ای میل

رنگ بدلتی کالام کی خوبصورت ’ کُو‘ جھیل

امجد علی سحاب

’وہ دیکھو، پانی اپنا رنگ بدل رہا ہے!‘

ہمارے ایک ساتھی نے عالمِ حیرانی میں طلوع ہوتے ہوئے سورج کی کرنیں جھیل کی سطح پر پڑتے ہی ہمیں بلند آواز سے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ میری نظریں چونکہ پہلے ہی سے اس خوبصورت جھیل میں لمحے بھر میں ہونے والی تبدیلی سے حیران تھیں اور میں سمجھ رہا تھا کہ گویا خواب دیکھ رہا ہوں یا میرا وہم ہے۔ مگر ساتھی کی اس آواز نے تصدیق کردی کہ یہ خواب نہیں بلکہ جھیل کا پانی واقعی رنگ بدل رہا ہے۔

یہاں ذکر ہو رہا ہے کُو جھیل کا، جو کالام کی وادی ’اَنَکار‘ میں سطح سمندر سے 10,800 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

یہ جھیل الپائن رینج میں واقع ہے۔ آپ اَنَکار وادی سے 7 سے 8 گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ اَنَکار وادی کی طرف کالام سے ایک کچی سڑک جاتی ہے، جس پر فور بائے فور گاڑیاں آپ کو منزل تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

انکار ویلی کا من بھاتا منظر—تصویر امجد علی سحاب
انکار ویلی کا من بھاتا منظر—تصویر امجد علی سحاب

کُو جھیل اور راستے میں مختلف جھرنوں کا پانی مل کر اس ندی کی شکل اختیار کرلیتا ہے—امجد علی سحاب
کُو جھیل اور راستے میں مختلف جھرنوں کا پانی مل کر اس ندی کی شکل اختیار کرلیتا ہے—امجد علی سحاب

مختلف چشموں اور جھرنوں کا پانی ندی میں شامل ہونے جا رہا ہے—تصویر امجد علی سحاب
مختلف چشموں اور جھرنوں کا پانی ندی میں شامل ہونے جا رہا ہے—تصویر امجد علی سحاب

کالام بازار سے نکلتے ہی گھنے جنگل میں دوراہا آتا ہے۔ ایک راستہ مٹلتان اور آگے مہوڈنڈ تک جا نکلتا ہے جبکہ دوسرا راستہ اتروڑ، گبرال کی جانب نکلتا ہے۔ اسی دوسرے راستے میں تقریباً 20 سے 25 منٹ کی مسافت کے بعد لوہے سے بنا ایک بڑا پل آتا ہے، پُل کراس کرنے سے پہلے ایک راستہ دائیں جانب اَنَکار وادی کی طرف مڑتا ہے۔

3 اطراف سے پہاڑوں میں گھری اس جھیل کو ’کُو‘ کیوں کہتے ہیں؟ اس حوالے سے میری ذاتی تحقیق کے مطابق یہ دراصل فارسی لفظ ’کوہ‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ’کُو‘ (واوِ معروف) کی شکل اختیار کرگیا۔ اب لوگ اسے ’کوہ‘ (واوِ مجہول) کی جگہ ’کُو‘ (واوِ معروف، ہائے ہوز کے بغیر) پڑھتے ہیں۔

کالام کے ایک مقامی باشندے (جسے لوئر سوات میں کوہستانی کہتے ہیں) نے مجھے بتایا کہ، ’ہماری زبان میں پہاڑ کو ’کُو‘ کہتے ہیں‘۔

ندی کے اوپر مختلف جگہوں پر درختوں کو کاٹ کر ایسے پُل بنائے گئے ہیں—تصویر امجد علی سحاب
ندی کے اوپر مختلف جگہوں پر درختوں کو کاٹ کر ایسے پُل بنائے گئے ہیں—تصویر امجد علی سحاب

جھیل سے واپسی کے وقت راستے میں یہ پُل کراس کرنا پڑتا ہے—تصویر امجد علی سحاب
جھیل سے واپسی کے وقت راستے میں یہ پُل کراس کرنا پڑتا ہے—تصویر امجد علی سحاب

راستے میں ان گھوڑوں کی طرح کئی اور پالتو جانور چرتے دکھائی دیتے ہیں—تصویر امجد علی سحاب
راستے میں ان گھوڑوں کی طرح کئی اور پالتو جانور چرتے دکھائی دیتے ہیں—تصویر امجد علی سحاب

جھیل سے لطف اندوز ہونے کے لیے بہتر ہے کہ رات ’اَنَکار‘ میں گزاری جائے اور صبح تازہ دم پیدل سفر شروع کیا جائے۔ 7 سے 8 گھنٹے کی مسافت کے بعد ’میدان بانڈہ‘ کیمپنگ کے لیے موزوں ترین جگہ ہے۔ ہماری ٹیم (ادھیانہ ٹریکنگ کلب، سوات) نے بھی وہیں کیمپنگ کی، کھانا پکایا اور رات کھلے آسمان تلے گزاری۔

میدان بانڈہ میں کھانا تیار کرنے کے حوالے سے کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ بانڈہ میں جھیل سے نیلے رنگ کا صاف اور ٹھنڈا پانی وافر مقدار میں ایک چھوٹی سی ندی کی شکل میں عین بانڈہ کے وسط میں بہتا ہے۔ اس طرح سوختنی لکڑی کا بھی مسئلہ نہیں ہے۔ 15 مئی سے جیسے ہی سورج آگ برسانے کے لیے پَر تولتا ہے تو میدان بانڈہ میں خانہ بدوش اپنے مال مویشی سمیت یہاں رہائش اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کے ساتھ خالص دودھ کے علاوہ گاڑھی چھاچھ بھی وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ سوختنی لکڑی کچھ تو بانڈہ میں اِدھر اُدھر پڑی بھی مل سکتی ہے اور اگر زیادہ مقدار میں ضرورت ہو تو یہی مقامی خانہ بدوش کھلے دل کے ساتھ مدد کرتے ہیں۔

ایک گڈریا کھلے میدان میں بھیڑ سے اُون الگ کرنے میں مصروف ہے—تصویر امجد علی سحاب
ایک گڈریا کھلے میدان میں بھیڑ سے اُون الگ کرنے میں مصروف ہے—تصویر امجد علی سحاب

مقامی گڈریے ان گھروں میں رہائش اختیار کرتے ہیں—تصویر امجد علی سحاب
مقامی گڈریے ان گھروں میں رہائش اختیار کرتے ہیں—تصویر امجد علی سحاب

ستمبر کے آخری دنوں میں خانہ بدوش اپنے مال مویشی سمیت کالام کا رُخ کرتے ہیں، جہاں سے نومبر کے وسط میں گرم علاقوں کی طرف نقلِ مکانی کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 15 مئی سے ستمبر کے آخری ہفتے تک باآسانی کُو جھیل کی سیر کی جاسکتی ہے۔

اَنَکار وادی میں بہنے والی بل کھاتی ندی کو پانی دراصل کُو جھیل سے ملتا ہے۔ مذکورہ ندی کے دائیں جانب وادی سے پیدل سفر شروع ہوتا ہے اور سیدھا جھیل پر جاکر ختم ہوجاتا ہے، لہٰذا اگر آپ کے ساتھ اگر کوئی مقامی گائیڈ نہ ہو تب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ سفر اس لیے نسبتاً آسان ہے کہ جھیل تک ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی ندی سے وقتاً فوقتاً پیاس بجھائی جاسکتی ہے۔ اگر آپ اپنی پانی کی بوتل لانا بھول بھی جائیں، تو کچھ خاص مسئلہ نہیں ہوگا۔ حالانکہ ٹریکنگ میں پانی کی بوتل بھولنا بسا اوقات بڑی مشکل کھڑی کرتا ہے۔

کُو جھیل پر پڑنے والی پہلی نظر—تصویر امجد علی سحاب
کُو جھیل پر پڑنے والی پہلی نظر—تصویر امجد علی سحاب

کُو جھیل کا دوسرا منظر—تصویر امجد علی سحاب
کُو جھیل کا دوسرا منظر—تصویر امجد علی سحاب

اس طرح کُو جھیل کے مذکورہ راستے میں درخت بھی ہیں جن کے سائے میں بیٹھ کر 10 سے 15 منٹ تک سانس بحال کی جاسکتی ہے۔ راستے میں 7 سے 8 سو میٹر کے فاصلے پر میٹھے پانی کا کوئی نہ کوئی چشمہ بہتا رہتا ہے جس سے بھی پیاس بجھائی جاسکتی ہے۔ ان چشموں کا پانی بھی ندی میں جا کر ملتا ہے اور ندی آگے جا کر دریائے سوات میں جاملتی ہے۔

کُو جھیل کی ڈھیر ساری خصوصیات ہیں، جن میں سب سے بڑی اور حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ یہ رنگ بدلتی ہے۔ ہماری حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی جب ہمارے پہنچتے ہی اس پر سورج کی کرنیں پڑیں اور اس کا نیلا رنگ تیزی کے ساتھ ہرا ہوتا چلا گیا۔ یہ عمل اتنی تیزی کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے مکمل ہوا جیسے کسی نے جھیل کے پانی میں برقی رو دوڑا دی ہو۔

اس کے علاوہ ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ کُو جھیل سوات کی تمام جھیلوں سے یک سر مختلف ہے۔ الپائن رینج پر موجود اس جھیل کو 3 اطراف سے فلک بوس پہاڑوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ یہ پہاڑ سردی کے موسم میں برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں اور موسمِ گرما میں سورج کی کرنیں آہستہ آہستہ ان پہاڑوں کی برف کو پگھلا کر جھیل کا پیٹ بھرنے کا سامان کرتی ہیں۔

جھیل کے کنارے سیاحوں کو دیکھا جاسکتا ہے—تصویر امجد علی سحاب
جھیل کے کنارے سیاحوں کو دیکھا جاسکتا ہے—تصویر امجد علی سحاب

ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد سیاح محو استراحت ہیں—تصویر امجد علی سحاب
ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد سیاح محو استراحت ہیں—تصویر امجد علی سحاب

کُو جھیل کے اوپر پہاڑ کی ایک چوٹی پر بادل محو رقص ہیں—تصویر امجد علی سحاب
کُو جھیل کے اوپر پہاڑ کی ایک چوٹی پر بادل محو رقص ہیں—تصویر امجد علی سحاب

جھیل کے دونوں اطراف آخر تک چہل قدمی کی جاسکتی ہے، جس سے جھیل کی وسعت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر یہاں ایک عدد کشتی لائی جائے تو کیا ہی بات ہو، کوئی شک نہیں کہ کشتی رانی کے لیے اس سے بہتر جگہ شاید ہی کوئی اور ہو۔

جھیل کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے پر نظر آنے والے گہرے ہرے رنگ کا پانی انسان پر ایک عجیب سی خوشی طاری کردیتا ہے۔ پانی کا بغور جائزہ لینے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ نظر جتنی دور تک دوڑتی ہے اتنا ہی اس کا ہرا رنگ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے، بالکل زمرد کے گہرے رنگ کی طرح ہے۔


امجد علی سحابؔ روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔