ای میل

پختونخوا کی اقلیتی برادری یومِ آزادی کیسے مناتی ہے؟

امیر محمد خان

جشنِ آزادی کے موقع پر سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ہارون دیال کا خصوصی پیغام

یہ بات عام کہی جانے لگی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ نہیں ہے اور وہ انتہائی مشکل اور مجبوری کے ساتھ اپنی بقیہ سانسیں یہاں لینے پر مجبور ہیں، کیونکہ نہ یہاں اقلیتوں کے بنیادی حقوق دیے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کی جان و مال محفوظ ہے۔

جب یہ خیالات بہت زیادہ سننے کو ملے تو سوچا کیوں نہ خود اپنے اقلیتی بھائیوں سے رابطہ کیا جائے اور حالات کے بارے میں ان کی زبانی جان لیا جائے کہ حقیقات کیا ہے اور فسانہ کیا؟

اب چونکہ میرا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے لہٰذا میں وہاں بڑے پیمانے پر موجود ہمارے سکھ بھائیوں سے صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں آئیے ہم جانتے ہیں۔

بونیر

قومی پرچم کے رنگ میں ملبوس سنت سنگھ کے بچوں کو بھی یوم آزادی کے دن کا بے قراری کے ساتھ انتظار ہے کیوں کہ ہرپریت کور، گرپریت کور اور الویندر کور کو اپنے اسکول میں یوم آزادی کے تقریب میں حصہ لینا ہے۔

الویندر کور کو یوم آزادی کے حوالے سے تقریر کرنی ہے تو ہرپریت کور کو نظم پڑھ کر وطن سے محبت کا اظہار کرنا ہے جبکہ گورپریت آزادی کی اہمیت پر شرکاء سے گفتگو کرے گی۔ سنت سنگھ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں پیر بابا کے علاقہ پاچا گاؤں سے ہے۔

سنت سنگھ کے بچے
سنت سنگھ کے بچے

سنت سنگھ نے بتایا کہ ہمیں یوم آزادی کے دن کا بے چینی کے ساتھ انتظار رہتا ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی ہمارے بچوں نے پہلے سے یوم آزادی کے جشن کو منانے کے لیے اپنی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور ہم بھی اپنے بچوں کے ساتھ جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے لئے اسکول جائیں گے۔

انسان جہاں جنم لیتا ہے وہاں سے انسان کی محبت اور لگاؤ فطری ہوتا ہے، تقسیم ہند کے بعد ہمارے جتنے رشتہ دار بونیر سے ہندوستان گئے ہیں، کئی عشرے گزرنے کے باوجود وہ اس مٹی کو نہیں بھلاسکے اور نہ ہی اتنی دوری ان کی محبت کم کرسکی ہے جہاں انہوں نے آنکھ کھلی تھی۔

ہم جب بھی ان سے ملنے ہندوستان جاتے ہیں تو وہ بونیر میں اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو یہاں کی کہانیاں سناتے ہیں اور جب کبھی وہ پاکستان آتے ہیں جہاں انہوں نے بچپن گزارا تھا، تو اس مٹی سے ان کی محبت اور ان کے چہروں پر تاثرات دیدنی ہوتی ہے۔

جب ہجرت کے باوجود ان کو اس مٹی سے محبت اور لگاؤ ہے تو ہم تو نہ صرف یہاں پیدا ہوئے ہیں بلکہ آج ہم جو بھی ہیں اور جہاں بھی ہیں اس ملک کی وجہ سے ہیں، اس لیے ہم اس ملک سے کتنا پیار کرتے ہیں، اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

سنت سنگھ
سنت سنگھ

بونیر سے اشوک ملہوترا نے بتایا کہ ہمارے بچے اسکولز کے جشن آزادی کے پروگرامز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ہم بھی اس موقع پر اپنے گھروں پر سرسبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں جبکہ اپنے دکانوں کو بھی سجاتے ہیں۔

سوات

پروفیسر رادھی شام کا تعلق ضلع سوات کے مینگورہ شہر سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع سوات کی سکھ کمیونٹی جوش و جذبے کے ساتھ یومِ آزادی کا جشن مناتی ہے۔ جشن آزادی کے سلسلے میں سکھ برادری کے مذہبی مقام گوردوارے میں بھی کئی مرتبہ پروگرامز منعقد کیے گئے ہیں جس میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بڑوں کے ساتھ بچے بھی شرکت کرتے ہیں اور جشنِ آزادی کی خوشیاں مل کر مناتے ہیں۔

اپنی مٹی سے پیار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سوات آپریشن کی وجہ سے جب سوات کے لوگ آئی ڈی پیز بن کر ملک کی دوسری جگہوں پر گئے تھے تو اس میں سوات کی سکھ کمیونٹی بھی حسن ابدال کے گوردوارے میں گئی تھی۔ وہاں آسٹریلیا اور کینیڈا کے سفارت خانوں سے لوگ آئے تھے کہ اگر آپ لوگ آسٹریلیا یا کینیڈا جانا چاہتے ہیں تو اس حوالے سے ہر قسم کا تعاون و مدد کی جائے گی لیکن ہماری کمیونٹی نے یہ کہہ کر ان کی پیشکش ٹھکرا دی کہ ہمیں اپنے آبائی علاقے سوات میں جانا ہے۔

جب حالات ٹھیک ہوگئے تو اکثریت کی طرح اقلیت سے تعلق رکھنے والے لوگ واپس اپنے گھروں کو آگئے اور آج ہم یہاں خوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے جہاں اسکولز کے تقریبات میں شرکت کرتے ہیں وہاں بڑے یوم آزادی کے موقع پر دن کا آغاز گورداروں میں ملک کی تعمیر و ترقی اور قوم کی خوشحالی کے لیے دعائیں مانگ کر کرتے ہیں۔

سوات کے ایک گرودوارے کی گزشتہ سال جشنِ آزادی کے موقع کی تصویر
سوات کے ایک گرودوارے کی گزشتہ سال جشنِ آزادی کے موقع کی تصویر

پشاور

ہارون دیال پشاور کے رہائشی اور اقلیتی برادری کے رہنماء ہیں۔ 11 اگست کو اقلیتی برادی کے یومِ آزادی کے حوالے سے تاثرات اور احساسات جاننے کے لیے فون کیا تھا۔

ہارون نے بتایا کہ میری ہمیشہ یہ دعا ہے کہ ہم رہیں یا نہ رہیں، وطنِ عزیز پاکستان رہتی دنیا تک شاد و آباد رہے۔ یوم آزادی کا دن ہمارے لیے عید کا دن ہوتا ہے اور جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ عید اور دیوالی کی خوشیاں مل کر مناتے ہیں اسی طرح ہم سب مل کر اس دن کی خوشیاں مناتے ہیں۔

یوم آزادی کے حوالے سے ہم مختلف تقاریب منعقد کرتے ہیں جس میں پرچم کشائی، کیک کاٹنے سمیت دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔ جس طرح عید کے لیے شاپنگ ہوتی ہے، بالکل اسی طرح یومِ ازادی کے لیے بچے شاپنگ کرتے ہیں، قومی پرچم کے رنگ کے شرٹس اور کپڑے خریدتے ہیں، کیپس اور بیج لگاتے ہیں جبکہ قومی پرچموں سے گھروں اور گاڑیوں کو سجاتے ہیں۔

تحریکِ پاکستان میں بھی ہمارے بزگوں کا اہم کردار رہا ہے اور قیام پاکستان کے بعد بھی اس ملک و قوم کے لیے ہماری قربانیاں سب کے سامنے ہیں، اور ہم مرتے دم تک اس ملک سے محبت کرتے رہیں گے اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے منہ نہیں موڑیں گے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ہارون دیال ہر سال جشنِ آزادی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ہارون دیال ہر سال جشنِ آزادی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔

شانگلہ

ضلع شانگلہ کے چکیسر گاؤں سے تعلق رکھنے والے گلزاری لال سنگ نے بتایا کہ چکیسر ایک پسماندہ اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم علاقہ ہے لیکن یہاں بھی جشن آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جشنِ یوم آزادی کے حوالے سے مرکزی تقریب گورنمنٹ ہائی اسکول چکیسر میں منعقد ہوتی ہے جس میں بچوں کے ساتھ علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تقریب میں جہاں دیگر بچے حصہ لیتے ہیں وہاں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے بچے بھی ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ دن کی مناسبت سے علاقہ معززین جب اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اس میں اقلیتوں کی بھی نمائندگی ہوتی ہے۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی اقلیتی برادری بھی جوش و جذبے کے ساتھ آزادی کی خوشیاں مناتی ہے کیوں کہ اسی دن ہمیں وطن عزیز کی صورت میں ایک آزاد مملکت حاصل ہوئی تھی۔

لیکن خوشی اور جشن منانے کے ساتھ ہمیں تحریک پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی ہمیں اپنا احتساب بھی کرناچاہیے کہ جس مقصد کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا، ان کے حصول میں ناکامی کا ذمہ دار ہم دوسروں کو تو ٹھہراتے ہیں، لیکن ہمارا اپنا کردار کتنا مثبت ہے۔


امیر محمد خان پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، جبکہ آپ سماجی و سیاسی امور میں خاص دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔