سری لنکا: کوہِ قاف کے طلسماتی دیس کو جاتا راستہ

سری لنکا کا شمار صرف سستے اور خوبصورت ترین ممالک میں نہیں ہوتا بلکہ پاکستانی سیاحوں کو سب سے زیادہ عزت بھی یہیں ملتی ہے۔
اپ ڈیٹ مارچ 14, 2018 05:31pm

سمن نے کولمبو کے ایک کلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کی زیادہ تر رقاصائیں پاکستانی ہیں، یہی نہیں بلکہ کولمبو میں مہنگی ترین جسم فروش خواتین کا تعلق بھی اُسی خطے سے ہے۔ میرے لیے سمن کے دونوں انکشافات حیران کن تھے، میں نے کہا کہ تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو؟

سمن میرا ڈرائیور ہونے کے ساتھ ٹؤرسٹ گائیڈ بھی تھا۔ رات گئے جب میں کولمبو ایئر پورٹ پر اُترا تو چھم چھم بارش ہو رہی تھی۔ ایئرپورٹ سے ہی میں نے ایک ٹؤرسٹ کمپنی سے 6 دن کا پیکیج لیا تھا۔ سری لنکا کا شُمار دنیا کے سستے اور خوبصورت ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ سستی پڑتی ہے لیکن اس میں وقت زیادہ صَرف ہوتا ہے جبکہ میں 6 دن کے اندر اندر زیادہ سے زیادہ مقامات کی سیر کرنا چاہتا تھا۔

سری لنکن روپے کی قدر پاکستانی روپے سے کم ہے۔ کار، ڈرائیور، ہوٹل اور ناشتے سمیت مجھے یہ پیکیج تقریباً ایک لاکھ سری لنکن روپے میں ملا جو میں نے فوراً قبول کرلیا۔ مجھے رعایت اس وجہ سے بھی ملی کہ میں پاکستانی تھا۔ میں دنیا کے کم و پیش 25 سے 30 ممالک کی سیر کرچکا ہوں۔ میرے خیال میں اگر کسی ملک میں پاکستانی سیاحوں کی سب سے زیادہ عزت کی جاتی ہے تو وہ سری لنکا ہے اور اس کے بعد شاید ترکی آئے۔

سری لنکا مقناطیسی اور جادوئی سرزمیں ہے۔ رات کے 11 بج چکے تھے، ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں کسی جنگل میں آگیا ہوں۔ کئی دیگر آوازوں کے ساتھ جھینگر کی آوازیں ماحول کو انتہائی پُراسرار بنا رہی تھیں۔ کیلے، پام اور ناریل کے پتوں پر گرتی ہوئی بارش کی جھنکار ان سنے سے سُر بکھیر رہی تھی۔

صبح جب کمرے سے باہر جھانک کر دیکھا تو دور دور تک ناریل اور پام کے درختوں کے جھنڈ نظر آ رہے تھے۔ میں ناشتہ کر ہی رہا تھا کہ سمن مسکراتا ہوا میری ٹیبل پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ ’میں آپ کا نیا ڈرائیور ہوں، رات والے لڑکے کو کمپنی نے کہیں اور بھیج دیا ہے۔‘

سمن ٹوٹی پھوٹی اردو بھی بول لیتا تھا اور چند برس قطر میں بھی گزار کر آیا تھا۔ سمن کی عمر 40 برس کے لگ بھگ ہوگی لیکن چہرے پر ہر دم مسکراہٹ سجی رہتی تھی۔ میں جب بھی پوچھتا کیا حال ہے، اس کا ایک ہی جواب ہوتا، ’سب پِھٹ ہے،‘ وہ ’ف‘ کی جگہ ہمیشہ ’پھ‘ لگا دیتا تھا۔

ہماری سب سے پہلی منزل سری لنکا کا دیو مالائی شہر کینڈی تھا اور کولمبو سے نکلنے کے ساتھ ہی سمن مجھے پاکستانی ڈانسرز اور جسم فروش خواتین سے متعلق معلومات فراہم کرنے لگا تھا۔ اس نے مجھے 2015ء کی ایک ویڈیو دکھائی، جس میں سری لنکن حُکام ایک ہوٹل پر چھاپہ مار رہے ہیں اور پاکستانی خواتین کو گرفتار کررہے ہیں۔ اس گروپ میں لاہور کی 16 سالہ لڑکیاں بھی شامل تھیں۔

آپ کسی بھی سنہالی سے پوچھ لیں وہ یہی کہتا ہے کہ اگر پاکستان ہمارا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی بھی تامل باغیوں کی تحریک کو کُچل نہیں سکتے تھے۔

ہماری گاڑی کولمبو سے تقریباً 130 کلومیٹر دور کینڈی کی طرف رواں دواں تھی، تھوڑی ہی دیر بعد ہم نے اپنے سفری پلان میں رد و بدل کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ واپسی پر ایسے ہی کسی کلب میں پاکستانی ڈانسرز سے ملاقات کی جائے گی۔

لیکن ان پس پردہ کہانیوں سے قطع نظر سری لنکا میں پاکستانیوں کی عزت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کے حمایت یافتہ تامل باغیوں کے خلاف سری لنکا کو نہ صرف ہتھیار فراہم کیے تھے بلکہ اُن کے فوجیوں کی ٹریننگ بھی کی تھی۔ سری لنکا میں 75 فیصد آبادی بدھ مت سنہالیوں پر مشتمل ہے اور وہ 37 سالہ خانہ جنگی میں کامیابی کی وجہ سے پاکستانیوں کی دل سے قدر کرتے ہیں۔

سری لنکا میں 75 فیصد آبادی بدھ مت سنہالیوں پر مشتمل ہے—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا میں 75 فیصد آبادی بدھ مت سنہالیوں پر مشتمل ہے—تصویر امتیاز احمد

سری لنکا میں ایستادہ بدھ مت سے منسوب مجسمے—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا میں ایستادہ بدھ مت سے منسوب مجسمے—تصویر امتیاز احمد

بدھ ٹیمپل—تصویر امتیاز احمد
بدھ ٹیمپل—تصویر امتیاز احمد

آپ کسی بھی سنہالی سے پوچھ لیں وہ یہی کہتا ہے کہ اگر پاکستان ہمارا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی بھی تامل باغیوں کی تحریک کو کُچل نہیں سکتے تھے۔ ایئرپورٹ سے لے کر سیاحتی مقامات تک، جہاں بھی آپ کہتے ہیں کہ آپ پاکستانی ہیں تو لوگوں کا آپ سے رویہ کافی تبدیل ہوجاتا ہے۔

کینڈی سے تقریباً 15 کلومیٹر دور جنت الدنیا (سمبھواتا لیک) نامی ایک جھیل واقع ہے۔ یہ جھیل اونچے اونچے سر سبزو شاداب پہاڑوں کے بنے پیالے کے وسط میں ہے اور پہاڑوں کے دامن میں آباد مسلم اقلیت نے اسے ’جنت الدنیا‘ کا نام دے رکھا ہے۔ کینڈی جانے سے پہلے سمن نے گاڑی ایک تنگ اور بل کھاتے پہاڑی راستے پر ڈال دی۔ ایک خاص مقام کے بعد راستہ اس قدر تنگ ہوجاتا ہے کہ جھیل تک پہنچنے کے لیے ٹُک ٹُک (رکشہ) لینا پڑتا ہے۔

بلندی کی طرف لے جاتے راستے پر چلتے آپ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف سے آبشاروں سے گِرتا ہوا پانی فضا کو معطر بناتا ہے اور دوسری طرف تاحدِ نظر پہاڑوں پر سبز قالین کی طرح بچھے ہوئے چائے کے باغات ہیں۔ اُن باغات کے بیچوں بیچ بنے پگڈنڈی نما راستوں پر ٹُک ٹُک چلتا رہتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ جیسے یہی راستہ کوہِ قاف کی پریوں کے طلسماتی دیس کی طرف جاتا ہے۔

چائے کے باغات—تصویر امتیاز احمد
چائے کے باغات—تصویر امتیاز احمد

چائے کے باغات—تصویر امتیاز احمد
چائے کے باغات—تصویر امتیاز احمد

چائے کے باغات—تصویر امتیاز احمد
چائے کے باغات—تصویر امتیاز احمد

جھیل پر پہنچتے ہی انسان دم بخود رہ جاتا ہے۔ دیو قامت پہاڑوں کے اوپر کسی حسینہ کے رسمساتے، سجیلے بدن کے ابھاروں جیسے سرسبز ٹیلوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور ان کے عین وسط میں یہ جھیل واقع ہے۔ میرے دل میں پہلا خیال یہ آیا کہ یہاں ضرور چاندنی راتوں میں سگندھ لیے مرمریں اور عنبریں جسموں والی پریاں بامِ فلک سے اُترتی ہوں گی۔ شیشے کی طرح جھیل کے ٹھہرے پانی میں ان سرسبز و شاداب پہاڑوں کا عکس یوں معلوم ہوتا ہے کہ جھیل کے نیچے بھی ایک دنیا آباد ہے۔

جھیل میں بارش کے قطرے گریں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پہاڑوں میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔ مجھے واقعی دنیا میں یہ جنت کا مقام لگا۔ پہاڑوں کے عقب سے ایک دم بادل نمودار ہوتے تھے اور وہاں موجود ہر شے کو اپنی گود میں لے لیتے تھے اور چند ہی لمحوں بعد بادلوں کی اوٹھ سے سرسبز ٹیلے نمودار ہوجاتے تھے۔

جنت الدنیا (سمبھواتا لیک) کا دل موہ لینے والا منظر—تصویر امتیاز احمد
جنت الدنیا (سمبھواتا لیک) کا دل موہ لینے والا منظر—تصویر امتیاز احمد

ہوا میں سوندھی سوندھی مہک، دھواں دھواں سے بادلوں اور ٹیلوں میں یہ آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری تھا کہ ٹُک ٹُک والے نے کہا کہ امتیاج بھائی، اگر آپ کینڈی میں شام کی دعائیہ تقریب دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ابھی واپس نکلنا ہوگا۔

یہاں ضرور چاندنی راتوں میں سگندھ لیے مرمریں اور عنبریں جسموں والی پریاں بامِ فلک سے اُترتی ہوں گی—تصویر امتیاز احمد
یہاں ضرور چاندنی راتوں میں سگندھ لیے مرمریں اور عنبریں جسموں والی پریاں بامِ فلک سے اُترتی ہوں گی—تصویر امتیاز احمد

سرسبز و شاداب پہاڑوں کا عکس یوں معلوم ہوتا ہے کہ جھیل کے نیچے بھی ایک دنیا آباد ہے—تصویر امتیاز احمد
سرسبز و شاداب پہاڑوں کا عکس یوں معلوم ہوتا ہے کہ جھیل کے نیچے بھی ایک دنیا آباد ہے—تصویر امتیاز احمد

میں آج بھی اس جھیل کے بارے میں سوچتا ہوں تو کسی طلسماتی مقام پر پہنچ جاتا ہوں۔ واپسی کے راستے پر کچھ نوجوان جوڑے دور اُفق کی جانب دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کو لازوال محبت کی یقین دہانیاں کروا رہے تھے۔

راستے میں ٹُک ٹُک ڈرائیور نے ایک درخت سے کچھ چیزیں توڑیں اور مجھے ٹیسٹ کرنے کے لیے دیں۔ یہ سُرخ اور سبزی مائل لونگ تھے۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ لونگ کا درخت دیکھا تھا۔ میں نے ایک چھوٹی سی خوشبودار ٹہنی توڑی اور اپنے بیگ میں رکھ لی۔ سری لنکا کے مصالحے مشہور ہیں۔ یہ دار چینی پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بھی ہے۔ وہاں میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ کس طرح ایک مخصوص درخت کی چھال اتار کر دار چینی بنائی جاتی ہے۔

بدھ مت ٹیمپل میں جاری دعائیہ تقریب—تصویر امتیاز احمد
بدھ مت ٹیمپل میں جاری دعائیہ تقریب—تصویر امتیاز احمد

سری لنکا میں واقع ایک مندر—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا میں واقع ایک مندر—تصویر امتیاز احمد

کینڈی کے ٹوتھ ٹیمپل (شری دالدا مالی گاوا) تک پہنچتے ہمیں شام کے 4 بج چکے تھے۔ اس ٹیمپل میں مہاتما بدھ کا دانت رکھا گیا ہے۔ سری لنکا میں اس ٹیمپل کو بدھ مت کے پیروکار اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں، جتنی مسلمان مکہ میں خانہ کعبہ کو۔ سمن نے دروازے پر کھڑے محافظوں کو بتایا کہ یہ پاکستانی سیاح ہے تو اُنہوں نے بغیر ٹکٹ کے مجھے اندر جانے دیا۔ وہاں دعائیہ تقریب دیکھنا ایک لائف ٹائم تجربہ ہے۔ کئی دیگر ملکوں کے علاوہ سری لنکا کے کونے کونے سے بدھ زائرین اپنی حاجتوں کے ساتھ وہاں پہنچتے ہیں۔ سفید اور گلابی کنول، نیلوفر، ٹیمپل کے اندر بجنے والے ساز، بدھ بکھشوؤں کا دعا پڑھنے کا انداز، صندل کا تیل اور اگربتیوں کی خوشبو آپ کو ایک دوسری ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

سری لنکا کا ایک بدھ ٹیمپل—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا کا ایک بدھ ٹیمپل—تصویر امتیاز احمد

بدھ ٹیمپل—تصویر امتیاز احمد
بدھ ٹیمپل—تصویر امتیاز احمد

سری لنکا کا ایک بدھ ٹیمپل—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا کا ایک بدھ ٹیمپل—تصویر امتیاز احمد

کئی دیگر ملکوں کے علاوہ سری لنکا کے کونے کونے سے بدھ زائرین یہاں اپنی حاجتوں کے ساتھ پہنچتے ہیں—تصویر امتیاز احمد
کئی دیگر ملکوں کے علاوہ سری لنکا کے کونے کونے سے بدھ زائرین یہاں اپنی حاجتوں کے ساتھ پہنچتے ہیں—تصویر امتیاز احمد

مغرب کے وقت ہم ٹیمپل سے باہر نکلے تو مجھے محسوس ہوا جیسے ایک دم اذانوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ میں نے سمن سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ بدھ مت میں پڑھی جانے والی مخصوص دعائیں ہیں لیکن ان کی طرز اذان سے انتہائی ملتی جلتی ہے۔ اسی طرح مہاتما بدھ کی شان میں پڑھی جانے والی تعریفی نظموں کی طرز بھی ہماری نعتوں سے انتہائی مشابہہ ہے۔

اگلی صبح کینڈی سے 90 کلومیٹر شمال میں واقع سری لنکا کے انتہائی قدیم قلعے ’سگیریا‘ کی ٹکٹ لینے کے لیے لائن میں کھڑا تھا۔ وہاں ایک دیسی خاتون بھی کھڑی نظر آئی۔ گورا چٹا رنگ، تیکھے نین نقش، کھلے سیاہ لمبے بال، دھوپ سے بچنے کے لیے اس نے سیاہ رنگ کا چشمہ بھی لگا رکھا تھا۔ پھر جینز اور اوپر کیسری رنگ کا کُرتا کنول دیپ کور کو سب سے منفرد بنا رہا تھا۔ ایک بلند پہاڑ پر واقع یہ قلعہ تقریباً 473 برس بعد از مسیح تعمیر کیا گیا تھا اور اب وہاں اس کی صرف باقیات ہی بچی ہیں۔ یہ کولمبو سے تقریباً 2 گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں کی ٹکٹ تقریباً 4 ہزار سری لنکن روپے ہے لیکن وہاں بھی لکھا ہوا ہے کہ پاکستانی شہری نصف قیمت ادا کریں گے۔

قدیم قلعہ سگیریا—تصویر امتیاز احمد
قدیم قلعہ سگیریا—تصویر امتیاز احمد

قلعہ سگیریا—تصویر امتیاز احمد
قلعہ سگیریا—تصویر امتیاز احمد

اس نے ایک ہاتھ میں کڑا بھی پہنا ہوا تھا۔ میں نے اسے انگلش میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا تم بھارت سے آئی ہو؟‘ اس نے کہا کہ ’نہیں میں کینیڈا سے آئی ہوں لیکن بھارت میں ہمارے رشتہ دار ہیں اور سری لنکا کے مختصر قیام کے بعد میں سیدھا بھارت ہی جاؤں گی۔‘ اس نے مجھ سے پوچھا کہ ’تم کہاں سے ہو؟‘ میں نے بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں اور پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق ہے۔

پنجاب کا نام سنتے ہی وہ اُچھل پڑی اور ایک دم بولی، ’تے فیر تُسی پنجابی وچ گل کرو نا، دفعہ مارو انگلش نوں۔ شکر اے مینوں کوئی پنجابی بولن والا بندہ وی ملیا اے۔‘ میں حیران ہوا کہ وہ پیدا بھی کینیڈا میں ہوئی تھی اور اس نے یونیورسٹی تک تعلیم بھی وہاں حاصل کی ہے لیکن پھر بھی اس کی پنجابی اتنی شاندار ہے۔

کنول دیپ نے بتایا کہ سکھوں کے زیادہ تر بچے کینیڈا میں پنجابی کی اسپیشل کلاسز لیتے ہیں اور چونکہ گرنتھ صاحب بھی پنجابی ہے تو اس وجہ سے وہ پنجابی لازمی سیکھتے ہیں۔ پھر ہم شام تک ایک ساتھ ہی گھومتے رہے، پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے میں کم از کم ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ راستہ تھکا دینے والا اور دشوار گزار ہے، ہم جب بھی تھک کر بیٹھتے تو وہ سریندر کور کا کوئی پنجابی گیت گنگنانا شروع کردیتی۔

چائے کا ایک باغ—تصویر امتیاز احمد
چائے کا ایک باغ—تصویر امتیاز احمد

میں اپنے موبائل سے تصویریں بنا رہا تھا جبکہ اس کے پاس پروفیشنل فوٹو گرافرز کی طرح ڈی ایس ایل آر کیمرہ تھا۔ اس نے ای میل پر تصاویر بھیجنے کا وعدہ کرتے ہوئے میری تصاویر بنانے کی ذمہ داری لے لی۔ اس نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کولمبو ایئرپورٹ پر ملتے تو پنجابیوں کو ایک ساتھ سری لنکا میں آوارہ گردی کرنے کا موقع مل جاتا۔

میں نے بھی کہا، ہاں لیکن زور اگر پر ہے۔ حیران کن طور پر کینیڈا کی پینٹ شرٹ اور چیونگم چبانے والی لڑکی بابا بلھے شاہ کے کلام سے لے کر وارث شاہ کی ہیر تک سے آشنا تھی۔ شام کو مُسکراتے اور ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اور میں نوئریلیا کی طرف چلا گیا۔ وہ نوئریلیا دیکھ کر آرہی تھی لیکن مجھے ابھی جانا تھا۔

باغات میں چائے کے پتّے چُننے والی خواتین سے مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ سیلون بلیک، وائٹ اور گرین ٹی ایک ہی پودے سے حاصل ہوتی ہے

آپ سب نے لپٹن چائے کا نام سن رکھا ہوگا۔ 1890ء میں سری لنکا برطانیہ کی کولونی تھا اور اس زمانے میں لپٹن چائے کی فیکڑی کی بنیاد نوئریلیا میں ہی رکھی گئی تھی۔ گلاسکو کے سر تھومس لپٹن نے یہاں ساڑھے 5 ہزار ایکڑ زمین خریدی تھی اور یہاں سے چائے کو براہِ راست برطانیہ برآمد کرنا شروع کیا۔

پہاڑی و سیاحتی شہر نوئریلیا چاروں اطراف سے تاحدِ نگاہ چائے کے باغات میں گِھرا ہوا ہے اور یہاں کی آبشاریں اس کے حُسن میں مزید اضافہ کردیتی ہیں۔ سری لنکا اس وقت بھی دنیا میں چائے پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ یہ 1505ء میں پرتگالی کالونی بنا، 1658ء میں یہ ہالینڈ (ڈچ حکومت) کے ماتحت آیا اور پھر 1796ء میں برطانیہ کے زیرِ انتظام چلا گیا۔ 1948ء میں مکمل آزادی کے بعد بھی اس کا نام سیلون ہی رہا لیکن 1972ء میں نام تبدیل کرکے سری لنکا رکھ دیا گیا۔

چائے کے پتے چننے والی خواتین—تصویر امتیاز احمد
چائے کے پتے چننے والی خواتین—تصویر امتیاز احمد

سری لنکا کی ایک آبشار—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا کی ایک آبشار—تصویر امتیاز احمد

یورپی تہذیب کے اثرات آج تک یہاں موجود ہیں، لوگ جھگڑالو نہیں ہیں۔ شرح خواندگی 90 فیصد سے زائد ہے۔

یہاں چائے کے دلفریب باغات کے ساتھ چائے کی فیکڑی بھی گھومی جاسکتی ہے۔ باغات میں چائے کے پتّے چُننے والی خواتین سے مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ سیلون بلیک، وائٹ اور گرین ٹی ایک ہی پودے سے حاصل ہوتی ہے، لیکن چائے کے پتوں کی عمر اور سائز میں فرق ہوتا ہے، جس بنیاد پر اسے 3 مختلف گیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر جڑوں میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو چائے کا پودا مُرجھانا شروع کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چائے کے باغات پہاڑی علاقے میں ہوتے ہیں تاکہ زمین ناہموار ہونے کی وجہ سے پانی نیچے کی طرف بہتا رہے۔

میں نوئریلیا کے جس گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرا تھا اُس کے ساتھ ہی ایک مسجد بھی واقع تھی۔ فجر کی اذان ہوئی تو میں بھی مسجد چلا گیا۔ ویسے تو سنہالی انتہائی منکسرالمزاج اور خوش اخلاق لوگ ہیں لیکن وہاں کے مسلمان بھی پاکستان سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ اس چھوٹی سی مسجد میں نماز کے بعد فضائل اعمال کی تعلیم شروع ہوگئی۔ سری لنکا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 10 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے اور اُن میں سے ہزاروں رائے ونڈ کی تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہیں۔ تاہم اُنہوں نے بتایا کہ اب اُن کا پاکستان جانا انتہائی مشکل ہوچکا ہے کیونکہ پاکستانی سفارت خانہ اُنہیں بہت کم ویزے جاری کرتا ہے۔ سری لنکا میں مسلمانوں کا زیادہ تر طبقہ کاروباری ہے۔ کولمبو میں مسلمانوں کا رہائشی علاقہ مہنگے ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

1890ء میں سری لنکا برطانیہ کی کولونی تھا—تصویر امتیاز احمد
1890ء میں سری لنکا برطانیہ کی کولونی تھا—تصویر امتیاز احمد

یورپی تہذیب کے اثرات آج تک یہاں موجود ہیں—تصویر امتیاز احمد
یورپی تہذیب کے اثرات آج تک یہاں موجود ہیں—تصویر امتیاز احمد

نوئریلیا کی دنیا بھر میں مقبولیت کی دوسری سب سے بڑی وجہ نوئریلیا سے ایلا شہر تک جانے والی ٹرین ہے۔ جنوبی پہاڑوں کے بادلوں، چائے کے باغات اور سرنگوں کے اندر سے گزرتی ہوئی ٹرین کے اِس سفر کو دنیا کا خوبصورت ترین ریلوے سفر بھی قرار دیا جاتا ہے۔ نوئریلیا کو لِٹل انگلینڈ بھی کہا جاتا ہے اور سیاحتی مقام پر جگہ جگہ برطانوی سلطنت کے آثار دیکھے جاسکتے ہیں۔

سمن نے مجھے نوئریلیا ریلوے اسٹیشن پر اُتارا اور خود ایلا کی جانب گامزن ہوگیا تاکہ ہم وہاں مل سکیں۔

میں ٹرین پر بیٹھا ہی تھا کہ مجھے ڈینئیل مل گیا۔ اس کا تعلق کروشیا سے تھا لیکن اس کی رہائش جرمنی میں ہے۔ جلد ہی ہم نے جرمن زبان میں گپ شپ شروع کردی۔ وہ اس رومانوی سفر کا تجربہ کرنے کے لیے ایلا سے نوئریلیا آیا تھا اور اب واپس ایلا جا رہا تھا۔ ہم دونوں سیٹوں کے بجائے دروازے کے قریب بیٹھ گئے اور یہ ہمارا بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔ ایک طرف بلندو بالا پہاڑ اور دوسری طرف ہزاروں میٹر گہری کھائیاں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ٹرین بادلوں کی پٹریوں پر اُڑ رہی ہو۔

ایلا میں سمن مجھے ایک ہوٹل میں لے کر گیا، جس کا مالک ایک مسلمان تھا، اس کی عمر 40 برس کے آس پاس ہوگی۔ وہ انتہائی خوش اخلاق اور مہمان نواز تھا۔ اسے جیسے ہی پتہ چلا کہ ہوٹل میں ایک پاکستانی ٹھہرا ہے تو وہ اپنے گھر سے مجھے ملنے آیا۔

ڈینئیل اور میں رات کا کھانا کھانے کے بعد ایلا کے بازار میں گھومنے چلے گئے۔ یہ چھوٹا سا بازار ہے لیکن ریسٹورینٹس، پبز اور چائے خانوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہاں زیادہ تر نوجوان یورپی سیاح ہی گھوم پھر رہے تھے۔ ابھی ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ ایک خوبرو لڑکی نے ڈینئیل کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔

ڈینئیل ’میریسا بیچ‘ سے سیدھا ایلا پہنچا تھا اور یہ جرمن لڑکی بھی اسے وہیں ملی تھی۔ دونوں 3 دن تک وہاں دنیا کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے لیکن بعد میں دونوں نے اپنے اپنے راستے پر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک دوسری لڑکی بھی تھی، ہم چاروں کچھ دیر سڑک کنارے لگی کرسیوں پر بیٹھے اپنی اپنی مرضی کے ڈرنکس پیتے رہے لیکن تھکاوٹ اس قدر شدید تھی کہ ہم رات 11 بجے ہی اٹھ کر اپنے اپنے ہوٹلوں میں سونے چلے گئے۔

سری لنکا میں ہیلمٹ کے بغیر کوئی ایک بھی موٹر سائیکل سوار نظر نہیں آئے گا کیونکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو 25 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے

صبح اُٹھ کر مجھے میریسا بیچ کی طرف نکلنا تھا لیکن ڈینئیل جافنا ان تامل علاقوں کو ایکسپلور کرنا چاہتا تھا جہاں سیاح نہیں جاتے۔ ڈینئیل نے موٹر سائیکل کرائے پر لے رکھی تھی۔ سری لنکا کی سڑکوں پر آپ کو خواتین بھی بکثرت موٹر سائیکل، ٹرک، بسیں اور ویگنیں چلاتی نظر آئیں گی۔ سڑکیں بہترین اور صاف ستھری ہیں، ہیلمٹ کے بغیر کوئی ایک بھی موٹر سائیکل سوار نظر نہیں آئے گا کیونکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو 25 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں کے علاوہ پورے سری لنکا میں سردیوں میں بھی درجہ حرارت 25 سے 30 سینٹی گریڈ رہتا ہے، یہاں چُبھنے والی دھوپ ہوتی ہے اور ہر دوسری عورت یا مرد نے ہاتھ میں چھتری پکڑی ہوتی ہے۔

میریسا کے لیے نکلے تو سب سے پہلے ہم راونا فالز گئے۔ ایلا سے صرف 6 کلومیٹر کے فاصلے پر یہ سری لنکا کی سب سے بڑی آبشار ہے۔ یہ لیجنڈری سری لنکن بادشاہ راونا سے منسوب ہے۔ ہندو مت کی روایت کے مطابق جب راون نے شہزادی سیتا کو اغواء کیا تھا تو دونوں اسی آبشار کے پیچھے موجود غاروں میں چھپے تھے۔ وہاں سیاحوں کی بھیڑ تھی۔ میں نے آبشار کے ٹھنڈے یخ پانی سے منہ ہاتھ دھویا لیکن اس کوشش میں میرے تمام کپڑے گیلے ہوچکے تھے اور ایک یورپی جوڑا دور کھڑا مسکرا رہا تھا۔

راونا فالز—تصویر امتیاز احمد
راونا فالز—تصویر امتیاز احمد

ایلا سے میریسا تک کا راستہ تقریبآ 6 گھنٹے کا ہے، اس دوران مجھے سری لنکا کے دیہی علاقے بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم سری لنکا کے وسطی صوبے سے جنوبی صوبے کی طرف سفر کر رہے تھے۔ بدھ مت میں سفید رنگ کو مقدس رنگ سمجھا جاتا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے لڑکے لڑکیاں اور اساتذہ سبھی سفید رنگ کے کپڑے اور ساڑھیاں پہنتے ہیں۔

یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔ دنیا کی سب سے پہلی خاتون وزیراعظم بھی 1960ء میں اِسی ملک میں بنی تھی۔ کولمبو اور گال جیسے شہروں میں خواتین مغربی لباس، جینز اور میک اپ میں نظر آتی ہیں لیکن دوسرے صوبوں کی خواتین انتہائی سادہ اور روایتی لباس لنگوٹی کُرتے میں ملبوس نظر آتی ہیں۔ سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ ناریل اور دیگر پھلوں کے ٹھیلے نظر آتے ہیں۔ کئی علاقوں میں کیلے کے باغات میلوں پر محیط ہیں، ایک جگہ پہنچے تو دیکھا کہ ہاتھیوں نے سڑک بلاک کر رکھی ہے۔

بدھ مت میں بھی مردے کو جلا دیا جاتا ہے لیکن غریب خاندان اب دفنانا شروع ہوگئے ہیں۔ فوتگی پر سبھی لوگ سفید لباس پہنتے ہیں۔

سمن نے گاڑی میں ہی مہاتما بدھ کی ایک چھوٹی سے مورتی رکھی ہوئی تھی، وہ ہر صبح سفر سے پہلے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر دعا مانگتا جبکہ میں اپنی عربی زبان میں دعا پڑھتا اور یوں ہمارے دن کی ابتداء ہوجاتی۔ سمن صبح صبح اُٹھ کر یوگا لازمی کرتا تھا، وہ یوگا کے دوران دل ہی دل میں تمام دشمنوں کو معاف کرنے کی مشق کرتا تھا۔

سانس اندر اور باہر لے جانے کے عمل کو سنہالی میں ’آسواس پرسواس‘ کہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بعض مشائخ ذکر قلبی کرتے ہوئے ’پاس انفاس‘ کی مشق کرواتے ہیں۔ میریسا جنوبی ساحلی شہر ماترا کے قریب واقع انتہائی خوبصورت بیچ ہے۔ سری لنکا کے سابق وزیراعظم راجا پاکسے کا تعلق بھی ماترا سے ہی ہے۔

میریسا کے گیسٹ ہاؤس میں سامان رکھ کر بیچ کی طرف نکل گیا۔ سمندری پانی ہلکا سبز مائل ہے اور ساحل پر اونچے اونچے لہلاتے ہوئے ناریل اور پام کے درخت اس کی رنگینی میں مزید اضافہ کردیتے ہیں۔ قدرتی حُسن کے لحاظ سے یہ ایک شاہکار ہے۔ میں دیر تک دور سمندر میں ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھتا رہا کہ اچانک مجھے ایک آواز آئی، کیا اس چھوٹی پہاڑی پر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ میریسا بیچ کی مغربی سائیڈ پر ایک چھوٹی سی پہاڑی سمندر کے اندر ہے اور وہاں جانے کے لیے پانی میں اترنا پڑتا ہے۔

سری لنکا کا ایک ساحلی کنارہ—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا کا ایک ساحلی کنارہ—تصویر امتیاز احمد

سری لنکا کا ایک ساحلی کنارہ—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا کا ایک ساحلی کنارہ—تصویر امتیاز احمد

سری لنکا کا ایک ساحلی کنارہ—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا کا ایک ساحلی کنارہ—تصویر امتیاز احمد

یہ ہانگ کانگ سے آئی ہوئی ٹین تھی، جو اپنی سہلی کے ساتھ میری طرح آج ہی میریسا پہنچی تھی۔ خلافِ معمول دونوں کے نین نقش تیکھے تھے۔ میں نے کہا کہ میں خود وہاں جانا چاہتا ہوں لیکن ابھی تک پانی میں نہیں اُترا۔ اس نے کہا چلو ٹرائی کرتے ہیں۔ اس وقت پانی صرف گھٹنوں تک تھا اور ہم ایک چھوٹے سے پگڈنڈی نما راستے پر چل کر اس ٹیلے نما پہاڑی تک پہنچ گئے۔

یہ ایک دل کو چھو لینے والا منظر تھا۔ شور مچاتی ہوئی لہریں پتھروں سے ٹکراتیں تو کبھی کبھار پھوار چہرے تک آجاتی تھی۔ ہم آپس میں پاکستان اور چین کی باتیں کرتے رہے، اس کے بعد ٹین نے چینی لوک گیت گنگنانا شروع کردیے۔ انہوں نے کہا کہ تم بھی کچھ سُناؤ۔ میں نے منصور ملنگی کا ’نی اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے‘ سنایا۔ انہیں سمجھ تو کچھ نہ آیا لیکن انہوں نے دلچسپی بھی کم نہ ہونے دی۔

اس رات یوں لگا کہ جیسے جگمگاتے تارے بس ابھی آپ کی جھولی میں آ گریں گے۔ ایک طرف لہروں کا شور تھا تو دوسری طرف بیچ پر لگے کھانے کے ٹیبلوں کے پیچھے رنگ برنگی موسیقی کی دھنیں۔ بیچ کے کنارے کچھ سیاح شراب پی رہے تھے، کچھ کھانے میں مصروف تھے اور کچھ اپنی اپنی محبوباؤں کی کمر پر ہاتھ رکھے ڈانس کر رہے تھے۔ یہ ایک مسحور کن شام تھی۔ ٹین کی دوست نے ایک دم کہا کہ رات کا ایک بج گیا ہے، 2 بجے ان کا ہوٹل بند ہوجائے گا اب چلنا چاہیے۔

واپسی پر پانی مزید اونچا ہوچکا تھا، ہم تینوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے۔ میں نے جیب سے پیسے نکال کر دانتوں میں دبا لیے تاکہ گیلے نہ ہوں۔ تقریباً 20 فٹ کا پُرخطر راستہ طے کرکے جب ہم ساحل کی ریت تک پہنچے تو تینوں کمر تک گیلے ہوچکے تھے۔

مجھے اگلے دن گال جانا تھا، وہی گال جہاں کا کرکٹ اسٹیڈیم بہت مشہور ہے۔ ہمیں پتہ تھا کہ اب ہم دوبارہ مل نہیں سکیں گے۔ ہم نے الوداعی سلام لیے اور اپنے اپنے ہوٹلوں میں آگئے۔ میں صبح سویرے دوبارہ بیچ پر گیا تو ماہی گیر مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ یہ بیچ اس قدر خوبصورت ہے کہ تھوڑا سا پانی میں اُتریں تو رنگ برنگی مچھلیاں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ میریسا میں بلیو وہیلز کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سری لنکا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں ایک ہی دن انسان ہاتھی اور بلیو ویلز دیکھ سکتا ہے۔

سری لنکا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں ایک ہی دن انسان ہاتھی اور بلیو ویلز دیکھ سکتا ہے—تصویر امتیاز احمد
سری لنکا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں ایک ہی دن انسان ہاتھی اور بلیو ویلز دیکھ سکتا ہے—تصویر امتیاز احمد

ساحل سمندر پر مچھلیاں پکڑتے ماہی گیر—تصویر امتیاز احمد
ساحل سمندر پر مچھلیاں پکڑتے ماہی گیر—تصویر امتیاز احمد

یہ پوری ساحلی پٹی انتہائی خوبصورت ہے اور ہر چند کلومیٹر بعد ایک دلفریب بیچ نظر آتا ہے—تصویر امتیاز احمد
یہ پوری ساحلی پٹی انتہائی خوبصورت ہے اور ہر چند کلومیٹر بعد ایک دلفریب بیچ نظر آتا ہے—تصویر امتیاز احمد

سمندری ہوا کے سازوں پر سر ہلاتے پپیتے، کیلے، ناریل اور پام کے درخت—تصویر امتیاز احمد
سمندری ہوا کے سازوں پر سر ہلاتے پپیتے، کیلے، ناریل اور پام کے درخت—تصویر امتیاز احمد

صبح 10 بجے کے قریب گال جانے کے لیے ہم جنوبی ساحل کے کنارے کنارے چلنے لگے۔ یہ پوری ساحلی پٹی انتہائی خوبصورت ہے اور ہر چند کلومیٹر بعد ایک دلفریب بیچ نظر آتا۔ دائیں جانب سڑک ہے درمیان میں سمندری ہوا کے سازوں پر سر ہلاتے پپیتے، کیلے، ناریل اور پام کے درخت ہیں اور بائیں جانب محبت بھری صدائیں لگاتا سبز مائل سمندر۔

گال، سری لنکا میں پرتگالی آرکیٹیکٹ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ میں نے کرکٹ میچز میں صرف گال اسٹیڈیم ہی دیکھا ہوا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی واقع 16ویں صدی کا تعمیراتی شاہکار گال فورٹ بھی کافی شاندار ہے۔ اس کے اندر ایک شہر آباد ہے اور دیواریں اس قدر چوڑی ہیں کہ اُن پر گاڑی چلائی جاسکتی ہے۔

سمندر کنارے واقع اس آہنی قلعے میں جہاں کبھی توپوں کے لیے جگہ رکھی گئی تھی وہاں اب ایک دوسرے کے ہونٹوں پر محبت کی مہریں ثبت کرتے سری لنکن لڑکے لڑکیاں نظر آتے ہیں۔ سری لنکا میں اس قدر سرِ عام محبت کا اظہار میں نے صرف گال میں ہی دیکھا۔ اس شہر کو تقریباً 3 سو سال قبل ڈچ جہاز رانوں نے آباد کیا تھا۔ پہلے یہ بھی مچھیروں کی ایک چھوٹی سے بستی ہوا کرتی تھی اور مقامی لوگوں کا کل اثاثہ پپیتے، ناریل، پام اور مچھلیاں تھیں۔

ایک سپیرا—تصویر امتیاز احمد
ایک سپیرا—تصویر امتیاز احمد

مچھیروں کی ایک بستی—تصویر امتیاز احمد
مچھیروں کی ایک بستی—تصویر امتیاز احمد

گال گورے جسموں والے سیاحوں سے بھرا پڑا تھا۔ نوئریلیا کے سرد پہاڑی علاقے کے علاوہ باقی سبھی علاقوں میں سیاح شارٹس اور ٹی شرٹوں میں نظر آتے ہیں۔

میں ابھی گال میں ہی تھا کہ ٹین کا مسیج آیا کہ اگر تم واپس میریسا آؤ تو شام کا کھانا میں کھلاؤں گی۔ اس کے 15 منٹ بعد ہی ڈینئیل کا مسیج آیا کہ وہ بھی میریسا واپس آ رہا ہے کیونکہ تامل علاقوں میں ہر مارکیٹ شام 7 بجے بند ہوجاتی ہے۔

میں یہ آخری رات ہیکوا ڈور بیچ پر گزارنا چاہتا تھا۔ پاکستان کے مشہور کمپئر توثیق حیدر اور میرے مشترکہ دوست ارشاد خان نے مجھے کہا تھا اس بیچ پر ڈوبتا ہوا سورج انسان پر سحر طاری کردیتا ہے۔ میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سمن سے پوچھا کہ کیا ہم واپس اسی ہوٹل میں دوبارہ ٹھہرسکتے ہیں؟

بیچ پر ڈوبتا ہوا سورج انسان پر سحر طاری کردیتا ہے—تصویر امتیاز احمد
بیچ پر ڈوبتا ہوا سورج انسان پر سحر طاری کردیتا ہے—تصویر امتیاز احمد

سمن کی آنکھوں میں ایک طنزیہ سی مسکراہٹ تھی۔ تم ٹین کی وجہ سے جا رہے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں ڈینئیل بھی وہاں پہنچ رہا ہے۔

رات کو ہم چاروں دیر تک میریسا کے بیچ پر گھومتے رہے۔ لہریں، پانی، چاند اور لہروں کی واپسی کے ساتھ پاؤں تلے سے سرکتی ریت، یہ سب ماحول کو کافی خوشگوار بنا رہے تھے۔ جب رات ایک بجے کے قریب میں ہوٹل واپس آ رہا تھا تو 3 سے 4 بہت بڑے بڑے کچھوے پانی سے نکل کر ریت کرید رہے تھے تاکہ انڈے دے سکیں، میں وہاں کچھ دیر کے لیے کھڑا ہوگیا۔ ایک لڑکی نے کہا کہ ’پلیز آپ میری ان کے ساتھ تصویر بنا دیں گے۔‘ میں نے کہا ضرور، یہ صوفی تھی اور فرانس سے آئی ہوئی تھی۔ ہم میں رسمی سے گفتگو ہوئی اور میں ہوٹل واپس آگیا۔

جب صبح اُٹھا تو بالکونی پر دو جنگلی مور بیٹھے تھے، میں خاموشی سے بڑی دیر تک مور کے رنگوں، ان کے پیچھے ناریل کے درختوں اور تاحد نظر پھیلے ہوئے پانی کو دیکھتا رہا۔ رقبے کے لحاظ سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متنوع پرندے سری لنکا میں ہی پائے جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی پرندوں کی سُریلی آوازیں کانوں میں رس بھر دیتی ہیں۔

جانے سے پہلے میں میریسا بیچ کا مغرب کی طرف واقع آخری پتھریلا کونا دیکھنا چاہتا تھا۔ سمن گاڑی میں سامان رکھ رہا تھا کہ میں اس طرف نکل گیا۔ یہ بھی ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی جو پام کے درختوں سے بھری ہوئی تھی۔ تیز ہوا کے جھونکوں سے پتوں میں سریلی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے کیکڑے پتھروں پر چڑھنے کی کوشش کرتے تو تیز لہریں دوبارہ اُنہیں سمندر میں بہا کر لے جاتیں۔

بستی میں مقامی لوگوں کا کل اثاثہ پپیتے، ناریل، پام اور مچھلیاں ہیں—تصویر امتیاز احمد
بستی میں مقامی لوگوں کا کل اثاثہ پپیتے، ناریل، پام اور مچھلیاں ہیں—تصویر امتیاز احمد

سمندر کنارے ایک ریسٹورنٹ—تصویر امتیاز احمد
سمندر کنارے ایک ریسٹورنٹ—تصویر امتیاز احمد

میں اپنی سیلفی بنانے لگا تو پیچھے سے ایک آواز آئی میں بنادوں۔ میں نے مُڑ کر دیکھا تو انتہائی مختصر کپڑوں میں صوفی کھڑی تھی۔ صوفی فرانس کی کسی پراڈکٹ فرم کے لیے کام کرتی ہیں اور وہ دوسرے ملکوں سے اشیاء تلاش کرکے یورپی منڈی میں لانچ کرتی ہیں۔ وہ دنیا کے 90 سے زائد ممالک گھوم چکی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ تمہیں سب سے اچھا ملک کون سا لگا تو اس کا جواب تھا میں بس سری لنکا میں ہی دوسری مرتبہ آئی ہوں اور شاید تیسری مرتبہ بھی اسی ملک آؤں۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ کئی ایک دوسری یورپی خواتین کی طرح سری لنکا کے ’بیچ بوائز‘ کی تلاش میں آئی ہے لیکن وہ سری لنکا کے قدرتی حسن اور خوش اخلاق لوگوں سے زیادہ متاثر تھی۔ اس نے پوچھا کہ شام کا کھانا مل کر کھائیں؟ میں نے جواب دیا کہ میری آج شام فلائٹ ہے۔

میں واپس ہوٹل گیا تو ٹین اس کی سہیلی اور ڈینئیل الوداعی ملاقات کے لیے پہنچ چکے تھے۔ یہ ایک حسین سفر کا افسردہ کردینے والا اختتام تھا۔ وہاں سے نکلا تو راستے میں ربڑ کے درخت دیکھتے ہوئے میں سیدھا کولمبو پہنچا۔ سری لنکا کی موٹروے اور نادرا کا سسٹم بالکل پاکستان ہی کی کاپی ہیں۔

کولمبو میں واقع سرکاری ٹیلی وژن کے دفتر میں دھنوشکے سے ملاقات پہلے ہی طے تھی۔ ان سے میری فیس بک پر دوستی ایک صحافی دوست وسیم خٹک کے ذریعے ہوئی تھی۔ میں نے اپنے ایک فیس بک فرینڈ نعمان کو بھی اِدھر ہی بلالیا۔ نعمان سوات کا گورا چٹا خوبصورت پٹھان ہے اور کولمبو میں اسکالر شپ پر میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہا ہے۔ ملاقات کے بعد فارغ ہوئے تو سمن نے یاد دلایا کہ ہم نے پاکستانی رقاصاؤں سے ملاقات کرنی ہے لیکن پتہ نہیں کیوں میں نے سمن سے کہا کہ میں جانے سے پہلے آخری مرتبہ اس جادو نگری کے ساحل سے ڈوبتا ہوا سورج دیکھنا چاہتا ہوں اور سمن مجھے کولمبو کے ایک ساحل پر لے گیا۔

رات 10 بجے کی فلائٹ کو پرواز بھرنے میں ابھی کچھ گھڑیاں باقی تھیں کہ ٹین کا میسیج آیا کہ ڈینئیل اور ہم تمہیں مس کر رہے ہیں۔ میں ہلکا سا زیرِ لب مسکرایا اور یوگا کرتے ہوئے بدھ کی طرح آنکھیں بند کرلیں۔


امتیاز احمد جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو سے بطور صحافی وابستہ ہیں۔ یونیورسٹی آف بون سے ایشین اسٹڈیز میں ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔ سیاحت اور فوٹوگرافی ان کا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے۔ انہیں فیس بک پر فالو کریں۔