59 کھرب 32 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش

آئندہ مالی سال کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.9 فیصد یا 18 کھرب 90 ارب روپے تجویز کیا گیا۔
اپ ڈیٹ اپريل 28, 2018 12:20pm

وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے آئندہ مالی سال 19-2018 کے لیے 59 کھرب 32 ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا، جس میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.9 فیصد یا 18 کھرب 90 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے چھٹے اور آخری بجٹ سے چند گھنٹوں قبل مشیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

یاد رہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس کا سامنا ہے اور اپوزیشن کے دباؤ پر وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے اور تا حال واپس نہیں آئے ہیں, 17 نومبر کو اعلیٰ حکومتی سطح پر وفاقی وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کو ان کے عہدے سے تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں اسحٰق ڈار کی جانب سے 22 نومبر 2017 کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو رخصت کی درخواست دی گئی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا، رخصت منظور ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داریاں بھی واپس لے لی گئیں تھیں، جس کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارتِ خزانہ اور اقتصادی امور کا اضافی چارج لے لیا تھا۔

گزشتہ برس 27 دسمبر کو وفاقی حکومت نے مفتاح اسمٰعیل کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مشیر خزانہ و اقتصادی امور مقرر کردیا تھا۔

وفاقی کابینہ نے خصوصی اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال 19-2018 کے لیے پیش ہونے والے بجٹ کے لیے دی جانے والی تجاویز کی منظوری دی تھی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حکمراں جماعت کے دورِ حکومت کے چھٹے اور آخری بجٹ کے لیے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لیا گیا تھا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے دوران نومنتخب وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے بجٹ تجاویز پر بریفنگ دی۔

یاد رہے کہ 26 اپریل کو مشیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مالی سال 18-2017 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کی۔

اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے بتایا تھا کہ ’رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 5.79 فیصد رہی جو گزشتہ 13 سال میں سب سے زیادہ ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے سے قبل اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے حکومت کی جانب سے مفتاح اسمٰعیل کو بجٹ سے کچھ دیر قبل وزیر خزانہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔

بعد ازاں بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کرکے جانے والے اپوزیشن اراکین میں سے تحریک انصاف کے ارکان بائیکاٹ ختم کرکے ایوان میں واپس آگئے اور شور شرابہ شروع کردیا۔

پی ٹی آئی ارکان نے مفتاح اسمٰعیل کے ڈائس کے سامنے آکر نعرے بازی کی اور بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر چیمبر کے سامنے پھینک دیں۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے قومی اسمبلی میں مالی سال 19-2018 کی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا چھٹا بجٹ پیش کررہا ہوں جس پر مجھے خوشی ہے۔

انہوں نے مالی سال 19-2018 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس حکومت کا مقدس فریضہ ہے کیونکہ بجٹ کی منظوری کے بغیر حکومت ایک منٹ بھی نہیں چل سکتی، بجٹ کا پاس ہونا اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلی منتخب حکومت کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ اس میں تبدیلی کرسکے اور آج پیش کیا جانے والا بجٹ نواز شریف کی حکومت کا عکاس ہے اور ایوان میں ان کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو ہماری معیشت کی بہت بری حالت تھی اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اور ملک میں دہشت گردی کی لہر تھی اور توانائی کا بحران بہت بڑا تھا۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کی قیادت میں چلینچز کا سامنا کیا اور 5 سال میں سخت محنت کی اور عوام کی خدمت ہماری سب سے اہم ترجیح رہی۔


وفاقی بجٹ 19-2018 کے نمایاں خدوخال

  • بجٹ میں جاری اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی بجٹ میں کمی کی گئی۔
  • بینک سے قرضوں کا تخمینہ ایک ہزار 15 ارب روپے سے زائد لگایا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.6 گنا زیادہ ہے۔
  • دفاعی بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 19.5 فیصد اضافہ کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی

معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.4 فیصد تھی جبکہ موجودہ مالی سال میں یہ شرح 5.8 فیصد ہے جو 13 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بلند سطح کی وجہ سے آمدنی کا حجم بڑھا اور معیشت میں ترقی ہوئی اور ہم آج دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں، حالیہ برسوں میں تمام بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور یہ بہتری حکومت کے درست اور مناسب فیصلوں کی وجہ سے ہوئی۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کی پیداوار میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اور آج یہ شعبہ روزگار فراہم کر رہا ہے۔

سروسز کے شعبے میں 6.4 فیصد ترقی کی گئی اور افراط زر کی بات کی جائے تو ہم نے 5 برسوں میں اوسط افراط 5 فیصد سے کم رکھی اور مارچ تک یہ شرح 3.8 فیصد رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس سال مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک محدود رہ جائے گا، ایف بی آر کے محاصل دیکھا جائے تو اس سال ان کی وصولی کا ہدف 3 ہزار ارب روپے سے زائد ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں ٹیکس کی وصولی میں کامیابی پر پاکستانی ٹیکس دہندگان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے قرضوں میں 383 فیصد اضافہ ہوا، اندرونی اور بیرونی وجوہات کی وجہ سے برآمدات کا شعبہ متاثر رہا لیکن رواں سال کے پہلے 9 ماہ میں برآمدات میں 13 فیصد اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور مستقبل میں ان درآمدات کی بدولت بہتری متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے حکومتی اقدامات سے 30 جون تک زر مبادلہ بہت زیادہ ہوگا، ترسیلات زر 19.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور امید ہے کہ جون تک یہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے غریب لوگوں پر سب سے بڑا ٹیکس مہنگائی ہے، ہم نے گزشتہ 5 برسوں میں اوسط افراط زر 5 فیصد سے کم کر رکھی ہے، جو 2008 اور 2013 میں 12 فیصد تھی لیکن رواں سال مارچ تک یہ شرح 3.8 فیصد رہی جبکہ اشیاء خوردونوش کے لیے یہ شرح 2 فیصد رہی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران اعلان کیا کہ مالی سال 19-2018 کے لیے جی ڈی پی کا ہدف 6.2 فیصد رکھا گیا ہے۔

گزشتہ مالی سال 18-2017 میں جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا گیا تھا، اس سے قبل 17-2016 میں 5.7 فیصد، 16-2015 میں 5.5 فیصد، 15-2014 میں 5.1 فیصد اور 14-2013 میں اس کا ہدف 4.4 فیصد رکھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ جی ڈی پی میں زراعت کے حصے پر نظر ڈالیں تو 17-2016 میں عارضی طور پر 3.46 فیصد رہا، 16-2015 میں 0.27 فیصد، 15-2014 میں 2.13 فیصد اور 14-2013 میں یہ 2.5 فیصد تھا۔

جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ 17-2016 میں عارضی طور پر 5 فیصد رہا، 16-2015 میں 5.8 فیصد، 15-2014 میں 5.2 فیصد اور 14-2013 میں یہ 4.53 فیصد تھا۔

جی ڈی پی میں اشیاء کی پیداوار کے شعبے کا حصہ 17-2016 میں عارضی طور پر 4.3 فیصد، 16-2015 میں 3 فیصد، 15-2014 میں 3.6 فیصد، 14-2013 میں 3.49 فیصد تھا

سروسز کے شعبے میں شرح نمو کی ترقی 17-2016 میں عارضی طور پر 5.6 فیصد، 16-2015 میں 5.6 فیصد، 15-2014 میں 4.4 فیصد اور 14-2013 میں 4.46 فیصد رہی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ بجٹس کے دوران جی ڈی پی کی شرح میں ٹیکس ریونیو کی شرح 17-2016 میں 8.5 فیصد، 16-2015 میں 12.6 فیصد، 15-2014 میں 11 فیصد اور 14-2013 میں یہ 10.2 فیصد رہی۔


وزیر خزانہ نے کہا کہ سال 2013 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 8.2 فیصد تھا اور ہماری حکومت نے معیشت کے استحکام پر کام کیا اور اس سال مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک محدود رہ جائے گا۔

ایف بی آر کے محصولات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مالی سال 13-2012 میں ایف بی آر نے 19 کھرب 46 ارب روپے ٹیکس وصول کیا تھا جبکہ اس سال وصولیوں کا ہدف 39 کھرب 35 ارب روپے ہے، جو 5 سال کے مقابلے میں دوگنے سے زیادہ ہے۔

ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 13-2012 میں 10.1 فیصد تھا، جو رواں مالی سال میں بڑھ کر 13.2 فیصد ہوگیا اور گزشتہ 5 برسوں میں ٹیکس وصولیوں میں یہ اضافہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ جون 2013 میں 9.5 فیصد تھا جو 2017 میں کم ہو کر 5.7 فیصد ہوگیا، جو گزشتہ دہائیوں میں کم ترین ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لانگ ٹرم فنانسنگ فیسیلٹی (ایل ٹی ایف ایف ) پر شرح سود 11.4 فیصد سے کم ہو کر 5 اور 6 فیصد کے درمیان ہے جبکہ زرعی شعبوں کے قرضوں کی فراہمی 336 ارب روپے تھی جو فروری 2018 میں 570 ارب روپے ہوگئی اور توقع ہے کہ جون تک یہ 800 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ نجی شعبوں کے قرضوں میں 383 فیصد اضافہ ہوا جو 2013 کے 93 ارب سے بڑھ کر 443 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

محصولات

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے سپر ٹیکس میں کمی کردی ہے جو بینگنگ کمپنیز پر 4 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد اور نان بینکنگ کمپنیز کے لیے اس ٹیکس کو 12 فیصد کردیا گیا ہے، جبکہ ہر سال اس ٹیکس کی شرح میں ایک ایک فیصد تک کمی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس میں کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق 2018 کی 30 فیصد شرح کو کم کرکے 2023 تک 25 فیصد کم کیا جائے گا، جو 2019 میں 29 فیصد ہوگا اور ہر سال ایک ایک فیصد سے کم کیا جائے گا۔

غیر منقولہ ٹیکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے بتایا کہ اس ٹیکس کی شرح کو 5.7 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ آفٹر ٹیکس کی لازمی ڈسٹری بیوشن کی شرح کو 40 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کردیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں حکومت نے بونس شیئرز پر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کردیا، ریئل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے یونٹ ہولڈرز کے لیے جاری کردہ منافع پر ٹیکس کو 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بینک ٹرانزیکشن کے 0.6 فیصد ٹیکس کو کم کرکے 0.4 فیصد کردیا گیا ہے، اس کے علاوہ موجودہ قانون کے مطابق 10 ہزار روپے سے زائد کی خدمات اور 25 ہزار روپے سے زائد اشیاء کی خریداری پر ٹیکس کی کٹوتی لازمی ہے، تاہم تجویز پیش کی گئی ہے کہ افراطِ زر کے پیشِ نظر ٹیکس کی کٹوتی کے لیے خدمات کی حد 30 ہزار روپے جبکہ اشیاء کی خریداری کی حد 75 ہزار روپے مقرر کردی جائے۔

مفتاح اسمٰعیل نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ عوام کی بھلائی کے لیے کام کرنے والے فلاحی ادارے ایس آئی یو ٹی، عزیز ٹبہ فاؤنڈیشن، سیلانی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن اور الشفا آئی ہسپتال سمیت دیگر فلاحی اداروں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ مالی سال 18-2017 کے بجٹ میں خسارہ 4.1 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔

گزشتہ برسوں کی ترسیلات زر پر نظر ڈالیں تو یہ 17-2016 میں 2.3 فیصد، 16-2015 میں 6.4 فیصد، 15-2014 میں 18.2 فیصد اور 14-2013 میں 13.7 فیصد رہیں۔

اس کے علاوہ جی ڈی پی کا تجارتی خسارہ 17-2016 میں 5.8 فیصد، 16-2015 میں 6.6 فیصد، 15-2014 میں 6.3 فیصد اور 14-2013 میں 6.8 فیصد رہا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو دیکھا جائے تو 17-2016 میں یہ 2 فیصد، 16-2015 میں 1.2 فیصد، 15-2014 میں 1 فیصد اور 14-2013 میں 1.3 فیصد رہا۔

گزشتہ مالی سال 18-2017 کے لیے کل اخراجات کا تخمینہ 4 ہزار 753 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔


وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 4 ہزار 4 سو 35 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے یہ بہتر ٹیکس اقدامات اور بہتر ٹیکس انتظامیہ کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس بیس میں اضافہ اور ٹیکس کی شرح میں کمی کی جارہی ہے، حکومت سماجی تحفظ خاص طور پر اس میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی اور ٹارگٹڈ سبسڈی اسکیم کے تحت پسماندہ طبقوں کے لیے اقدامات جاری رکھا جائے گا جس کے لیے 1 سو 25 ارب روپے کی تجویز ہے جبکہ کل سبسڈیز میں 1 سو 89 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ وزیر اعظم کی یوتھ اسکیم جاری ہے اور اس مقصد کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

ان کاکہنا تھا کہ پی اے سی بی کے لیے 1 ہزار 30 ارب روپے کے بجٹ کی تجویز ہے این ایف سی ایوارڈ کے بعد وفاقی حکومت کی مالیاتی گنجائش 10 سے 11 فیصد کمی ہے تاہم وفاقی حکومت کی مالی ذمہ داریاں کم نہیں ہوئیں۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ این ایف سی کے ذریعے 8 سالوں میں صوبوں کو اضافی 2500 ارب روپے منتقل ہوئے اس دوران وفاقی حکومت کو خصوصی سیکیورٹی اور ٹی ڈی پیز کے لیے خطیر رقم مختص کرنا پڑی، آئندہ مالی سال کے لیے خصوصی اقدامات کی تجویز مضبوط زرعی شعبے معیشت کی بہتری کا ضامن ہوتا ہے پاکستان کی ذرعی پیداوار میں اضافہ، زرعی ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی و کھیتی باڑی میں بدلتے رجحانات میں بہتری کے لیے سیکنڈ گرین انقلاب کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک سبسڈی کی روایات ختم کرکے منڈیوں کی ضرورت پر مبنی پالیسی سازی نہیں ہوگی تب تک شعبے میں مسافت تبدیلی ممکن نہیں اس لیے آئندہ سبسڈی کے حوالے سے فیصلے صوبائی حکومت کے ذمے چھوڑی جائے گی۔

مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ فشنگ انڈسٹری کی فروغ کے لیے فشنگ پر عائد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز،21 اقسام کے کمپیوٹر پارٹس پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ ہوگا، اسٹیشنری کے لیے زیرو ریٹنگ بحال کرنے کی تجویز ہے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ ملے۔

انہوں نے کہا کہ سیگریٹ پر ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز ہے، بیلوں کے امپورٹ پر 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی واپس لے لی گئی، مائیکرو فیڈر سامان پر ٹیکس واپس لینے کی تجویز ہے اس کے علاوہ کینسر کی ایک دوا سے بھی ڈیوٹی واپس لینے کی تجویز ہے، اسی طرح آنکھوں کے چشموں پر بھی ٹیکس کم کرنے کی تجویز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسیٹک ایسڈ پر ڈیوٹی کم کی جارہی، سیلیکون الیکٹرانک اسٹیل شیٹ پر 10 سے کم کر کے 5 فیصد کی جارہی، ماحول دوست بجلی گاڑیوں کے لیے انفرا اسٹرکچر کے لیے چارجنگ اسٹیشن پر 16 فیصد ڈیوٹی واپس لینے کی تجویز ہے، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کی شرح کو بڑھا کر ایک فیصد سے 2 فیصد کیا جارہا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 2013 میں 3 ہزار روپے سہ ماہی وظیفہ مقرر تھا اور اب اسے 4834 روپے کردیا ہے اور رواں مالی سال میں ایک سو 13 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے غریب اور انتہائی غریب افراد کے لیے 10 ارب روپے سے زائد رقوم سے بی آئی اس پی سے مستفید افراد کو کاروبار کے لیے فنڈز فراہم کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ بیفشریز کو 34 لاکھ سے بڑھا کر 56 لاکھ کردیا ہے اور رواں مالی سال میں اس میں ایک ہزار 13ارب روپے کا تخمینہ ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اس کے لیے 125 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ میں گزشتہ 5 برسوں میں حکومت نے 20 ارب روپے مہیا کیے ہیں جبکہ مالی سال 19-2018 کے لیے 69 کروڑ مختص کیے جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ بیوہ قرض داروں کی سہولیات کے لیے قرض کی حد 6 لاکھ روپے تک کردی گئی ہے۔

آمدن کا ہدف

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں اور جنگ زدہ علاقوں میں بحالی کے کاموں کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مفتاح اسمٰعیل کے مطابق بجٹ 19-2018 کے لیے وفاقی حکومت کی کل آمدن کا ہدف 56 کھرب 61 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے 49 کھرب 92 ارب روپے سے 13.4 فیصد زیادہ ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات کا ہدف 44 کھرب 35 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال اس کا تخمینہ 39 کھرب 35 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال 19-2018 کے لیے کل آمدن میں صوبائی حکومتوں کے حصے کا ہدف 25 کھرب 90 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ ہدف 23 کھرب 16 ارب روپے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی سال میں صوبائی حکومت کو کل آمدن میں حصے دینے کے بعد وفاق کے پاس 26 کھرب 76 ارب روپے کا ہدف ہے تاہم آئندہ مالی سال کے لیے 30 کھرب 70 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے اخراجات کا تخمینہ رواں برس کے مقابلے 48 کھرب 57 ارب روپے کے مقابلے میں 52 کھرب 46 ارب روپے مختص کیا گیا ہے جو 8 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 16 کھرب 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ رواں مالی سال اس کے لیے 15 کھرب 26 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ میں گزشتہ برس کے 9 کھرب 90 ارب روپے کے مقابلے میں اس سال 11 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ مالی سال 19-2018 کے دوران وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک کھرب 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں صوبائی سرپلس 2 کھرب 74 ارب روپے کی توقع ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ سرپلس 2 کھرب 86 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ تمام آمدن اور اخراجات کے اعداد و شمار کے مطابق بجٹ خسارہ موجودہ مالی سال میں ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) 5.5 رہنے کا امکان ہے تاہم آئندہ مالی سال کے دوران یہ خسارہ جی ڈی پی کا 4.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کمپنیوں کا تین سال میں صرف ایک مرتبہ آڈٹ کیا جائے جس میں ایک ساتھ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ایکسائز ٹیکس کا آڈٹ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ٹیکس کی لائبلیٹی 25 فیصد ادا کرنی پڑتی تھی تاہم اس شرط کو نرم کرتے ہوئے ادائیگی کی حد 10 فیصد مقرر کردی گئی ہے، اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس عمل سے ٹیکس گزاروں کو ریلیف ملے گا۔


مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز کو ریلیف دیا جارہا ہے اور یکم جولائی 2018 سے 10 فیصد اس میں اضافہ تجویز کیا جارہا ہے، اسی طرح ہاؤس رینٹ سیلنگ اور الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا جارہا۔

وفاقی حکومت نے کم آمدنی والے پنشنرز کی مشکلات کے پیش نظر پنشن کی کم سے کم حد کو 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ فیملی پنشن کو بھی 4500 روپے سے بڑھا کر 7500 روپے کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن کم سے کم 15 ہزار روپے ماہانہ کی جا رہی ہے، اسٹاف کار ڈرائیورز اور ڈسپیچ رائیڈرز اوور ٹائم الاؤنس 40 روپے فی گھنٹہ سے بڑھا کر 80 روپے فی گھنٹہ کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ سرکاری ملازمین کو گھر، گاڑی اور موٹر سائیکل خریدنے کیلئے دیئے جانے والے ایڈوانس کی مد میں 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ان تمام تجاویز کا مجموعی تخمینہ 70 ارب روپے کے قریب ہے۔


مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ آئندہ مالی سال 19-2018 کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت کراچی پیکج کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے اس کے علاوہ گرین لائن بس کراچی منصوبے کے لیے 8 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے گرین لائن بس ٹرانزٹ سسٹم وفاقی حکومت کی جانب سے تعمیر کیا جارہا ہے اور موجودہ مالی سال تک اس منصوبے پر 16 ارب خرچ ہوچکے ہیں تاہم سندھ حکومت کی جانب سے بسوں کی خریداری کے لیے کنٹریکٹ جاری نہیں کیا گیا اور اگر سندھ حکومت ایسا نہیں کرسکتی تو یہ کام بھی وفاقی حکومت کرنے کو تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کے 4 کے منصوبے کا 45 فیصد وفاقی حکومت کی جانب سے دینے کا کہا گیا تھا تاہم منصوبہ تاخیر کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کی لاگت 400 فیصد سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔

انہوں ںے کہا کہ سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے اعلان کیا جارہا ہے جو نجی شعبے کے ذریعے تعمیر کیا جائے گا اور اس سے یومیہ 50 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔

مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کراچی کے لیے 25 ارب روپے کا خصوصی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے بنیادی ڈھانچے، سماجی شعبوں کی سہولتوں کے علاوہ سڑکوں پلوں اور آگ بجھانے والے منصوبوں کی منظوری دی ہے، اور اس مقصد کے لیے موجودہ سال کے بجٹ میں 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال میں اس کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی ایکسپو سینٹر کی توسیع کے لیے 80 لاکھ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔


توانائی

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ مالی سال 2018-19 کے دوران بجلی کے شعبے میں 138 ارب روپے کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے، جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

1۔ 27.5 ارب روپے کی لاگت سے جامشورو سندھ میں کوئلے سے چلنے والے 600 میگاواٹ کے دو منصوبے لگائے جائیں گے۔

2۔ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی تعمیر کے پہلے مرحلے کے لیے 76 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

3۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 32.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور

4۔ تربیلا کے چوتھے توسیعی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 13.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

پانی

انہوں نے پاکستانی عوام کو دیامر بھاشا ڈیم کی حالیہ منظوری کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر کُل لاگت 474 ارب روپے آئے گی اور ڈیم میں 64 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی۔

اس منصوبے کے لیے مالی سال 2018-19 کے دوران 23.7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ پانی کے شعبے میں مجموعی سرمایہ کاری 2017-18 کے 36.7 ارب سے بڑھ کر 2018-19 میں 79 ارب روپے ہوجائے گی۔

شاہراہیں

بجٹ 2018-19 میں شاہرات کے لیے 310 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جس میں یہ منصوبے بھی شامل ہیں:

  • خضدار شہداد کوٹ موٹروے
  • 230 کلومیٹر لاہور۔ملتان موٹروے
  • 62 کلومیٹر گوجرہ۔شورکوٹ موٹروے
  • 64 کلومیٹر شورکوٹ۔خانیوال موٹروے
  • 91 کلومیٹر سیالکوٹ۔لاہور موٹروے
  • 57 کلومیٹر ہزارہ موٹروے

ریلویز

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ پانچ سال میں پاکستان ریلوے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، سال 2018-19 کے بجٹ کیلئے 35 ارب روپے کی بجٹ گرانٹ کے علاوہ ترقیاتی سرمایہ کاری کیلئے 39 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

گوادر کی ترقی

مشیر خزانہ نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ کو عالمی تجارت کیلئے مکمل فعال کرنے کا خواب اب بتدریج حقیقت میں تبدیل ہو رہا ہے، سال2018-19 کے بجٹ میں ہمارا بنیادی مقصد جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے ضروری وسائل مختص کرنا ہے۔

ان منصوبوں میں گوادر ایئرپورٹ اور اس سے ملحقہ سڑکوں کی تعمیر، بندرگاہ کی سہولیات بشمول صاف پانی کا پلانٹ، 50 بیڈز کے ہسپتال کو 300 بیڈز تک اَپ گریڈ کرنا، گوادر ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیر، سی پیک انسٹیٹیوٹ کا قیام اور ڈیموں کی تعمیر شامل ہے۔


مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ہم ایک نئے پروگرام کا آغاز کر رہے ہیں جس کا نام 100،100،100 ہے۔ وفاقی حکومت کا عہد ہے کہ 100 فیصد بچوں کے اسکول میں داخلے، 100 فیصد بچوں کی اسکول میں حاضری اور 100 فیصد بچوں کے کامیابی سے فارغ التحصیل ہونے کو یقینی بنائے گی۔ 70 سال کی طویل مدت کے بعد بھی ہم پاکستانی رہنماؤں نے اس ملک کے بچوں کو مایوس کیا ہے، ہم ان کو تعلیم کی روشنی فراہم نہیں کر سکے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ تعلیم کا شعبہ اب صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، پھر بھی وفاقی حکومت مالی اور انتظامی لحاظ سے ہر صوبے کو اس مقصد کے حصول میں معاونت فراہم کرے گی۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے یہ ایک قومی عہد ہے جو میں آج پاکستان کے بچوں سے کر رہا ہوں، ہم آپ کو تعلیم دیں گے اور ہم 100،100،100 پر مُصر رہیں گے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ہیں اور عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صحت کے شعبے کو صوبوں کے حوالے کئے جانے کے باوجود وفاقی حکومت اس شعبے میں اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی نہیں کر سکتی تھی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غریب عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے ’پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام‘ کا اجراء کیا گیا جس کے تحت 30 لاکھ خاندانوں کو 41 اضلاع میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں سے صحت کی معیاری سہولیات بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں اور اب اس پروگرام کا دائرہ ملک کے تمام اضلاع تک پھیلایا جا رہا ہے۔


وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ 18-2017 کے دوران دی جانے والی مراعات کو جاری رکھا جائے گا، بجٹ میں جن مراعات کا اعلان کیا گیا تھا ان میں زرعی سود کی کمی، زرعی درجہ جات کی حد میں اضافہ، ہارویسٹر پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ، سورج مکھی اور کینولا کے بیج کی در آمد پر خاتمے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام کھادوں پر جنرل سیلز ٹیکس کی یکساں شرح نفاذ، کاشت کاری کے حوالے سے کھاد کی اہمیت کو مد نطر رکھتے ہوئے حکومت نے کھاد پر سیلز ٹیکس میں کمی کی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت میں 4 فیصد کمی جبکہ یوریا میں 5 فیصد اور دیگر پر 9 سے 11 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بجٹ میں کھاد پر ٹیکس کو 3 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی تھی تاہم وزیر فوڈ سیکیورٹی کی سفارش پر وزیر اعظم پاکستان نے اسے کم کر کے صرف 2 فیصد تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

زرعی مشینری پر جی ایس ٹی کی شرح کو موجودہ 7 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔ ڈیری اور لائیو اسٹاک کے لیے ٹیکس اور ڈیوٹی میں چھوٹ کی تجویز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کاٹن کے سبجیکٹ کو وزارت ٹیکسٹائل سے لے کر منسٹری آف فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے حوالے کردیا گیا ہے۔

مفتاح اسمٰعیل حکومت 5 ارب روپے سے ایگریکلچر سپورٹ فنڈ قائم کر رہی ہے یہ فنڈ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے پودوں اور بیج کے جدید اقسام پر کی جانے والی تحقیق اور ترقی کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گی، اس فنڈ کا انتظام وزارت خزانہ اور منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے کیا جائے گا۔

حکومت نے زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ایک اور 5 ارب روپے کا فنڈ قائم کرنے کی تجویز کی ہے۔ یہ فنڈ بھی وزارت خزانہ اور منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ مالی سال 18-2017 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ کسانوں کیلئے قرضوں کا حجم ایک ہزار ایک ارب روپے مقرر کیا گیا اور یکم جولائی 2017 سے شروع ہونے والے مالی سال سے 9.9 فیصد سالانہ کی شرح سے زرعی قرضے ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ زرعی قرضوں کا حجم ترقیاتی حجم کے برابر کیا گیا، فی کسان 50 ہزار روپے تک قرضہ دیا جائے گا جبکہ زرعی مشینری پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کی جارہی ہے۔


وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکسٹائل، چمڑے، کھیلوں کی مصنوعات، قالین، سرجیکل مصنوعات جیسے 5 بڑے مصنوعات کو زیرو ریٹنگ سیلز ٹیکس قرار دیئے جانے کو جاری رکھا جائے گا، حکومت نے آلو کی بر آمد پر ٹریڈ سپورٹ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کی تفصیل جلد ہی دے دی جائے گی۔

ان کاکہنا تھا کہ لانگ ٹرم فنانس (ایل ٹی ٹی ایف) اور ایکسپورٹ ری فنانس (ای آر ایف) کو اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے تحت مارک اپ کی کم شرح پر جاری کیا جائے گا، ایکسپورٹرز کے ریفنڈ کے حوالے سے درپیش مسائل کے لیے بر آمدی شعبے کے لیے کیے جانے والے در آمدات پر زیرو ریٹنگ کی جانب جارہے ہیں تاکہ نئے ریفنڈڈ کلیمز میں واضح کمی آسکے۔

انہوں نے کہا کہ یکم جولائی 2018 سے زیر التوا ریفنڈز کلیمز کو اگلے 12 ماہ کے دوران مختلف مراحل میں ادا کردیا جائے گا جبکہ اس ہی تاریخ کے بعد تمام ریفنڈ کلیم کی ماہانہ ادائیگی کی جائے گی اور کوئی تاخیر نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان بر آمدات کے فروغ کے لیے ایک نئے ایکسپورٹ پیکج کا بھی اعلان کرے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ نان ٹریڈیشنل مصنوعات و مارکیٹ کے لیے بڑے پیکج کا اعلان جلد کیا جائے گا، چھوٹے کسانوں کے لیے قرضوں کی رسائی آسان بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے زرعی قرضہ جات کے حدف 2013 کے 315 ارب روپے سے بڑھا کر 2018 میں 1 ہزار 1 ارب روپے کردیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں اس کو 11 سو ارب روپے تک بڑھایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار میں ہونے والے اخراجات میں اضافے اور قرضے میں بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر پی آئی یو کی قدر کو 6 ہزار روپے تک بڑھایا جارہا ہے۔ پی آئی یو کی قدر 2013 میں صرف 2 ہزار روپے تھی جسے پچھلے سال 5 ہزار کیا گیا تھا تاہم اب اس میں مزید 1 ہزار روپے کا اضافی کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ڈرامہ اور فلم سازی سینما کے ساز و سامان میں کسٹم ڈیوٹی میں کی شرح کم کرکے 3 فیصد اور سیلز ٹیکس کی شرح کم کرکے 5 فیصد کیا جارہا ہے، فلم اور ڈرامے کے فروغ کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جارہا ہے جس سے فلم انڈسٹری اور مستحق فنکاروں کی مالی امداد کی جائے گی، ان کا کہنا تھا کہ فلم کے منصوبے پر سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے لیے 5 سال تک انکم ٹیکس پر 50 فیصد تک کی چھوٹ دی جائے گی۔ فلم پالیسی کی تفصیلات کچھ دنوں میں سامنے آجائے گی۔

سیگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی موجودہ شرح بڑھا کر ٹیئر 1 سیگریٹ پر 3 ہزار 964 روپے، ٹیئر 2 سیگریٹ پر 1770 اور ٹیئر 3 سیگریٹ پر 4 ہزار 848 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ بیلوں کی درآمدات پر عائد 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی واپس لے لی گئی جبکہ لائیو اسٹاک کی فیڈ کے لیے کسٹم ڈیوٹی کی دستیاب شرح کو کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

پولٹری کے شعبے کے لیے وٹامن بی 12 اور گروتھ پرومیٹر پر دستیاب کسٹم شرح کو 10 سے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

مائیکرو فیڈر سامان کی درآمدات پر عائد 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی کو واپس لے لیا جائے، اس کے علاوہ آپٹیکل فائبر کیبل کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی 5 فیصد تک کم کرنے کی تجویز ہے اور مقامی صنعت کی فروغ کے لیے اسیٹک ایسڈ سے کسٹم ڈیوٹی 20 سے کم کرکے 16 فیصد کی جارہی، پلاسٹر پر ڈیوٹی 16 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کی جارہی، کاربن بلیک ربڑ پر ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کرکے 16 فیصد کی جارہی۔

اس کے علاوہ سیلیکون الیکٹرک اسٹیل شیٹ پر ڈیوٹی 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کی جارہی، اسی طرح بجلی کی گاڑیوں کی درآمدات پر عائد کسٹم ڈیوٹی 50 فیصد ہے، جسے کم کرکے 25 فیصد تک لانے کی تجویز ہے جبکہ 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کو بھی واپس لیا جارہا۔

مالی سال 17-2016 میں درآمدات میں 14.2 فیصد اضافہ ہوا لیکن اسے قبل 16-2015 میں 2.3 فیصد اور 15-2014 میں 0.9 فیصد کمی واقع ہوئی تھی جبکہ 14-2013 میں 3.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔

مالی سال 17-2016 میں برآمدات میں 1.4 فیصد، 16-2015 میں 8.8 فیصد اور 15-2014 میں 3.9 فیصد کمی واقع ہوئی تھی جبکہ 14-2013 میں اس میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا تھا۔


پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مالی سال 19-2018 کے بجٹ میں دفاع کے لیے گزشتہ برس کے مقابلے میں 19.4 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 11کھرب (1100 ارب) روپے تجویز کیے ہیں۔

وفاقی حکومت نے دفاعی بجٹ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 19.4 فیصد اضافہ کیا، سال 18-2017 کے بجٹ میں 9 کھرب 20 ارب (920 ارب) روپے دفاع کے لیے رکھے گئے تھے، 19-2018 میں اس میں ایک کھرب 80 ارب (180ارب) روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا ہے یکم جولائی 2018 سے فوجی ملازمین اور سول ملازمیں کی تنخواہ میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس بھی دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ برس مالی سال 18-2017 کے بجٹ میں دفاع کے لیے مختص رقم میں 7 فیصد اضافہ کیا تھا۔

وفاقی حکومت نے 17-2016 میں دفاع کے لیے 860 ارب مختص کیے تھے جبکہ 18-2017 کے بجٹ میں دفاع کے لیے 920 ارب روپے تجویز کیے تھے۔

واضح رہے کہ 18-2017 میں مجموعی بجٹ 51 کھرب روپے تجویز تھا۔

یاد رہے کہ مالی سال 17-2016 کے بجٹ میں دفاع کے لیے مختص بجٹ مکمل طور پر خرچ نہیں ہوا تھا، 860 ارب میں سے 841 ارب روپے کا بجٹ خرچ کیا گیا تھا۔

بجٹ میں فوجی اہلکاروں اور افسران کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی الاونس کا بھی اعلان کیا گیا تھا جبکہ جوانوں کی تنخواہ میں بھی 10 فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔


وفاقی حکومت نے مالی سال 19-2018 کے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 10 کھرب 67 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دے دی۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال 2017-18 کے مالی بجٹ میں ترقیاتی اخراجات میں 37 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کو پی ایس ڈی پی بجٹ کا 67 فیصد حصہ حاصل ہوگا، جس کے لیے 411 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

گزشتہ برسوں بجٹس میں ترقیاتی کاموں کے لیے 18-2017 میں ایک ہزار ایک ارب روپے، 17-2016 میں 800 ارب روپے، مالی سال 16-2015 میں 700 ارب روپے، 15-2014 میں 525 ارب روپے جبکہ 14-2013 میں 540 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔


بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان گزشتہ 15 سالوں کی نسبت زیادہ پرامن ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے فوجی اور نیم فوجی اداروں نے ملک کیلئے دلیری سے لڑتے ہوئے جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ آپریشن ’ضرب عضب‘ کے ذریعے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں، میں ان جوانوں، افسروں اور شہریوں کو سلام پیش کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمارے آج اور ہمارے بچوں کے کل کیلئے اپنی جانوں کی قربانی دی۔

مفتاح اسمعیل کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن والے علاقوں سے لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی، حکومت اس بات کی یقین دہانی کرانا چاہتی ہے کہ ضرورت کی اس گھڑی میں ہم اپنے شہریوں کی بحالی اور تعمیرنو کیلئے حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی اور بجٹ 19-2018 میں اس مقصد کیلئے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔