سرمایہ دارانہ نظام اور صنعتوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کرنے پر زور دیا گیا، اس حوالے سے ملک میں نجی کنسورشیم کمپنیز اور صنعتوں کا قیام عمل میں آیا جبکہ نجی شعبے کے ساتھ ساتھ درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروبار کی حوصلہ افزائی کی گئی، جس کے نتیجے میں ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے جبکہ ملک کی معاشی ترقی میں اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ ایوب خان کے دور حکومت میں ملک میں میگا پروجیکٹس قائم کیے گئے، جن میں ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم، بجلی گھر اور دیگر اہم منصوبوں کی تعمیرات اور تکیمل شامل ہے جبکہ 1960 سے 1966 تک ملک کی سالانہ شرح نمو 6.8 فیصد رہی، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے دونوں حصوں میں توانائی کو تبدیل کرنے کے بڑے منصوبے تکیمل کو پہنچے جبکہ پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے منگلا ڈیم اور کیپٹی ڈیم کا قیام عمل میں آیا، اس کے علاوہ ایوب خان نے اپنی کابینہ کی تجاویز کے خلاف ملک میں توانائی کے حصول کے لیے جوہری ذرائع کے استعمال کی اجازت بھی دی جس کے بعد ڈھاکا اور کراچی میں دو جوہری پاور پلانٹس لگائے گئے۔

ایوب خان کے دور حکومت میں ملک کی نیوی نے جدید جنگی حکمت عملی کو اپنانے کے لیے آبدوزوں اور دیگر ہتھیاروں کو اپنی بحری بیڑے میں شامل کیا جبکہ ایوب خان نے ملک کی افواج کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ خلائی پروگرام کی ابتدا کرتے ہوئے اسپارکو جیسا ادارہ قائم کیا۔

صدر ایوب خان کی حکمرانی کا زوال اس وقت شروع ہوا, جب 1965 میں صدارتی انتخابات کے لیے مشترکہ اپوزیشن جماعتوں نے قائد اعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو امیدوار نامزد کیا اور انہیں کراچی، لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے ایوب خان کے خلاف پزیرائی حاصل ہونا شروع ہوئی، اسی دوران سندھ طاس معاہدے کے باعث ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب خان کا نام اس احتجاجی سلسلے کو روکنے کے لیے کراچی میں ہونے والے فسادات کے ساتھ جوڑا جانے لگا جس نے ایوب خان کو مزید مشکلات کی جانب دھکیل دیا۔

ایوب خان نے 1965 میں صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کچھ متنازع اقدامات کیے جن میں خفیہ اداروں نے بھرپور کردار ادا کیا، جس کے باعث انہوں نے فاطمہ جناح کو شکست دی۔

ایوب خان کی خارجہ پالیسی امریکا اور یورپ کی جانب جھکی ہوئی تھی جبکہ انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ بہتر تعلقات کو نظر انداز کیا، ان کے دور حکومت میں 1965 میں پاک بھارت جنگ ہوئی جبکہ سوویت یونین کی مدد سے دونوں ممالک کے درمیان تاشقند معاہدہ طے پایا، جس کے بعد ان کی حکومت پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ ان کی کابینہ میں شامل ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور ایوب خان کی کھل کر مخالفت کرنے لگے۔

ملک میں ایوب خان کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں اور ان کی کابینہ کے ارکان کی جانب سے ان کی پالیسز کی مخالفت کے بعد انہوں نے 1969 میں صدر کے اختیارات اس وقت کے فوج کے کمانڈر جنرل یحییٰ خان کے سپرد کردیئے۔

جنرل ایوب کے دور حکومت میں 7 اکتوبر 1958 سے 25 مارچ 1969 تک وزیراعظم کی نشست خالی رہی۔


جنرل محمد یحییٰ خان

25 مارچ 1969 سے 20 دسمبر 1971

2 سال 8 ماہ 25 دن (1000 دن)

جنرل محمد یحییٰ خان
جنرل محمد یحییٰ خان

جنرل یحییٰ خان پاک فوج کے پانچویں سربراہ اور تیسرے صدر مملکت تھے۔

معاہدہ تاشقند کے بعد صدر ایوب خان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا جبکہ 1966 میں مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعت عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے شیخ مجیب الرحمن کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات (جو 6 نکات پر مشتمل تھے) نے جلتی پر تیل کا کام کیا.

عوامی لیگ کے رہنما کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ان نکات کو علیحدگی کے جذبات سے جوڑا گیا جبکہ شیخ مجیب الرحمٰن کو گرفتار کر لیا گیا، اس کے ساتھ ہی مغربی پاکستان میں ایوب خان کے خلاف تحریک نے زور پکڑا اور خطے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہونے لگی۔

صدر ایوب خان نے 1966 میں جنرل یحییٰ خان کو بری فوج کا سربراہ بنایا تھا، بعد ازاں ملک میں ان کے خلاف جاری تحریک کے باعث 25 مارچ 1969 کو ایوب خان نے قوم سے خطاب میں اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کیا، 1969 میں ایوب خان کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی جنرل یحییٰ نے صدارت سنبھالی، ملک میں دوسرا مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے آئندہ سال عام انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کیا۔

ان کے دور حکومت میں 30 جون 1970 کو اس وقت کے صوبہ سرحد (اب خیبرپختونخوا) اور بلوچستان کی صوبائی حیثیت بحال کر دی گئی، ساتھ ہی سابق ریاست بہاولپور کو پنجاب میں ضم کر دیا اور کراچی کو سندھ کا حصہ قرار دے دیا گیا، اس کے علاوہ مالاکنڈ ایجنسی قائم کی گئی، اس میں سابق سرحدی ریاستوں سوات، دیر اور چترال کو شامل کیا گیا۔

1970 کے اختتام پر ملک میں عام انتخابات کرائے گئے جس میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن نے اکثریت حاصل کی تاہم وہ مغربی پاکستان میں انہیں ایک بھی نشست پر کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں بھرپور کامیابی حاصل کی تاہم انہیں مغربی پاکستان میں ایک نشست بھی نہیں ملی جبکہ نور الامین کی سربراہی میں پاکستان مسلم لیگ نے ملک کے تقریبا تمام حصوں سے نشستیں حاصل کیں تاہم ان کے پاس حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں میسر نہیں تھیں۔

ملک میں حکومت قائم کرنے کے لیے دونوں اہم سیاسی جماعتوں ،پیپلز پارٹی اورعوامی لیگ کے درمیان متعدد مذاکراتی عمل ہوئے تاہم اس کے نتائج حاصل نہ ہوسکے۔

مختلف وقتوں میں اقتدار کی راہداریوں سے یہ بات سامنے آتی رہی کہ جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو یہ نہیں چاہتے تھے کہ مشرقی پاکستان کی اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ملک میں حکومت کے قیام میں کامیاب ہو۔

اس دوران مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں سیاسی کشیدگی شدت اختیار کرگئی جبکہ جنرل یحییٰ خان نے اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے متعدد کوششیں کیں تاہم حالات مسلسل خرابی کی جانب جارہے تھے۔

16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان پر بھارتی افواج کی مداخلت اور بنگلہ دیش کے نئی ریاست کے طور پر قیام جبکہ مغربی پاکستان کے محاذ پر پاکستانی افواج کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنا پر ملک میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔

20 دسمبر، 1971ء کو جنرل یحیٰی نے اقتدار پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا اور 8 جنوری 1972 کو انہیں عوامی ردعمل سے بچانے کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔


نور الآمین

7 دسمبر 1971 سے 20 دسمبر 1971

(13 دن)

عام انتخابات 7 دسمبر 1971

نور الآمین
نور الآمین

7 دسمبر 1971 کو عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے رہنما نورالآمین کو اس وقت کے صدر یحییٰ خان نے ملک کا آٹھواں وزیراعظم نامزد کیا تاہم وہ صرف 13 دن تک ہی اس عہدے پر براجمان رہے اور 20 دسمبر 1971 کو عہدے کو خیرباد کہہ دیا جبکہ وہ اس سے قبل 1970 سے 1972 تک پاک بھارت جنگ کے دوران ملک کے نائب صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے چکے تھے۔

نورالآمین کے بعد 20 دسمبر 1971 سے 14 اگست 1973 تک وزیراعظم کی نسشت خالی رہی۔


ذوالفقار علی بھٹو

14 اگست 1973 سے 5 جولائی 1977

3 سال 10 ماہ اور 21 دن (1421 دن)

عام انتخابات 14 اگست 1973

ذوالفقار علی بھٹو — فوٹو: ڈان
ذوالفقار علی بھٹو — فوٹو: ڈان

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم تھے۔

اس سے قبل وہ صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جبکہ وہ ملک کے وزیر خارجہ بھی رہے تاہم تاشقند معاہدے کے بعد ایوب خان سے اختلافات کے باعث ذوالفقار علی بھٹو کابینہ سے مستعفی ہو گئے اور انہوں نے دسمبر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔

1970 میں ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں کامیابی حاصل کی اور دسمبر 1971 میں جنرل یحیٰی خان نے مستعفی ہوکر پاکستان کی صدارت ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کی، انہوں نے دسمبر 1971 تا 13 اگست 1973 تک صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں ریاست کو تیسرا آئین دیا جسے 1973 کا آئین کہا جاتا ہے ملک کے تیسرے آئین کا مسودہ 1970 میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر 1972 میں قائم کی جانے والی کابینہ نے ڈرافٹ اور بعد ازاں 10 اپریل 1973 میں پارلیمنٹ سے منظور کرایا گیا جبکہ اس کو 14 اگست 1973 کو ملک میں نافذ کیا گیا اور اسی روز ذوالفقار علی بھٹو نے نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

1973 کے آئین میں پہلی مرتبہ ملک میں پارلیمنٹ کو ایوان بالا یعنی سینیٹ اور ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں تقسیم کیا گیا، ملک کے تیسرے آئین میں پارلیمنٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ حکومت کا سربراہ، وزیراعظم کو مقرر کرے جبکہ اس عہدے کو ملک کے ایگزیکٹیو کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے، نئے آئین میں بھی گزشتہ برسوں میں پیش کیے گئے 2 آئینی مسودوں کی طرح بنیادی حقوق، آزادی اظہار رائے جبکہ اضافی طور پر مذہب، پریس، تحریکوں، ایسوسی ایشن کی آزادی، زندہ رہنے اور اسلحہ رکھنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ دیگر آزادیاں دی گئیں، آئین میں اسلام کو ریاست کا مذہب اور ریاست کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا گیا، جسے انتظامی حوالے سے 4 صوبوں میں تقسیم کیا گیا۔

اس کے علاوہ مذکورہ آئین کی نمایاں خصوصیات میں پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت اور وزیراعظم کو ملک کا سربراہ قرار دیا جانا، اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیا جانا، صدر اور وزیراعظم کا لازمی طور پر مسلمان ہونا، آئین میں ترمیم کے لیے ایوان زیریں میں دو تھائی اور ایوان بالا میں بھاری اکثریت ہونا لازمی قرار دینا، اردو کو پاکستان کی قومی زبان، عدلیہ کی آزادی کی ضمانت، عصمت فروشی سمیت دیگر غیر اخلاقی معاملات پر پابندی اور عربی زبان کو فروغ دینا وغیرہ شامل ہیں۔

ملک کو 1973 کا آئین دینے کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے متعدد ایسی پالیسیز اور اصلاحات کی گئیں جس سے نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا میں بھی پاکستان کا کردار نمایاں طور پر سامنے آنے لگا، جس میں صنعتی شعبے میں اصلاحات، زمین اور زرعی اصلاحات، معاشی پالیسی، بینکنگ اور برآمدات میں توسیع، پاسپورٹ کے حوالے سے اصلاحات، لیبر پالیسی اور سوشل سیکیورٹی کے حوالے سے اقدامات وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے بھارت کا دورہ کیا اور اندرا گاندھی سے ملاقات کرکے 1971 کی پاک بھارت جنگ میں گرفتار ہونے والے 93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے شملہ معاہدہ کیا جبکہ کشمیر میں عارضی طور پر ایک لائن آف کنٹرول قائم کردی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کو خارجہ امور پر کافی مہارت حاصل تھی اور اس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا، خارجہ امور کے حوالے سے ان کی پالیسیز کے باعث جہاں پاکستان ایک جانب عرب ممالک میں نمایاں مقام اختیار کرتا گیا، وہیں انہیں مغربی ممالک کی بھرپور تنقید اور مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، اس کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کا جھکاؤ امریکا کی بجائے سوویت یونین کی جانب بھی بڑھنے لگا جس کی ایک مثال کراچی کی اسٹیل ملز کے قیام میں سوویت یونین کا بھرپور کردار ہے جبکہ انہوں نے سوویت یونین کے علاوہ جرمنی اور جرمنی سے بھی معاہدے کیے۔

1974 میں بھارت نے پاکستان کی مشرقی سرحد کے قریب پہلا جوہری ٹیسٹ کیا، جس پر پاکستان نے امریکا سے بات چیت کی اور بھارت پر معاشی پابندیاں لگانے کے لیے لابنگ کی کوشش کی گئی، تاہم امریکا نے اس کا مثبت جواب نہ دیا، جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے اور کامیابی حاصل کی، پاکستان کی مذکورہ کامیابی کے باعث امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر آگئے، امریکا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی بھرپور مخالفت کی اور اسلام آباد پر پابندیاں لگا دی گئیں تاہم پاکستان جوہری صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

8 جنوری 1977 کو ملک کی 9 اپوزیشن جماعتوں نے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی اتحادی جماعتوں کے خلاف ایک اتحاد، پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کے نام سے قائم کیا اور بھرپور طریقے سے ان کی مخالفت شروع کی، جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں نئے الیکشن کرائے تاہم ان انتخابات میں پی این اے کو واضح شکست ہوئی لیکن انہوں نے الیکشن کے مذکورہ نتائج کو ماننے سے انکار کیا اور انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا، جب یہ معاملہ مزید شدت اختیار کرنے لگا اور ملک میں امن و امان کی صورت حال دن بہ دن خراب ہونے لگی تو 5 جولائی 1977 کو جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں تیسرا مارشل لاء نافذ کردیا اور ستمبر 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انہیں سزائے موت کا حکم سنایا جبکہ 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کردی، 4 اپریل 1979 کو انہیں راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو 3 سال 10 ماہ اور 21 دن تک ملک کے وزیراعظم رہے۔


جنرل محمد ضیاء الحق

5 جولائی 1977 سے 17 اگست 1988

11 سال ایک ماہ 12 دن (4061 دن)

جنرل محمد ضیاء الحق
جنرل محمد ضیاء الحق

جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں ملک کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں پھانسی دی گئی تاہم انہوں نے اقتدار میں آکر ملک کا آئین معطل نہیں کیا اور 90 روز میں عام انتخابات کروانے کا اعلان کیا جبکہ انہی کے دور میں روس نے افغانستان میں دخل اندازی کی، اس دوران پاکستان نے امریکا اور عالمی طاقتوں کے ایما پر افغانستان میں روس کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں کو مدد فراہم کی۔

ضیاء الحق کے دور حکومت میں سوویت یونین (اب روس) کی جانب سے افغانستان پر جارحیت کی گئی جس کے بعد عالمی طور پر یہ خیال اُبھر کر سامنے آنے لگا کہ اس جارحیت کا مقصد پاکستان فتح کرکے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا ہے جبکہ جنرل ضیاء الحق نے ملک کی سلامتی کو ممکنہ طور پر لاحق خطرات کا احساس کرتے ہوئے سوویت یونین کے خلاف افغان عوام کی مدد کا آغاز کیا۔

جنرل ضیاء الحق کی مذکورہ پالیسی کے باعث سوویت یونین کو افغانستان میں شکست ہوئی اور یہ کئی ریاستوں میں تقسیم ہوگئی اور روس وجود میں آیا، دوسری جانب پاکستان کو لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنا پڑی۔

اس اہم اقدام کے علاوہ ان کے دور حکومت میں ملک کو الیکشن کے التوا اور احتساب کے عمل کے اعلان، مارشل لاء گورنر کی تعیناتی اور مجلس شوریٰ کے قیام جیسے معاملات دیکھنا پڑے۔

ضیاء الحق نے اپنی حکومت میں حدود اور زکوۃ آرڈیننس، شریعت قوانین، توہین مذہب، مدرسہ توسیع، ثقافتی پالیسی، شرعی عدالتیں ،1984 میں ریفرنڈم، معاشی پالیس، 1985 انتخابات ، آئین میں ترمیم اور معذوروں کی فلاح کے لیے اقدامات وغیرہ متعارف کروائے۔

اگست 1988 میں جنرل ضیاالحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے، اس واقعے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹو جلا وطنی ختم کرکے وطن واپس پہنچیں اور ملک کے عام انتخابات میں شرکت کی جبکہ جنرل ضیاالحق کے انتقال کے بعد غلام اسحٰق خان ملک کے صدر بنے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کیے جانے 5 جولائی 1977 سے 24 مارچ 1985 تک وزیراعظم کی نشست خالی رہی۔


محمد خان جونیجو

24 مارچ 1985 سے 29 مئی 1988

3 سال 2 ماہ اور 5 دن (1162 دن)

عام انتخابات 28 فروری 1985

محمد خان جونیجو
محمد خان جونیجو

جنرل ضیاالحق کے دور میں 28 فروری 1985 کو ملک میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ (آزاد یا انڈیپینڈنٹ) کے رہنما محمد خان جونیجو نے 24 مارچ 1985 کو ملک کے 10ویں وزیراعظم کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ انہوں نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا تھا تاہم انہیں صدر جنرل ضیا الحق نے آئین میں 8ویں ترمیم کرکے 29 مئی 1988 میں برطرف کردیا۔ وہ 3 سال 2 ماہ اور 5 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔

ان کے بعد 29 مئی 1988 سے 2 دسمبر 1988 تک وزارت عظمیٰ کی نشست خالی رہی۔


بینظیر بھٹو

2 دسمبر 1988 سے 6 اگست 1990

ایک سال 8 ماہ 4 دن (612 دن)

عام انتخابات 16 نومبر 1988

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو

ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کے بعد ان کی صاحبزادی بینظیر بھٹو کو 1982 میں پی پی پی کا سربراہ بنایا گیا اور وہ ملک کی کسی سیاسی جماعت کی پہلی خاتون سربراہ تھیں، ملک سے مارشل لاء اٹھائے جانے کے بعد جب اپریل 1986 میں بینظیر بھٹو وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔

بینظیر بھٹو 1987 میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں تاہم وہ سیاسی محاذ پر بھی مسلسل کوششوں میں مصروف رہیں۔

17 اگست 1988 میں ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوجانے کے بعد سینیٹ کے چئیرمین غلام اسحٰق خان کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا اور 16 نومبر 1988 کو ملک میں عام انتخابات ہوئے۔

مذکورہ انتخابات میں واضح کامیابی کے نتیجے میں بینظیر بھٹو نے 2 دسمبر 1988 میں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا، تاہم وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے 20 ماہ بعد اگست 1990میں صدر غلام اسحٰق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت کو مبینہ طور پر بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کے باعث برطرف کر دیا۔

اس کے علاوہ ان پر متعدد الزامات بھی لگائے جاتے ہیں، جن میں بھارت میں جاری سکھوں کی علیحدگی کی تحریک، تحریکِ خالصتان کو نقصان پہنچانا جبکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو بند کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ شامل ہے۔


غلام مصطفیٰ جتوئی (نگراں وزیراعظم)

6 اگست 1990 سے 6 نومبر 1990

3 ماہ (92 دن)

غلام مصطفیٰ جتوئی
غلام مصطفیٰ جتوئی

صدر اسحٰق خان نے 6 اگست 1990 کو نیشنل پیپلز پارٹی کے رہنما غلام مصطفیٰ جتوئی کو ملک کا نگراں وزیراعظم مقرر کیا تھا اور انہوں نے 3 ماہ کی مدت مکمل کی اور 6 نومبر 1990 کو عہدہ چھوڑ دیا۔


نواز شریف

6 نومبر 1990 سے 18 اپریل 1993

2 سال 5 ماہ 12 دن (894 دن)

عام انتخابات 24 اکتوبر 1990

نواز شریف— فو ٹو: اے پی
نواز شریف— فو ٹو: اے پی

نواز شریف کو 1981 میں صدر ضیاء الحق کے دور حکومت میں پہلے صوبہ پنجاب کا وزیر خزانہ اور بعد ازاں 1985 میں وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا جبکہ وہ مارشل لاء کے اختتام کے بعد 1988 میں دوبارہ صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔

صدر اسحٰق خان کی جانب سے بینظیر بھٹو کو وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد اکتوبر 1990 میں ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں نواز شریف نے کامیابی حاصل کی اور 6 نومبر 1990 کو ملک کے 12ویں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا جبکہ بے نظیر ایوان میں اپوزیشن لیڈر بن گئیں۔

تاہم صدر اسحٰق خان نے 2 سال 5 ماہ اور 12 دن کے بعد نواز شریف کی انتظامیہ پر بد عنوانی کے الزامات لگائے اور انہیں 18 اپریل 1993 کو برطرف کردیا جبکہ نواز شریف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔


بلخ شیر مزاری (نگراں وزیراعظم)

18 اپریل 1993 سے 26 مئی 1993

ایک ماہ 8 دن (38 دن)

بلخ شیر مزاری
بلخ شیر مزاری

صدر اسحٰق خان نے نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے بعد پی پی پی کے رہنما بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیراعظم مقرر کیا تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے صدر کا حکم معطل کیے جانے کے بعد انہوں نے ایک ماہ 8 دن کی مدت پوری کر کے 26 مئی 1993 کو اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔


نواز شریف

26 مئی 1993 سے 18 جولائی 1993

ایک ماہ 22 دن (53 دن)

نواز شریف
نواز شریف

صدر اسحٰق خان کے نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، چیف جسٹس آف پاکستان نسیم حسن شاہ نے 15 جون 1993 کو نواز شریف کو برطرف کیے جانے کا صدارتی حکم کالعدم قرار دیا۔

تاہم صدر اسحٰق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت اسی سال انہیں ایک مرتبہ پھر برطرف کردیا جبکہ نواز شریف نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں ایک مرتبہ پھر چیلنج کیا لیکن فوج کے سربراہ کے دباؤ پر نواز شریف جولائی 1993 میں ایک معاہدے کے تحت مستعفی ہوئے، اسی طرح صدر اسحٰق خان کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔


معین الدین احمد قریشی (نگراں وزیراعظم)

18 جولائی 1993 سے 19 اکتوبر 1993

3 ماہ ایک دن (93 دن)

معین الدین احمد قریشی
معین الدین احمد قریشی

نواز شریف کی جانب سے جولائی 1993 میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد 18 جولائی 1993 کو معین الدین قریشی کو نگراں وزیراعظم کا عہدہ سونپا گیا، وہ تقریبا 3 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے۔


بینظیر بھٹو

19 اکتوبر 1993 سے 5 نومبر 1996

3 سال 17 دن (1113 دن)

عام انتخابات 6 اکتوبر 1993

بینیظیر بھٹو
بینیظیر بھٹو

نواز شریف کے مستعفی ہونے کے بعد 6 اکتوبر 1993 کو ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں ایک مرتبہ پھر پی پی پی نے کامیابی حاصل کی اور بینظیر بھٹو نے 19 اکتوبر 1993 کو دوسری مرتبہ ملک کی وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو کے خاوند آصف علی زرداری کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت کے باعث بینظیر بھٹو کے بھائی میر غلام مرتضیٰ بھٹو اور ان کی بہن کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے بعد مرتضیٰ بھٹو نے پی پی پی کا علیحدہ گروپ تشکیل دیا تھا۔

بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت کے دوران 20 ستمبر 1996 کو ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو کلفٹن میں قائم ان کے گھر کے قریب ہی ان کے 6 ساتھیوں کے ساتھ قتل کردیا گیا، مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہیں پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کیا تھا تاہم تاحال مرتضیٰ بھٹو کا قتل ایک معمہ ہے جو حل نہیں ہوسکا، اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی چیف عاشق جتوئی سمیت دیگر 5 پارٹی کارکنان بھی شامل تھے، یاد رہے کہ عاشق جتوئی سابق وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کی اہلیہ کے بھائی تھے۔

یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ میر غلام مرتضیٰ بھٹو پر ضیاء الحق کے دور حکومت میں 1981 میں پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا طیارہ اغوا کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی جانب سے منتخب کیے جانے والے صدر فاروق احمد خان لغاری نے 3 سال اور 17 روز کے بعد 5 نومبر 1996 کو بدامنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات کے لگا کر بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔


ملک معراج خالد (نگراں وزیراعظم)

5 نومبر 1996 سے 17 فروری 1997

3 ماہ 12 دن (104 دن)

ملک میراج خالد
ملک میراج خالد

ملک معراج خالد کو پی پی پی کی سربراہ بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کیے جانے کے بعد 5 نومبر 1997 کو نگراں وزیراعظم کا عہدہ سونپا گیا تھا، وہ 17 فروری 1997 تک اس عہدے پر رہے، ان کی وزارت عظمیٰ کے 3 ماہ اور 12 دن تک رہی۔


نواز شریف

17 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1999

2 سال 7 ماہ 25 دن (967 دن)

عام انتخابات 3 فروری 1997

نواز شریف
نواز شریف

ملک میں 3 فروری 1997 کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھاری اکژیت حاصل کی، 17 فروری 1997 کو مسلم لیگ کے صدر نواز شریف نے دوسری مرتبہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔

ان کے اس دور حکومت کے نمایاں کاموں میں ملک میں نجی شعبے کے تعاون سے ملک کی صنعت کو مضبوط بنانا، غازی بڑوتھا اور گوادر بندرگاہ منصوبے، سندھ کے بے زمین ہاريوں ميں اراضی کی تقسیم جبکہ وسطی ایشیائی مسلم ممالک سے تعلقات مستحکام اور اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی ملی۔

اس کے علاوہ نواز شریف کے دور حکومت میں افغانستان کا بحران حل کرنے کی کوششیں کی گئیں جبکہ امریکی پابندیوں کے باوجود ملک کی معاشی ترقی حاصل کی گئی۔

نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کو تعینات کیا تاہم اسی روز 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت ختم کرکے ملک میں چوتھا مارشل لاء لگانے کے اعلان کیا، یوں وہ 2 سال 7 ماہ اور 25 دن کے بعد عہدے سے فارغ ہو گئے۔

فوج کی جانب سے ان کی حکومت ختم کرنے کے ساتھ ہی نواز شریف پر طیارہ سازش کیس کے ٹرائل کا آغاز کیا گیا، اس میں اغوا اور قتل کے الزامات شامل تھے لیکن عرب ممالک کے سربراہان کے دباؤ پر نواز شریف اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں نواز شریف اپنے اہل خانہ کے ساتھ سعودی عرب چلے گئے۔


جنرل پرویز مشرف

12 اکتوبر 1999 سے 18 اگست 2008

8 سال 10 ماہ اور 6 دن (3233 دن)

جنرل پرویز مشرف
جنرل پرویز مشرف

جنرل پرویز مشرف نے 1999 میں وزیراعظم نواز شریف کو برطرف کرکے ملک میں مارشل لاء لگایا جبکہ انہیں اور بینظیر بھٹو کے خاوند آصف علی زرداری کو جیل بھیج دیا، انہوں نے 2002 میں ریفرنڈم کرایا اور اس میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے آئندہ 5 سال تک ملک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی۔

اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں جنرل پرویز مشرف کی حمایت یافتہ پاکستان مسلم لیگ (ق) نے قومی اسمبلی کی بیشتر نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ دسمبر 2003 میں کیے گئے معاہدے (کہ وہ ایک سال کے بعد وردی اتار دیں گے) کو پورا نہیں کیا،تاہم انہوں نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں 17ویں ترمیم منظور کروا لی جس کے نتیجے میں انہیں پاکستان کے باوردی صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔

2007 میں انہوں نے ملک کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تاہم سپریم کورٹ نے اسے چیلنج کردیا جبکہ اسی دوران بینظیر بھٹو ملک میں واپس آگئیں، اس موقع پر انہوں نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا اور نئے چیف جسٹس کو مقرر کردیا گیا، جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کی تصدیق کی تاہم وکلاء کی جانب سےاس اقدام کی بھرپور طریقے سے مخالفت کی گئی، اس دوران کراچی میں 12 مئی کے پُرتشدد واقعات بھی پیش آئے، جس میں وکلا سمیت درجنوں شہری جاں بحق ہوئے جبکہ پرویز مشرف نے شدید عوامی دباو کے باعث افتخار محمد چوہدری کو دوبارہ چیف جسٹس کے عہدے پر بحال کردیا۔

اس دوران نواز شریف اور بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس لوٹے، دسمبر 2007 میں بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں ایک عوامی جلسے کے بعد خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، جس کے بعد 2008 میں پی پی پی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور یوسف رضا گیلانی کو ملک کا وزیراعظم نامزد کیا، اسی سال ملک کی دو اہم جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مخالفانہ مہم کے آغاز کے باعث صدر پرویز مشرف کو عہدے سے مستعفی ہونا پڑا، جس کے بعد پارلیمنٹ نے آصف علی زرادری کو ملک کا صدر منتخب کیا۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں مسئلہ کشمیر کو سیاسی اور سفارتی طور پر جبکہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے معاملے کو بھی نقصان پہنچا، اس دوران 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں دہشت گردی کے واقعات پیش آئے اور امریکا کی جانب سے ان واقعات کا افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن پر الزام لیا گیا اور افغانستان میں کارروائی کی گئی جس میں پاکستان، امریکا غیر نیٹو اتحادی بن گیا اور ملک کی طویل دہائیوں پر مشتمل افغان پالیسی تبدیل ہوگئی۔

اس جنگ کے دوران امریکی ہدایات پر 689 افراد گرفتار اور 369 افراد بشمول خواتین کو امریکا کے حوالے کیا گیا۔ جنرل مشرف اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ ان افراد کے عوض امریکا سے کئی ملین ڈالرز کے انعام وصول کئے گئے، ان میں سے بیشتر افراد کو امریکا نے گوانتا ناموبے میں کئی برس قید کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور بالآخر رہا کردیا۔

اس کے علاوہ جنرل پرویز مشرف کے نمایاں اقدامات میں پتنگ بازی اور مخلوط میراتھن ریس کی اجازت، حدود آرڈیننس میں ترمیم، جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر فوجی آپریشن، قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او)، بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران اکبر بگٹی کی ہلاکت، ڈاکٹر عبدالقدیر کو عہدے سے ہٹایا جانا اور ان کی طویل نظر بندی، اسرائیل سے درپردہ روابط اور بھارت سے تعلقات کی بہتری کے نام پر دوستی اور ثقافتی روابط شامل ہیں۔

نواز شریف کی معزولی کے بعد 12 اکتوبر 1999 سے 23 نومبر 2002 تک وزیراعظم کی نشست خالی رہی۔


ظفر اللہ خان جمالی

23 نومبر 2002 سے 26 جون 2004

ایک سال 7 ماہ اور 3 دن (581 دن)

عام انتخابات 10 اکتوبر 2002

ظفر اللہ خان جمالی
ظفر اللہ خان جمالی

جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں 10 اکتوبر 2002 کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کی کامیابی کے بعد ظفر اللہ خان جمالی نے 23 نومبر 2002 کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا، انہوں نے اپنے دور میں آمر پرویز مشرف کی خارجہ اور معاشی پالیسیز کو جاری رکھا تاہم اپنی مدت پوری نہ کرسکے اور پرویز مشرف سے اختلافات کے بعد 26 جون 2004 کو مستعفی ہوگئے۔

ظفر اللہ خان جمالی کے مستعفی ہونے کے بعد 26 جون 2004 سے 30 جون 2004 تک وزارت عظمیٰ کی نشست خالی رہی۔


چوہدری شجاعت حسین

30 جون 2004 سے 26 اگست 2004

1 ماہ 27 دن (57 دن)

چوہدری شجاعت حسین
چوہدری شجاعت حسین

ظفر اللہ خان جمالی کی استعفے کے بعد پارلیمنٹ نے مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شوکت حسین کو 30 جون 2004 کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا اور انہوں نے یہ عہدہ ایک ماہ اور 27 دن کے بعد 26 اگست 2004 کو شوکت عزیز کے سپرد کردیا۔


شوکت عزیز

28 اگست 2004 سے 15 نومبر 2007

3 سال 2 ماہ اور 18 دن (1174 دن)

شوکت عزیز — فوٹو: ڈان آرکائیو
شوکت عزیز — فوٹو: ڈان آرکائیو

شوکت عزیز 6 مارچ 1949 میں کراچی میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول سے حاصل کی، شوکت عزیز نے کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے گریجویٹ کیا اور 1969 میں سٹی بینک سے منسلک ہوگئے بعد ازاں انہوں نے مختلف ممالک میں سٹی بینک کی قائم شاخوں میں خدمات دیں اور 1999 میں سٹی بینک کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ مقرر ہوئے۔

شوکت عزیز نے اس وقت کے آمر پرویز مشرف کی درخواست پر امریکا سے واپس پاکستان آکر وزیر خزانہ کا قلمندان سنبھالا جبکہ انہیں ظفر اللہ خان جمالی کی جانب سے جون 2004 میں مستعفی ہونے کے بعد وزیراعظم بنا دیا گیا، ان کے دور میں اٹھائے جانے والے اہم اقدامات میں فوج اور پولیس میں کی جانے والی اصلاحات، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، جس کے باعث ملک کی آٹو موٹو صنعت، توانائی کے میگا پروجیکٹس اور پورٹ صنعتیں سامنے آئیں، اس کے علاوہ ملک میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکشن سروسز اور نجی میڈیا کو ترقی ملی۔

وہ 3 سال 2 ماہ 18 دن تک اپنے عہدے پر فائز رہے اور انہوں نے پارلیمانی مدت مکمل کی اور وہ پہلے پاکستانی وزیراعظم قرار پائے جن کی جماعت نے اپنی پارلیمانی مدت مکمل کی، وہ 15 نومبر 2007 تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔

نومبر 2007 کے بعد وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے سے اچانک غائب ہوگئے تاہم ان کا ذکر ایک مرتبہ پر 2011 میں اس وقت سامنے آیا جب نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں صدر پرویز مشرف کے ساتھ ان کا نام بھی ملزم کے طور پر سامنے آیا جس کے جواب میں انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کو دبئی سے تحریر کیے گئے ایک خط میں ان الزامات کی تردید کی اور بتایا کہ انہیں مذکورہ ’افسوس ناک‘ خبر کے حوالے سے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ نواب اکبر بگٹی فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔

بعد ازاں ان کا نام ایک مرتبہ پھر 5 نومبر 2017 کو اس وقت سامنے آیا جب پاکستان سمیت دنیا بھر کی اشرافیہ کے نام پاناما پیپرز لیکس میں آفشور کمپنیوں کے ساتھ جوڑے گئے، اس لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ شوکت عزیز ایک ٹرسٹ کے سربراہ ہیں جو انہوں نے خود قائم کیا تھا تاہم تاحال ان کی جانب سے اس کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آسکی۔


محمد میاں سومرو (نگراں وزیراعظم)

19 نومبر 2007 سے 24 مارچ 2008

4 ماہ 5 دن (126 دن)

محمد میاں سومرو — فوٹو: ڈان آرکائیو
محمد میاں سومرو — فوٹو: ڈان آرکائیو

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما محمد میاں سومرو نے 19 نومبر 2007 کو نگراں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور عام انتخابات کے بعد 4 ماہ اور 5 دن تک مذکورہ عہدے پر فائز رہنے کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا۔


یوسف رضا گیلانی

25 مارچ 2008 سے 19 جون 2012

4 سال 2 ماہ اور 25 دن (1574 دن)

یوسف رضا گیلانی — فوٹو: شٹر اسٹاک
یوسف رضا گیلانی — فوٹو: شٹر اسٹاک

یوسف رضا گیلانی بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں وزیر سیاحت بنائے گئے جبکہ انہیں 1993 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کا اسپیکر بنایا گیا بعد ازاں 2001 میں انہیں پرویز مشرف کی انتظامیہ نے اڈیالہ جیل بھیج دیا اس دوران ان پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیس چلایا گیا، یوسف رضا گیلانی کو 7 اکتوبر 2006 میں رہا کردیا گیا۔

مارچ 2008 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی نے دیگر 3 جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیا اور حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی جبکہ یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔

ان کے دور کے اہم اقدامات میں مستقل پانچ وفاقی بجٹ کا پیش کیا جانا، تعلیم، زراعت، معیشت اور دیگر شعبوں کی بہتری کے اعلانات جبکہ ملک میں توانائی کی ضرورت کو مکمل کرنے کے لیے جوہری پالیسی پر عمل درآمد شامل ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بینظیر بھٹو اور ان کے خاوند آصف علی زرداری کے خلاف قائم کرپشن مقدمات کے دوبارہ آغاز کے فیصلے کے باوجود یوسف رضا گیلانی نے ان مقدمات کو نہیں کھولا جس پر عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل 63 (ون) کے تحت ان کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے، اپریل 2012 کو 30 سیکنڈ کی علامتی سزا سنائی، بعد ازاں انہیں جون 2012 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپریل میں دی جانے والی سزا پر نا اہل قرار دے دیا جس کے بعد وہ عہدے سے سبکدوش ہوگئے، وہ 4 سال 2 ماہ اور 25 دن تک اپنے عہدے پر فائز رہے۔

یوسف رضا گیلانی کو ہٹائے جانے کے بعد 19 جون 2012 سے 22 جون 2012 کے درمیان وزارت عظمیٰ کی نشست خالی رہی۔


راجہ پرویز اشرف

22 جون 2012 سے 24 مارچ 2013

9 ماہ اور 2 دن (275 دن)

راجہ پرویز اشرف
راجہ پرویز اشرف

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے سبکدوش ہونے کے بعد 22 جون کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور وہ 9 ماہ اور دو دن تک اس عہدے پر فائز رہے، وہ ملک کے دوسرے وزیراعظم تھے جنہوں نے پارلیمانی مدت پوری کی۔

راجہ پرویز اشرف کو یوسف رضا گیلانی کے دور میں وفاقی وزیر پانی اور توانائی کا قلمندان سونپا گیا تھا، تاہم ان پر رینٹل پاور پلانٹ منگوانے اور اس میں کرپشن کا الزام بھی لگا جاتا رہا جبکہ اس دوران انہوں نے توانائی کے اہم ترین ہائیڈو منصوبے نیلم جہلم کے 970 میگا واٹ کے منصوبے کے آغاز کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مذکورہ منصوبے کو اس وقت دھچکا لگا جب اس منصوبے کے لیے چائینا کے بینک نے 44 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے قرضے کی فراہمی سے انکار کردیا۔

راجہ پرویز اشرف کی انتظامیہ کو سماجی و اقتصادی چیلنجز کا سامنا تھا تاہم اس دوران انہوں نے ملک میں سیاسی استحکام لانے اور ملک کی خارجہ پالیسی کو ازسر نو ترتیب دینے کی کوشش کی۔

2013 میں سپریم کورٹ نے انہیں رینٹل پاور پلانٹ میں مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کرنے کا حکم بھی دیا تھا تاہم انہوں نے عدالت میں پیش ہو کر تمام الزامات مسترد کیے اور تحقیقاتی اداروں سے ہر قسم کے تعاون کی پیش کش کی بعد ازاں احتساب عدالت نے 2014 میں رینٹل پاور پلانٹ کیس میں ان پر فرد جرم عائد کردی۔


میر ہزار خان کھوسو (نگراں وزیراعظم)

25 مارچ 2013 سے 5 جون 2013

2 ماہ 11 دن (72 دن)

میر ہزار خان کھوسو
میر ہزار خان کھوسو

میر ہزار خان کھوسو کو الیکشن کمیشن نے 24 مارچ 2013 کو نگراں وزیراعظم نامزد کیا تھا اور انہوں نے 25 مارچ 2013 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جبکہ انہوں نے انتخابات کے بعد 5 جون 2013 کو تقریبا 2 ماہ اور 11 روز کے بعد عہدہ چھوڑ دیا۔


نواز شریف

5 جون 2013 سے 28 جولائی 2017 تک

4 سال ایک ماہ اور 23 دن (1514 دن)

عام انتخابات 11 مئی 2013

نواز شریف — فوٹو: شٹر اسٹاک
نواز شریف — فوٹو: شٹر اسٹاک

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف 11 مئی 2013 کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے، ان سے وزارت عظمیٰ کا حلف صدر آصف علی زرداری نے لیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے انہیں پاناما پیپرز لیکس کے کیس میں جولائی 2017 میں نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا۔

نواز شریف کے دور اقتدار میں 2016 میں پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی جب بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘، ان انکشافات کے بعد ملک کی اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعد ازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی، جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔

جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پانچ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی کو پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، اسے بعد ازاں 28 جولائی کو سنا دیا گیا تھا جس کے مطابق نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف کو 28 جولائی 2017 کو سبکدوش ہونا پڑا، وہ مذکورہ عہدے پر 4 سال ایک ماہ اور 23 روز تک براجمان رہے۔

نواز شریف نے اپنے تیسرے دور حکومت میں ملک میں متعدد اقدامات اٹھائے جن میں کراچی میں امن و امان کے قیام کے لیے آپریشن کی اجازت اور رینجرز کے اختیارات میں توسیع، ملک میں امن کے قیام بلخصوص وفاق کے زیر انتظام قبائلی (علاقے) فاٹا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف متعدد فوجی آپریشنز، ملک کے شرح نمو میں اضافہ، توانائی کی کمی کو پوری کرنے کے لیے اہم توانائی کے منصوبوں کی تکمیل، صوبہ پنجاب میں میڑو بس اور اورنج لائن ٹرین کے منصوبوں کا آغاز، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور اس حوالے سے ملک کے مختلف علاقوں میں صنعتی زونز کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی سبکدوشی کے بعد وزیراعظم کی نشست 28 جولائی سے یکم اگست تک خالی رہی


شاہد خاقان عباسی

یکم اگست 2017 سے 31 جون 2018

شاہد خاقان عباسی
شاہد خاقان عباسی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر نواز شریف کو پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے اور ان کے سبکدوش ہونے کے بعد یکم اگست 2017 کو پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے شاہد خاقان عباسی کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا۔

اس سے قبل وہ 1988، 1999 اور 2008 میں بھی پارلیمنٹ کا حصہ رہے تھے، مسلم لیگ (ن) کے دوسرے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی کو پی آئی اے کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔

2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیر پیٹرولیم اور قدرتی ذخائر کا قلمندان دیا گیا تھا، بعد ازاں یکم اگست 2017 کو انہوں نے ملک کے 28ویں وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

ان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اہم اقدامات میں ایل این جی منصوبے پر عمل درآمد کرانا شامل ہے جس کے لیے گیس قطر سے بذریعہ سمندر کے راستے بحری جہازوں سے حاصل کی جارہی ہے، یہ گیس نا صرف توانائی کی پیداوار جبکہ صنعتوں اور دیگر صارفین کو بھی فراہم کی جائے گی تاہم شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی منصوبے کے لیے اربوں روپے کی رشوت لینے کا الزام لگایا جارہا ہے.

31 مئی 2018 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل کی اور شاہد خاقان عباسی بطور منتخب وزیر اعظم 10 ماہ خدمات انجام دینے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔

ناصر الملک (نگراں وزیراعظم)

یکم جون 2018 سے 18 اگست 2018

چیف جسٹس (ر) ناصر الملک
چیف جسٹس (ر) ناصر الملک

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ ممکنہ طور پر 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات وقت پر نہیں ہوں گے تاہم چیف جسٹس (ر) ناصر الملک کے بطور نگران وزیراعظم کا حلف لیتے ہی بالآخر تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں اور انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ نگراں حکومت کو انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوا۔

جسٹس (ر) ناصر الملک نے اپنے عدالتی کیریئر کا آغاز 1994 میں کیا اور 6 جون کو وہ پشاور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور 2004 تک اسی منصب پر رہے، بعد ازاں صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد 31 جولائی 2004 کو جسٹس (ر) ناصر الملک پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے جبکہ 2005 میں انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان منتقل کردیا گیا۔

اس کے علاوہ 30 نومبر 2013 سے 6 جولائی 2014 تک انہوں نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر پاکستان کے فرائض بھی سرانجام دیئے اور 6 جولائی 2014 کو جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان کے 22 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا اور 16 اگست 2015 تک اپنے منصب پر فائز رہے۔

بعد ازاں 5 جون 2018 کو نگراں حکومت کے دوران حکومتی امور چلانے کے لیے نگراں وفاقی کابینہ کے 6 اراکین نے حلف اٹھایا اور ان ارکان سے بھی صدرِ مملکت ممنون حسین نے حلف لیا تھا، اس نگراں وفاقی کابینہ میں محمد اعظم خان، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر عبداللہ حسین ہارون، محمد یوسف شیخ، مسز روشن خورشید، سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر اور بیرسٹر سید علی ظفر شامل تھے۔

نگراں حکومت نے 25 جولائی 2018 کو ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کا اپنا وعدہ پورا کیا۔


عمران خان

15 اگست 2018

عمران خان
عمران خان

25 جولائی 2018ء کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی اسمبلی کی 115 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ ان نتائج کے بعد یہ امکان بڑھ گیا تھا کہ وفاق میں اگلی حکومت تحریک انصاف کی ہی ہوگی۔ لیکن اس عمل کو پورا کرنے کے لیے اسے چند ووٹوں کی ضرورت تھی جس کے لیے پی ٹی آئی نے آزاد امیدواروں کے ساتھ ساتھ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، مسلم لیگ (ق)، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور عوامی مسلم لیگ کو ساتھ ملایا اور یوں اتحادیوں کی مدد سے عمران خان 176 ووٹ لے کر ملک کے 22ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔


عبدالرشید ڈان ڈاٹ کام کے اسٹاف ممبر ہیں۔