ای میل

کراچی کا این اے 252: مقابلہ پیپلزپارٹی اور ایم ایم اے کے درمیان

2013 کے انتخابات تک کراچی کے پاس این اے 239 کراچی غربی سے لے کر این اے 258 ملیر کم کراچی غربی تک 20 قومی نشستیں تھیں۔ مگر حالیہ حلقہ بندیوں میں شہر کو ایک اضافی نشست ملی ہے جس سے اس کی نشستوں کی کل تعداد 21 ہو گئی ہے۔

یہ نئی نشست این اے 252 کراچی غربی 5 ہے جس میں پورا منگھوپیر سب ڈویژن جبکہ مومن آباد سب ڈویژن کے چند علاقے شامل ہیں۔

اس سے پہلے کراچی غربی کے لیے این اے 239 سے لے کر این اے 242 تک 4 نشستیں مختص تھیں جبکہ این اے 243 کراچی وسطی کم کراچی غربی تھا، اور پھر این اے 258 ملیر کم کراچی غربی تھا۔

کراچی کے حلقہ این اے 252 کراچی غربی 5 کا نقشہ۔ کاپی رائٹ Dawn GIS
کراچی کے حلقہ این اے 252 کراچی غربی 5 کا نقشہ۔ کاپی رائٹ Dawn GIS

چنانچہ موجودہ این اے 252 کراچی غربی 5 (منگھوپیر) کا بڑا حصہ سابقہ این اے 243 کراچی وسطی کم کراچی غربی میں شامل تھا جبکہ گڈاپ کے چند دیہات این اے 258 ملیر کم کراچی غربی میں شامل تھے۔

مومن آباد این اے 241 کراچی غربی 3 میں شامل تھا جبکہ موجودہ این اے 252 کے چند علاقے مثلاً گلشنِ ضیاء، غازی آباد اور دیگر این اے 242 کراچی غربی 4 میں شامل تھے۔ گلشنِ معمار، جو اس وقت این اے 252 میں ہے، پہلے این اے 253 کراچی شرقی کم ملیر کا حصہ تھا۔

پہلے یہ حلقہ کراچی کے علاقے اورنگی کے ساتھ مدغم تھا جس کی آبادی اکثریتی طور پر اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے۔ مگر حالیہ حلقہ بندیوں کے بعد مکمل منگھوپیر سب ڈویژن اس نئے تیار کیے گئے حلقے میں شامل کر دیا گیا ہے جس کا 60 فیصد علاقہ دیہی ہے۔

منگھوپیر کا علاقہ بلوچ، سندھی اور پختون آبادی پر مشتمل ہے جبکہ نہایت کم تعداد میں اردو اور پنجابی بولنے والے بھی یہاں بستے ہیں۔ مومن آباد کا علاقہ مہاجروں اور پختونوں پر مشتمل ہے۔ این اے 252 کے علاقے سرجانی ٹاؤن کے دو رخ ہیں جن میں دیہی حصہ منگھوپیر میں ہے جبکہ شہری علاقہ کراچی وسطی میں ہے۔ اس علاقے میں اردو بولنے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہی معاملہ گلشنِ معمار کے شہری علاقے میں بھی ہے۔

نشستوں کی پرانی ترتیب میں سندھی اور بلوچ برادریاں نقصان میں تھیں کیوں کہ انتخابات کا فیصلہ اردو بولنے والی آبادی کے ووٹوں سے ہوتا تھا۔ ہم ماضی کے تین عام انتخابات کے نتائج میں یہ دیکھ سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر 2002 کے انتخابات میں این اے 241 کراچی 3 پر متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کے امیدوار محمد لئیق خان نے 26 ہزار 812 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ ان کے حریف متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے امیدوار فیروز الدین ہاشمی صرف 479 ووٹوں سے ہارے۔

2008 میں ایم کیو ایم کے سید اختر الاقبال قادری نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ضرب علی سید کو 57 ہزار 381 ووٹوں سے شکست دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز (پی پی پی پی) کے امیدوار محمد شاکر عالم صرف 11 ہزار 544 ووٹ لے کر بمشکل تیسرے نمبر پر آئے۔ قادری 2013 کے انتخابات میں 95 ہزار 584 ووٹ لے کر ایک بار پھر نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔

دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ پی ٹی آئی کے ڈاکٹر سعید احمد آفریدی نے لیے تھے جنہیں 27 ہزار 827 ووٹ ملے۔ مگر جمعیتِ علمائے اسلام فضل (جے یو آئی ف) اور جماعتِ اسلامی (جے آئی) کے امیدوار بھی بالترتیب 11 ہزار 697 اور 11 ہزار 438 ووٹ لینے میں کامیاب رہے، جس سے یہاں موجود مذہبی ووٹ بینک کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ منگھوپیر کے علاقے گلزار آباد، سلطان آباد، اور پختون آباد اکثریتی طور پر پختون علاقے ہیں جن کی آبادیوں نے 2008 میں اے این پی کو ووٹ دیا مگر بظاہر 2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی اور مذہبی جماعتوں کو ووٹ دیا۔

اسی طرح سے اورنگی اور سائیٹ کے علاقوں پر مشتمل سابقہ این اے 242 بھی ایم کیو ایم کا گڑھ رہی ہے۔ ایم کیو ایم یہاں سے لگاتار تین انتخابات سے جیتتی چلی آ رہی ہے۔ 2002 میں سندھ کے سابق وزیرِ داخلہ اور ایم کیو ایم کے امیدوار عبدالرؤف صدیقی نے یہاں سے 62 ہزار 690 ووٹ لے کر انتخاب جیتا تھا۔ ایم کیو ایم کے ہی عبدالقادر خانزادہ نے 2008 میں پی پی پی کے امیدوار محمد آفاق خان کو 1 لاکھ 47 ہزار 892 ووٹ لے کر شکست دی تھی۔ ان کے حریف صرف 27 ہزار 294 ووٹ ہی حاصل کر پائے۔ ایم کیو ایم کے محبوب عالم یہاں سے 2013 میں جیتے۔ انہیں 1 لاکھ 66 ہزار 836 ووٹ ملے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار ان کے مقابلے میں صرف 10 ہزار 889 ووٹ حاصل کر پائے۔

اسی طرح سے سابقہ این اے 243 کا بھی معاملہ ہے جو 2002، 2008 اور 2013 کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے جیتی تھی۔ ایم کیو ایم کے عبدالوسیم 2008 اور 2013 میں یہاں سے کامیاب ہوئے تھے۔

الیکشن کمیشن کی حلقہ بندیوں سے متعلق ایک حالیہ دستاویز کے مطابق اورنگی کے علاقے مومن آباد کے جو دو شماریاتی چارجز اس حلقے میں شامل کیے گئے ہیں، ان کی کل آبادی 44 ہزار 354 ہے جبکہ منگھوپیر سب ڈویژن، جو کہ مکمل طور پر اس حلقے میں ہے، اس کی آبادی 7 لاکھ 13 ہزار 753 ہے۔

یہاں پر رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 2 لاکھ 19 ہزار 42 ہے جس میں سے 1 لاکھ 33 ہزار 60 مرد جبکہ 85 ہزار 982 خواتین ووٹر ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اورنگی سے الگ کر دیے جانے کی وجہ سے یہاں سے اردو بولنے والوں کے ووٹ نکل چکے ہیں، جبکہ ان کا ایک بہت ہی تھوڑا ووٹ یہاں باقی بچا ہے۔ اب یہاں پر اکثریتی ووٹر بلوچ اور سندھی برادریوں کے ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں پختون بھی موجود ہیں۔

مقامی آبادیوں کو فائدہ

سیاسی تجزیہ نگار اور سینیئر صحافی ضیاء الرحمٰن اسے منگھوپیر کی مقامی آبادی کے لیے فائدے کے طور پر دیکھتے ہیں جو کہ پہلے اورنگی کے ساتھ مدغم ہونے کی وجہ سے اپنا نمائندہ چننے میں ناکام تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ "یہاں پر پی پی پی فائدے میں ہے کیوں کہ یہاں مہاجر ووٹ نہایت کم ہے، نہ ہونے کے برابر۔" ان کے مطابق یہاں پر ہونے والا کوئی بھی انتخاب اب مکمل طور پر 'مقامی' ہوگا۔ ان کے مطابق یہاں ہونے والی حلقہ بندی سے پی پی پی کو فائدہ پہنچا ہے جو کہ روایتی طور پر سندھی اور بلوچ دیہات سے اپنا ووٹ حاصل کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ "اب چوں کہ کراچی غربی کے دیہی علاقوں کو ایک ساتھ ملا کر ایک حلقہ بنا دیا گیا ہے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں سب سے زیادہ فائدے میں کون رہے گا۔"

اس دفعہ یہاں سے نمایاں امیدوار پی ٹی آئی کے آفتاب جہانگیر، پی پی پی کے عبدالخالق مرزا، پی ایس پی کے افتخار اکبر رندھاوا، ایم کیو ایم پاکستان کے عبدالقادر خانزادہ (2013 میں این اے 242 کے فاتح) اور ایم ایم اے کے عبدالمجید ہیں۔ 2013 میں این اے 242 پر دوسرے نمبر پر آنے والے اکرم خان یہاں سے آزاد امیدوار کے طور پر لڑ رہے ہیں۔

ایم ایم اے کے امیدوار عبدالمجید 2013 میں جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے پی ایس 97 کراچی غربی (کراچی 9) کا انتخاب لڑ چکے ہیں۔ انہیں ایم کیو ایم کے امیدوار شیخ عبداللہ کے 77 ہزار 964 ووٹوں کے مقابلے میں 7 ہزار 71 ووٹ ملے تھے۔

پی پی پی کے عبدالخالق مرزا اس علاقے میں پارٹی کے پرانے رہنما ہیں۔ انہوں نے 2008 میں پی ایس 97 کے انتخاب میں ایم کیو ایم کے محمد عادل خان کے 54 ہزار 603 ووٹوں کے مقابلے میں 27 ہزار 221 ووٹ حاصل کیے تھے جس سے ان کی یہاں اس مقامی حمایت کا اندازہ ہوتا ہے جس سے انہیں اورنگی کے الگ ہونے کے بعد آنے والے انتخابات میں مدد مل سکتی ہے۔

منگھوپیر کے مقامی سماجی رہنما عبدالغنی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی حمایت یہاں باقی نہ رہنے کی وجہ سے منگھوپیر میں بنیادی طور پر مقابلہ پی پی پی اور ایم ایم اے کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق پی پی پی کو سلطان آباد، پختون آباد اور گلزار آباد کے علاقوں میں دھچکا لگ سکتا ہے کیوں کہ یہ علاقے اکثریتی طور پر پختون ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ یہاں سے ووٹ ایم ایم اے کو جائے۔

وہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات کی مثال دیتے ہیں جس میں یو سی 6 پختون آباد منگھوپیر 2، جس میں مندرجہ بالا تینوں علاقے شامل ہیں، جے یو آئی (ف) نے جیتی تھی جبکہ جے آئی صرف چند ووٹوں سے دوسرے نمبر پر رہی۔

ان کے مطابق "دوسری جانب ایم ایم اے کی ان علاقوں سے باہر حمایت نہ ہونے کے برابر ہے جس سے پی پی پی فائدے میں ہے۔"


یہ تجزیہ ڈان اخبار میں 19 جولائی 2018 کو شائع ہوا

انگلش میں پڑھیں۔