ای میل

مانجھند دربار: مذہبی رواداری کی ایک اور مثال

اختر حفیظ

زندگی کے بعض سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں نہ تو پاؤں تھکتے ہیں، نہ دل بیزار ہوتا ہے اور نہ ہی آنکھوں کو منزل دیکھنے کی جلدی ہوتی ہے۔ بلکہ دھیرے دھیرے سے منزل کی جانب بڑھتے ہوئے قدم اس راستے پر ہی چلتے رہنا چاہتے ہیں جس میں منزل سے زیادہ اہمیت اس سفر کی ہوتی ہے جو آپ کو کبھی بھی اکیلا پن محسوس نہیں ہونے دیتا۔ ایسے سفر زندگی کی کتاب کے وہ باب بن جاتے ہیں جنہیں بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر سفر کا اپنا لطف ہے اور ہر سفر کی اپنی رنگینیاں ہیں۔ سندھ میں اب بھی بہت کچھ ہے جسے دیکھنے کے لیے مجھے رختِ سفر باندھنا پڑتا ہے۔ اس بار مجھے ایک ایسی جگہ جانا تھا جس کے گرد ویرانی امر بیل کی مانند لپٹی ہوئی ہے۔

کثیر المذاہب دھرتی رہنے کی وجہ سے سندھ میں مذہبی رواداری کی کئی مثالیں ہمیں جا بجا ملتی رہتی ہیں۔ یہاں لگنے والے میلوں سے لیکر دیگر مذہبی تہواروں میں لوگ بنا کسی مذہبی فرق کے شریک ہوتے رہتے ہیں۔

اڈیرو لال، قلندر لال شہباز قلندر، سمن سرکار، بھٹ شاہ اور دیگر ایسے کئی مقامات ہیں، جہاں مذہبی رواداری کے مظہر ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ میں اسلام کی آمد سے قبل یہاں جین مت، بدھ مت اور ہندو مت کے ماننے والے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ تاہم اسلام کی آمد کے بعد ان تمام مذاہب کا غلبہ ختم ہوگیا اور اسلام برصغیر کا ایک اہم ترین مذہب بن گیا۔ لیکن جیسا کہ سندھ کی تہذیب دریائے سندھ کے کنارے پھلتی پھولتی رہی ہے لہٰذا یہ خطہ اپنی تہذیب و تمدن کے حوالے سے کافی امیر اور رنگینیوں کا مالک ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگ اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔

بابا گوبند داس کا دربار
بابا گوبند داس کا دربار

مانجھند میں بھگت کنور رام کے دیدار کی دعوت دیتا ایک پتھر
مانجھند میں بھگت کنور رام کے دیدار کی دعوت دیتا ایک پتھر

مجھے کسی نے بتایا کہ سندھ میں جہاں جین مت کے مندر صدیوں سے آج بھی قائم ہیں وہیں سکھ مت کے گردوارے بھی موجود ہیں۔ گوکہ آج ہمارے ملک میں سکھوں کی تعداد کم رہ گئی ہے مگر ہندوستان کی تقسیم سے قبل یہ آبادی نہ صرف شہروں میں آباد تھی بلکہ کئی گاؤں ایسے بھی تھے جو آج تک ان کے ناموں سے سندھ میں قائم و دائم ہیں اور ان کے ناموں کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ جس سے یہ اندازہ آسانی سے ہوجاتا ہے کہ کس کس گاؤں میں سکھ آباد تھے۔

سندھ میں آج بھی چھوٹے چھوٹے قصبوں میں یہ گردوارے قائم ہیں، جنہیں دربار بھی کہا جاتا ہے۔ مانجھند سندھ ایک چھوٹا سا شہر ہے، جو جامشورو ضلع میں آباد ہے۔ حیدرآباد سے مانجھند کا راستہ تقریباً ایک گھنٹے پر محیط ہے۔ اس شہر کا نام مانجھند قبیلے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔

تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شہر 2 مرتبہ دریائے سندھ کے بہاؤ کی وجہ سے تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ اس لیے موجودہ مانجھند کا شہر تیسری مرتبہ آباد ہونے والا شہر ہے۔ یہ شہر تالپور دور میں ایک تجارتی مرکز تھا۔ دریا کنارے آباد ہونے کی وجہ سے یہاں سے دریا کے ذریعے بھی تجارت ہوتی تھی کیونکہ آج ہی کی طرح دریائے سندھ سمندری راستوں سے جڑا ہوا تھا۔ یہاں کے سندھ ورکی (کاروباری طبقہ) کافی مشہور رہے ہیں۔ جن کی تجارت، سری لنکا، جاوا، گجرات، روم، ایران، عراق، افریقا اور یورپ کے شہروں تک پھلی ہوئی تھی۔

یہ شہر دریائے سندھ کے مغربی کنارے انڈس ہائے وے کے مشرق میں ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس زمانے میں یہ ایک تجارتی منڈی تھی اور زیادہ تر یہاں کے ہندو سیٹھ اور کاروباری لوگ سندھ کے مختلف شہروں سے انگریز عملداروں کو سونے چاندی کے زیوارت، گھوڑوں کا سامان، سوتی کپڑا وغیرہ بیچا کرتے تھے۔

جس طرح انسانی زندگی میں بہار اور خزاں جیسے موسم آتے ہیں، اسی طرح شہروں پر بھی خوشحالی اور بدحالی کے زمانے آتے رہتے ہیں۔ آج مانجھند میں نہ تو وہ دریا کے راستے ہونے والی تجارت ہے اور نہ ہی وہ لوگ موجود ہیں، جن کی وجہ سے اس شہر کی رونقوں کو چار چاند لگ گئے تھے۔ آج کا مانجھند ماضی کے مانجھند سے بالکل مختلف ہے۔ مگر ایک عمارت آج بھی مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی یاد دلاتی رہتی ہے جسے بابا گوبند داس کا دربار کہا جاتا ہے۔ جبکہ مقامی لوگ اسے شیوا مندر بھی کہتے ہیں۔ مانجھند شہر سے 2 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں یہ دربار قائم ہے۔

بابا گوبند داس کا دربار مرمتی کام سے قبل
بابا گوبند داس کا دربار مرمتی کام سے قبل
بابا گوبند داس کا دربار مرمتی کام کے بعد
بابا گوبند داس کا دربار مرمتی کام کے بعد

بابا گوبند داس
بابا گوبند داس

آج کا مانجھند ماضی کے مانجھند سے بالکل مختلف ہے
آج کا مانجھند ماضی کے مانجھند سے بالکل مختلف ہے

بابا گوبند داس کا دربار
بابا گوبند داس کا دربار

درحقیقت یہ گردوارا (دربار) بابا گوبند داس نے قائم نہیں کیا تھا بلکہ اس کی بنیاد مہراج سادھو رام نے رکھی تھی۔ ان کی وفات کے بعد مہراج رام سنیہی گدی نشین ہوئے، جس کے بعد سوامی مدن داس اور بعد میں پریتم داس نے یہ گدی سنبھالی۔ پریتم داس کے گزر جانے کے بعد ست گرو سوامی گوبند داس کو یہ گدی نصیب ہوئی۔ ان کی تاریخ پیدائش کہیں 1893ء تو کہیں 1880ء کہی جاتی ہے۔ ان کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ مدن داس نے ان کے والدین سے انہیں گود لیا تھا اور پھر یہاں دربار میں لے آئے۔ جہاں سے وہ سوامی چیتن داس کے چیلے بن گئے۔ وہ صبح اٹھ کر مراقبے کے بعد گروگرنتھ (سکھوں کی مذہبی اور مقدس کتاب) کا درشن کیا کرتے تھے۔ ان کے حوالے سے ایک کہاوت بھی مشہور ہوئی ’جت گوبند جو پیر، اتی ناٹی جو ڈھیر‘ (جہاں گوبند کے قدم پڑ گئے وہاں دولت کے ڈھیر لگ گئے۔)

انہیں سادگی سے زندگی گزارنا پسند تھا، اس لیے وہ اپنے چاہنے والوں کو بھی سادہ زندگی گزارنے کا کہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ الہٰ آباد (پریاگ راج) پہنچے تو انہیں دستور موجب وہاں کے لوگوں نے ایک ہاتھی اور کئی سادھو بھیجے مگر انہوں نے ہاتھی پر سوار ہونے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں پیدل چلوں گا۔ ان کے ہاں سب سے بڑی بات یہ تھی کہ لوگوں کی بھوک مٹائی جائے اس لیے وہ غریبوں کو کھانا کھلانے میں سکون محسوس کیا کرتے تھے۔

ایک بار کسی عورت نے انہیں عرض کیا کہ ان کے لیے چاندی کی منجی بنوائی جائے، انہوں نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے اگر انہیں یہ پیسا خرچ ہی کرنا ہے تو یہاں (دربار میں) آنے والے لوگوں کے لیے یہ رقم خرچ کی جائے۔

درحقیقت یہ گردوارا (دربار) بابا گوبند داس نے قائم نہیں کیا تھا بلکہ اس کی بنیاد مہراج سادھو رام نے رکھی تھی
درحقیقت یہ گردوارا (دربار) بابا گوبند داس نے قائم نہیں کیا تھا بلکہ اس کی بنیاد مہراج سادھو رام نے رکھی تھی

یہ عمارت آج بھی مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی یاد دلاتی رہتی ہے
یہ عمارت آج بھی مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی یاد دلاتی رہتی ہے

بابا گوبند داس کا دربار
بابا گوبند داس کا دربار

انہوں نے اپنی زندگی میں سکھ مت کے ذریعے انسانیت کو ہی سب سے اولین جانا۔ مانجھند میں یہ دربار اپنے زمانے کی مذہبی رواداری کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ بابا گوبند داس 1953ء میں اجمیر میں گرو کی گدی پر بیٹھے، جہاں انہوں نے اجمیر کی دربار کی تعمیر شروع کروائی اور خود بھی اس تعمیر میں انہوں نے حصہ لیا اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔

یہ دربار اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ یہاں سندھ کے صوفی گائک بھگت کنور رام بھگتی گایا کرتے تھے۔ یہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل کا زمانہ تھا۔ بھگت کنور رام ایک ایسے گائک تھے جو بنا کسی مذہبی فرق کے ہر محفل میں مدعو کیے جاتے تھے۔

انہوں نے اپنی آخری محفل اس دربار میں ہی کی تھی۔ انہیں خاص طور پر بھگتی کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ بھگت کنور رام یہاں سے جیسے ہی اپنی محفل ختم کرکے اپنے گھر کے لیے روانہ ہوئے تو انہیں رک اسٹیشن پر 1939ء میں قتل کردیا گیا۔ یہ قتل آج بھی سندھ میں مذہبی رواداری کے خلاف ایک سازش سمجھی جاتی ہے۔

بھگت کنور رام کی آویزاں تصویر
بھگت کنور رام کی آویزاں تصویر

بابا گوبند داس دربار کا اندرونی منظر
بابا گوبند داس دربار کا اندرونی منظر

بابا گوبند داس دربار کا اندرونی منظر
بابا گوبند داس دربار کا اندرونی منظر

گنبد کا اندرونی منظر
گنبد کا اندرونی منظر

لال اینٹوں سے بنی عمارت آج سکڑ سی گئی ہے کیونکہ اس کے آس پاس جو کئی ایکڑ زمین اس دربار کی ملکیت تھی، اس پر اب بااثر لوگوں نے قبضہ کرلیا ہے اور یہ دربار آج کسی یتیم بچے کی مانند تن تنہا کھڑی ہے۔

چند برس قبل اس عمارت کی خستہ حالی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ یہ کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے۔ اس کی اکھڑتی اینٹیں اس بات کی گواہ تھیں کہ محنت سے تیار کی گئی اس عمارت کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے۔ اس عمارت کی لمبائی 30 فٹ جبکہ اونچائی 16 فٹ ہے۔

2014ء میں دربار کی مرمت کا کام سندھ انڈومیٹ فنڈ کے توسط سے کروایا گیا ہے، جس کے بعد یہ عمارت اب دیکھنے لائق ہوگئی ہے۔ مگر آج بھی اس کے اردگرد وہی قبضے موجود ہیں۔

یہ عمارت آج سکڑ سی گئی ہے کیونکہ اس کے آس پاس جو کئی ایکڑ زمین اس دربار کی ملکیت تھی اس پر بااثر لوگوں نے قبضہ کرلیا ہے
یہ عمارت آج سکڑ سی گئی ہے کیونکہ اس کے آس پاس جو کئی ایکڑ زمین اس دربار کی ملکیت تھی اس پر بااثر لوگوں نے قبضہ کرلیا ہے

2014ء میں دربار کی مرمت کا کام سندھ انڈومیٹ فنڈ کے توسط سے کروایا گیا ہے
2014ء میں دربار کی مرمت کا کام سندھ انڈومیٹ فنڈ کے توسط سے کروایا گیا ہے

دربار کے 4 میں سے 3 دروازے اینٹوں سے بند کر دیے گئے ہیں اور ایک دروازہ ہی کھلا رکھا گیا ہے۔ جبکہ بیرونی دیوار کے تو بس اب آثار ہی رہ گئے ہیں۔ آج اس گردوارے میں اس کی دیکھ بھال کرنے والے نوجوان کے علاوہ کوئی نہیں آتا۔ اپنے دور میں مذہبی رواداری کی علامت رہنے والی اس عمارت کی شکل و صورت پہلے سے تو بہتر ہوگئی ہے مگر سندھ میں اس جیسی تمام تر عمارات کو سنبھالنے اور ان کی زمینوں کو قبضہ مافیا سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔


اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔