ای میل

کینیا کا شہر نیروبی، قدرتی حسن اور وہاں چھپی اداسی

عظمت اکبر

یہ اگست 2011ء کی پہلی تاریخ اور پہلا روزہ تھا جب مجھے ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ کی طرف سے افریقہ میں جاری قحط سالی سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے لیے روانہ کیا گیا۔

تقریباً ساڑھے 3 گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم دبئی ایئرپورٹ میں کینیا روانگی کے لیے کینین ایئرویز کے لاؤنج میں آکر بیٹھ گئے۔ دبئی ایئرپورٹ کا یہ خوبصورت لاؤنج سیاہ فام لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں آکر ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے ہم کسی نئی دنیا میں آگئے ہوں کیوں کہ پاکستانیوں اور عربوں کی شکلیں تو زیادہ تر ملتی جلتی ہیں لیکن پورے لاؤنج میں ہم 2 ہی مختلف شکل و صورت والے تھے۔

آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد ہم کینین ایئرویز کے خوبصورت جہاز میں بیٹھ گئے اور چند ہی منٹوں میں ہم دبئی کی بلند و بالا عمارتوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے لگ بھگ 5 گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد بادلوں سے ڈھکے ہوئے نیروبی شہر کی فضاؤں میں گھوم رہے تھے۔

نیروبی کا فضائی منظر— فوٹو عظمت اکبر
نیروبی کا فضائی منظر— فوٹو عظمت اکبر

ہمارا جہاز کینیا کے معیاری وقت کے مطابق 11 بجے صبح جومو کینیاٹا ائیرپورٹ پر اُتر گیا۔ کینین امیگریشن سے سامان کلئیر ہونے کے بعد اچانک نظر ائیرپورٹ پر لکھے ایک جملے پر نظر پڑی جس کا ترجمہ کچھ یوں بن رہا تھا کہ ’وہ کرو جو کینین کرتے ہیں۔‘

یہ جملہ ہمیں کچھ ہضم نہیں ہوا مگر ہم اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر انتظار میں کھڑے ہمارے میزبان، اسلامک فاؤنڈیشن کینیا کے چئیرمین اور 40 سال سے وہاں مقیم پاکستانی محمد اختر راؤ کی طرف روانہ ہوئے۔

نیروبی کی مرکزی شاہراہ پر رواں دواں ٹریفک کا منظر— فوٹو عظمت اکبر
نیروبی کی مرکزی شاہراہ پر رواں دواں ٹریفک کا منظر— فوٹو عظمت اکبر

کچھ ہی منٹوں کی ڈرائیو کے بعد ہم نیروبی شہر کے قلب ویسٹ لینڈ میں اُن کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ پہنچتے ہی میں نے حسبِ عادت اپنے میزبان کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم نے نیروبی شہر دیکھنے نکلنا ہے۔

جواب میں راؤ اختر صاحب نے کینیا کی مشہور کہاوت ’اکونا حراکا افریقہ، حراکا خینہ براکا‘ یعنی افریقہ میں کوئی جلدی نہیں اور جلدی میں کوئی برکت نہیں سنا کر ہمیں آرام کا مشورہ دیا، جس پر من و عن عمل کرکے کچھ دیر آرام کیا اور یہ طے کیا کہ روزہ افطار کرنے کے بعد باہر نکلا جائے گا، مگر افطاری کے بعد تھکاوٹ کی وجہ سے باہر نکلنے کا پروگرام صبح تک مؤخر کردیا گیا۔ اگلے دن صبح سویرے کچھ میٹنگز کے بعد ہم نیروبی شہر کو کھنگالنے نکل پڑے۔

دسمبر 1963ء میں برطانیہ سے آزاد ہونے والے تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ کی سیاہ فام آبادی اور 42 مختلف قبائل پر مشتمل کینیا کے نام کے بارے میں 2 مختلف آراء موجود ہیں۔ کامبا قبیلے کے مطابق برف والی جگہ کو کینیا کہا جاتا ہے جبکہ کیکویو قبیلے کے مطابق سفید پہاڑ کو کینیا کہا جاتا ہے۔

آبادی کا 70 فیصد حصہ عیسائی اور 30 فیصد مسلمان اور دیگر مذاہب پر مشتمل ہے۔ صاف ستھری آب و ہوا، خوبصورت ماحول، منفرد ثقافت، جنگلی جانور اور قدرتی وسائل سے مالا مال کینیا پوری دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

نیروبی— فوٹو عظمت اکبر
نیروبی— فوٹو عظمت اکبر

نیروبی میں ماسائی قبیلے کے جنگجو— فوٹو عظمت اکبر
نیروبی میں ماسائی قبیلے کے جنگجو— فوٹو عظمت اکبر

سواحلی سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے جبکہ سرکاری زبان انگلش ہے۔ خط استوا پر واقع ہونے کی وجہ سے کینیا کا موسم تقریباً سارا سال ہی اعتدال میں رہتا ہے۔ جنوری اور فروری کے مہینے گرم اور جولائی، اگست کے مہینے سرد تصور کیے جاتے ہیں، لیکن یہ سارا چکر 22 ڈگری سے لیکر 32 ڈگری تک ہی گھومتا ہے۔

کینیا کا خوبصورت دارالخلافہ نیروبی سطح سمندر سے 5 ہزار 449 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ نیروبی کا مطلب ٹھنڈے پانی والی جگہ ہے۔ 1890ء میں ماسائی قبیلہ یہاں پر پانی کی تلاش میں آیا تھا جس کے بعد اس جگہ کا نام نیروبی پڑگیا۔

شہر کے جنوبی حصے میں 117.21 کلومیٹر وسیع و عریض رقبے پر محیط نیشنل سفاری پارک ہے جو 1946ء میں بنایا گیا تھا۔ کینیا کے اس پہلے سفاری پارک میں انسان گاڑیوں میں قید جبکہ جانور کھلی فضا کا مزہ پوری طرٍح لے رہے ہوتے ہیں۔ سفاری پارک میں خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر آپ کو وائلڈ لائف فوٹو گرافی کے لیے شہر کی بلند و بالا عمارتوں کا بیک گراونڈ مل جاتا ہے۔

نیروبی کے نیشنل سفاری میں موجود شیر— فوٹو عظمت اکبر
نیروبی کے نیشنل سفاری میں موجود شیر— فوٹو عظمت اکبر

نیروبی کے نیشنل سفاری پارک میں خوبصورت زیبرا— فوٹو عظمت اکبر
نیروبی کے نیشنل سفاری پارک میں خوبصورت زیبرا— فوٹو عظمت اکبر

نیشنل سفاری پارک کے علاوہ اوہورو پارک، نیروبی میوزیم اور دیگر خوبصورت مقامات نیروبی شہر کی خوبصورتی کو دوبالا کرتے ہیں۔ رہائش کے لیے خوبصورت ہوٹلز، خریداری کے لیے بڑی بڑی مارکیٹس، شاپنگ مال، نائٹ کلبز اور دیگر سہولیات بھی موجود ہیں۔

نیروبی شہر کے قلب میں واقع خوبصورت جامع مسجد یہاں کے مسلمانوں کی شان کی عکاسی کرتی ہے۔ جامع مسجد کی کمیٹی پورے کینیا کے مسلمانوں کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کو حل کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اس کمیٹی میں زیادہ تر ممبران کا تعلق انڈیا اور پاکستان سے ہے، جبکہ کینیا اور باقی افریقہ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے ممبران بھی موجود ہیں۔

نیروبی کی ایک مسجد— فوٹو عظمت اکبر
نیروبی کی ایک مسجد— فوٹو عظمت اکبر

جامع مسجد سے باقاعدگی کے ساتھ انگلش اور سواحلی زبان میں ماہانہ میگزین بھی شائع ہوتا ہے، جبکہ اسلامک فاونڈیشن کے زیرِ انتظام دنیا بھر کے اسلامک اسکالرز کی کتابوں کے ترجمے مقامی زبان میں شائع کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف خوبصورت چرچ، مندر اور احمدی جماعت خانے بھی شہر کے مختلف مقامات میں موجود ہیں۔

نیروبی شہر میں ہوٹلز، الیکٹرانک مصنوعات اور دیگر کاروبار پر ہندوستان کے کاروباری طبقے کا پوری طرح قبضہ ہے جبکہ گاڑیوں کی لین دین، ان کی درآمد و برآمد اور حلال فوڈز میں پاکستانی اور عرب بزنس کمیونٹی بھی مضبوط نظر آتی ہے۔ پاکستان کی طرح چین یہاں بھی بڑے بڑے انفراسٹرکچر پروجیکٹس پر کام کر رہا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے خالد ایوب کا نیروبی میں اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد کورنیور (گوشت خور) کے نام سے باربی کیو ریسٹورنٹ ہے جس میں ہر قسم کے جانوروں کا گوشت باربی کیو کی صورت میں ملتا ہے۔

نیروبی کے علاوہ کینیا کے بڑے شہر ممباسا اور کیسومو ہیں جبکہ بڑے ٹاؤنز میں نکورو، ایلدورت، ایمبو، میرو، تکہ، گریسا اور کاکامیگا شامل ہیں۔ پورے کینیا میں ٹرانسپورٹ کی سہولت ہر جگہ موجود ہے۔ چھوٹے ائیر کرافٹ سے لے کر ہائی ایس تک کینیا کے کونے کونے تک آپ کو بہم پہنچاتی ہیں۔

سیکیورٹی کے لحاظ سے کینیا کو مشرقی افریقہ میں سب سے پُرامن ملک کہا جاتا ہے لیکن صومالیہ میں افریقن یونین کا حصہ ہونے کی وجہ سے الشباب اسلامی صومالیہ کی طرف سے کینیا-صومالیہ بارڈر اور نیروبی کے گرد و نواح میں حملے ہوتے رہتے ہیں جس میں سب سے بڑا حملہ نیروبی کے بڑے شاپنگ مال ویسٹ گیٹ پر 2013ء میں ہوا تھا جس میں 67 افراد ہلاک اور 175 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ نیروبی شہر اور گرد و نواح میں راہزنی کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں اس لیے سیاحوں کو رات کے وقت پیدل گھومنے سے منع کیا جاتا ہے۔

نیروبی شہر کی خوبصورتی سمیٹنے کے بعد اگلے دن کی منصوبہ بندی کے لیے ہم کینیا کے نوجوانوں کی تنظیم ینگ مسلم ایسوسی ایشن کے دفتر میں موجود تھے جہاں پر شمالی مشرقی خطے کی صورتحال اور قحط سالی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اگلے دن کے لیے ہمسفر احمد حسین کے ساتھ منصوبہ بندی کرنے کے بعد ہماری اگلی منزل ویسٹ لینڈ میں اپنی رہائش گاہ تھی جہاں ہمارا افطاری پر انتظار ہورہا تھا، لیکن نیروبی شہر کے بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے افطاری ہمیں گاڑی میں ہی کرنی پڑی۔

راستے میں ویسٹ گیٹ مال کی مشہور کینین کافی پینے سے دل و دماغ کو تسکین ملی۔ دیر تک ویسٹ گیٹ مال میں بیٹھنے کے بعد اپنے قیام گاہ کی طرف رخ کیا۔ گھر پر پہنچتے ہی ہمارے میزبان نے تاخیر سے آنے پر ایسا استقبال کیا جو آج تک گھر لیٹ آنے پر یاد آتا ہے۔

اگلے دن نمازِ فجر کے بعد ہم احمد حسین کے گھر پہنچ گئے جہاں سے تقریباً 10 بجے کے قریب کچھ عرب دوستوں کے ساتھ فور بائی فور گاڑیوں کے ذریعے شمالی مشرقی خطے کے سب سے بڑے ٹاؤن گریسا کی طرف روانہ ہوئے۔ نیروبی سے کچھ ہی دیر سفر کرنے کے بعد ہم خشک صحرائی جنگل میں داخل ہوئے۔ طویل مگر ایڈونیچر سے بھرپور یہ سفر 8 گھنٹے تک جاری رہا۔ گزشتہ روز کی طرح آج بھی ہمیں افطاری راستے میں ہی کرنی پڑی۔ افطاری اور نماز سے فارغ ہوکر تقریباً 30 منٹ کی ڈرائیو کے بعد شمالی مشرقی خطے میں داخل ہوئے۔

کینیا میں مسلمانوں کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد شمالی مشرقی خطے میں ہے۔ یہاں کا کچھ حصہ صومالیہ اور کچھ حصہ تنزانیہ کے بارڈر سے ملتا ہے جو عرصہ دراز سے خشک سالی کا شکار ہے۔ یہاں آباد زیادہ تر آبادی صومالی مسلمانوں کی ہے جو چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس خطے میں خشک سالی کی وجہ سے کافی مسائل ہیں۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے خوراک کی قلت اور صحتِ عامہ کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔

کچھ دیر مزید سفر کرنے کے بعد ہم گریسا ٹاؤن پہنچ گئے جہاں ینگ مسلم ایسوسی ایشن کے یتیم خانے کے مہمان خانے میں ہمارے قیام کا بندوبست کیا گیا تھا۔ کھانے اور عشاء کی نماز کے بعد جلد ہی ہم سارے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگے۔

صبح سحری کے بعد ہم اپنی اگلی منزل، دنیا کے سب سے بڑے صومالین مہاجرین کے داداب کیمپ کی طرف روانہ ہوئے۔ صومالین بارڈر کے قریب داداب کیمپ کا یہ سفر جہاں صحرا اور جنگل کے کچّے راستوں کا امتزاج تھا وہیں جگہ جگہ پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بدحالی، مرے ہوئے جانور اور دور دور تک زندگی کا نام نہ ہونے کی منظر کشی کرتا رہا۔

داداب کیمپ کے قریب بھوک و پیاس کی وجہ سے ایک جانور دم توڑ گیا— فوٹو عظمت اکبر
داداب کیمپ کے قریب بھوک و پیاس کی وجہ سے ایک جانور دم توڑ گیا— فوٹو عظمت اکبر

مردار جانور کی ایک جھلک— فوٹو عظمت اکبر
مردار جانور کی ایک جھلک— فوٹو عظمت اکبر

تقریباً 4 گھنٹے کے گرد و غبار سے بھرپور سفر کے بعد ہم داداب کیمپ میں تھے۔ افغان مہاجرین کی طرح یہاں پر بھی صومالیہ میں 20 سالہ خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں صومالین مہاجرین داداب کیمپ میں خیموں اور عارضی گھروں میں مقیم ہیں۔

دنیا کی تمام بڑی این جی اوز اس کیمپ کے اندر 20 سال سے کام کر رہی ہیں۔ جنگ سے متاثرہ افراد کے علاوہ قحط سالی سے بھی ہزاروں مہاجرین صومالیہ سے کینیا کے اس کیمپ میں منتقل ہوچکے ہیں۔ ان علاقوں میں خوراک کی کمی کی وجہ سے ہزاروں بچے جاں بحق جبکہ سیکڑوں بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہوچکے تھے۔

داداب کیمپ پر امداد کے منتظر لوگ— فوٹو عظمت اکبر
داداب کیمپ پر امداد کے منتظر لوگ— فوٹو عظمت اکبر

کیمپ میں موجود معصوم بچے— فوٹو عظمت اکبر
کیمپ میں موجود معصوم بچے— فوٹو عظمت اکبر

خوراک اور امداد کی منتظر خواتین— فوٹو عظمت اکبر
خوراک اور امداد کی منتظر خواتین— فوٹو عظمت اکبر

غربت اور بھوک و افلاس کی وجہ سے بچے انتہائی کمزور ہوگئے ہیں— فوٹو عظمت اکبر
غربت اور بھوک و افلاس کی وجہ سے بچے انتہائی کمزور ہوگئے ہیں— فوٹو عظمت اکبر

یہاں تقریباً 300 خاندانوں میں ایک مہینے کے لیے خوراک تقسیم کرنے کے بعد ہم واپس گریسا کے لیے روانہ ہوئے اور راستے میں کچھ جگہوں پر پانی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔

اس خطے کا دوسرا بڑا قصبہ ایسیولو ہے اور یہاں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ گریسا سے تقریبا 8 گھنٹے کے گھنے جنگل میں سفر کرنے کے بعد اگلے دن ایسیولو کے ایک بڑے قصبے گربت اللہ میں اسلامک فاؤنڈیشن کینیا کے زیرِ انتظام یتیم لڑکیوں کے ایک ہائی سیکنڈری اسکول کو دیکھنے کا موقع ملا۔

گربت اللہ میں اسلامک فاؤنڈیشن کے زیر انتظام یتیم بچیوں کے اسکول کا ایک منظر— فوٹو عظمت اکبر
گربت اللہ میں اسلامک فاؤنڈیشن کے زیر انتظام یتیم بچیوں کے اسکول کا ایک منظر— فوٹو عظمت اکبر

اسکول کا اندورنی منظر جہاں طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں— فوٹو عظمت اکبر
اسکول کا اندورنی منظر جہاں طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں— فوٹو عظمت اکبر

گربت اللہ ٹاؤن میں بھی مسلمانوں کی حالتِ زار ناگفتہ بہ تھی۔ بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ کچی سڑکیں، صحت عامہ کی عدم سہولیات، رہائش کے لیے جھونپڑیاں اور روزگار کے لیے وسائل کی کمی یہاں کے مسلمانوں کے سب سے بڑے مسائل ہیں۔ عرب دنیا اور ترکی کی فلاحی تنظیمیں اس پورے علاقے میں ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

یہاں پر 2 دن قیام کے بعد ہم وسطی کینیا سے ہوتے ہوئے نیروبی کی طرف روانہ ہوئے۔

وسطی کینیا بھی انتہائی خوبصورت ہے۔ یہ نیروبی کے شمال میں واقع ہے۔ اس کو ماؤنٹ کینیا کا گھر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر پہاڑی علاقہ ہے۔ سرسبز اور شاداب کھیت یہاں کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کرتے ہیں۔ یہاں پر چائے، کافی، گندم، جوار، آم اور ہر قسم کی سبزی کی پیداوار ہوتی ہے۔ وسطی کینیا میں زیادہ تر آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے، لیکن یہاں مسلمان بھی آباد ہیں۔

وسطی کینیا کا ہیڈ کوارٹر نیری ٹاؤن ہے جس کو اگر پہاڑوں کے درمیان میں ایک خوبصورت وادی کہا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ تاریخ دانوں کے مطابق کیکوئی قبیلے ماؤنٹ کینیا کے آخری کونے کو اپنی زبان میں نیری کہتے ہیں۔ یہاں کے مشہور تفریحی مقامات ماؤنٹ کینیا، نیشنل سفاری پارک، ایبریڈرز فال، میرو نیشنل پارک، روٹنڈہو جھیل، کیامینہ فارم، ٹھوم سنز فالز، سویٹ واٹر ریزرو اور سمبورو نیشنل ریزرو ہیں۔ سینٹرل کینیا کا دوسرا بڑا شہر ٹکہ ٹاؤن ہے جو نیروبی شہر کے قریب ترین شہروں میں سے ہے۔ یہاں پر سیاحوں کے لیے خوبصورت مقامات اور تمام تر سہولیات موجود ہیں۔

وسطی کینیا زیادہ تر پہاڑی علاقہ ہے۔ سرسبز اور شاداب کھیت یہاں کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کرتے ہیں— فوٹو عظمت اکبر
وسطی کینیا زیادہ تر پہاڑی علاقہ ہے۔ سرسبز اور شاداب کھیت یہاں کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کرتے ہیں— فوٹو عظمت اکبر

وسطی کینیا میں زیرِ تعمیر مسجد— فوٹو عظمت اکبر
وسطی کینیا میں زیرِ تعمیر مسجد— فوٹو عظمت اکبر

وسطی کینیا میں موجود انتہائی خوبصورت ہوٹل— فوٹو عظمت اکبر
وسطی کینیا میں موجود انتہائی خوبصورت ہوٹل— فوٹو عظمت اکبر

نیروبی میں کئی دن قیام کے بعد ہماری اگلی منزل کینیا کے کراچی یعنی ممباسا شہر تھی۔ ساحلی ریجن کا بڑا شہر ممباسا نیروبی سے 8 گھنٹے اور 30 منٹ کی مسافت پر ہے اور تاریخی اعتبار سے یہ کینیا کا سب سے اہم شہر ہے۔ 2 ہزار سال پرانا یہ شہر 295 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا پرانا نام منباسا تھا۔ 11ویں صدی عیسوں میں عرب تاجر اس شہر کو تجارت کے لیے استعمال کرتے تھے اور آج ممباسا پورٹ کے ذریعے کینیا دنیا بھر کے ساتھ سمندری راستے سے منسلک ہے اور معشیت کا بڑا دار و مدار اس پورٹ پر ہے۔

ساحلی شہر ممباسا کا ایک خوبصورت منظر— فوٹو عظمت اکبر
ساحلی شہر ممباسا کا ایک خوبصورت منظر— فوٹو عظمت اکبر

ممباسا میں بھی عام سفر کے لیے رکشوں کا ہی استعمال کیا جاتا ہے— فوٹو عظمت اکبر
ممباسا میں بھی عام سفر کے لیے رکشوں کا ہی استعمال کیا جاتا ہے— فوٹو عظمت اکبر

ممباسا کے ساحل پر مقامی لوگ اونٹ کی سواری سے محظوظ ہورہے ہیں— فوٹو عظمت اکبر
ممباسا کے ساحل پر مقامی لوگ اونٹ کی سواری سے محظوظ ہورہے ہیں— فوٹو عظمت اکبر

ممباسا کی معروف یادگار— فوٹو عظمت اکبر
ممباسا کی معروف یادگار— فوٹو عظمت اکبر

دنیا بھر سے سمندری جہازوں کے ذریعے درآمد و برآمد کا کام کیا جارہا ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں سال پرانی عمارتوں پر مشتمل اس شہر کی خوراک، لباس اور دیگر چیزوں میں عرب کلچر نمایاں نظر آتا ہے۔

ممباسا شہر اور اس کے گرد و نواح میں سیاحوں کے لیے کئی خوبصورت اور تاریخی مقامات موجود ہیں جن میں ڈیانی ساحل، شیمبا ہلز، ہیلر پارک، اربوکو سوکوکی نیشنل پارک، ممباسا مرین نیشنل پارک اور سواحلی ثقافتی مرکز قابلِ ذکر ہیں۔

عام طور پر کینیا کا نام سن کر یہی خیال آتا ہے کہ بھلا وہاں سیر و تفریح کے لیے کیا ہوگا؟ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اگر آپ کو قدرتی خوبصورتی سے لگاؤ ہے تو ایک بار آپ کو ضرور یہاں آنا چاہیے۔


عظمت اکبر سماجی کارکن اور ٹریپ ٹریولز پاکستان کے سی ای او ہیں۔ آپ کو سیاحت کا صرف شوق ہی نہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے پُرعزم بھی ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔