ای میل

ہماری خوراک کا تیاری سے لے کر میز پر پہنچنے تک کا سفر

عائشہ بنتِ راشد

— ایک کسان پشاور میں اپنے کھیت سے لوکی کی کاشت کر رہے ہیں — شہباز بٹ، وائٹ اسٹار
— ایک کسان پشاور میں اپنے کھیت سے لوکی کی کاشت کر رہے ہیں — شہباز بٹ، وائٹ اسٹار

مئی کی ایک دوپہر میں لاہور کے ایک مذبح خانے میں تناؤ بھی درجہ حرارت کی طرح بلند ہے کیوں کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) کی ایک ٹیم اس کا معائنہ کر رہی ہے اور کافی امکان ہے کہ اس کا کام روک دیا جائے گا۔

اس مذبح خانے کی جانچ پڑتال پہلی بار نہیں کی جا رہی۔ اس پر 6 ماہ قبل 2016 کے اختتامی دور میں بھی چھاپہ مارا گیا تھا۔ اس وقت پی ایف اے نے اسے سیل کر کے اس کی انتظامیہ کو اس میں کام کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کچھ وقت دیا تھا۔ انہوں نے شرائط کو پورا کیا اور یوں انہیں کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت مل گئی۔

مگر شہر کی مشرقی جانب مزدوری پیشہ علاقے ہربنس پورہ میں واقع اس مذبح خانے میں لگتا ہے کہ صورتحال دوبارہ بگڑ گئی ہے۔

اس کے مرکزی حصے میں کھڑکی کے ساتھ ایک اسٹیل کی میز رکھی ہے۔ کھڑکی کے دوسری جانب بالغ مرغیاں ایک پنجرے میں بیٹھی ہیں۔ ایک شخص وہاں انہیں ذبح کر رہا ہے اور میز پر کام کر رہے لوگوں کو کھڑکی سے تھما رہا ہے۔ یہ لوگ ذبح ہو چکی مرغیوں کو اسٹیل کی بڑی قیفوں میں ڈال دیتے ہیں۔ ان قیفوں سے خون بہہ کر نیچے ایک دھاتی ٹرے میں جمع ہو جاتا ہے جس پر مکھیاں جمع ہیں اور جس سے سخت بدبو اٹھ رہی ہے۔ ٹیبل پر بھی خشک خون پپڑیوں کی طرح جما ہوا ہے۔

کمرے کی دوسری جانب کچھ دیگر لوگ اسٹیل کی میزوں پر کام کر رہے ہیں۔ وہ پرندوں کے پر اتار کر ان کی آنتیں، جگر اور دیگر اندرونی اعضا الگ کر رہے ہیں۔ وہ ان اندرونی اعضا، پنجوں اور سروں کو اپنے ساتھ رکھی پلاسٹک کی ٹوکریوں میں پھینک دیتے ہیں۔ پَر اور آنتوں وغیرہ سے زمین بھری پڑی ہے جبکہ جن میزوں پر گوشت اکھٹا کیا جا رہا ہے وہاں بھی خون جما ہوا ہے۔

پی ایف اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز فرحان اسلم اس پورے منظر سے ناخوش نظر آتے ہیں۔ وہ مذبح خانے کے مینیجر، درمیانی عمر کے بھاری بھرکم شخص رانا ساجد کو سمجھاتے ہیں کہ گوشت کے ساتھ ہی خون کی موجودگی حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ پھر اسلم پوچھتے ہیں کہ فرش اور میزیں کتنی مرتبہ صاف کی جاتی ہیں؟ ساجد کہتے ہیں کہ ہر شام کو کام ختم ہونے کے بعد دھلائی کی جاتی ہے۔

ساتھ موجود ایک کمرے میں پلاسٹک کی ٹوکریوں میں موجود گوشت پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ ایک پی ایف اے اہلکار ایک ٹوکری میں سے کچھ تلاش کرتا ہے اور اسے خون کے لوتھڑوں والے مرغی کے دو سینے کے ٹکڑے مل جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی زخمی مرغی کے ہیں جسے پراسیسنگ کے لیے کلیئر قرار نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔ اسلم نوٹ کرتے ہیں کہ مذبح خانے کے زیادہ تر ملازمین مرغیوں سے چربی اتارنے، ان کے ٹکڑے کرنے اور انہیں دھونے کے دوران دستانوں اور سر پر جالی کا استعمال نہیں کر رہے۔

انہوں نے پہلے ہی دیگر مسائل کو نوٹ کر لیا ہے۔ انتظامیہ نے مذبح خانے میں داخل ہونے والوں کے لیے ہاتھ صاف کرنا، کام کے لیے خصوصی جوتے اور پورے جسم کا کوٹ پہننا لازم قرار نہیں دیا ہے۔ مذبح خانے میں کوئی مستقل ڈاکٹر یا لیبارٹری نہیں ہے کہ جو پرندوں کے ذبیحے اور پراسیسنگ سے پہلے ان کا بیماریوں اور زخموں کے لیے معائنہ کرے۔

اسلم اپنے ماتحتوں سے مذبح خانے کو سیل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ پی ایف اے کے اہلکار مذبح خانے کے ملازمین کو تمام پراسیس اور غیر پراسیس شدہ گوشت پلاسٹک کی ٹوکریوں میں جمع کرکے احاطے سے باہر نکل جانے کا کہتے ہیں۔ پی ایف اے ٹیم کی آمد کے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر تمام داخلی اور خارجی دروازوں پر تالے ڈال کر پی ایف اے کی مہر والی نیلی تاریں لگا دی گئی ہیں۔ اب انہیں صرف پی ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل کے احکامات کے تحت ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔

مذبح خانے کے ملازمین سے گھرے ہوئے ساجد پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ وہ جلدی جلدی اپنے مالکان سے فون پر بات کرتے ہیں اور کھسر پھسر کے انداز میں اپنے ملازمین سے صورتحال پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ پی ایف اے کے اسٹاف سے بھی بحث کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ احتجاجاً کہتے ہیں، "یہ سیل کرنے سے متعلق ٹھیک احکامات نہیں ہیں۔ یہ مذبح خانہ ہے، کوئی فیکٹری نہیں، یہاں خون [کی موجودگی] لامحالہ ہے۔"

مگر اسلم کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ "میں اس صورتحال کی اجازت نہیں دے سکتا۔"


زاہد افتخار کراچی سے 100 کلومیٹر دور شمال مشرق میں نوری آباد کے علاقے میں پونے 3 ایکڑ اراضی پر مرغیاں پالتے ہیں۔ ان کے پولٹری فارم میں دو منزلہ دو عمارتوں کی صورت میں کُل 4 شیڈز ہیں جن کا کُل علاقہ 21 ہزار 150 مربع فٹ بنتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹی سی آفس بلڈنگ اور 26 ملازمین کے رہنے کے لیے کوارٹرز بھی موجود ہیں۔

افتخار کراچی میں موجود ایک مشہور چکن پراسیسنگ کمپنی سے ایک دن عمر کی برائیلر مرغیاں خریدتے ہیں۔ انہیں جینیاتی طور پر منتخب افزائشِ نسل کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے جس سے وہ کچھ ہی عرصے میں کافی پُرگوشت ہو جاتی ہیں۔ ان کا وزن جلدی بڑھتا ہے اور دورِ بلوغت میں روزانہ 100 سے 110 گرام وزن بڑھتا ہے۔ اگر انہیں کنٹرولڈ حالات میں پالا جائے تو یہ صرف 35 دن کے اندر مکمل طور پر بالغ ہوجاتی ہیں۔

افتخار کے فارم میں سب کچھ خودکار انداز میں ہوتا ہے۔ شیڈز کے طول و عرض میں فرش سے کچھ انچ اوپر پائپس نصب ہیں جو فرش سے تھوڑی بلندی پر لٹکے ہوئے نارنگی اور پیلے پلاسٹک کے پیالوں میں فیڈ اور پانی ڈالتے ہیں۔ پیالے، جن میں سے ایک پانی اور ایک فیڈ کے لیے مختص ہے، باقاعدگی سے سپلائی وصول کرتے ہیں۔ ہر شیڈ کے داخلی حصے پر ایک میٹر اور ایک الیکٹرک پینل نصب ہے۔ یہ درجہ حرارت مانیٹر اور کنٹرول کرنے کے لیے ہے اور یہ کام 9 صنعتی سائز کے پنکھوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جبکہ گرمیوں کے مہینوں میں کبھی کبھی مرغیوں کو چھڑکاؤ کے ذریعے نہلا بھی دیا جاتا ہے۔ شیڈز میں قدرتی روشنی دیواروں میں موجود دراڑوں کے ذریعے داخل ہوتی ہے۔ شیڈز کو روشن کرنے کے لیے دن میں 22 گھنٹے بجلی کے بلب استعمال کیے جاتے ہیں۔

فارم میں 1 لاکھ 20 ہزار مرغیاں رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ ستمبر کے اوائل کے اس دن میں شیڈ اپنی مکمل صلاحیت پر ہیں اور ہر کسی میں 30 ہزار مرغیاں موجود ہیں۔ وہ فیڈ اور پانی کے قریب آنے کے علاوہ بمشکل ہی ہلتی جلتی ہیں۔ ان کی کبھی کبھی ہونے والی غٹرغوں بھی پنکھوں کے شور میں دب جاتی ہے۔

فارم میں آنے والی کسی بھی شخص کو سب سے پہلے فراہم کیے گئے کپڑے اور پلاسٹک کے چپل پہن کر ایک تالاب میں پیر ڈبونے پڑتے ہیں، اس کے بعد ہی شیڈ میں داخل ہونے کی اجازت ملتی ہے۔ یہ حفاظتی اقدامات اس لیے ہیں تاکہ پرندے ان جراثیم یا بیماریوں سے متاثر نہ ہوں جو باہر سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔

ملازمین پورا دن شیڈز پر نظر رکھتے ہیں تاکہ مرغیوں میں کسی بھی بیماری کی نشاندہی کی جا سکے۔ کوئی بھی پرندہ جو سست یا پھر بیمار نظر آ رہا ہو اسے ایک چھوٹے، الگ تھلگ حصے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ پانی میں ملائی گئی ویکسین اسپرے کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرغیوں کو ان کی پوری زندگی میں تین مرتبہ ویکسین دی جاتی ہے۔ فیڈ میں ملائی گئی یہ ویکسین انہیں بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

اگر مرغیوں میں بیماری پھیل جائے تو ہزاروں مرغیاں دنوں میں ہلاک ہوسکتی ہیں۔


ضیاء الدین گبول کا پولٹری فارم کراچی سے حیدرآباد جانے والی شاہراہ پر ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر جولب گوٹھ میں واقع ہے۔ یہ ایک مستطیل شیڈ ہے جس کی چھت بھوسے کی ہے جبکہ دیواروں کی جگہ لوہے کی جالی ہے۔ جھاڑیوں سے ڈھکے ہوئے چھوٹے، ریتیلے ٹیلوں سے گھرا ہوا یہ فارم ایک زیرِ تعمیر پوش ہاؤسنگ سوسائٹی کے نزدیک ہے۔

شیڈ کے اندر ساڑھے 3 ہزار سفید مرغیاں موجود ہیں جو تمام کی تمام 21 دن عمر کی ہیں اور ایک گرد آلود فرش پر جمع ہیں۔ یہ افتخار کے فارم کی مرغیوں سے زیادہ سرگرم نظر آتی ہیں۔ فضا ان کی مسلسل غٹرغوں سے پُر ہے۔ ان میں سے کچھ زمین پر پڑے ہوئے یا چھت سے لٹکے ہوئے لوہے کے پیالوں میں سے فیڈ کھا رہی ہیں۔ پانی سے بھرے پلاسٹک کے برتن بھی شیڈ میں قطار در قطار رکھے ہوئے ہیں۔ ملازمین پورا دن ان پیالوں اور برتنوں کو بھرتے رہتے ہیں۔ قدرتی روشنی شیڈ کو دن میں منور رکھتی ہے جبکہ چھت سے لٹکے ہوئے بلب مرغیوں کو رات میں روشنی دیتے ہیں۔

اس 'اوپن' شیڈ میں 'کنٹرولڈ' شیڈ کی نسبت مرغیوں کو مکمل بلوغت تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور یہ اپنے انتہائی وزن تک 47 دنوں میں پہنچتی ہیں۔

مرغیاں جب تقریباً 2 کلو وزن تک پہنچ جائیں تو انہیں مارکیٹ میں سپلائی کر دیا جاتا ہے۔ لوہے کے پنجروں میں ٹرکوں میں لاد کر ان میں سے زیادہ تر کو شہروں، قصبوں اور دیہات میں قصائیوں کی دکانوں پر لے جایا جاتا ہے جہاں انہیں اسی دن ذبح کر کے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ دیگر مرغیوں کو لاہور میں پی ایف اے کے سیل کیے گئے مذبح خانے جیسی جگہوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے یا پھر بڑے مذبح خانوں کو جو بڑی، قومی سطح کی کمپنیوں مثلاً کے این اینز یا بِگ برڈ گروپ کی ملکیت ہوتے ہیں۔ ذبح، پراسیس اور پلاسٹک کے ڈبوں میں پیک کیے جانے کے بعد انہیں فریز کرکے دکانوں پر بھجوا دیا جاتا ہے۔

انڈے سے نکلنے سے لے کر کھانے کی میز پر پہنچنے تک کا مرغی کا سفر تقریباً سبھی کو معلوم ہے مگر پھر بھی پولٹری کی صنعت اکثر اوقات منفی توجہ حاصل کرتی ہے۔

چک جھمرہ، پنجاب میں ایک کھیت — فوٹو عائشہ بنتِ راشد
چک جھمرہ، پنجاب میں ایک کھیت — فوٹو عائشہ بنتِ راشد

دسمبر 2016 میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے کراچی میں منعقدہ ایک سیمینار میں 2 سالہ تحقیق کے نتائج پیش کیے۔ محققین نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مرغیوں کے جن سیمپلز کی ٹیسٹنگ کی ان میں آرسینک اور لیڈ کی اتنی مقدار تھی جو انسانوں کے لیے بین الاقوامی طور پر محفوظ قرار دی گئی سطح سے بلند ہے۔

میڈیا میں فوراً ہی افراتفری مچ گئی اور اس نے مرغی کو نقصان دہ گوشت قرار دینا شروع کر دیا۔ مگر آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ظفر فاطمی نے بعد میں ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ ہو سکتا ہے کہ مرغی پکائے جانے کے دوران (برتنوں یا آلودہ پانی کی وجہ سے) آلودہ ہوئی ہو۔

مگر تب تک نقصان ہو چکا تھا۔ کئی ماہ تک ٹی وی ٹاک شوز اور اخباری رپورٹس میں مرغیوں میں نقصاندہ اجزاء کی موجودگی پر بات کی جاتی رہی۔

مگر یوں لگتا ہے کہ کچھ منفی خبروں کی ٹھوس بنیاد بھی ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ٹی وی رپورٹر اور حکومتی حمایت یافتہ پنجاب کنزیومر پروٹیکشن کونسل کے رکن محسن بھٹی پولٹری مارکیٹ میں موجود ایک عمومی طرزِ عمل کی جانب توجہ دلاتے ہیں، اور وہ ہے ٹھنڈی بولی، یعنی مردہ مرغیوں کی نیلامی جس کے ذریعے قصائی اور ریسٹورینٹ و ہوٹل کوڑیوں کے دام مردہ مرغیاں خریدتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ہر روز 4 ہزار ٹرک مرغیاں لاہور میں لے کر آتے ہیں۔ یہ ٹرک مرغیوں کو دھوپ، ہوا اور بارش سے نہیں بچاتے۔ کنٹرولڈ ماحول کی عادی مرغیاں ان حالات کو برداشت نہیں کر پاتیں اور ترسیل کے دوران کئی مرغیاں ہلاک ہوجاتی ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ ہر ٹرک میں 15 سے 20 مرغیاں ہلاک ہو جاتی ہیں۔ ان ہلاک مرغیوں کو پھر 35 روپے فی کلو جتنی کم قیمت پر فروخت کر دیا جاتا ہے۔

پی ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل نورالامین مینگل لاہور میں مردہ مرغیوں کی فروخت کا علم ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے اسٹاف نے ان دکانوں پر چھاپے مارے ہیں جہاں مردہ مرغیاں فروخت ہو رہی تھیں۔

شک اور تنقید کا ایک اور باقاعدہ موضوع پولٹری فارمنگ کے لیے استعمال ہونے والی فیڈ ہے۔ فروری 2017 میں پنجاب اسمبلی کے رکن عامر سلطان چیمہ نے ہندوستان سے مرغیوں کی فیڈ کی درآمد پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ ان کا الزام تھا کہ ہندوستانی فیڈ میں سور کے اجزاء شامل ہیں۔ میڈیا اور صارف تنظیموں نے فوراً اس معاملے کو اٹھایا۔

مگر اس سے بھی زیادہ پریشان کن بھٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ مذبح خانوں سے جمع کیا گیا خون، ہڈیاں، مچھلیوں کی باقیات، یہاں تک کہ سڑکوں پر مرنے والے جانوروں کی لاشیں اور پرانے جوتوں کا چمڑا بھی مرغیوں کی فیڈ کی تیاری میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے کچھ باتوں سے 2008 میں ڈان اخبار نے پردہ اٹھایا تھا مگر ان اجزاء کا استعمال اب بھی جاری و ساری ہے۔

کبھی کبھی اور بھی زیادہ عجیب و غریب الزامات سامنے آتے ہیں: فیصل آباد کے ایک 44 سالہ کسان کے مطابق وہ ایسی فیکٹریوں کے بارے میں جانتے ہیں جو شیشے کی بوتلوں اور شیشے کی دیگر ناکارہ چیزوں کو پیس کر ایسا پاؤڈر بناتے ہیں جو کہ مرغیوں کی فیڈ بنانے والوں کو بیچا جاتا ہے۔ فیصل آباد کے ایک ماہرِ غذا فیڈ فیکٹریوں سے اٹھنے والی بُو کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بُو مرغیوں کی فیڈ میں استعمال ہونے والے اجزاء مثلاً انتڑیوں، خون اور پروں کی وجہ سے آتی ہے۔ ان کا مزید الزام ہے کہ ان اجزاء کے ممکنہ طبی منفی اثرات کو ختم کرنے کے لیے مرغیوں کو پروفائیلیکٹک اینٹی بائیوٹک دوائیں دی جاتی ہیں۔ ان دواؤں سے پرندے زندہ تو رہتے ہیں مگر ان میں چلنے پھرنے کی سکت نہیں رہتی۔

جب مرغیوں کو اعلیٰ معیار کی فیڈ کھلائی جائے، تب بھی ان میں انہیں دی جانی والی اینٹی بائیوٹکس باقی رہ سکتی ہیں۔ پشاور کی اباسین یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو ایسا گوشت کھائیں جس میں اینٹی بائیوٹکس رہ گئی ہوں، وہ لوگ اینٹی بائیوٹکس کی جانب غیر حساس ہوجاتے ہیں، انہیں الرجک ری ایکشن ہو سکتے ہیں اور ان میں خلیوں کی تبدیلیاں بھی ہوسکتی ہیں۔

برائیلر مرغیوں کی انتہائی تیز رفتار نشونما سے یہ بھی خوف پیدا ہوتا ہے کہ شاید انہیں نشونما کے لیے ہارمونز دیے جاتے ہیں۔ ان کی جسمانی سستی اور تھکاوٹ جیسا رویہ اس بات کا ثبوت سمجھا جاتا ہے کہ انہیں اسٹیرائیڈز اور گروتھ ہارمونز دیے جاتے ہیں جن سے وہ غیر قدرتی طور پر بڑی ہوجاتی ہیں مگر کسی کام کی نہیں رہتیں۔


خلیل ستار پہلی بار پولٹری کے کاروبار میں اس وقت داخل ہوئے جب وہ 5 سال کی عمر میں دہلی میں اپنے گھر میں پلنے والی مرغیوں کے انڈے چُرا کر انہیں اپنے پڑوسیوں کو بیچا کرتے تھے۔ پھر کالج طالبِ علم کے طور پر ان کی پولٹری میں دلچسپی اس وقت مزید مضبوط ہوئی جب انہوں نے دنیا سے بھوک کے خاتمے کے بارے میں ایک کتاب پڑھی۔ مصنف نے برائیلر مرغیوں کی پیداوار کو خوراک کی کمی ختم کرنے کے لیے ایک اچھا طریقہ قرار دیا تھا۔

خلیل ستار یاد کرتے ہیں کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے 1960 کی دہائی میں کراچی کے علاقے لانڈھی میں فلائٹس کے کچن کے لیے ایک پولٹری فارم قائم کیا تھا۔ فارم کے اندر ایک کینیڈین کمپنی 'شیور پولٹری بریڈنگ فارمز' کے اشتراک سے انڈے سینچنے کا ایک مرکز (ہیچری) بھی قائم کیا گیا تھا۔ یہ ہیچری برائیلر مرغیوں کے لیے پاکستان کی پہلی کمرشل ہیچری تھی اور خلیل ستار اس کے خریداروں میں سے ایک تھے۔

انہوں نے ہیچری کے سیلز مینیجر سے رابطہ کیا اور انڈوں سے نکلنے والے چوزوں کو خرید کر اپنا پولٹری فارم بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ مینیجر نے ان کی رہنمائی کی کہ کس طرح وہ کراچی کے جوڑیا بازار علاقے میں اپنے خاندان کی خوردنی تیل کی فیکٹری کے ناکارہ گوداموں کو کنٹرولڈ شیڈز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ جلد ہی خلیل ستار کو 1 دن عمر کے 1000 چوزوں کا پہلا کنسائنمنٹ مل گیا۔ ایک دن بعد ان میں سے 350 چوزے ان کے شیڈ میں ایک حادثے میں زندہ جل گئے۔

مگر وہ اپنے عزم پر قائم رہے۔ انہوں نے اپنے شیڈ کی مرمت کروائی اور برائیلر مرغیاں پالنا جاری رکھا۔ ان کا فارم بڑھتے بڑھتے 2 لاکھ مرغیوں کی صلاحیت تک جا پہنچا اور جب ان کا کاروبار وسیع ہوا تو انہوں نے اپنا مذبح خانہ اور پراسیسنگ کا کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں پاکستان کی سب سے بڑی پولٹری فرمز میں سے ایک کے این اینز (K&N's) وجود میں آئی۔

1960 کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں پی آئی اے/شیور، کے این اینز اور سن شائن پولٹری کنٹرولڈ شیڈ پولٹری کے کاروبار میں اکیلے کھلاڑی تھے، جبکہ لیور برادرز مرغیوں کی فیڈ تیار کرنے والی واحد کمپنی تھی۔ ملک میں پولٹری سے متعلق کوئی مہارت و تجربہ موجود نہیں تھا۔ ویکسین اور دوائیاں آسانی سے دستیاب نہیں تھیں۔ مگر پھر بھی پولٹری کا کاروبار اگلی چند دہائیوں تک سالانہ اوسطاً 8 فیصد کی شرح سے بڑھتا رہا۔ آج ملک میں تقریباً 25 ہزار کمرشل پولٹری فارم ہیں جو کہ سالانہ 1.4 ارب مرغیاں پیدا کرتے ہیں جبکہ ملک بھر میں فیڈ بنانے والی 150 ملیں کام کر رہی ہیں۔ کے این اینز کے اپنے ہی 36 کنٹرولڈ ماحول والے فارمز ہیں جو کہ ایک وقت میں 30 لاکھ مرغیاں پیدا کر سکتے ہیں۔

پولٹری فارمنگ میں اپنے 52 سالہ تجربے کی بناء پر خلیل ستار برائیلر مرغیوں کے انسانی صحت کے لیے نقصاندہ ہونے کے حوالے سے زیادہ تر ڈرائنگ روم گفتگو کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیتے ہیں۔

پشاور میں مرغیوں کو ترسیل سے قبل گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹھنڈے پانی کا اسپرے کیا جا رہا ہے۔ — فوٹو عبدالمجید گورایہ، وائٹ اسٹار
پشاور میں مرغیوں کو ترسیل سے قبل گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹھنڈے پانی کا اسپرے کیا جا رہا ہے۔ — فوٹو عبدالمجید گورایہ، وائٹ اسٹار

وہ کہتے ہیں، "میری مرغیاں میرے بچوں سے زیادہ بہتر غذا کھاتی ہیں،" اور ان لوگوں پر غصے کا اظہار کرتے ہیں جو مرغیوں کی فیڈ میں مردہ مچھلیوں کے استعمال پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "مچھلی غذائیت کا ایک بہترین ذریعہ ہے، مگر ظاہر ہے کہ آپ انہیں زندہ مچھلی نہیں کھلا سکتے۔ آپ کو مردہ مچھلی ہی کھلانی پڑتی ہے۔" مگر پاکستان میں مچھلی پر مبنی فیڈ کم ہی استعمال ہوتی ہے کیوں کہ مقامی مارکیٹ میں مچھلی محدود تعداد میں ہی دستیاب ہے۔

خلیل ستار کہتے ہیں کہ مرغیوں کی فیڈ کے دیگر اجزاء سننے میں زیادہ عجیب لگتے ہیں مگر ہیں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مردہ جانوروں کا گوشت اور ہڈیاں مرغیوں کی فیڈ میں امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی فراوانی سے استعمال ہوتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان دونوں اجزاء کو مرغیوں کی فیڈ میں شامل کرنے سے قبل اچھی طرح پکایا جاتا ہے۔ ان کے الفاظ میں پولٹری کا خشک کر کے پکایا گیا خون فیڈ میں استعمال کی جانے والی ایک اور "زبردست پراڈکٹ" ہے۔ اس کے علاوہ ناکارہ چمڑا بھی اتنی بُری چیز نہیں ہے جتنا کہ لوگ سمجھتے ہیں۔ فیڈ ساز اسے پراسیس کر کے اس سے نشاستہ حاصل کرتے ہیں جو کہ خلیل ستار کے الفاظ میں مرغیوں کے لیے پروٹین کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔

ان کے مطابق پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن، جس کے وہ آج کل سربراہ ہیں، ہمیشہ سے مرغیوں کی فیڈ میں گوشت کے اجزاء کے بجائے سویابین استعمال کرنا چاہتی تھی اور انہوں نے سویابین کی درآمد پر عائد حکومتی پابندی ہٹوانے کے لیے سالہاسال لابنگ کی تھی۔ خلیل ستار کے مطابق حکام نے ایک طویل عرصے تک اس پابندی کا دفاع کیا۔ اب چوں کہ اس کی درآمد پر کوئی پابندی نہیں ہے تو پولٹری کمپنیوں نے جانوروں کا گوشت اور ہڈیاں استعمال کرنی بند کر دی ہیں۔

خلیل ستار کہتے ہیں کہ کوئی بھی اجزاء جو کہ مرغیوں کو غذائیت فراہم نہ کریں، ان سے فیڈ سازوں اور فارم مالکان کا صرف خرچہ ہی بڑھے گا۔ مگر وہ اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھلے ہی چند مقامی فیڈ ساز اپنی فیڈ میں غیر ضروری اور غیر معیاری اجزاء شامل کر کے فارم مالکان کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس انتہائی مسابقتی کاروبار میں وہ جلد ہی اپنا کاروبار کھو کر اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

وہ زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں پولٹری میں ہارمونز کا "بالکل صفر" استعمال کیا جاتا ہے۔ برائیلر مرغیوں کی جسامت اور ان کا وزن جینیات، غذائیت اور احتیاط کے ساتھ کنٹرول کیے گئے ماحول کی وجہ سے ہوتا ہے، نہ کہ ہارمونز کے انجکشن کی وجہ سے۔ ان کی دلیل ہے کہ ہارمونز کے مؤثر ہونے کے لیے انہیں باقاعدگی سے لگایا جانا ضروری ہے جو کہ ایک مہنگا کام ہے۔ اس کے علاوہ وہ کہتے ہیں کہ "تصور کریں کہ ملک بھر میں پل رہے کروڑوں پرندوں کو لگانے کے لیے کس قدر [ہارمونز] درآمد کرنے پڑیں گے۔ حکومت کو فوراً معلوم ہوجائے گا کہ یہ کون درآمد کر رہا ہے اور کس لیے۔ آپ ان چیزوں کو چھپا نہیں سکتے۔"

خلیل ستار تسلیم کرتے ہیں کہ پولٹری فارمنگ میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال عام ہے اور کئی پولٹری مالکان اس ضرورت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ ذبیحے سے کم از کم 10 دن قبل ہر طرح کی دوائیاں اور اینٹی بائیوٹکس دینی بند کر دینی چاہیئں۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ پولٹری مالکان اپنا سرمایہ بچانے کے لیے سب کچھ کریں گے، اگر اس کا مطلب مرغیوں کو ان کی زندگی کے آخری ہفتے تک دوائیں دینا ہے تو وہ بھی۔ چنانچہ صارف کے کھانے کی میز تک پہنچنے والے گوشت میں دواؤں کی باقیات رہ جانا عام ہے۔

بے ضابطہ قصاب خانوں، مذبح خانوں اور مردہ مرغیوں کی نیلامی تک پہنچنے والے بیمار پرندوں سے مارکیٹ کو بچانے کے لیے وہ مشورہ دیتے ہیں کہ حکومت پولٹری مالکان کو بیمار اور مردہ پرندوں کو مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کے لیے معاوضہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائے۔ ورنہ وہ کہتے ہیں کہ مالکان ہمیشہ اپنے نقصانات کم سے کم کرنے کی کوشش میں رہیں گے۔

خلیل ستار نشاندہی کرتے ہیں کہ حالیہ سالوں میں رجحان اینٹی بائیوٹکس کے بجائے پرو بائیوٹکس اور پری بائیوٹکس کی جانب منتقل ہوا ہے۔ مگر وہ اس بات سے متفق ہیں کہ یہ پولٹری مالکان کی جانب سے اینٹی بائیوٹکس کے نقصانات سے آگاہی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ یہ نئی دوائیں زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہیں۔

پولٹری کی صنعت کو مانیٹر، ریگولیٹ اور اس کی راہ متعین کرنے میں حکومتی ناکامی واضح ہے۔ بھلے ہی مقامی حکومتوں کے فوڈ انسپکٹر کئی علاقوں میں موجود ہیں جبکہ کراچی میں ایک حکومتی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری بھی موجود ہے (جو کہ اکثر غیر فعال رہتی ہے)، مگر ان کا دائرہ کار اور ان کے اختیارات واضح طور پر متعین نہیں ہیں۔ ان کے کام سے متعلق قوانین قدیم ہیں اور خوراک سے وابستہ صنعتوں اور بازاروں کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے رجحانات کے ایک بڑے حصے پر ان کی عملداری نہیں ہے۔

2011 میں پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ قانون کے تحت قائم ہونے والی پنجاب فوڈ اتھارٹی ایک واحد سرکاری ادارہ ہے جس کے پاس غذائی اشیاء کی پراسیسنگ، ترسیل، اور فروخت کو مانیٹر اور ریگولیٹ کرنے کے اختیارات موجود ہیں مگر یہ پنجاب میں رہنے والے 11 کروڑ افراد کی مارکیٹ پر نظر رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ صوبے کے 36 اضلاع میں سے صرف 17 میں کام کرتی ہے۔ حالیہ عرصے تک بھی اس میں ایسے فوڈ سائنٹسٹ اور ٹیکنالوجسٹ نہیں تھے جو کہ غذائی مصنوعات کی ٹیسٹنگ کر سکیں۔ انہیں گزشتہ سال یا اس سے تھوڑا پہلے ہی بھرتی کیا گیا ہے۔ ان تمام حدود و قیود کو دیکھتے ہوئے اس کا کردار بڑی حد تک قصائیوں کی دکانوں اور مذبح خانوں پر چھاپے مارنے تک ہی محدود رہا ہے۔

خلیل ستار پی ایف اے کو "پریشانی" قرار دیتے ہیں کیوں کہ ان کے مطابق یہ پولٹری کے متعلق غیر ضروری اور منفی ہیجان کو فروغ دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا کردار برانڈ امیج کو برباد کرنے کے بجائے پولٹری کی صنعت میں اصلاحات لانا ہونا چاہیے۔


رواں سال مئی کے مہینے میں لاہور کو شیخوپورہ سے ملانے والی شاہراہ کے طویل ٹکڑوں کے اردگرد کئی طرح کی فصلیں بوائی اور کٹائی کے مختلف مرحلوں میں موجود ہیں۔ مکئی اپنی زندگی کے تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور اس سے پھوٹنے والی کلیاں جلد ہی بھٹوں کی شکل اختیار کر لیں گی۔ 4 ماہ کا ہوچکا گنّے کا پودا گھٹنوں تک بلند ہو چکا ہے۔ زمین کے وسیع ٹکڑوں پر گندم کی حالیہ کٹائی کے آثار موجود ہیں۔ نئی فصلیں اس جگہ بوئی جا چکی ہیں جہاں کچھ دن قبل تک گندم موجود تھی۔ یہاں کی زمین زرخیز ہے اور اسے آس پاس سے گزرنے والی کئی نہروں کے ذریعے پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے۔

یہ عجیب لگتا ہے کہ شاہراہ کے ساتھ ساتھ کئی فیکٹریاں اور پلانٹس لگے ہوئے ہیں جہاں کیمیکلز، شیشہ، ٹائلیں، قالین، جوتے، ڈیری مصنوعات اور ٹریکٹرز وغیرہ تک تیار ہو رہے ہیں اور یہ دھواں اگلتی صنعتیں ان سرسبز و شاداب کھڑی فصلوں میں اپنا گندہ پانی خارج کرتی ہیں۔ غذائی فصلوں اور ممکنہ طور پر زہریلے صنعتی فضلے کی اتنی قربت کی وجہ سے صحت کے لیے خطرات پیدا ہوتے ہیں، اس حوالے سے کوئی عوامی طور پر معلوم تحقیق موجود نہیں ہے۔ اگر ایسی کوئی تحقیق موجود ہے بھی تو ان کے انکشافات کے بارے میں کم ہی معلومات موجود ہیں، حفاظتی اقدامات کی سفارش تو دُور کی بات ہے۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (یو اے ایف) سے فارغ التحصیل 30 سال کے لگ بھگ کرن خالد کو غذائی آلودگی کے بارے میں کچھ چھوٹی تحقیقات کا معلوم ہے۔ ضلع فیصل آباد کے قصبے چک جھمرہ کے قریب اپنے والد کے فارم ہاؤس میں نیم کے پیڑ کے نیچے چارپائی پر بیٹھی کرن کراچی سے آنی والی مہمان کو ان کے بارے میں بتاتی ہیں۔ انہوں نے جس سب سے عجیب و غریب غذا کا سنا ہے، وہ چین میں پلاسٹک سے بننے والی گوبھی ہے۔ انہیں پتہ چلا ہے کہ یہ مقامی مارکیٹوں میں فروخت بھی ہو رہی ہے۔

مقامی میڈیا میں اسی طرح کی ایک اور کہانی جنوب مشرقی ایشیاء سے چاول کی ایک جنس کی درآمد کے بارے میں بھی گردش کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حقیقتاً چاول نہیں بلکہ چاول کی شکل کا پلاسٹک ہے۔ تاجروں اور غذا پیدا کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کہانیاں صرف افواہیں ہیں۔ ان کے مطابق پلاسٹک تیار کرنا گوبھی اور چاول اگانے سے زیادہ مہنگا ہے اس لیے غذا کی تیاری میں اس کا استعمال اخراجات میں مدد نہیں دے سکتا۔

ضیاء الدین گبول کا پولٹری فارم — فوٹو عائشہ بنتِ راشد
ضیاء الدین گبول کا پولٹری فارم — فوٹو عائشہ بنتِ راشد

سہیل شکور، جو کہ ضلع اوکاڑہ میں اپنے آبائی علاقے رینالہ خورد میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے زیرِ انتظام مویشیوں کے فارم میں مینیجر ہیں، ایک اس سے بھی زیادہ عجیب واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک ٹھیلے سے اسٹرابیریز خریدیں۔ پھل پکا ہوا لگ رہا تھا مگر جب انہوں نے اور ان کے خاندان نے یہ کھایا، تو لال رنگ ان کے چہروں پر لگ گیا۔ پھل فروش نے مبینہ طور پر اسٹرابیریز کو اچھا نظر آنے کے لیے ان پر اسپرے کر رکھا تھا۔ 2015 میں یوٹیوب پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستانی پھل فروش لیچی کے سبز و سفید حصے چھپانے کے لیے ان پر لال رنگ کا اسپرے کر رہا تھا۔

مگر غذائی فصلوں، پھلوں اور سبزیوں میں ملاوٹ کے ایسے ثبوتوں کے علاوہ ایسی کوئی مستقل، منظم اور مشترکہ تحقیق یا دستاویزات نہیں ہیں کہ کون سی آلودگیاں، مضرِ صحت کیمیکل یا خطرناک اضافیات ہمارے غذائی سسٹم میں داخل ہو رہے ہیں۔


احمد حسن اور ان کے چھوٹے بھائیوں کی اوکاڑہ کی تحصیل دیبالپور کے 4 دیہات میں کل 600 ایکڑ زمین ہے۔ اس علاقے کو پنجاب کا پوٹاٹو بیلٹ کہا جاتا ہے کیوں کہ آلوؤں کی پیداوار کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہر سال ستمبر کے اواخر میں مزدور ان کی زمینوں میں ہل چلاتے ہیں۔ وہ کھدائی کرتے ہیں اور کئی مرتبہ مٹی کو اوپر نیچے کرتے ہیں جس کے لیے ہاتھوں اور مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ زمین اکتوبر تک تیار ہوجانی چاہیے جب درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے اور موسم آلوؤں کی بوائی کے لیے موزوں ہو جاتا ہے۔

ان تیاریوں کا ایک بڑا حصہ زمین میں کھاد ملانے پر مشتمل ہے۔ کبھی کبھی یہ کام ہاتھ سے اور کبھی مشینی ڈرل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ کچھ مواقع پر ایسا بھی کیا جاتا ہے کہ کھادوں کو سوراخ دار ڈرموں میں ان آبی گزرگاہوں کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے جو زمینوں کو پانی دیتی ہیں۔ جب ایک دفعہ کھاد ملانے کا عمل مکمل ہوجاتا ہے تو بیجوں کو قطار در قطار لگا دیا جاتا ہے۔

اچھے، پرانے وقتوں میں کسان بیج بونے کے بعد اپنے گھر چلے جاتے تھے اور بس موسم کے سازگار رہنے کی امید کرتے رہتے تاکہ ان کے کی فصل اگلے 4 ماہ میں اچھی طرح نشونما پا جائے۔ مگر اب ایسا نہیں آتا۔

آج کا کسان اپنی فصل کے لیے بوائی سے پہلے ہی پریشان ہوجاتا ہے۔ وہ بیجوں کی ایسی اقسام منتخب کرنا چاہتے ہیں جو مقامی زمین اور موسم سے مطابق رکھتی ہو، فی ایکڑ زیادہ پیداوار دیتی ہو اور کیڑوں اور بیماریوں سے اپنی حفاظت کرسکتی ہو۔ احمد حسن جیسے کسان جن کی زمینیں خاصے رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں، وہ درآمد شدہ بیجوں (عموماً ہالینڈ سے) پر انحصار کرتے ہیں۔ کم تر وسائل رکھنے والے کسان مقامی اقسام استعمال کرتے ہیں۔

پھوٹنے کے ساتھ ہی آلو کی فصل مختلف بیماریوں مثلاً ارلی بلائٹ اور لیٹ بلائٹ (پت روگ، پھپھوندی) کے نشانے پر آ جاتی ہے جس سے پھپھوند زدہ ہوسکتی ہے۔ احمد حسن کہتے ہیں کہ لیٹ بلائٹ کو پورے علاقے میں تباہی مچانے کے لیے صرف 3 سے 4 دن چاہیے ہوتے ہیں۔ آلو کے پودوں پر کیڑوں، خودرو بیلوں اور دیگر بیماریوں کے حملے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔

جیسے ہی فصل کسی طرح کی بیماری کی علامات ظاہر کرنے لگتی ہے تو کسان فوراً سرگرمِ عمل ہوجاتے ہیں۔ وہ مارکیٹ سے مختلف کیمیکل خریدتے ہیں اور انہیں فوراً پودوں پر چھڑک دیتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ کیمیکل کو اس کے اثر کے حساب سے استعمال کیا جائے مگر حقیقت میں ضرورت سے زیادہ چھڑکاؤ عام ہے۔

کسانوں میں آگاہی کی کمی ہے اور حکومت انہیں اکثر ان ممکنہ طور پر خطرناک کیمیکلز کے مناسب استعمال کے حوالے سے آگاہ کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ کسانوں کی ترجیح اپنی فصل کی حفاظت یقینی بنانا ہوتا ہے۔ بسا اوقات وہ کیمیکل فروخت کرنے والے دکانداروں سے مشورہ طلب کرتے ہیں کہ انہیں کیسے اور کتنا کیمیکل استعمال کرنا چاہیے۔ زیادہ تر معاملات میں کسان خود ہی فیصلہ کرتے ہیں اور دوسرے کسانوں کی دیکھا دیکھی مقدار کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کسان عموماً اس حوالے سے بھی بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کی فصلوں کو کس قدر اسپرے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے کچھ ہر 8 دن کے بعد اسپرے کر بیٹھتے ہیں جبکہ فصل کی پوری زندگی میں 8 مرتبہ سے زائد اسپرے نہیں کرنا چاہیے۔

کچھ تعلیم یافتہ کسانوں کو معلوم ہے کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف ان کی فصل بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی نقصاندہ ہو سکتا ہے۔ احمد حسن کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنی فصل کو اسپرے سے ڈھک دیں گے تو ظاہر ہے کہ آپ پودوں کو بیماریوں کے خلاف مزاحمت فراہم کرنے کے بجائے پیداوار میں ملاوٹ کر رہے ہیں۔ دیبال پور میں ایک اور کسان کا کہنا ہے کہ "بالآخر یہ ایک خاموش زہر ہے۔"

ایک کسان کو کیمیکلز کے بارے میں صرف وہی معلوم ہوتا ہے جو کہ بوتل پر لگے لیبل پر لکھا ہوتا ہے، وہ بھی تب جب وہ تعلیم یافتہ ہو۔ اکثر اوقات انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی پیداوار کچھ جراثیم کش اور نباتات کش ادویات کے اجزاء جذب کر سکتی ہے اور کھانے والے افراد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔ احمد حسن کہتے ہیں کہ "ریاست یا پھر ان کیمیکلز کے تیار کنندگان کو ان کے ضمنی اثرات کے بارے میں ضرور معلوم ہوگا۔"

آگاہی کی اس کمی کی وجہ سے کئی پاکستانی کسان ان زرعی ادویات کا استعمال کرتے ہیں جو کہ دنیا کے دیگر حصوں میں ممنوعہ ہیں۔ کاربوفیوران اس کی ایک مثال ہے۔ اس کا سب سے زیادہ استعمال مکئی پر کیا جاتا ہے اور اس کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ الٹیاں، پیٹ میں درد، بلڈ پریشر میں اضافے، یہاں تک کہ زیادہ مقدار سے سامنا ہونے پر موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ کم مقدار میں بھی یہ ممالیہ جانوروں کے لیے زہریلا ثابت ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین نے 2008 میں کاربوفیوران کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ایک سال بعد امریکا نے ان غذائی مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی جن میں کاربوفیوران کے ذرات موجود تھے۔

ایسی ادویات کی فروخت سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں زرعی ادویات (ایگرو کیمیکلز) کی مارکیٹ پر حکومتی عملداری کتنی کم ہے۔ جراثیم کش اور نباتات کش ادویات کے مقامی فروخت کنندگان باہر سے جینرک کیمیکل درآمد کرتے ہیں، ان کی دوبارہ پیکنگ کرتے ہیں، اور انہیں بین الاقوامی برانڈز کے انہی کیمیکلز کی قیمت سے کہیں کم قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ مقامی طور پر پیک کیے گئے کیمیکلز کسی قسم کے کوالٹی کنٹرول سے نہیں گزرتے۔ استعمال کی مقدار کسی مقامی سائنسی تحقیق کی بناء پر نہیں بلکہ دیگر ممالک کی معلومات سے اخذ کر کے متعین کی جاتی ہے۔

زرعی ادویات کے انسانی صحت پر زیادہ تر مضر اثرات کو ایک سادہ سی تکنیک کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ وہ تکنیک یہ یقینی بنانا ہے کہ فصل پر آخری اسپرے اور اس کے کھائے جانے کے درمیان مناسب دورانیہ ہو۔ آلو کو زمین سے کھانے کی میز تک پہنچنے میں اتنا وقت لگتا ہے کہ اس میں کیمیکل کی باقیات نہیں رہتیں۔ احمد حسن کے مطابق آلو کی چنائی سے اس کے کھائے جانے میں تقریباً 1 سے 2 ماہ کا عرصہ حائل ہوتا ہے۔ آگہی رکھنے والے کسان اپنی فصل کی کٹائی یا چنائی سے کم از کم 20 دن قبل اسپرے کرنا بند کر کے ایسا یقینی بناتے ہیں۔

مزدور لیچی کے درختوں پر ہاتھ سے اسپرے کر رہے ہیں۔ — طارق محمود، وائٹ اسٹار
مزدور لیچی کے درختوں پر ہاتھ سے اسپرے کر رہے ہیں۔ — طارق محمود، وائٹ اسٹار

مگر کم آگہی رکھنے والے کسان اس شیڈول پر عملدرآمد نہ کرنے کی مختلف وجوہات پیش کرتے ہیں۔

ان میں سے 3 ساہیوال شہر کے مضافات میں واقع ایک کولڈ اسٹوریج کے پاس موجود ایک چھوٹے سے دفتر میں بیٹھے ہیں۔ وہ سبزیوں اور زرعی ادویات کے بیچ تعلق کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ جراثیم کش ادویات کی بوتلوں پر ایسی کوئی ہدایات موجود نہیں کہ ان کا اسپرے کب روک دینا چاہیے۔ ان میں سے ایک میز سے بوتل اٹھا کر اسے گھماتے ہیں تاکہ اپنا نکتہ ثابت کر سکیں۔ لیبل پر لکھا ہے کہ کیمیکل کا استعمال فصل کی کاشت سے کم از کم 7 دن قبل بند کر دینا چاہیے۔ وہ ایک عرصے سے اس بوتل میں موجود دوائی استعمال کرتے رہے ہیں مگر پھر بھی انہوں نے اس سے پہلے کبھی یہ معلومات پڑھنے کی زحمت نہیں کی ہے۔

وہ اپنا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک کسان کو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک کیمیکل کی پیکنگ کس رنگ کی ہے اور وہ کون سی برانڈ کا ہے۔ ان میں سے ایک کہتے ہیں کہ اگر آپ ان سے زیرِ استعمال کیمیکلز کے بارے میں کچھ بھی مزید پوچھیں گے تو وہ کہیں گے کہ انہیں ان پر چھپے ہوئے الفاظ سمجھ نہیں آتے۔

اس طرح کی عدم آگہی خود کسانوں کے لیے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔ وہ کمر پر چھوٹے سلنڈر پہن کر ہاتھ سے اسپرے کرتے وقت خود بھی ان کیمیکلز کے مضر اثرات کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ یہ طریقہ چھوٹے کسانوں کی جانب سے اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کیوں کہ ان کے پاس زیادہ بہتر آلات تک رسائی نہیں ہوتی۔ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ جراثیم کش اور نباتات کش ادویات سانس اور اعصاب کی بیماریاں، یہاں تک کہ کینسر تک کا سبب بن سکتی ہیں اگر انہیں اسپرے کرنے والے اسپرے کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار نہ کریں گے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ہر سال پوری دنیا میں ڈھائی لاکھ افراد جراثیم کش ادویات کے زہریلے اثرات کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔


محمد عامر باجوہ کی والدہ کو حال ہی میں کینسر تشخیص کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ان کے چچا کو بھی کینسر کی تشخیص کی گئی ہے۔ وہ اکثر سوچتے ہیں کہ یہ کہیں ان کے بُرے اعمال کا نتیجہ تو نہیں۔ باجوہ اور ان کے چچا کی چک جھمرہ میں 100 ایکڑ سے زائد زمین ہے جس پر وہ مکئی، گنّا اور مختلف سبزیاں مثلاً ٹماٹر، پیاز، بینگن، گھیا توری اور ہری مرچیں اگاتے ہیں۔ وہ اپنی زمینوں میں زرعی ادویات کے اضافی استعمال کے بارے میں متضاد رائے رکھتے ہیں، خاص طور پر تب سے جب ایک ڈاکٹر نے ان کے چچا کو بتایا تھا کہ جراثیم کش ادویات کینسر کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی زمینوں پر مزدور فصل چننے کے وقت تک بھی ان پر اسپرے کرتے رہتے ہیں۔

دوپہر میں اسپرے کی گئی سبزی کو اگلی صبح چن کر منڈی بھیجا جا سکتا ہے اور وہ اسی شام کسی کے کھانے میں شامل ہو سکتی ہے۔ ایک دن پہلے ہی ان کی اپنی زمین پر فصل چننے والے مزدوروں سے بحث ہوئی ہے۔ وہ پیاز کی فصل پر راؤنڈ اپ نامی کیمیکل چھڑکنا چاہتے تھے۔ یہ گلائیفوسیٹ نامی جزو پر مشتمل ایک ایسا نباتات کش کیمیکل ہے جو پیاز کے پتوں کو اتار دیتا ہے جس سے اسے چننا آسان ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اس قدر زود اثر ہے کہ اگر اسے ذرا سی بھی اضافی مقدار میں استعمال کر لیا جائے تو زمین 6 ماہ تک کے لیے ناکارہ ہو سکتی ہے۔ جو پیاز ان کے مزدور اس انتہائی مضرِ صحت کیمیکل کے استعمال کے ذریعے چننا چاہتے تھے، وہ اگلے دن منڈی میں پہنچ سکتا تھا۔ باجوہ نے کسی طرح ان سے بات چیت کر کے انہیں کیمیکل استعمال کرنے سے روک لیا۔

رواں سال مئی کے ایک گرم دن میں وہ اپنی گنّے کی فصل کے کنارے پر کھڑے ہیں جبکہ 2 لوگ اپنی کمر پر سلنڈر پہن کر فصل پر اسپرے کر رہے ہیں۔ باجوہ کے مطابق نیلا تھوتھا کہلانے والا کیمیکل گنّے پر استعمال ہونے والی ایک عام جراثیم کش دوا ہے۔ اس پھپھوندی کش دوا میں کاپر سلفیٹ شامل ہے۔ باجوہ کے مطابق "یہ بدترین زہروں میں سے ایک ہے" اور اسے عمومی طور پر گھروں میں کیڑے مار دوا اور خودکشی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کی تھوڑی سی مقدار (1 گرام) بھی کھا لینے پر جلد میں جلن، الٹیاں، اور ڈائریا ہو سکتا ہے۔ طویل عرصے تک اس سے سامنا رہنے پر جگر اور گردوں کے امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔

باجوہ بتاتے ہیں کہ گنّے کے جوس میں نیلے تھوتھے کی باقیات تقریباً 6 ماہ تک رہتی ہیں۔ کبھی کبھی کسان اسے تب تک استعمال کرتے رہتے ہیں جب اس کی کٹائی میں صرف 3 ماہ رہ چکے ہوتے ہیں۔ اس طرح کا آلودہ گنّا ممکنہ طور پر آلودہ چینی کی تیاری کا سبب بن سکتا ہے۔

باجوہ اسے ایک منظم مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت اور جراثیم و نباتات کش ادویات کے تیار کنندگان کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کسانوں کو زرعی ادویات کے مؤثر اور سائنسی استعمال کی تربیت نہیں دیتی اور نہ ہی یہ زرعی ادویات کی صنعت اور خرید و فروخت کو ریگولیٹ کرتی ہے۔

اس دوران زرعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی کمی نے ان ادویات کو ایک ضرورت بنا دیا ہے جس کا فائدہ ادویات کے تیار اور فروخت کنندگان اپنے منافعے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ باجوہ کے مطابق اس کئی ارب ڈالر کی صنعت نے ایسی زرعی معیشت کو جنم دیا ہے جس میں ایک شخص کے پاس ایسے غیر نامیاتی کیمیکلز کے استعمال کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

ویسے تو ان کیمیکلز کے نقصانات پر مقامی طور پر وسیع پیمانے پر کی گئی تحقیقات نہ ہونے کے برابر ہیں مگر پھر بھی پاکستانی سائنسدانوں نے کیمیکل سے لدی ہوئی کاشتکاری کے انسانی صحت پر ممکنہ مضر اثرات کو دستاویزی صورت میں لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد نواز ایک ایسے ہی تحقیقی پراجیکٹ میں شامل ہیں جو کہ پنجاب میں زرعی پیداوار میں جراثیم کش ادویات کی باقیات کی موجودگی پر تحقیق کر رہا ہے۔ پراجیکٹ پر کام کرنے والے محققین نے 5 بڑی منڈیوں، مثلاً بہاولپور، فیصل آباد، لاہور اور راولپنڈی سے زرعی پیداوار کے سیمپلز حاصل کیے ہیں تاکہ ان میں جراثیم کش ادویات کی باقیات کی مقدار کا بین الاقوامی طور پر قابلِ قبول سطح سے موازنہ کیا جا سکے۔ ان کی ابتدائی تحقیق میں ہی ایک خطرناک چیز سامنے آئی ہے: ان کے اکھٹے کیے گئے تمام سیمپلز آلودہ پائے گئے ہیں مگر ان کی آلودگی کی حد کا تعین کرنا ابھی بھی باقی ہے۔

فرانس کی پال سباتیر یونیورسٹی میں اپنی پی ایچ ڈی کی تعلیم کے دوران ڈاکٹر احمد نواز نے انسانی جگر پر جراثیم کش ادویات کے اثرات کا جائزہ لیا تھا۔ ویسے تو کچھ کیمیکلز علیحدہ طور پر انسانی جگر پر کوئی اثرات مرتب نہیں کر رہے تھے، مگر پھر بھی جب انہیں دیگر جراثیم کش ادویات کے ساتھ ملایا گیا، تو جگر کے خلیوں کی موت میں 80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

محمد عارف، وائٹ اسٹار
محمد عارف، وائٹ اسٹار

مگر یو اے ایف کے ہی اینٹومولوجی (علم الحشرات) کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل احمد لیبارٹریوں میں ہونے والی ایسی تحقیق کے نتائج کے بارے میں احتیاط سے کام لینے کی تجویز دیتے ہیں کیوں کہ یہ کنٹرولڈ حالات میں حاصل کیے گئے ہوتے ہیں اور شاید ان کا اطلاق حقیقی زندگی کی صورتحال پر نہ ہو۔ اس کے علاوہ وہ زرعی ادویات کی مدد سے اگائی گئی تمام غذاؤں کو آلودہ اور زہریلا قرار دینے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عوام میں زرعی پیداوار میں زرعی ادویات کی باقیات رہ جانے کے بارے میں کافی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ انسانی جسم کے لیے ان باقیات کا روزانہ کتنا استعمال مضر ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے اب تک ایسی کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہے جو کہ حتمی مقدار کا تعین کر سکے۔

احمد کو رواں سال مئی کی 5 تاریخ کو پنجاب کے زرعی سائنسدانوں کی ایک تحقیقی کانفرنس میں شرکت کا احوال یاد ہے۔ کانفرنس کے دوران ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد کے محققین نے ایک حالیہ تحقیق کا حوالہ دیا تھا جس کے مطابق ٹیسٹ کیے گئے پھلوں اور سبزیوں کے سیمپلز میں سے 23 فیصد میں خوراک کے بین الاقوامی اداروں کی متعین کردہ مقدار سے زیادہ جراثیم کش ادویات کی باقیات موجود تھیں۔ تحقیق کا دعویٰ تھا کہ 13 فیصد سیمپلز میں کھانا پکانے کے باوجود جراثیم کش ادویات کی باقیات رہ گئی تھیں۔ ویسے تو یہ تحقیق ابھی جائزے اور اشاعت کے مرحلے سے نہیں گزری ہے، مگر احمد کہتے ہیں کہ اس کے نتائج عوامی معلومات میں آ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ اس تحقیق کی حمایت میں دیا گیا لٹریچر اور ڈیٹا بھی عوامی جانچ پڑتال کے لیے اب تک دستیاب نہیں ہے۔

احمد اس تحقیق کے انکشافات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیق میں موجود ایک کیمیکل اس درجہ حرارت پر مکمنہ طور پر باقی نہیں رہ سکتا جس درجہ حرارت پر ہمارے ملک میں کھانا پکایا جاتا ہے۔


کراچی کے مشرقی کونے میں واقع بھینس کالونی ہزاروں بڑے احاطوں پر مشتمل ہے جہاں لاکھوں کے حساب سے گائے بھینسیں پالی جاتی ہیں۔ یہاں کی تنگ اور گندگی سے بھری ہوئی گلیوں میں جگہ جگہ پانی کے جوہڑ نظر آتے ہیں جن پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں۔ پلاسٹک کی تھیلیوں پر مشتمل کچرے کے ڈھیر پورے علاقے میں تمام راستوں پر عام پائے جاتے ہیں۔

آپ کو سب سے پہلے گوبر اور چارے سے بھرے ہوئے ایک احاطے سے گزرنا ہوگا، اس کے بعد ہی آپ بانس اور بھوسے سے بنی ہوئی چھت والے اس شیڈ کے آخری کونے میں پہنچیں گے۔ اس شیڈ کے اندر تقریباً 40 جانور لوہے کی میخوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ فضا مکھیوں اور جانوروں کے گوبر اور پیشاب کی بُو سے بھری ہوئی ہے۔ فرش جانوروں کے فضلے اور پانی کے نہایت غلیظ ملغوبے سے اٹا ہوا ہے۔ ایک شخص اسے بیلچے سے اٹھا کر اس کی اصل جگہ سے صرف کچھ انچ دُور منتقل کر رہا ہے۔

یہ محمد منشا کا فارم ہے۔ اس جیسے ہزاروں فارمز سے روزانہ کراچی کے رہائشیوں کو دودھ فراہم کیا جاتا ہے۔

منشا کے ملازمین دودھ دوہنے سے قبل اپنے ہاتھ یا جانوروں کے تھن نہیں دھوتے۔ دودھ کو لوہے کی بالٹیوں میں نکالا جاتا ہے اور پھر مکھیوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جنہوں نے شاید اس شیڈ کو اپنا مستقل گھر بنا لیا ہے۔ بالٹیوں کو اسٹیل کے ایک کھلے ٹب میں خالی کیا جاتا ہے جس میں بھوسے کی چھت سے رسنے والا بارش کا پانی بھی شامل ہو رہا ہے۔ دودھی (گوالے) منشا کے شیڈ سے روزانہ دودھ اکھٹا کرتے ہیں اور پھر اسے کراچی کی مختلف دکانوں میں فروخت کر دیتے ہیں جہاں سے یہ ہمارے کھانوں، چائے، مٹھائیوں اور بسکٹوں تک پہنچتا ہے۔

مگر بھینس کالونی میں جانوروں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں جان کر آپ کو صفائی کی عدم موجودگی معمولی بات محسوس ہوگی۔

روز شام کو 4 بجے منشا کے ملازمین میں سے ایک شخص آکسیٹوسن کی بوتل سے ایک سرنج بھرتا ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو بچوں کی پیدائش اور چھاتی کے ذریعے خوراک سے منسلک ہے۔ وہ ایک گائے کے پاس جاتا ہے، سوئی اس کے جسم میں چبھوتا ہے اور دوائی اس کے جسم میں پہنچا دیتا ہے۔ 5 منٹ سے بھی کم وقت میں وہ گائے کے نیچے بالٹی رکھتا ہے اور فوراً اسے لبالب بھر لیتا ہے۔ وجہ؟ آکسیٹوسن۔ پھر وہ اگلے جانور کے ساتھ بھی یہی کرتا ہے اور اس سے اگلے جانور کے ساتھ بھی۔

ساہیوال کے رہائشی محمد زبیر احمد، جو کہ 17 سال سے ڈیری کی صنعت سے وابستہ ہیں اور اپنے آبائی شہر میں اینگرو فوڈز کے ملک پلانٹ کے پروڈکشن مینیجر ہیں، وہ کراچی کے باڑہ مالکان پر مویشی پالنے کے نام پر "جانوروں کے ساتھ زیادتی" کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کے زیادہ تر باڑوں کے لیے جانور پنجاب کی تین بڑی منڈیوں اوکاڑہ، عارف والا اور چیچہ وطنی سے خریدے جاتے ہیں اور پھر "دودھ کی مشین" کے طور پر ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔

ہارمونز کے انجکشنز کے کچھ اثرات تو آسانی سے نظر آتے ہیں۔ منشا کے باڑے میں موجود جانور قحط زدہ معلوم ہوتے ہیں بھلے ہی چارے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کی کھالیں نوکوں کی طرح باہر نکلی ہوئی ان کی ہڈیوں سے نیچے ڈھلک رہی ہیں۔

دیگر اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ پنجاب کنزیومر پروٹیکشن کونسل کے رکن اور رپورٹر محسن بھٹی کے مطابق مثال کے طور پر آکسیٹوسن جانور کے جسم کا درجہ حرارت 2 ڈگری تک بڑھا دیتا ہے۔ اگر یہ معمول کے مطابق دیا جائے تو اس سے مویشیوں کو مستقل بخار ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً بھٹی کے مطابق جانوروں میں تھنوں کا انفیکشن ہوسکتا ہے جس سے ان کا دودھ آلودہ ہو سکتا ہے۔

دوسرا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہارمون ری کامبیٹینٹ بووائن سوماٹوٹروپن (آر بی ایس ٹی - rBST) ہے۔ یہ گائے اور بھینسوں کو دیا جاتا ہے تاکہ ان کا دودھ کا پیداواری دورانیہ 9 ماہ کے قدرتی دورانیے سے بڑھ کر 14 ماہ کے مصنوعی دورانیے تک ہوجائے۔ یہ طرزِ عمل صرف بھینس کالونی تک محدود نہیں ہے بلکہ پنجاب کے زیادہ تر علاقوں میں بھی ایسا کیا جاتا ہے۔

یورپی یونین، کینیڈا اور ہندوستان میں آر بی ایس ٹی - rBST کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ پنجاب کی صوبائی حکومت نے بھی 2015 میں اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ آر بی ایس ٹی انجیکٹ کرنے کے بعد نکالے گئے دودھ میں آئی جی ایف-1 نامی پروٹین ہارمون کی ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ امیریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق اس ہارمون کا تعلق انسانی جسم میں کینسر کے خلیوں کی بڑھوتری کے ساتھ ہے۔

کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں ایک شخص دودھ کو اسٹیل کے ٹب میں منتقل کر رہا ہے۔ — فوٹو فہیم صدیقی، وائٹ اسٹار
کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں ایک شخص دودھ کو اسٹیل کے ٹب میں منتقل کر رہا ہے۔ — فوٹو فہیم صدیقی، وائٹ اسٹار

سجاد اشرف ہر صبح سورج نکلنے سے کافی پہلے جاگ جاتے ہیں۔ 4 سے 5 بجے کے بیچ میں وہ اور ان کے ملازمین ضلع فیصل آباد کے ایک گاؤں چک 125 آر بی میں واقع اپنے باڑے میں تقریباً 30 گائے بھینسوں کا دودھ نکالتے ہیں۔ جانوروں کو باڑے سے باہر ایک جگہ لے جایا جاتا ہے جہاں ان کا دودھ ہاتھ سے اسٹیل کی بالٹیوں میں نکالا جاتا ہے۔ سورج نکلنے پر ایک شخص موٹرسائیکل پر آتا ہے۔ وہ دودھ کو اپنی بائیک کے ساتھ منسلک اسٹیل کے بڑے ڈرموں میں ڈالتا ہے اور پھر قریبی قصبے میں ایک مقامی دودھ فروش کے پاس لے جاتا ہے۔

ان کے جیسے دودھی پنجاب کے شہروں اور قصبوں کو قریبی دیہات سے ملانے والی سڑکوں پر عام نظر آتے ہیں۔ وہ سارا دن باڑوں تک آتے جاتے رہتے ہیں، باڑہ مالکان سے دودھ خریدتے ہیں اور پھر دودھ کی دکانوں یا پھر شہروں اور قصبوں میں واقع دودھ کے کلیکشن سینٹرز تک پہنچاتے رہتے ہیں۔

کلیکشن سینٹر عمومی طور پر ایک ایسی مرکزی جگہ پر قائم ہوتا ہے جو قریبی دیہات کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ ان میں سے کچھ میں دودھ کو ٹھنڈا اور دیر تک تازہ رکھنے کے لیے دھاتی چلر ہوتے ہیں۔ موبائل کلیکشن یونٹ بھی کافی عام ہیں۔ یہ ایسے چھوٹے کنٹینر ٹرک ہوتے ہیں جن میں چلر لگا ہوا ہوتا ہے۔ یہ کلیکشن سینٹر اور کلیکشن گاڑیاں ڈیری مصنوعات کے تیار کنندگان، دودھ کی دکانوں اور دودھ کے بڑے صافرین مثلاً ہوٹلوں، ریسٹورینٹس، کیٹرنگ کمپنیوں، اور مٹھائی فروشوں کو دودھ فراہم کرتی ہیں۔ کھلے دودھ کی یہ روایتی سپلائی چین ہر سال پاکستان میں استعمال ہونے والے 12 سے 13 ارب لیٹر دودھ کا تقریباً 90 فیصد سنبھالتی ہے۔

باڑے کی بالٹی سے لے کر صارف تک پہنچنے کے دوران دودھ کو اس کی چکنائی اور نتیجتاً اس کی قیمت کے تعین کے لیے اگر چیک کیا جاتا ہے تو ایسا صرف ایک بار ہوتا ہے۔ اسے بیکٹیریا یا ان دیگر اشیا کے لیے چیک نہیں کیا جاتا جو سپلائی چین میں کوئی اور شخص ان میں دودھ کی مقدار، گاڑھا پن یا اس کی چکنائی میں اضافہ کرنے کے لیے ڈال سکتا ہے۔ دکانداروں اور گھریلو صارفین دودھ میں سے اضافی چیزیں یا آلودگی دُور کرنے کے لیے بس یہ کرتے ہیں کہ اسے مخصوص وقت کے لیے چولہے پر گرم کرتے ہیں۔ یہ پاسچرائیزیشن کی روایتی تکنیک ہے۔

باڑہ مالکان، دودھی اور دودھ فروش دودھ کی مقدار بڑھانے کے لیے کئی طرح کے اقدامات کرتے ہیں۔ پانی ملانا تو سب سے بنیادی طریقہ ہے۔ ترسیل کے دوران اسے ٹھنڈا رکھنے کے لیے برف کا استعمال بھی کافی عام ہے۔ اس سے نہ صرف دودھ کی مقدار بڑھ جاتی ہے بلکہ یہ بیکٹیریا اور ان دیگر نقصان دہ اجزاء سے آلودہ بھی ہو سکتا ہے جو کہ برف کی تیاری میں استعمال ہونے والے غیر ٹیسٹ شدہ پانی میں موجود ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (یو اے ایف) کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں فوڈ سیفٹی اور کوالٹی مینیجمنٹ کے ماہر علی حسن کے مطابق اس کے علاوہ فارمل ڈی ہائیڈ، جسے عام طور پر لاشیں محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اسے بھی دودھ کو زیادہ عرصے تک تازہ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ باڑہ مالکان اور دودھی دودھ میں یوریا کی آمیزش بھی کرتے ہیں تاکہ اسے جلد پھٹنے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

علی حسن کا الزام ہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والے زیادہ تر دودھ میں وہ چیز بھی شامل ہے جسے وہ سنتھیٹک یا مصنوعی دودھ کہتے ہیں۔ ان کے سامنے کچھ ایسے معاملات آئے ہیں جن میں ٹیلکم پاؤڈر کو گلوکوز، پانی اور چکنائی کے لیے سبزیوں کے تیل کے ساتھ ملا کر دودھ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اس کام میں استعمال ہونے والے دیگر کیمیکلز میں پاؤڈر کی صورت میں پھٹے ہوئے دودھ کا پانی اور خشک دودھ کا پاؤڈر استعمال کیا جاتا ہے جو اکثر زائد المیعاد ہوتا ہے۔ محسن بھٹی کہتے ہیں کہ ان اجزاء کو ملا کر ایک لیٹر 'دودھ' 20 روپے تک کی کم قیمت میں تیار کیا جا سکتا ہے۔

پی ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل نور الامین مینگل اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان میں دودھ میں ملاوٹ وسیع پیمانے پر ہوتی ہے۔ کئی ماہ تک ان کی قیادت میں پی ایف اے کی ٹیمیں پنجاب کے مختلف شہروں میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ دودھ کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی رہی ہیں۔ اس سال 10 جنوری کو اتھارٹی نے صرف لاہور میں تقریباً 800 لیٹر غیر معیاری دودھ ضائع کیا تھا۔ 20 جون کو اس کے حکام نے لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں 25 ہزار لیٹر سے زائد دودھ قبضے میں لے کر ضائع کیا۔

مگر جیسا کہ مینگل تسلیم کرتے ہیں، یہ کریک ڈاؤن دودھ میں ملاوٹ روکنے میں ہمیشہ کارگر ثابت نہیں ہوتے۔ اگر ایک دودھ والا شہر کے داخلی مقام پر پی ایف اے کے چیک پوائنٹ سے کلیئرنس حاصل کر لے، تب بھی وہ شہر میں اپنی دکان میں آسانی سے دودھ میں ملاوٹ کر سکتا ہے۔ "وہ [ایک لیٹر دودھ میں] آسانی سے [اسے] آپ کے گھر تک پہنچانے سے قبل اس میں 2 گلاس پانی ڈال سکتا ہے۔


ضلع اوکاڑہ کے قصبے رینالہ خورد کے ایک گاؤں میں ایک بڑا باڑہ ہے جو کہ نیسلے کو دودھ فراہم کرتا ہے۔ نیسلے پاکستان میں پیک شدہ ڈیری مصنوعات تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ہے (یہ کمپنیاں مجموعی طور پر سالانہ 1.3 ارب لیٹر پیک شدہ دودھ فروخت کرتی ہیں)۔ فارم میں 90 کے قریب جانور ہیں۔ کم سے کم پیداوار والے دن جو کہ عموماً گرمیوں میں ہوتا ہے، اس دن بھی یہاں 340 لیٹر دودھ نکالا جاتا ہے۔

یہاں جانوروں کو دن میں دو مرتبہ، صبح 5 بجے اور شام 5 بجے باڑے کے باہر ایک چھپر میں دوہا جاتا ہے۔ کھانے کے لیے محفوظ ربر (فوڈ گریڈ) کے پائپس ان کے تھنوں سے منسلک کیے جاتے ہیں تاکہ دودھ نکالا جا سکے، جو کہ پلاسٹک کی سفید بالٹیوں میں اکھٹا کیا جاتا ہے۔ پھر اسے اسٹیل کے بڑے برتن میں ڈالا جاتا ہے اور دوہے جانے کے 30 منٹ کے اندر اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے باڑے پر موجود ہی ایک چلنگ یونٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ہر صبح ایک ٹرک باڑے پر آتا ہے۔ اس کا ڈرائیور ٹھنڈے دودھ کو اس کی چکنائی، بیکٹیریا کی افزائش اور آلودگی کے لیے ٹیسٹ کرتا ہے، اور پھر اسے اپنی گاڑی میں موجود چلر کے ساتھ منسلک ایک ٹینک میں منتقل کر دیتا ہے۔

اس باڑے میں جانوروں کا شیڈ ایک بڑی، مستطیل، سفید اینٹوں کی بنی ہوئی عمارت ہے جو کہ طیاروں کے ہینگر جیسی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے درمیان میں ایک راستہ ہے۔ دونوں جانب گائے بھینسیں بڑے انکلوژرز میں کھڑی ہوتی ہیں۔ وہ راستے کے اطراف باقاعدگی سے رکھے گئے نمک کے بلاکس کو چاٹتی ہیں جس سے ان کا ہاضمہ درست ہوتا ہے۔ ہر انکلوژر میں پیچھے کی جانب جانوروں کے لیے انفرادی آرام گاہیں ہیں۔ یہ اس لیے ہے تاکہ جانوروں کا گوبر ان کے تھنوں کو نہ لگ سکے۔

رینالہ خورد کے قریب نیسلے سے منسلک ماڈل لائیو اسٹاک فارم کے مینیجر سہیل شکور کہتے ہیں کہ کوئی بھی مٹی یا گندگی جو جانور کے تھنوں سے لگ جائے، وہ دودھ کو آلودہ کر دیتی ہے۔ دودھ دوہنے کے 30 منٹ بعد تک بھی تھنوں کا اندرونی حصہ کھلا رہتا ہے اور اگر وہ کچرے یا جانوروں کے گوبر کی زد میں آئے تو بیماری کا خطرہ رہتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ متاثرہ تھن سے نکالے جانے والے دودھ میں پیپ ہو سکتا ہے جو کہ انسانی استعمال کے لیے فٹ نہیں ہوتا۔

اگر جانوروں کے چارے کی باقاعدہ مانیٹرنگ نہ کی جائے تو دودھ پیدا کرنے والے جانوروں کے زہریلی چیزیں کھا لینے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ شکور بتاتے ہیں کہ یہ زہریلے مواد دودھ میں مل کر بالآخر انسانی صحت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس خطرے کے پیشِ نظر کچھ بڑی ڈیری کمپنیاں اپنے ساتھ کام کرنے والے باڑہ مالکان کو پابند کرتی ہیں کہ وہ صرف منظور شدہ ڈیلروں اور تیار کنندگان سے ہی چارہ خریدیں۔

ان کمپنیوں کو دودھ فروخت کرنے کے لیے باڑہ مالکان کو اپنے جانوروں کی صحت یقینی بنانی ہوتی ہے۔ اگر کوئی جانور بیمار ہے یا اسے اینٹی بائیوٹکس دی جا رہی ہیں تو کمپنی اس کا دودھ قبول نہیں کرے گی۔ دودھ میں اینٹی بائیوٹکس کی باقیات سے بچنے کے لیے نیسلے دوائی کی آخری خوراک کے 7 دن بعد ہی دودھ قبول کرتا ہے۔ اگر دودھ میں کسی بھی دوائی کی باقیات ملیں تو کمپنی وہ تمام دودھ ضائع کر دیتی ہے اور باڑہ مالک کو اس کے لیے ادائیگی نہیں کی جاتی۔ دانستہ ملاوٹ کے لیے تو اس کے معیار اور بھی زیادہ سخت ہیں۔ اگر دودھ میں ایک لیٹر پانی پایا جائے، تو یہ قصوروار باڑہ مالک کے واجبات میں سے 2 لیٹر دودھ کی رقم کاٹ لیتی ہے۔

اس سخت پروٹوکول کی پابندی زیادہ تر بڑے باڑوں، بالخصوص وہ ان ماڈل فارمز پر جن کی نیسلے جیسی کمپنیاں خود اپنے سرمائے اور ماہرانہ مشوروں سے مدد کرتی ہیں، پر کی جاتی ہے۔ کئی چھوٹے باڑے اگر ان میں سے تمام نہیں تو پھر بھی کافی سارے ضوابط کی پابندی کرتی ہیں۔

شہباز خان رینالہ خورد کے نزدیک ایک گاؤں میں ایسے ہی ایک چھوٹے باڑے کے مالک ہیں۔ ان کے باڑے میں موجود شیڈ ایک سفید، مستطیل ڈھانچہ ہے جو کہ 3 اطراف سے دیواروں اور چوتھی جانب محرابوں پر ٹکا ہوا ہے۔

ان کے جانوروں کو نیسلے سے منظور شدہ غذا ملتی ہے مگر ان کے لیے علیحدہ علیحدہ انکلوژر یا آرام گاہیں نہیں ہیں۔ مئی کے اس دن ان میں سے 5 شیڈ کے اندر صاف فرش پر گرمیوں کی تیز دھوپ سے پناہ لیے ہوئے بیٹھی ہیں۔

ہر صبح 6 بجے شہباز خان ہر جانور کو ایک فولادی دروازے سے گزار کر ایک دوسرے شیڈ تک لے جاتے ہیں جہاں ان کا دودھ ہاتھ سے دوہا جاتا ہے۔ یہ کام دوبارہ شام کو 6 بجے کیا جاتا ہے۔ باڑے میں اپنا کوئی چلر موجود نہیں ہے۔ وہ یقینی بناتے ہیں کہ کمپنی کا چلر ٹرک آنے سے قبل ان کا دودھ تازہ اور بیکٹیریا سے محفوظ رہے۔

رینالہ خورد، پنجاب میں نیسلے کے سرسبز فارم میں جانور چر رہے ہیں۔ — فوٹو عائشہ بنتِ راشد
رینالہ خورد، پنجاب میں نیسلے کے سرسبز فارم میں جانور چر رہے ہیں۔ — فوٹو عائشہ بنتِ راشد

مگر کمپنی کے متعین کردہ قوانین اکثر چھوٹے باڑوں میں نظرانداز کر دیے جاتے ہیں جہاں صفائی اور فیڈ کنٹرول کے اونچے معیارات کی ہمیشہ پابندی نہیں کی جاتی۔ کوئی بھی کمپنی، چاہے وہ کتنے ہی وسائل کیوں نہ رکھتی ہو، پنجاب بھر میں موجود لاکھوں سپلائیرز کی مانیٹرنگ نہیں کر سکتی۔

اس طرح کے چھوٹے سپلائر صوبے میں کہیں بھی مل سکتے ہیں۔ نیسلے کے ایک ایسے ہی سپلائر ساہیوال شہر سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر موجود ہیں۔ ان کا باڑہ کمپنی کی جانب سے میڈیا پر پرجوش انداز میں دکھائے جانے والے ماڈل فارمز سے کہیں زیادہ گندہ ہے۔ باڑے میں زمین پر گوبر کے ڈھیر پڑے ہیں اور اس کے پھسلن بھرے گندے فرش پر پلاسٹک کے وہ خالی ڈرم موجود ہیں جن میں کبھی کیمیکل ہوا کرتے تھے۔ کاغذی طور پر تو نیسلے نے ایسے ڈرموں کی دودھ جمع کرنے کے لیے استعمال پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اسٹیل کی بالٹیاں بھی موجود ہیں جن کے استعمال کی کمپنی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔


پنجاب کے ضلع قصور میں پتوکی قصبے کے علاقے چک گگا میں واقع نیسلے کا ملک کلیکشن سینٹر ایک کچے راستے پر قائم ہے جو کہ کھیتوں اور مٹی کی اینٹوں سے بنے گھروں سے ہوتے ہوئے گزرتا ہے۔ یہ ایک کمرے پر مشتمل مستطیل ڈھانچہ ہے جس کے اندر ایک دھاتی چلر ہے، جبکہ ٹیسٹ ٹیوبز، مرتبانوں اور چھوٹی مشینوں سے لدا ہوا ایک کاؤنٹر موجود ہے جن کا استعمال دودھ کی ٹیسٹنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہاں ہر روز 300 سے 500 لیٹر دودھ اکھٹا کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے ہزاروں کلیکشن سینٹر وسطی پنجاب کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے کئی حصوں میں بھی اکثریت سے موجود ہیں۔

باڑہ مالکان سینٹر تک دودھ ڈھکے ہوئے اسٹیل کے کنٹینرز میں لاتے ہیں۔ اسے قبول کرنے سے قبل سینٹر پر موجود ایک ملازم اپنی حواس کا استعمال کرتے ہوئے دودھ کا ٹیسٹ کرتا ہے۔ وہ اسے سونگھتا ہے، اسے چکھتا ہے اور اس کے رنگ و گاڑھے پن کا جائزہ لیتا ہے۔ دودھ پر کیا گیا دوسرا ٹیسٹ اس کی چکنائی کو پرکھتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں پانی اور بیکٹیریائی آلودگی کی موجودگی کو بھی جانچا جاتا ہے۔ اگر دودھ آلودہ ہو، تو اسے رنگ دیا جاتا ہے تاکہ یہ دوسرے خریداروں کو فروخت نہ کیا جا سکے۔ آخری راؤنڈ میں دودھ کے سیمپلز کو چھوٹی بوتلوں میں ڈال کر ان پر منفرد کوڈز چسپاں کر دیے جاتے ہیں تاکہ معلوم رہے کہ یہ کون سی کھیپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کوڈز سے کمپنی خراب دودھ پہنچانے والے باڑہ مالک کا پتہ چلا سکتی ہے۔

سینٹر پر اکھٹا کیا گیا دودھ ایک چلر میں ڈالا جاتا ہے جو اسے 4 ڈگری یا اس سے بھی کم تک ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اس وقت تک برقرار رکھا جاتا ہے جب تک کہ ایک لاری آ کر اسے لے نہیں جاتی۔ لاری پر موجود چلر میں منتقل کرنے سے قبل دودھ کی بُو، ذائقہ، رنگ اور گاڑھا پن ایک بار پھر پرکھا جاتا ہے۔

لاہور کے مغربی جانب ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع نیسلے کا پلانٹ 63.5 ایکڑ رقبے پر قائم ہے۔ یہ عمودی گوداموں (سائلوز) کی ایک بھول بھلیاں ہیں۔ دھاتی پائپ پلانٹ کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ احاطے میں لیبارٹریاں اور انتظامی عمارتیں بھی موجود ہیں۔ لیب کوٹ اور سائز سے بڑے جوتے پہنے ہوئے کارکنوں کو اس کی مختلف عمارتوں میں آتے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہر پراسیسنگ ایریا میں داخل ہونے سے قبل مہمانوں اور کارکنوں کو اپنے ہاتھ اچھی طرح سے رگڑ کر دھونے ہوتے ہیں، اور پھر سرجیکل دستانے، سروں پر جالی اور چہرے پر ماسک پہننا پڑتا ہے۔

جب دودھ کا ٹرک پلانٹ پر آتا ہے تو اس میں سے ایک سیمپل لے کر اسے بیکٹیریا، آلودگی، اجزاء، ذائقے، اور بُو کے لیے ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر سیمپل درست پایا جائے تو دودھ کو پروسیسنگ ایریا کے اندر واقع سائلوز میں فوڈ گریڈ ربر کے پائپس کے ذریعے منتقل کر دیا جاتا ہے۔ پراسیسنگ کے دوران لیے گئے سیمپلز پلانٹ میں ہی موجود کیمیکل اور مائیکرو بائیولوجی لیبارٹریوں میں بھیجے جاتے ہیں جہاں ان پر مزید کئی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

ایک دفعہ جب سیمپلز کو کلیئر قرار دے دیا جائے تو دودھ کو زمین سے کافی اونچائی پر واقع پائپس کے ذریعے فلنگ پلانٹس تک منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دودھ کو ٹیٹرا پیک کے تیار کردہ جراثیم سے پاک اور خوراک کے لیے محفوظ ڈبوں میں پیک کیا جاتا ہے۔ اس پیکنگ کو ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کے اندر موجود چیزیں خراب نہ ہوں۔ سیمپلز کو ایک بار پھر سائٹ پر موجود کئی دیگر کوالٹی کنٹرول لیبارٹریوں میں بھیجا جاتا ہے۔ جب ایک دفعہ ان سیمپلز کو کلیئر کر دیا جائے تو دودھ کے کارٹن بازار میں فروخت کے لیے بھجوا دیے جاتے ہیں۔ پلانٹ پر ہو رہے اس پورے کام کے دوران دودھ کا ہوا، سورج اور انسانی ہاتھوں سے بالکل بھی سامنا نہیں ہوتا۔

بڑے پیمانے پر ڈیری مصنوعات تیار کرنے والی دیگر کمپنیوں کے بھی ایسے ہی کلیکشن اور پراسیسنگ کے ضوابط موجود ہیں مگر دودھ کے معیار کے حوالے سے شکوک و شبہات اپنی جگہ موجود رہے ہیں۔

2009 میں لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل بیرسٹر ظفراللہ خان نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں شکایت کی گئی تھی کہ کئی ملکی و غیر ملکی برانڈز کی جانب سے فروخت ہو رہے دودھ میں مضرِ صحت کیمیکلز موجود ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار، جو اس وقت ہائی کورٹ کے جج تھے، نے یہ مقدمہ سنا۔ ان کے حکم پر 11 کمپنیوں کے دودھ کے ڈبے لکسمبرگ میں واقع یوروفنز سائنٹیفک نامی لیبارٹری کو بھجوائے گئے جو کہ ایک عالمی سطح کی لیبارٹری ٹیسٹنگ سروس ہے۔ لیبارٹری کو ان تمام میں فارمل ڈی ہائیڈ کی کچھ مقدار ملی۔ مگر لیبارٹری نے انہیں انسانی استعمال کے لیے موزوں قرار دیا۔

جولائی 2016 میں انہی وکیل نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور ایک بار پھر پیک شدہ دودھ کے معیار کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان برانڈز میں موجود کیمیکلز ہیپاٹائٹس سی، کینسر اور دیگر بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ مقدمہ ایک 2 رکنی بینچ نے سنا جو جسٹس نثار اور جسٹس اقبال حمید الرحمٰن پر مشتمل تھا۔

جج صاحبان نے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسنز لاہور اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کو 17 پیک شدہ دودھ کے برانڈز کی ٹیسٹنگ کے لیے کہا۔ ان میں 7 برانڈز (نیسلے ملک پیک، حلیب، اور اینگرو فوڈز کے اولپرز سمیت دیگر) ایسی بھی شامل تھیں جو الٹرا ہیٹ ٹریٹمنٹ (یو ایچ ٹی) ٹیکنالوجی سے دودھ کو صرف ایک یا دو سیکنڈ کے لیے 135 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ پر گرم کرتی ہیں جس سے بیکٹیریا اور دیگر آلودگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ دیگر 10 برانڈز پاسچرائزیشن (کم درجہ حرارت پر دیر تک گرم کرنا) کا استعمال کرتی ہیں تاکہ خورد بینی حیات اور دیگر آلودگیوں کو ختم کیا جا سکے۔

تینوں اداروں نے دسمبر 2016 میں اپنی رپورٹس جمع کروائیں۔ تمام 7 یو ایچ ٹی برانڈز میں دھاتوں کی کچھ مقدار پائی گئی مگر ان میں سے صرف ایک (حلیب) کو انسانوں کے لیے ناقابلِ استعمال قرار دیا گیا۔ اس میں گنّے کے جوس اور فارملین کی کچھ مقدار تھی جو کہ فارمل ڈی ہائیڈ پر مبنی ایک کیمیکل ہے۔

پاسچرائزڈ دودھ کے متعلق رپورٹ تو اور بھی چشم کشا تھی۔ ان میں سے تمام کے سیمپلز میں گنّے کے جوس اور فارملین کی مقدار پائی گئی تھی۔ صرف ایک پاسچرائزڈ برانڈ کو انسانی استعمال کے لیے موزوں قرار دیا گیا تھا۔


مندرجہ بالا مضمون کے جواب میں حلیب فوڈز پاکستان کے ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز کے سربراہ شہزاد احمد نے ہیرالڈ کو ایک خط ارسال کیا جو کہ ہم اپنے قارئین کے لیے من و عن یہاں شائع کر رہے ہیں:

ہیرالڈ کی اکتوبر 2017 کی اسٹوری "واٹس آن دی مینیو" میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور، اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے الٹرا ہائی ٹمپریچر (یو ایچ ٹی) استعمال کرنے والی پیک شدہ دودھ کی 7 برانڈز، بشمول حلیب کی ٹیسٹنگ کی اور حلیب کو انسانوں کے لیے ناقابلِ استعمال قرار دیا۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم حلیب کے حوالے سے حقائق منظرِ عام پر لائیں۔

مارچ 2017 میں پیک شدہ دودھ کے معیار کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک سول پٹیشن دائر کی گئی تھی جس پر سپریم کورٹ نے مزید ایک حکمنامہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ "پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) کی جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق حلیب فوڈز لمیٹڈ کی جانب سے تیار/پیک کیا گیا دودھ انسانی استعمال کے لیے موزوں ہے۔"

جب حلیب کے دودھ میں فارملین کی موجودگی کی افواہیں سامنے آئیں تو حلیب کے دودھ کو دسمبر 2016 میں ایس جی ایس نے ٹیسٹ کیا اور رپورٹ میں حلیب کے دودھ کو فارملین سے پاک پایا گیا۔


ترجمہ: بلال کریم مغل / انگلش میں پڑھیں۔


عائشہ بنتِ راشد ہیرالڈ کی اسٹاف ممبر ہیں۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر ہیرالڈ میگزین کے اکتوبر 2017 کے شمارے میں شائع ہوا۔ مزید پڑھنے کے لیے سبسکرائب کریں۔