انسانی اسمگلنگ: بڑھتا ہوا غیر قانونی کاروبار

پاکستانیوں سمیت ہزاروں غیر قانونی مہاجرین مغربی ممالک میں پہنچنے کیلئے بلوچستان کا انتہائی پُرخطر راستہ استعمال کرتےہیں۔
اپ ڈیٹ 23 اپريل 2018 04:19pm

بلوچستان میں کوئٹہ سے نوکنڈی کے راستے پر جاتے ہوئے مقامی صحافی کے چہرے پر اضطرابی کیفیت عیاں تھی کیونکہ وہ 20 ہزار نفوس پر مشتمل اس آبادی کا رہائشی تھا جہاں حصول معاش کا ذریعہ انسانوں کی اسمگلنگ سے وابستہ ہے۔

اپنی بے چین کیفیت کو ختم کرنے کے لیے اس نے سوال کیا ‘تو کیا آپ ہمارے لوگوں سے ان کا روزگار چھین لیں گے؟’ یہ سوال محض معلومات کے لیے نہیں تھا اور نہ ہی تفریح کے لیے پوچھا گیا تھا بلکہ اسے اپنے رشتے داروں کے روزگار چھن جانے کا اندیشہ تھا جو انسانی اسمگلنگ کرکے اپنے اہل خانہ کے لیے نان و نقہ کا انتظام کرتے ہیں۔

ضلع چاغی پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے اور اسی جگہ سے نو منتخب سینیٹ چیئرمین صادق سنجران کا تعلق ہے، چاغی کے اندر تحصیل نوکنڈی ہے جس سے متصل کالے اور معدنیات سے بھرپور پہاڑ موجود ہیں، اسی علاقے میں ریکو ڈیک اور سینڈک گولڈ نامی ذخائر ہیں جو چاندی سے مالا مال ہیں۔

سینڈک منصوبے پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جاری ہے لیکن اس منصوبے میں مقامی لوگوں کو ملازمت فراہم نہیں کی گئی، وہ تو بس انسانی اسمگلنگ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

بلوچستان کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں اور کئی دہائیوں سے انسانی اسمگلنگ کی میزبانی بھی یہاں سے ہوتی رہی ہے، انسانی اسمگلنگ کے کاروبار سے منسلک عمر رسیدہ بلوچ بزرگ نے بتایا کہ ‘ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بنگالی اور سری لنکن شہریوں کو نوکنڈی کے راستے ہی اسمگل کیا جاتا تھا، تب ہم بچے تھے اور صرف ان کے بیگ، جوتے اور دیگر چیزیں چوری کرلیا کرتے تھے’۔

سابق صحافی صادق بلوچ نے اپنی وفات سے چند عرصہ پہلے ڈان کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ ‘انسانی اسمگلنگ کا کام 80 کی دہائی میں صنعتی خطوط پر مربوط کیا گیا تھا، آج کے دور میں افغان اور پاکستانی تارکین وطن کی تعداد زیادہ ہے، ان میں پنجابی اور بیشتر بلوچ شامل ہیں۔

15 برس تک انسانی اسمگلنگ کے خلاف آپریشن کرنے والے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر سلطان آفریدی نے بتایا کہ ‘ہر سال 30 سے 40 ہزار پاکستانی براستہ بلوچستان اور ہوائی سفر سے غیرقانونی طریقے کو اپناتے ہوئے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی منزل ترکی، روس، وسطیٰ مغربی ممالک ہوتے ہیں’۔

زیادہ تر غیر قانونی تارکین وطن پاک ایران سرحد پر ہی گرفتار کرلیے جاتے ہیں اور متعدد ایران میں داخل ہوتے ہی پکڑے جاتے ہیں، ایف آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ برس 26 ہزار پاکستانیوں کو ایران نے بے دخل کیا۔

یورپ جانے کے خواہشمند افراد ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں —فوٹو: وائٹ اسٹار
یورپ جانے کے خواہشمند افراد ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں —فوٹو: وائٹ اسٹار

ایف آئی اے کے منشور میں انسانی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور انسان اور انسانی اعضاء کی غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام شامل ہے، اس ضمن میں واضح رہے کہ انسانی اسمگلنگ اور انسانی ٹریفیکنگ میں بھی فرق ہے، انسانی اسمگلنگ میں ایک شخص رضاکارانہ طور پر خود کو اسمگلر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے جن کی بدولت وہ بیرون ملک میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتا ہے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مارئیگریشن کے مطابق گزشتہ برس 3 ہزار 138 پاکستانی بحیرہ روم کا سفر طے کرکے اٹلی میں داخل ہوئے اور رواں برس صرف جنوری میں 240 افراد اٹلی پہنچ سکے۔

بلوچستان کے راستے یورپ میں داخل ہونے کے لیے متعدد راستے اختیار کیے جاتے ہیں (نقشے میں ملاخط کیجئے) ایک راستہ کراچی براستہ آر سی ڈی ہائی وے، تافتان اور پھر ایرانی شہر زاہدان سے ترکی کی سرحد پر نکلتا ہے، دوسرا راستہ کراچی سے سستان، بلوچستان سے ہوتے ہوئے لسبیلہ اور کیچ اضلاع تک نکلتا ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ سے مغربی بلوچستان کے سرحد علاقے تافتان اور ماسکیل یا راجے والا روٹ ہے، پاک ایران سرحد پر قائم چیک پوسٹ پر ایف آئی اے کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں، ان تمام چیک پوسٹوں میں سے صرف ایک فعال ہے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب ڈاکٹر عمثان انور کے مطابق 905 کلو میٹر پرمشتمل سرحد پر متعدد کراسنگ پوائنٹس کی نگرانی کرنا پولیس کے بس کی بات نہیں اور ہمارے پاس تو سرحد پر پیٹرولنگ یونٹس بھی نہیں ہیں۔

دوسری جانب ایک سمندری راستہ بھی ہے جس کے لیے پہلے کراچی سے کوسٹل ہائی وے کے ذریعے ضلع گوادر اور وہاں سے مکران پہنچا جاتا ہے، مذکورہ راستہ شدت پسندوں کے خطرناک علاقوں سے قدرے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

گوادر میں ڈان کے نامہ نگار بہران بلوچ نے بتایا کہ ‘مکران سے ایجنٹ چھوٹی کشیاں کرایے پر حاصل کرتے ہیں جس کے حصول میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں، پسنی، جیوانی، پسیہن یا سربان دن کی ساحلی پٹی سے کشیوں پر سوار ہو کر بحیر عمان عبور کرکے ایران پہنچتے ہیں’۔

حادثاتی طور پر مذکورہ علاقوں میں متعدد چیک پوسٹوں پر گارڈز کے اہلکار ہوتے ہیں۔

انسانی اسمگلنگ کے دوران بارڈر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونا عام ہے، اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ 10 برس میں 200 پاکستانی یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران جاں بحق ہوئے۔

نومبر 2017 میں تربت میں قتل کیے جانے والے افراد کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے — فوٹو: وائٹ اسٹار
نومبر 2017 میں تربت میں قتل کیے جانے والے افراد کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے — فوٹو: وائٹ اسٹار

ان کی مشکلات کا مراحلہ صرف کسی غیر ملکی سرحد میں قدم رکھتے ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ یورپ میں داخل ہونے کا گیٹ وے اٹلی، اسپین، جرمنی اور مصر ہے، مالی مشکلات کے ساتھ مذہبی نظریات بھی موت کا باعث بنتے ہیں جیساکہ بلوچستان میں ہزارہ برادری متاثر ہوتی ہے، (ہزارہ برداری کی جانب سے سیاسی پناہ کا مرکز مشرق اور بعد ازاں آسٹریلیا اور نیوزلینڈ ہوتا ہے)’۔

معاشی طور پر استحکام کی امید آنکھوں میں لیے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک داخل ہونے والے خانہ جنگی کا نذر بھی ہوجاتے ہیں، شام میں خانہ جنگی کے دوران شعیہ اور سنی عسکریت پسندوں کے لیے پاکستان سے غیر قانونی تارکین کو پکڑ کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا عام ہے، مقامی رپورٹرز کے مطابق جب بشار الاسد 2013 میں خانہ جنگی کے خلاف ناکامی کا شکار ہونے لگے تو شعیہ ہزارہ کے ہزاروں لوگوں کو ایران کے راستے اسمگل کرکے شامی فورسز میں بھرتی کیا گیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ 2015 میں 35 ہزار پاکستانیوں نے شامی پناہ گزینوں کا حصہ بن کر جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی جدوجہد کی۔

خواب کے پیچھے بھاگنے والے

رینجرز کے ریٹائر اہلکار محمد عنایت نے اپنے بیٹے اسماعیل کی لاش کے ملنے تک غم منانے سے انکار کردیا ہے، محمد عنایت کا 32 سالہ بیٹا اپنی اہلیہ عظمت بی بی، 5 سالہ بیٹے سعد، اور نومولود بیٹی فاطمہ، ان 90 افراد میں شامل تھے جو مغربی ممالک جانے کی خواہش رکھتے تھے تاہم 2 فروری کو بحرالکاہل میں لیبیا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی بدقسمت کشتی کے واقعے میں لاپتہ ہوگئے تھے۔

اس کشتی میں 16 پاکستانی سوار تھے جن میں سے 12 کا تعلق پنجاب کے علاقے گجرات اور منڈی بہاؤالدین سے تھا۔

اسماعیل کے اس سفر کی وجہ نہایت عام سی تھی، گزشتہ چند سالوں میں وہ اور ان کے 3 بھائیوں نے اپنے والد کے 3 ایکڑ کی زمین کو کم ہوکر ایک ایکڑ تک باقی رہتے دیکھا تھا اور ان کے تمام اہل خانہ گجرات کے راجو بھنڈ گاؤں میں 3 کمرے کے گھر میں رہتے تھے، ایسی صورتحال میں پاکستان سے باہر ایک بہتر زندگی کی تلاش ان کے لیے پرکشش عمل تھا۔

آٹھ سال قبل اسماعیل نے اپنے والد کی زمین میں سے اپنا حصہ بیچ کر قانونی طور پر ویزا لے کر دبئی کے ذریعے لیبیا کا سفر کیا تھا، ڈیڑھ سال قبل اس نے اپنی اہلیہ کو بیٹے کے ہمراہ لیبیا بلایا تھا جہاں اس کی بیٹی بھی پیدا ہوئی تاہم اٹلی جانے کی خواہش میں نوجوان خاندان سانحے کا شکار ہوا۔

خیال رہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد کا تعلق پنجاب سے ہوتا ہے جن میں زیادہ تر افراد غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں جن کی عمر 15 سے 40 سال تک ہوتی ہے اور ان کا تعلق دیہات یا نیم شہری علاقوں بالخصوص ضلع گجرات اور منڈی بہاؤالدین سے ہوتا ہے تاہم چند ہی افراد اپنے اہل خانہ کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اسماعیل ان ہی میں سے ایک تھا۔

دیہی آبادی سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں جسمانی و ذہنی قوت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ انتہائی خطرناک سفر کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان افراد میں بیرونی دنیا کو دیکھنے کی خواہشات بھی زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسمگلرز کے لیے یہ افراد آسان ہدف ہوتے ہیں، یہاں تک کہ انسانی اسمگلنگ کے تمام ہی ایجنٹس دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

معاہدے کے تحت ایجنٹس اس کام کے لیے 4 لاکھ سے 7 لاکھ فی کس تک کا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔

ضلع گجرات میں موجود غیر ملکی کرنسی ایکسچینج کی دکانیں — فوٹو: وائٹ اسٹار
ضلع گجرات میں موجود غیر ملکی کرنسی ایکسچینج کی دکانیں — فوٹو: وائٹ اسٹار

معاہدے کے تحت انہیں ایران اور ترکی کے زمینی راستے سے یونان پہنچانے کی 3 کوششیں کی جاتی ہیں اور اس کے بعد اس کام میں ملوث دیگر ایجنٹس غیر قانونی مہاجرین کو یورپ کے دیگر علاقوں تک لے جاتے ہیں۔

12 سال تک یونان میں رہنے والے گجرات کے فتح پور گاؤں سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن تجمل حسین کے مطابق انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک تہران، استنبول اور یونان کے سرحدی علاقوں تک موجود ہے جہاں ایجنٹ بڑے کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں جو غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ان کے سفر میں پناہ کی جگہ طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

ترکی سے حالیہ ملک بدر ہونے والے طاہر علی نے ڈان کو بتایا کہ گجرانوالہ میں زیادہ تر انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو ترکی، یونان اور اٹلی سے چلایا جارہا ہے جبکہ وہ شام، عراق اور افغان مہاجرین کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان ایجنٹس کے گجرات، پھلیا، مندی بہاؤالدین، سیالکوٹ اور گجرانوالہ میں ذیلی ایجنٹ ہیں جو غیر قانونی تارکین وطن کو اکھٹا کرتے ہیں اور ان سے رقم کی وصولی کرتے ہیں۔

یورپ جانے کی تیسری کوشش کرنے کے بعد یونان سے گزشتہ چند ماہ پہلے ملک بدر ہونے والے اور گجرات میں ڈنگا شہر کے رہائشی 32 سالہ محمد تنویر کا کہنا تھا کہ مجھے 3 کلائنٹس جمع کرنے پر مفت یورپ لے جانے کی آفر کی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا سفر انتہائی ہولناک تھا راستے میں کئی جگہ پر انسانی باقیات بھی دیکھیں تھی کیونکہ مہاجرین اپنی جسمانی قوت نہ ہونے کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں یا پھر سرحدی سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوجاتے ہیں، جبکہ اس سفر میں زخمی یا بیمار افراد کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے کیوںکہ باقی افراد رک کر ان کی مدد کرنے کا خطرہ نہیں لے سکتے۔

یونان جانے کی اپنی ایک کوشش کے دوران تنویر نے لیبیا سے سمندری راستہ اختیار کیا تھا۔

انہوں نے اپنے سفر کو اس طرح بیان کیا کہ لیبیا کے ایجنٹ اپنی فیس ایڈوانس میں لیتے ہیں جس کے بعد مہاجرین سے بھری کشتی سمندر میں اترتی ہے کچھ دیر بعد کشتی چلانے والا ایک خالی کشتی میں بیٹھ کر واپس ساحل کی جانب چلا جاتا ہے اور مہاجرین کو بحرالکاحل اور بعد ازاں اطالوی میری ٹائم سیکیورٹی اہلکار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے یا پھر ہم اٹلی کے ساحل تک پہنچ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشتی کو اپنے مقام تک پہنچنے کے لیے درکار ایندھن بھی نہیں ڈالا جاتا جبکہ ہنگامی صورتحال کے لیے ہمیں دی گئی لائف جیکٹس بھی اتنی خستہ حالت ہوتی ہیں کہ اگر کوئی ہنگامی صورتحال ہو تو وہ کسی کام نہیں آئیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس راستے میں ہونے والی اموات میں اضافے کے باعث اس کی مانگ میں کمی آگئی ہے جبکہ بلوچستان سے زمینی راستہ اب بھی مقبول ہے۔

افغانستان سے رسائی

افغانستان کے صوبے نمروز کی سرحد پر ایران کی جانب سے 15 فٹ لمبی دیوار کھڑی کرنے کے بعد افغان شہریوں کو بھی بلوچستان کے ذریعے غیر قانونی طور پر منتقل کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر چاغی کے مقام پر ایک ریگستانی علاقے دوک کو پاکستان سے باہر جانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس علاقے میں انسانوں کی آمد پر ایک عارضی بازار لگایا جاتا ہے جہاں قریبی کنوئیں سے نکالے گئے پانی کی بوتل 100 روپے جبکہ ایک وقت کا کھانا 800 روپے کا ملتا ہے۔

دوک سے افغانیوں کو نوکنڈی کی جانب 100 کلومیٹر دور کچی سڑک پر لے کر جایا جاتا ہے جہاں سے ماشخیل اور راجے ان کے ایران میں داخلے کا راستہ بنتے ہیں جہاں سے انہیں ترکی اور یورپ لے جایا جاتا ہے۔

ماشخیل کے علاقے میں غیر قانونی مہاجرین کو ایک وفد کی صورت میں منتقل کیا جارہا ہے۔
ماشخیل کے علاقے میں غیر قانونی مہاجرین کو ایک وفد کی صورت میں منتقل کیا جارہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمگلرز جو افغان ہجرت کے خواہشمند افراد کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں، بلوچ ہیں اور وہ نمروز کے علاقے کے علاوہ ایران کے سستان-بلوچستان صوبے سے کام کرتے ہیں۔

اس اسمگلنگ نیٹ ورک کے قائدین زیادہ تر کابل کے علاقے نو کمرشل ایریا سے کام کرتے ہیں جبکہ پاکستانی صارفین کے ساتھ ڈیل کرنے والے بالکل علیحدہ ہیں اور زیادہ تر ان کے سربراہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔

افغان نیٹ ورک کو چلانے والے افراد کا طریقہ کار بھی مختلف ہے، زیادہ تر افراد 50 سے زائد پک اپ گاڑیوں میں مہاجرین کو لیے کر نوکنڈی کے علاقے سے وفد کی صورت میں شام کے اوقات میں جاتے ہیں کیونکہ دن میں سفر کرنا انتہائی خطرناک ہے اور انہیں سیکیورٹی اہلکار کی جانب سے روکے جانے اور سوالات کیے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ڈرائیورز کو ایک شفٹ کے 3 ہزار سے ساڑھے 3 ہزار تک دیئے جاتے ہیں جبکہ کئی ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی غیر اخلاقی کام ہے۔

ایک ایجنٹ حاجی مراد، جو 5 غیر قانونی مہاجرین کو لے کر جانے والے 5 پک اپ گاڑیوں کے مالک ہیں، کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ کے کام میں کوئی برکت نہیں ہے تاہم ان کے جذبات انہیں اس کاربار سے ایک دہائی سے علیحدہ نہیں کرسکے۔

خیال رہے کہ نوکنڈی میں زیادہ تر گاڑیاں کابلی (افغانستان سے اسمگل کی گئی گاڑیاں) ہیں اور ان میں خصوصی طور پر افغان شہریوں کو اسمگل کرنے کے لیے زامیاد کی سنگل اور ڈبل کیبن پک اپس استعمال کی جاتی ہیں۔

حاجی مراد نے بتایا کہ ان کے ڈرائیورز جب ایک سفر مکمل کرکے آتے ہیں تو انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا نمائندہ انہیں حوالگی نظام کے تحت 20 ہزار روپے دیتا ہے لیکن اس سفر میں دو سے 3 مہینے لگ جاتے ہیں جبکہ وہ اپنے ڈرائیور کو ساڑھے 3 ہزار روپے دیتے ہیں اور لیویز اور فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کے اہلکاروں کو ہر سفر کے 8 ہزار روپے رشوت دیتے ہیں باقی کی رقم ان کی گاڑی کی مینٹیننس میں لگ جاتی کیونکہ گاڑی نے کچے علاقے میں بلوچستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا لمبا سفر کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 3 سے 4 درجن سفر مکمل ہونے کے بعد نمائندہ انہیں ایک نئی کابلی گاڑی بھی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرحد کا یہ سفر خطروں سے بھرا ہوتا ہے کیونکہ ہائی وے کے چور مسافروں سے ان کے موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹتے ہیں جبکہ وفد اغواکاروں کا بھی ہدف رہتا ہے جن میں سے زیادہ تر افراد ازبک ہوتے ہیں جو افغان مہاجرین کو واپس افغانستان لے جاکر ان سے تاوان کی رقم وصول کرتے ہیں۔

ایران- بلوچستان کی سرحد پر واقع تافتان کے علاقے میں رہنے والے غلام محمد کا کہنا تھا کہ ان کی 6 گاڑیاں اس کاروبار سے منسلک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ان کی پک اپ میں موجود 5 افغانیوں کو 5 لاکھ روپے تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا اور اس ہی طرح ایک اور سفر میں بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ لٹیرے ڈرائیورز کو مارتے ہیں ہماری گاڑیوں کے ٹائر نکال دیتے ہیں اور انہیں ویرانے میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

لندن کا سفر

پنجاب سے یورپ کا غیر قانونی سفر اختیار کرنے والوں کا پہلا پڑاؤ کوئٹہ کے مقام پر ہوتا ہے، بلوچستان کے مغربی حصے میں سرحد پار کرنے کے لیے ایجنٹوں کی جانب سے بسوں کا انتظام کیا جاتا ہے.

جب کہ اس سے قبل جنوب میں مکران کے علاقے میں واقع ضلع کیچ، گوادر اور پنجگور کو بذریعہ بس سرحد پار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب یہ سلسلسہ بلوچ مزاحمت کاروں کی کارروائیوں کے سبب متروک ہوچکا ہے، جس میں وہ خاص طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اغوا کرلیتے تھے۔

یورپ جانے کے خواہشمند افراد سیلفی لے رہے ہیں جنہیں بعد میں کیچ میں قتل کردیا گیا تھا۔
یورپ جانے کے خواہشمند افراد سیلفی لے رہے ہیں جنہیں بعد میں کیچ میں قتل کردیا گیا تھا۔

گزشتہ برس ہونے والے لرزہ خیز واقعے میں بلوچ مزاحمت کاروں نے گجرات، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ اور گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 15 نوجوانوں کو قتل کردیا تھا، ضلع کیچ سے سفر کرنا ایک ہولناک یاد بن چکا ہے۔

کوئٹہ سے تافتان کے سرحدی علاقے کا فاصلہ ضلع چاغی اور واہسک کے راستے تقریباۤ 600 کلومیٹر ہے، جہاں تک پہنچنے میں 4 دن لگ جاتے ہیں، پاکستانی ہونے کی وجہ سے انہیں چوکیوں پر روکا بھی نہیں جاتا، کوئٹہ کے ایک ڈرائیور نے بتایا کہ روکے جانے کی صورت میں وہ بتاتے ہیں کہ وہ مزدور ہیں اور کام کی تلاش میں جارہے ہیں۔

راستے میں ضلع چاغی کے علاقے دالبدین میں رات ٹہرتے ہیں، جہاں پاکستان ہوٹل کے سامنے دیگر کئی پرانی ڈبل کیبن گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں، جہاں ڈرائیور ماشخیل جانے والے مسافروں کے لیے آوازیں لگاتا ہیں، ماشخیل، واہسک کے انتہائی جنوب میں واقع ایک سرحدی علاقہ ہے جو دالبدین سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے اور یوں لندن کا سفر، کچے راستے سے 2 گھنٹے میں ماشخیل پہنچنے پر جاری رہتا ہے۔

انتہائی مختصر آبادی پر مشتمل بنجر علاقے، جہاں سے گاڑیاں گزرتی ہیں ہامونِ ماشخیل کہلاتا ہے جو ایران کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ اسے مقامی اصطلاح میں بھوگ کہا جاتا ہے۔

قدیم زمانے میں ہامون ماشخیل کا یہ علاقہ ایک بہت بڑی نہر یا سمندر تھا، جس کی وجہ سے یہاں نمکیات بہت زیادہ ہے، ہر سال دریاؤں کے بہاؤ کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے یہاں سے گرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔

رات کی تاریکی میں لوٹے جانے اور راستہ بھٹک جانے کے خوف سے یہاں مقامی ڈرائیور بھی سفر سے گریز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کو ماشخیل کے اطراف میں قائم خوابگاہوں میں ٹہرایا جاتا ہے، جہاں وہ ایک رات کے قیام کے 250 روپے ادا کرتے ہیں۔

مہاجرین بلوچستان کے سرحدی علاقے میں موجود عارضی آرام گاہوں میں موجود ہیں
مہاجرین بلوچستان کے سرحدی علاقے میں موجود عارضی آرام گاہوں میں موجود ہیں

ایک مقامی ڈرائیور کا کہنا ہے کہ زیرو پوائنٹ (ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی سرحد) کی بندش کی وجہ سے یہاں روزگار کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔

ڈرائیور نے مزید بتایا کہ ماشخیل سے مسافروں کو 65 سے 70 کلومیٹر پر واقع جوڈار کے علاقے سے لے جایا جاتا ہے، جس میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوتا ہے اور فی مسافر 20 ہزار روپے ملتے ہیں، 'جوڈار' پاکستان اور ایران کے درمیان ایک نہایت چھوٹا سرحدی گاؤں ہے جو صرف 8 مکانات پر مشتمل ہے۔

جوڈار میں پاکستانی علاقے میں 2 چوکیاں قائم ہیں جس میں سے ایک چوکی لیویز فورس جبکہ دوسری فرنٹیئر کور (ایف سی) کی ہے، اس مقام کے بعد مسافروں کو پیدل سفر کرنا پڑتا ہے جس میں گائیڈ انہیں پہاڑی راستے سے سرحد پار ایران لے جاتا ہے۔

مقامی زبان میں ان گائیڈز کو 'راہ بلد' کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں راستہ جاننے والا، ماشکیل کے ساتھ یہ گائیڈز تافتان میں بھی موجود ہوتے ہیں۔

حاجی مراد نامی ایک ایجنٹ کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار ایران جانے والے افراد کو ایف سی کے اہلکار روک لیتے ہیں اور قانونی چارہ جوئی کے بعد واپس ان کے گاؤں بھجوادیتے ہیں جبکہ کچھ بدقسمت ایرانی بارڈر سیکیورٹی فورس کی گولیوں کا شکار ہوجاتے ہیں، بصورت دیگر گرفتاری کے ڈر سے انہیں جلد از جلد 'زاہدان' کے علاقے پہنچا دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی سفر کرنے والے ایک مسافر نعمت اللہ نے مشکلات بھرے 4 دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور پاکستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں کا یہ سفر پیاس اور بھوک سے لڑتے ہوئے کیا گیا اور انہیں اور ساتھیوں کو ایران کے گاؤں پہنچنے کے بعد ہی آرام کرنے کا موقع مل سکا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگلے ہی روز ہمیں زاہدان کے لیے بس میں سوار کردیا گیا جسے راستے میں ایرانی سیکیورٹی فورسز نے گھیر لیا، وہ بہت طاقتور اور مضبوط تھے، اس میں سے ایک نے اِس زور سے تھپڑ مارا کہ میں زمین پر گر گیا جبکہ میرے ساتھی یہ منظر دیکھنے کے بعد خوفزدہ ہو کر رونے لگے۔

لیویز اہلکاروں کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے سرحد پار کرنے کے خواہشمند مہاجرین —فوٹو: ڈان اخبار
لیویز اہلکاروں کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے سرحد پار کرنے کے خواہشمند مہاجرین —فوٹو: ڈان اخبار

نعمت اللہ کا ایک ساتھی بہت روانی سے فارسی بولتا تھا جس کی وجہ سے وہ مارنے پیٹنے کے بجائے زیادہ ڈراتے دھمکاتے تھے اور پھر 2 ہفتے کی قید کے بعد فارسی جاننے والے ساتھی کے علاوہ باقی تمام افراد کو لیویز فورس کے حوالے کردیا گیا لیکن مذکورہ شخص جرمنی پہنچ گیا۔

نومبر میں ہونے والے قتل عام کے سبب اب زیادہ تر لوگ بذریعہ فضائی سفر، کاروباری اور سیاحتی ویزے پر ترکی جارہے ہیں اور پھر وہاں سے کشتی کے ذریعے یونان پہنچتے ہیں، باوجود اس کے کہ اس طرح سفر کی لاگت 7 سے 8 لاکھ روپے ہوجاتی ہے۔

یورپ کے علاوہ جنوبی افریقہ بھی غیر قانونی سفر اختیار کرنے والے پاکستانیوں کے لیے پرکشش مقام ہے، اس کے لیے وہ پہلے موزمبیق اور ملاوی جاتے ہیں جہاں پہنچنے کے بعد ویزا جاری ہوتا ہے، یوں 6 سے 7 لاکھ خرچ کر کے جنوبی افریقہ پہنچ جاتے ہیں۔

یورپ میں مقیم کا ضلع گجرات میں زیر تعمیر مکان —فوٹو: وائٹ اسٹار
یورپ میں مقیم کا ضلع گجرات میں زیر تعمیر مکان —فوٹو: وائٹ اسٹار

گجرات کی مقامی سیاسی شخصیت کے مطابق غیر قانونی راستے سے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہوجانے والے افراد نے اسلام آباد اور گجرات میں پراپرٹی میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

غیر قانونی اسمگلنگ کا آغاز

انسانی اسمگلنگ کا آغاز کئی دہائیوں قبل، 50 کے عشرے میں بے ضرر اور قانونی طریقے سے ہوا تھا، جب برطانیہ کو صنعتی مزدوروں کی ضرورت آن پڑی تھی، اس وقت برطانوی کمپنی کی جانب سے منگلہ ڈیم کی تعمیر کے باعث بے دخل ہونے والے میرپور آزاد کشمیر کے رہائشیوں کو ایک معاہدے کے تحت، برطانیہ کے ویزے جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں اتنی کثیر تعداد میں ہجرت ہوئی کہ اب میرپور کو چھوٹا انگلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد اگلے 4 سال میں ہی ہجرت کا یہ سلسلہ قریب کے علاقوں میں پھیل گیا، جس میں ضلع جہلم، تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات شامل ہیں، اور 60 ،70 کے عشرے میں بیرون ملک جانے والوں نے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کا رخ کیا۔

90 کی دہائی میں مہاجرین کا یورپ میں داخلہ مشکل ہوگیا، جس کے بعد پاکستانی نوجوانوں نے ایران، ترکی اور پاکستان میں موجود انسانی اسمگلروں کا سہارا لیا۔

کئی دہائیوں تک غیر قانونی تارکین وطن، زمینی اور سمندری راستوں کے بجائے بذریعہ ہوائی سفر یورپ جاتے رہے، بعد ازاں 90 کے عشرے میں کچھ یورپی ممالک نے ہوائی سفر کے حوالے سے سختی کردی جس کی وجہ سے لوگ زمینی سفر کو ترجیح دینے لگے۔

نیویارک میں ہونے والے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد، بین الاقوامی ایئرپورٹس پر سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی، جس کے نتیجے میں فضائی سفر کے ذریعے غیر قانونی طور پر امریکا اور دیگر ممالک میں داخل ہونا تقریباۤ ناممکن ہوگیا۔

گجرات کا علاقہ عالم پور گوندلان، انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے سب سے زیادہ شہرت رکھتا ہے، اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد ناروے میں مقیم ہے، جس وجہ سے یہ 'منی ناروے' کہلاتا ہے۔

60، 70 کی دہائی میں اس علاقے کے ایک شخص چوہدری نیک عالم نے اس کاروبار کو بڑھانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا، اور گجرات سے تقریباۤ 10 ہزار کے قریب افراد کو اسمگلنگ کے ذریعے باہر بھجوایا، اس کے علاوہ انہوں نے کئی مرتبہ الیکشن میں بھی حصہ لیا لیکن ناکام رہے۔

اس زمانے میں پاسپورٹ کا حصول خاصہ مشکل ہوا کرتا تھا، درخواست میں 17 گریڈ کے افسر کی تصدیق لازمی چاہیے ہوتی تھی، چوہدری نیک عالم پنجاب کے زرعی شعبے میں 17 گریڈ کے افسر تھے اور ہر شخص سے تصدیق کے عوض 2 ہزار روپے لے کر یورپ بھجوانے میں مدد کیا کرتے تھے، جو اس زمانے میں خاصی بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔

حتیٰ کہ آج بھی کئی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تنظیمیں ہرسال نیک علم کی برسی کا احتمام کرتی ہیں۔

گجرات، خاص کر کھاریاں سے تعلق رکھنے والے افراد کا بڑی تعداد میں یورپ اور دیگر ممالک جانے کی وجہ سے نقشہ ہی بدل چکا ہے، یہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے شاندار گھر موجود ہیں جس میں زیادہ تر سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ملازم رہائش پذیر ہیں جو ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

ان ملازمین کو 'مسلی' کہا جاتا ہے، اتنی بڑی تعداد میں ان افراد کی رہائش کے باعث یہ گاؤں 'عالم پور گوندلان' سے تبدیل ہو کر عالم پور مسلین کے نام سے جانا جانے لگا ہے۔

نا مکمل اسٹاف اور کم وسائل

تافتان میں قائم ایف آئی اے سینٹر میں تین افراد کو لایا گیا جنہیں حال ہی میں غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے پر ملک بدر کیا گیا تھا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اجرت کے بغیر کام کرتے تھے، ایف آئی اے ملازم نے ان سے سوال پوچھنے کی اجازت نہیں دی۔

ایک ایف آئی اے اہلکار کا کہنا تھا کہ ’تمہیں ہمارے انچارج بہادر خان کاکڑ سے پہلے اجازت لینی ہوگی اور وہ اپنے دفتر میں مل سکتے ہیں‘۔

اس سے پہلے کہ ہم بہادر خان کاکڑ کے پاس پہنچتے، ایک اور ایف آئی اے اہکار نمودار ہوا اور کہنے لگا کہ کاکڑ صاحب کی کمر میں درد ہے اور وہ سو رہے ہیں، جب یہ بہانہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا تو وہ پھر کہیں چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد آیا، اور اس نے تین ہزار روپے کے نوٹ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ آپ لوگوں کی مٹھائی ہے جو کاکڑ صاحب نے تم لوگوں کے لیے بھہجوائی ہے، اس رشوت کا مودبانہ طریقے سے ان کار کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ ’ٹھیک ہے! لیکن وہ چاہتے ہیں کہ آپ لوگ ان کے مہمان بن کر ان ساتھ دوپہر کا کھانا کھائیں‘۔

اس میں حیرانگی کی بات نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی رپورٹر انسانی اسمگلنگ کے مسئلے پر بات کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے روز مرہ کی بنیاد پر رشوت دے کر خاموش کروادیا جاتا ہے۔

ایف آئی اے اہلکار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا اسٹاف مکمل نہیں اور وسائل بھی کم ہیں، تاہم انہوں نے اس معذوری کا ذکر نہیں کیا جس کا سامنا انہیں دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کی غیر موجودگی میں ہوتا ہے اور یہ ادارے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔

اس کے باوجود ایف آئی اے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ وہ علاقے میں انسانی اسمگلنگ کو ختم کرنے کے لیے بہتر کوششیں کر رہے ہیں۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب ڈاکٹر عثمان انوار کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ برس انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی اور 1500 افراد کو گرفتار کیا جو اس عمل میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اچھی رقم کے بدلے میں یہ افراد ایسے لوگوں کے لیے جو ترقی یافتہ ممالک جانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، دبئی اور ملائیشیا کے اصلی ویزوں کا بندوبست کرتے ہیں، جب یہ لوگ ملائیشیا یا دبئی پہنچ جاتے تھے تو اسمگلرز انہیں یورپ اور آسٹریلیا کے لیے ویزا فراہم کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کے ان 6 اضلاع، جہاں غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے والے افراد کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے، کی نگرانی کرنے والے ایف آئی اے گجرانوالہ آفس پر الزام ہے کہ وہ خود اس گروہ کے کام میں کسی حد تک ملوث ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ برس غیر قانونی طور پر ایران جانے والے 15 افراد کی ہلاکت کے معاملے کے بعد وفاقی وزارتِ داخلہ نے ایف آئی اے گجرانوالہ کے اسٹاف کو تبدیل کردیا تھا جبکہ مفخر عدیل کو ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کردیا تھا، اس کے ساتھ ساتھ گجرنوالہ کے سب آفس میں بھی تبدیلیاں کی گئیں تھی۔

ایف آئی اے ڈائریکٹر مفخر عدیل نے ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے کی ’ریڈ بک‘ میں درج 19 انتہائی مطلوب اسمگلرز اس وقت بیرونِ ملک مقیم ہیں، تاہم جب سے انہیں تعینات کیا گیا ہے کہ تب سے اب تک 120 اسمگلرز اور 400 کے قریب زمینی راستے پر موجود ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے ڈائریکٹر اور دیگر اہلکاروں کے مطابق مشتبہ افراد کے خلاف درج متعدد مقدمات پیسوں کی لین دین پر رضامندی کے بعد ختم کردیے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ افراد قانون کی گرفت میں آنے سے بچ جاتے ہیں تاہم دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ایف آئی اے اہلکار اپنے ریجنل دفاتر میں اسمگلروں کو دیگر راستے دکھانے کے لیے ڈیل کرتے ہیں۔

حتیٰ کے ایسے ملزمان جنہیں گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے اور سزائیں سنائی جاتی ہیں، انہیں جرمانے سے زائد کبھی کبھار ہی بڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔

لیویز اہلکاروں کی جانب سے گرفتار کیے گئے افغان تارکینِ وطن، جن میں کچھ ازبک باشندے بھی شامل ہیں، عقب میں لیویز اہلکاروں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے — فوٹو، ڈان نیوز
لیویز اہلکاروں کی جانب سے گرفتار کیے گئے افغان تارکینِ وطن، جن میں کچھ ازبک باشندے بھی شامل ہیں، عقب میں لیویز اہلکاروں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے — فوٹو، ڈان نیوز

گوجرانوالہ میں ایف آئی اے کی ایک خصوصی عدالت انسانی اسمگلنگ سے متعلق کیسز سمیت اسی نوعیت کے دیگر کیسز کی سماعت کرتی رہی ہے جنہیں ایف آئی اے کے دیگر دفاتر سے بھیجا جاتا ہے، اس کیٹیگر میں ملزمان کے خلاف ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت 17 سے 22 تک کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جاتے ہیں، ان دفعات کے تحت ملزمان کو 5 سال تک کی سزا (اور ایک ہی جرم میں دوبارہ گرفتاری کی صورت میں 7 سال تک کی سزا) یا جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔

ایف آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق اکتوبر 2017 تک ایک ہزار 8 سو 98 انسانی اسمگلنگ میں ملوث مجرموں کو سزائیں سنائی گئیں جن میں سے ایک ہزار 2 سو 45 افراد، جو کل تعداد کا 65 فیصد بنتا ہے، کو صرف جرمانے کی سزا دی گئی جبکہ دیگر 653 مجرموں میں سے 97 فیصد افراد کو ایک سال سے بھی کم عرصے کے لیے قید کی سزا دی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ ایف آئی اے حکام کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران گوجرانوالہ اور اس ریجن میں انسانی اسمگلنگ میں موجود ایک بھی شخص کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے نہیں پہنچایا گیا۔

رواں ماہ اپریل میں قومی اسمبلی سے ملک میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پہلا خصوصی قانون اسمگلنگ مائیگرینٹس بل 2018 پاس ہوا، جس کے مطابق اس عمل میں ملوث افراد کو کم سے کم 3 سال کی سزا اور 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ اگر اس عمل میں کسی کے جان جانے اور معذور ہونے کا خطرہ ہو تو پھر اس میں مجرموں پر مزید سنگین پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

تاہم یہاں یہ سوال غور طلب ہے کہ یہ ایک شروعات ہوسکتی ہے، تو کیا یہ اقدامات ہمارے معاشرے کے لیے کافی ہیں؟ اگر بے روز گاری، غربت، انسانی حقوق کی پامالی، وغیر جیسے عناصر تیزی سے بڑھتے رہے تو بیرونِ ملک موجود ’سرسبز چراہ گاہیں‘ لوگوں کو اپنی جانب مائل کرتی رہیں گی اور پھر ایسے میں کچھ بے ایمان افراد معصوم لوگوں سے منافع حاصل کرنے کی خواہش کرتے رہیں گے۔

اس رپورٹ میں مدد فراہم کرنے کے لیے لاہور سے ذوالقرنین طاہر کے بھی مشکور ہیں۔

مذکورہ رپورٹ میں رازداری کے باعث کچھ ناموں کو تبدیل کیا گیا ہے


یہ رپورٹ 23 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی