صادقین: درویش، فقیر، قلندر یا ایک بے نیاز روح؟

جتنا کام صادقین نے کیا اور جس معیار کا وہ سب کام تھا، اتنا کچھ تو 10 زندگیوں میں بھی ایک مصور نہیں کرسکتا۔
شائع اکتوبر 12, 2018 04:47pm

فنکار اگر اپنے حلیے سے فنکار نہ لگے تو اس کی ساری فنکاری آدھی رہ جاتی ہے۔ وہ سوپر ٹیلینٹڈ ہو، وہ اپنے فن میں مہان ہو، جب تک اس میں کچھ ادا، کچھ خاص ٹیڑھ یا ایسا کہہ لیں کہ تھوڑا اسٹائل نہیں آتا، وہ قبولِ عام کی سرحد سے ایک یا 2 فٹ پیچھے رہتا ہے۔

لمبی چوڑی مثالیں گنوانے کے بجائے سیدھے صادقین پر لینڈ کرتے ہیں۔ وہ لیجنڈری فنکار تھے۔ مست ملنگ حلیہ تھا اور دنیا کی طرف رویہ بھی عین ایسا ہی تھا۔ کوئی شک نہیں کہ ایسے آرٹسٹ صدیوں بعد بھی سامنے نہیں آتے۔ جتنا کام انہوں نے کیا اور جس معیار کا وہ سب کام تھا، اتنا کچھ تو 10 زندگیوں میں بھی ایک مصور نہیں کرسکتا۔

کہیں لکھنے والوں نے لکھا کہ وہ 24 میں سے 23 گھنٹے کام کرتے تھے، کہیں یہ بتایا گیا کہ باقی والا ایک گھنٹہ بھی سونے کے بجائے بس کمر سیدھی کرنے کو لیٹ جاتے تھے، کہیں سننے میں آیا کہ تصویریں بناتے بناتے ان کی انگلیاں ٹیڑھی ہوگئی تھیں اور ایک مرتبہ تو کسی ٹی وی شو میں خود دیکھا کہ وہ اپنی ٹیڑھی انگلیاں دکھا رہے تھے اور بتارہے تھے کہ دیکھو کیسے اللہ لکھا نظر آتا ہے۔ لیکن ایک بات واقعی طے ہے کہ اگر کوئی بندہ جناتی طریق پر کام کرتا تھا تو وہ صادقین ہی تھا۔

جتنا کام انہوں نے کیا اور جس معیار کا وہ سب کام تھا، اتنا کچھ تو 10 زندگیوں میں بھی ایک مصور نہیں کرسکتا
جتنا کام انہوں نے کیا اور جس معیار کا وہ سب کام تھا، اتنا کچھ تو 10 زندگیوں میں بھی ایک مصور نہیں کرسکتا

کہیں لکھنے والوں نے لکھا کہ وہ 24 میں سے 23 گھنٹے کام کرتے تھے
کہیں لکھنے والوں نے لکھا کہ وہ 24 میں سے 23 گھنٹے کام کرتے تھے

انہیں کوئی لمبے چوڑے سامان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، ایک دم درویش آدمی تھے۔ جدھر ہیں جیسے ہیں وہیں اپنا کام شروع کرسکتے ہیں۔ صرف کینوس اور مطلوبہ رنگ مہیہ ہوجاتے تو صادقین کئی کئی دن بغیر کھائے پیے نکال دیتے۔ تصویریں بن رہی ہیں، خطاطی ہو رہی ہے، اسکیچز بنا رہے ہیں، بیچ میں کوئی آیا اور اس نے کچھ مانگا تو ایسی فراخدلی سے بخشا کہ آج بھی یاد کرنے والے یاد کرتے ہیں۔

صادقین ایسے دریا دل تھے کہ اگر کوئی اپنی کتاب کا سرورق بنانے بھی آجاتا تو کبھی انکار نہ کرتے۔ ہندوستان کے معروف نثر نگار مجتبیٰ حسین ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’انڈیا میں قیام کے دوران ایک بار وہ صادقین کے یہاں بیٹھے تھے تو ایک صاحب تشریف لائے جو اپنے مجموعہ کلام کا سرورق بنوانا چاہتے تھے۔ صادقین ایک لفظ نہ بولے اور بڑے آرام سے ان کی فرمائش پوری کرنا شروع کردی۔ کام کرتے کرتے صادقین اٹھے اور گھر کے اندر چلے گئے، کچھ یاد آگیا ہوگا۔‘

پڑھیے: پاکستانی مصوری کی تاریخ، منی ایچر آرٹ اور حاجی محمد شریف

مجتبیٰ حسین انہی شاعر صاحب کے ساتھ بیٹھے تھے جن کا سرورق بن رہا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ بھائی آپ تو کمال جلدی میں سرورق بنوا رہے ہیں، اتنی جلدی میں کتاب کیسے چھپوائیں گے؟ آگے سے جواب آیا کہ ’حضور اس وقت تو اپنے پاس ایک عدد تخلص ہے اور ایک عدد وہ نام ہے جو میرے دیوان کا ہوگا، شاعری واعری تو اس سرورق کے بن جانے کے بعد شروع کروں گا۔ ویسے بھی صادقین آج ادھر ہیں کل نہیں ہیں اس لیے احتیاطاً پہلے ہی ٹائٹل بنوا رہا ہوں۔ ویسے بھی اچھے شعر اور بُرا وقت پوچھ کر نہیں آتے۔ کل کلاں کو واقعی شعر کہنے لگ جاؤں تو صادقین صاحب کو ڈھونڈتا کہاں پھروں گا؟‘

صرف کینوس اور مطلوبہ رنگ مہیہ ہوجاتے تو صادقین کئی کئی دن بغیر کھائے پیے نکال دیتے
صرف کینوس اور مطلوبہ رنگ مہیہ ہوجاتے تو صادقین کئی کئی دن بغیر کھائے پیے نکال دیتے

25 سالہ صادقین کی تصویریں 1955ء میں جب نمائش کے لیے اس وقت کے وزیرِاعظم حسین شہید سہروردی کے گھر پر لگیں تو اس کے بعد سے پاکستان میں ان کی مصوری اپنا ایک الگ راستہ بناتی نظر آئی۔ انہیں کئی سرکاری میورل بنانے کے لیے بلایا گیا اور پینٹنگ کلیکٹرز میں بھی وہ مشہور ہونے لگے۔

صادقین 60ء کی دہائی میں حکومتِ فرانس کی دعوت پر پیرس چلے گئے۔ 4 سے 5 ماہ کا پروگرام تھا لیکن اچھی پذیرائی دیکھ کر ٹکے رہے۔ وہاں سے بڑے بھائی کو خط لکھتے تھے اور اس میں ایک طرح سے روزمرہ کا احوال چلا آتا تھا۔ وہ خط بعد میں انہوں نے رقعاتِ صادقینی کے نام سے چھاپے۔ صادقین کو اگر قریب سے جاننا ہے تو سیدھے اس کتاب کا رخ کرنا چاہیے۔ ادھر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جو صادقین ہر وقت کام کرتا تھا ان کی یہ عادت کیسے پیدا ہوئی۔

پیرس نے انہیں کھلے دل سے گلے لگایا۔ صادقین کو ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احساس بڑھتا جا رہا تھا کہ پیرس جہاں آرٹسٹ رُل کھل جاتے ہیں وہیں ان سے آرٹ نقادوں، آرٹ گیلریز اور بڑے خریداروں کی توقعات بڑھ رہی ہیں۔ وہ دن رات کام کرتے تھے صرف اس لیے کہ جو پریسٹیج یا وقار و شہرت حاصل ہوچکی ہے اسے وہ اپنا بہتر سے بہتر کام سامنے لاکر مزید بڑھائیں۔

صادقین 60ء کی دہائی میں حکومتِ فرانس کی دعوت پر پیرس چلے گئے تھے
صادقین 60ء کی دہائی میں حکومتِ فرانس کی دعوت پر پیرس چلے گئے تھے

فریئر ہال، کراچی کی چھت پر صادقین کا بنایا ہوا ایک میورل آرٹ کا شاہکار نمونہ۔۔۔۔۔۔۔فوٹو بشکریہ مہ جبین
فریئر ہال، کراچی کی چھت پر صادقین کا بنایا ہوا ایک میورل آرٹ کا شاہکار نمونہ۔۔۔۔۔۔۔فوٹو بشکریہ مہ جبین

کئی خطوں میں وہ بھائی کو بتاتے نظر آتے ہیں کہ بھائی یہ والی نمائش بھی صرف دیکھنے کی حد تک ہے، تصویریں یہاں بھی بک نہیں سکیں گی، یہاں بھی لوگ میرے فن کا تنقیدی جائزہ لینے آئیں گے۔ پھر وہی صادقین بعد کے خطوں میں یہ بھی بتاتا ہے کہ کہاں کہاں کیسے کیسے غیب سے گاہک آتے ہیں اور تصویریں دھڑا دھڑ بکتی جارہی ہیں۔ یہ ایک فنکار کی محنت تھی جو بک رہی تھی، اس کا احساس ذمہ داری تھا جو اسے اس مقام تک لے کر پہنچا تھا ورنہ پیرس تو وہ جگہ تھی جدھر بڑے بڑے استاد ساری زندگی رُلتے رہے اور جب مرنے کے قریب آئے تو کہیں جا کے 4 پیسے میں اپنے آرٹ سے کماسکے۔

پڑھیے: کینواس پر دیوی دیوتاؤں سے کھیت کھلیانوں تک کا سفر

صادقین اپنے فن کو پیسوں میں نہیں تولتے تھے لیکن انہیں یہ بات بھی پتا تھی کہ بھئی جس چیز کا مول جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی اعلیٰ اسے تصور کیا جائے گا۔ ایک بار کہنے لگے، مجھ سے کسی نے پوچھا کہ تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ میں نے کہا زیادہ سے زیادہ قیمت میں اپنی تصویر فروخت کرنے کی آرزو ہے۔ پتا ہے کیوں؟ اس لیے نہیں کہ پیسے کی ضرورت ہے بلکہ اس لیے کہ تم لوگ اتنی ہی کسی چیز کی قدر کرتے ہو جتنا کہ اس پر پیسہ لگاتے ہو۔ مجھے صرف اس لیے زیادہ پیسوں میں تصویر بیچنے کا شوق ہے، یہ الگ بات ہے وہ پیسے تم سے لے کر میں دریا میں پھینک آؤں۔

صادقین اپنے فن کو پیسوں میں نہیں تولتے تھے لیکن انہیں یہ بات بھی پتا تھی کہ بھئی جس چیز کا مول جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی اعلیٰ اسے تصور کیا جائے گا
صادقین اپنے فن کو پیسوں میں نہیں تولتے تھے لیکن انہیں یہ بات بھی پتا تھی کہ بھئی جس چیز کا مول جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی اعلیٰ اسے تصور کیا جائے گا

صادقین کا ایک فن پارہ
صادقین کا ایک فن پارہ

صادقین کو بیرونِ ملک اصل مقبولیت تب ملی جب مشہور اور معتبر ترین آرٹ نقاد ریماں کونیا (Raymond Cogniat) نے ان کے کام کا جائزہ لیا اور آرٹ کے سنجیدہ حلقوں میں ان کی تصویروں پر بحث کی۔ اس کے بعد ایک اور بڑی کامیابی البرٹ کامَس کی مشہور کتاب دی اسٹرینجر (The Stranger) میں السٹریشنز کے لیے ان کا منتخب ہونا تھا۔ کامَس کار حادثے میں تازہ تازہ فوت ہوئے تھے اور کار انڈسٹری ہی ان کی یادگار کے طور پر یہ ایڈیشن نکالنا چاہتی تھی۔ اس مقابلے میں بھی فرانس سمیت دنیا بھر کے بڑے مصوروں نے اپنی اپنی عرضیاں ڈالی ہوئی تھیں لیکن قرعہ امروہے کے صادقین کے نام نکلا۔ پتا ہے کتاب کی ٹوٹل کتنی کاپیاں چھاپی گئیں؟ صرف 130۔ ایک ایک جلد کی ویلیو اس وقت ہزاروں فرانک تھی۔

ان کی تصویروں میں کیا نیا تھا جو ساری دنیا کو ایک عرصے تک حیران کیے گیا؟ شاید سب سے بڑی رمز ان کی تصویروں میں کسی نہ کسی کیلیگرافک پیٹرن کا موجود ہونا تھا۔ ان کی تصویر میں اگر کوئی حصہ ایبسٹریکٹ ہوتا تھا تو وہ بھی دیکھنے والے کو الگ سے کچھ معنی دے رہا ہوتا تھا۔ یوں سمجھیے کہ ایک زبان ہے جو بے شک سمجھ نہیں آ رہی لیکن آنکھوں کو بھلی لگ رہی ہے۔ بڑی بڑی انسانی شکلیں ہیں، مکڑی کے جالے ہیں، چمکتے سورج ہیں، کوے ہیں، صلیبیں ہیں، کیکٹس ہیں، خطاطی ہے، عمر خیام ہے، غالب، اقبال، فیض ہیں، عجیب و غریب پیٹرنز ہیں، کہیں انسانی اعضا اور خطاطی مکس ہو کر آپ پر حملہ آور ہو رہے ہیں، کہیں لفظوں کی گولائیاں ایسی ہیں جو انسانی جسم کی یاد دلائیں اور کہیں جسم ایسا جو کسی کتابی چہرے کی یاد دلائے۔ لیکن یہ سب چیزیں جب ملتی ہیں تو ان کی پینٹنگ ایک کائناتی وسعت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ اسے یوں سمجھیے کہ دیکھنے والے پر تصویر کی ہیبت ضرور بیٹھتی ہے۔ وہ ایک بار سوچتا ضرور ہے کہ یہ جناتی کام جس کا بھی ہے وہ کتنے ہاتھوں والا سریلا مصور ہوگا؟

سب سے بڑی رمز ان کی تصویروں میں کسی نہ کسی کیلیگرافک پیٹرن کا موجود ہونا تھا
سب سے بڑی رمز ان کی تصویروں میں کسی نہ کسی کیلیگرافک پیٹرن کا موجود ہونا تھا

صادقین کا بنایا ہوا ایک میوریل
صادقین کا بنایا ہوا ایک میوریل

وہ سریلا مصور ایک فرمانبردار بیٹا بھی تھا۔ 1967ء میں جب صادقین کے باپ ان سے ملنے پیرس گئے اور وہاں ان کی طبیعت کچھ خراب دکھائی دی، کچھ بڑھاپا غالب نظر آیا تو صادقین نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے ان کے ساتھ واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا لیکن کام نہیں رکا۔ اتنا کام کیا جیسے کوئی سمندر ہے جو بس بہتا چلا جا رہا ہے۔ 36، 36 گھنٹے مسلسل کام کرتے تھے۔ ایک چٹائی ہے یا قالین ہے، اس پر رنگ ہیں اور برشز ہیں اور صادقین ہیں اور سامنے لمبی چوڑی پینٹنگ کا کوئی ایسا حصہ ہے جو ابھی پورا نہیں ہوا۔ ان کے دیکھنے والوں نے انہیں ہمیشہ اس حال میں دیکھا۔ اپنے فن کی قدر وہ پیرس میں دیکھ چکے تھے۔ پاکستان میں بھی ان کی تصویریں اب مہنگی فروخت ہوتی تھیں لیکن دریا دل ایسے کہ جس نے مانگی جب مانگی، ادھر ہی تصویر اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ ایک مرتبہ بیمار ہوئے اور جناح ہسپتال کراچی میں داخل تھے تو وہاں کی جمعدارنی تک کو اپنی بنائی تصویریں تحفے میں دیں۔ ایک مرتبہ زاہد ڈار سے پوچھا کہ یار تم میری تصویریں کیوں نہیں مانگتے؟ تو زاہد ڈار نے کہا کہ میرا کوئی ٹھور ٹھکانہ تو ہے نہیں، میں کیا گلے میں لٹکاؤں گا؟ یہ شاید وہ مقام تھا جدھر 2 قلندر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے تھے۔

صادقین کے ہاتھوں سے بنا کتاب کا سرورق
صادقین کے ہاتھوں سے بنا کتاب کا سرورق

کراچی کے اسٹیٹ بینک میں ایک میورل بنایا، ایک پنجاب پبلک لائبریری میں بنایا، ایک منگلا ڈیم ٹربائن روم میں بنایا، ادھر اپنے لاہور والے عجائب گھر کی پوری چھت پینٹ کردی۔ پی آئی اے کے پیرس والے دفتر میں ایک جناتی میورل بنایا، انڈیا، اقوام متحدہ کے دفتر میں، ابوظہبی پاور ہاؤس میں، پتا نہیں کہاں کہاں کل 45 میورل بنائے۔ میورل؟ یوں سمجھ لیں بہت بڑی پینٹنگ، اتنی بڑی کہ جس کو دیکھنے کے لیے چلنا پڑے تو اتنی تصویریں بنانے والا کس قدر محنتی ہوگا؟ ذرا تصور کریں!

مزید پڑھیے: مصور، خطاط اور شاعر: صادقین

وہ خود کہتے تھے کہ میں نے جتنی تصویریں بنائی ہیں اگر انہیں اکٹھا رکھا جائے تو کئی میل لمبا فاصلہ ہوگا۔ پھر اکثر وہ ایسے کسی کام کے پیسے بھی نہیں لیتے تھے۔ خاص طور پر اگر کسی مسجد میں کوئی کام کیا ہے تو اس کے عوض تو رقم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ایک آرٹ ورک تھا جس میں کوئی 40 خطاطی کے فریم تھے۔ 25 لاکھ کی آفر حکومتِ پاکستان نے دی لیکن انہوں نے کہا کہ بھائی، یہ میری طرف سے کراچی کے شہریوں کے لیے تحفہ ہے۔ کر لو بات! علم و عمل کے نام سے یہ سیریز 86ء میں کراچی کے مئیر کو پیش کی گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صادقین نے زندگی بھر میں 15 ہزار پینٹنگز بنائیں لیکن اکثر جہاں بھی بنائیں ادھر ہی چھوڑ کر آگے نکل لیے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق صادقین نے زندگی بھر میں 15 ہزار پینٹنگز بنائیں
ایک محتاط اندازے کے مطابق صادقین نے زندگی بھر میں 15 ہزار پینٹنگز بنائیں

پیرس والی بھی ادھر ہی چھوڑ کر آگئے، 80ء کی دہائی میں ایک ڈیڑھ سال کے لیے انڈیا گئے تو جتنا کام کیا سب وہیں چھوڑ کر اور بغیر کوئی معاوضہ لیے واپس آئے۔ کراچی میں بھی کئی دفعہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ ابھی پچھلے سال ان کی ایک ایسی ہی پینٹنگ ڈیڑھ کروڑ میں فروخت ہوئی۔ وہ بندہ فنکار تھا، جوگی تھا، درویش تھا، فقیر تھا، قلندر تھا یا ایک بے نیاز روح، جو بھی تھا بہت حیران کن کردار تھا۔ صادقین کو لیور سروسز ہوا اور 1987ء میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ کیا صادقین کو مختلف حکومتوں سے ملے اعزاز بھی گنوانے کی ضرورت ہے؟

(صادقین کی شاعری /رباعیات کا جان بوجھ کر تذکرہ نہیں کیا گیا۔ فقیر کی رائے ان کے بارے میں وہی ہے جو اپنی شاعری کے بارے میں ہے!)


حسنین جمال ادب، مصوری، رقص، باغبانی، فوٹوگرافی، موسیقی اور انٹیکس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک قومی اخبار کے مستقل کالم نویس ہیں۔ رسائل کے لیے لکھتے ہیں۔ بلاگنگ کی دنیا میں پچھلے چار پانچ سال سے موجود ہیں۔ فیس بک پر آپ انہیں یہاں فالو کرسکتے ہیں۔