— SYED MEHDI BUKHARI

پاکستان کی ساحلی پٹی: سلسلہِ کُن فیکون

انسانی پہنچ سے دور ہونے کےسبب رات کو سمندر کی لہروں میں قدرتی عمل ظہور پذیر ہوتا ہےجو دنیا میں کم ساحلوں پر دیکھا جاتاہے
اپ ڈیٹ فروری 26, 2019 01:12pm

’فطرت کو نہ تو دھوکا دیا جاسکتا ہے اور نہ بیوقوف بنایا جاسکتا ہے۔ یہ آپ کی محنت کا انعام آپ کے حوالے کرنے سے پہلے اس کی پوری قیمت وصول کرلیتی ہے‘— نپولین ہِل۔

کراچی کی چکاچوند روشنیوں سے دُور کلفٹن کے ساحل پر فروری کی نیم سرد شام بکھر رہی تھی۔ سارے دن رزق کی تلاش میں بھٹکتے تھکے ہارے پرندے ساحلوں کو لوٹ رہے تھے۔

کچھ پرندوں نے ساحلی پٹی کے اطراف لگے خال خال پستہ قد درختوں میں رین بسیرے ڈھونڈنا شروع کردیے تھے۔ اس شام ساحل پر لوگ کم کم تھے اور جو تھے ان کے چہروں کی تھکاوٹ کو سمندری ہوا جذب کر رہی تھی۔

خونچہ فروش اور اونٹ والے گاہکوں کی تلاش میں اِدھر اُدھر آوازیں لگاتے پھر رہے تھے۔ ایک دن قبل میں عین اِسی وقت ہاکس بے کے ساحل پر کھڑا تھا۔ شام کے رنگوں نے کروٹ بدلی اور تاریکی کی سیاہ چادر اوڑھنے لگی۔ میرے سائے نے جسم کا ساتھ چھوڑا، ایک لہر قدموں سے لپٹی اور ایک ٹھنڈا ہوا کا جھونکا مجھے اڑا کے لے گیا۔

کلفٹن، کراچی—سید مہدی بخاری
کلفٹن، کراچی—سید مہدی بخاری

ہاکس بے، کراچی—سید مہدی بخاری
ہاکس بے، کراچی—سید مہدی بخاری

ہاکس بے، کراچی—سید مہدی بخاری
ہاکس بے، کراچی—سید مہدی بخاری

میرے کمرے کی دیواروں پر میری تصویریں لگی ہیں جو بیتے 12 سالوں سے میری جنون کی عکاس ہیں، میں جب کمرے میں ان کے بیچ کھڑا اپنے آپ کو دیکھتا ہوں تو گزرے ہوئے ماہ و سال، سفر میں بیتے لمحے، جلتی دوپہریں، ٹھنڈی شامیں، سُلگتی راتیں، چاند کی وارداتیں، بچوں کی ہنسی سب ایک ٹائم لیپس فلم کی صورت میرے ذہن کے پردے پر چلنے لگتے ہیں، کبھی کبھی تو تصویریں سچ میں باتیں کرنے لگتی ہیں اور کہتی ہیں تم نے ہمیں قید کیا ہمیں اس فریم سے رہائی دو اور خود بھی ہماری یادوں سے آزادی پاؤ ۔

میں وہ منتر بھول گیا جسے پڑھ کر میں ان مناطر اور مجسم لوگوں کو رہا کرسکتا کہ میرے خدا نے مجھے صرف قید کرنا سکھایا تھا۔ میرے لیے یہ بھی ایک دل پر پتھر ہے کہ روز دکھ سکھ کے دنوں کو خیال میں لا کر اداس ہوجاؤں۔ ایک نگر کی بچی کی ہنستی تصویر ہے جس کی آنکھوں کی پتلیوں سے اس باغ کا عکس نظر آتا ہے جہاں وہ کھڑی تھی، جو کہتی ہے کہ آؤ ہمارے ساتھ کھیلو اور میں نمزدہ آنکھوں سے جواب دیتا ہوں کہ کھیلنے کی عمر تو اب خواب ہوگئی۔ اب تو نہ جنوں ہے نہ سکوں ہے یوں ہے۔

بدلتے موسموں کی دلداری اور بیتے شب و روز کی دل آزاری دونوں پر یقین کرنے کے لیے کبھی کبھی بھولی بسری یادوں کو چھُو لینا بھی اچھا ہے۔

4 سال قبل پاکستان کے شمال پر ڈان میں سیریز کی صورت اپنا فن پیش کرنا شروع کیا۔ اب جب گلگت بلتستان کی سیاحت کو ان سالوں میں کافی عروج مل چکا ہے اور میں کافی داد و تحسین سمیٹ چکا ہوں، سیاحت پر منعقد ایونٹس بھگتا چکا ہوں، ریاستی عہدے داروں اور اداروں کے لیے اپنی تئیں خدمات سر انجام دے چکا ہوں تو اب کچھ ذکر پاکستان کے جنوب یعنی بلوچستان و سندھ کا بھی ہوجائے۔

کوسٹل ہائی وے سے ایک نظارہ—سید مہدی بخاری
کوسٹل ہائی وے سے ایک نظارہ—سید مہدی بخاری

یوں بھی مسافر کو قیام سے کیا غرض۔ وہ تو پل بھر کو کسی شاخِ سبز کی چھاؤں میں سستانے کو رکتا ہے، زادِ سفر لیتا ہے اور پھر نئی منزل کی تلاش میں گردِ سفر ہوجاتا ہے۔ نئے پاکستان میں فروغِ سیاحت کے چرچے ہیں۔ ریاستی وعدے ہیں اور روشن مستقبل کو میل کے پتھر نصب کرنے کے ارادے ہیں، ایسے میں میرے اندر کا فنکار اپنے صحنِ گل کو چھوڑ کر صحرا کی سمت لینا چاہتا ہے۔

پاکستان کی ساحلی پٹی جو کراچی سے گوادر تک پھیلی ہے اس کے کنوارے ساحلوں پر نقشِ پا ثبت کرنا چاہتا ہے جب تک کوئی نئی لہر اور کوئی طوفانی ہوا کا جھونکا انہیں مٹا نہ دے۔

گھر کا سکون مجھے بے چین کردیتا ہے۔ بے چینی میں مجھے کچھ نہیں سُوجھتا۔ یوں لگتا ہے جیسے خلا میں معلق ہوں۔ بے سکون ہو کر راحت ملتی ہے اور نڈھال ہو کر چین۔ سفر کی دلداری، سڑک کے موڑ، ڈھابوں کی چائے، انسانی آبادی سے دُور ستاروں بھری راتوں کے سناٹے میں سگریٹ سلگانے کو لائیٹر جلنے کی آواز میں ہی قرار ہے۔

رات کی برستی بارش میں لاہور کو چھوڑا اور اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرنے دہائیوں بعد ریل کے ذریعے کراچی کو نکل کھڑا ہوا۔ میرا ارادہ کراچی سے بذریعہ کوسٹل ہائے وے ساحلی پٹی کے ہمراہ سفر کرتے گوادر جانے کا تھا۔

ریل چلتی رہی، بارش برستی رہی، رات کی تاریکی میں سوئے ہوئے شہر گزرتے رہے۔ اپنے کیبن کے دروازے پر کھڑا اپنے بچپن کو یاد کرتا رہا۔ کبھی کبھی ریل کے ہمراہ بہتی ہواؤں میں پھیلتا ارتعاش آسمان میں چھائی ہوئی حاملہ بدلیوں میں کراہنے لگتا۔ تیز حیرت زدہ ہوائیں پھنکارتیں، ریل کے ڈبوں کو لڑھکاتیں، کھڑکاتیں اور آسمان میں حاملہ بدلیوں کے بطن کو جھنجھوڑتی رہیں۔ بجلی چمکتی تو دھماکا سنائی دیتا۔

کوسٹل ہائی وے—سید مہدی بخاری
کوسٹل ہائی وے—سید مہدی بخاری

مسافر اپنے اپنے کیبن میں دبکے لیٹے اور اونگھتے رہے۔ رات کے بے شمار آنسو ایک ایک کر کے صبح کے کشکول میں ٹپکنے لگے۔ پٹری کے اطراف کھجور کے درختوں میں گھوک سوئے ہوئے پرندوں کو صبح کی سفیدی جگانے آنے لگی۔

ریل ضیاالحق کی زمین سے نکل کر بھٹو کے علاقے میں داخل ہوئی تو منظر جوں کے توں ہی رہے البتہ مٹی کا مزاج بدل گیا۔ پٹری کے اطراف کھجور کے درخت قطار اندر قطار چلنے لگے۔

طلوع آفتاب کے بعد کی پہلی پہلی روپہلی کرنیں کچی بستیوں کی گارے مٹی سے بنی دیواروں کی پیلاہٹ کو بھڑکانے لگیں۔ وہیں کہیں پر لال کرتا پہنے ایک ملنگ منہ آسمان کی سمت اٹھائے جھومتا رہا پھر سرخ نقطہ بن کر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ ریل کی سیٹی گونجی تو صبح کی یخ ٹھنڈی فضا کو تار تار کرتے کھیتوں میں پھیلتی گئی۔

کراچی اسٹیشن پر قدم پڑے تو میرے کراچی کے دوست عادل جدون اور ابوذر نقوی میرے منتظر تھے۔ یہ دونوں زبردست سیاح ہیں۔ بلوچستان و سندھ میں 10 سالوں سے آوارگی کر رہے ہیں اور انہوں نے ہی مجھے اکسایا تھا۔ ہم نے اگلی صبح کراچی کو الوداع کہہ کر گوادر کی سمت نکل جانا تھا۔

دھیان ٹوٹا تو کلفٹن کا ساحل مکمل تاریک ہوچکا تھا۔ خونچہ فروش ساحل سے دُور جاچکے تھے۔ سمندر کا شور بڑھنے لگا تھا۔ رات کراچی میں کبھی نہیں سوتی مگر مجھے تھکان کے مارے نیند آنے لگی۔ اپنے بستر پر لیٹا اگلے سفر کے خواب بُنتے سو گیا۔

جیپ نے کراچی کو چھوڑا۔ حب چوکی کی ٹریفک سے نکلتے ہوئے کوئٹہ جانے والی شاہراہ پر سفر ہوتا رہا۔ راستے میں گڈانی آیا تو جیپ گڈانی کے ساحل کو مڑ گئی۔ گڈانی کیا ہے، بحری جہازوں کا قبرستان۔ شپ بریکنگ یارڈ کے ساحل پر بڑے جہاز دم توڑنے کو آئے ہوئے تھے۔ آخری سانس لینے کو اس ساحل سے خوبصورت بھی کیا ہوسکتا تھا۔

گڈانی کا ساحل—سید مہدی بخاری
گڈانی کا ساحل—سید مہدی بخاری

گڈانی کا ساحل—سید مہدی بخاری
گڈانی کا ساحل—سید مہدی بخاری

ڈوبتے سورج کی روپہلی کرنیں ان جہازوں کے عرشوں کو تانبا بنانے لگیں۔ مزدروں کا انبواہ تھا جو جہازوں پر پل پڑا تھا۔ ٹوٹتے، بکھرتے، دم توڑتے جہاز اور ان کے اسکریپ میں روزی تلاشتے غریب انسان۔ ان محنت کشوں کے بیچ پھرتے آوارہ کتے اور ہم۔ کیمرے کے شٹر کی آوازیں جہازوں کی کراہٹوں میں دب کر رہ گئیں۔

اس سے پہلے کہ تاریکی پنجے کھولے جھپٹنے لگتی اور سورج ہچکیاں لیتے افق پر ڈوبنے لگتا جیپ نے موڑ کاٹا اور واپس قومی شاہراہ پر دوڑنے لگی۔ بلوچستان کا آغاز ہوچکا تھا، آگے ضلع لسبیلہ کا شہر اوتھل تھا۔ ہوا نے اپنے سُر پھر سے اونچے کیے تو سڑک پر مٹی و ریت سانپ جیسی شبیہہ بناتے جیپ کے آگے آگے دوڑنے لگی۔ جیپ کئی سانپوں کو کچلتی رہی، ہوا چلتی رہی۔

اوتھل کے آتے آتے آسمان تاریک ہوا۔ شہر سے ذرا پہلے کراچی کوئٹہ شاہراہ کو چھوڑتی ہوئی ایک سڑک بائیں ہاتھ گوادر کی راہ لیتی ہے۔ کوسٹل ہائے وے کا آغاز تاریکی میں ہوا۔ تارکول بچھی یہ سڑک سی پیک کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کا روشن مستقبل اسی سڑک سے وابستہ ہونے کے ریاستی دعوے ہیں۔

کوسٹل ہائی وے پر رواں دواں—سید مہدی بخاری
کوسٹل ہائی وے پر رواں دواں—سید مہدی بخاری

سڑک کے دونوں اطراف ریتلے میدان ہیں۔ کہیں کہیں ٹرک ہوٹل دکھائی پڑتا ہے۔ اکا دکا پٹرول پمپس ہیں جن پر ایران سے اسمگل شدہ تیل بیچا جاتا ہے۔ یہاں صرف تیل ہی نہیں بلکہ ایرانی مصنوعات گھی، بسکٹ، آئس کریم، کیک، چاکلیٹس وغیرہ باآسانی دستیاب ہیں۔

جیپ اپنی ہیڈلائٹس کی رہنمائی میں چلتی چلتی سڑک کو چھوڑ کر بائیں ہاتھ میدان میں اُتر گئی۔ بھربھری مٹی کا یہ میدان کیچڑ کے آتش فشاں یعنی مڈ والکینوز کا ایریا ہے، یہیں کہیں ہندوؤں کا مقدس مقام چندر گپ واقع ہے جو 300 فٹ اونچا دنیا کا واحد کیچڑ کا آتش فشاں ہے۔

آج کی رات اس مقدس مڈ والکینو کے دامن میں بسر کرنے کا ارادہ تھا۔ آسمان پر ستاروں کی بادل کی ٹکریوں سے آنکھ مچولی جاری تھی، سامنے چندر گپ کھڑا تھا اور ہوا میں خنکی بھری ہوئی تھی۔

ہندوؤں کا مقدس مقام چندر گپ—سید مہدی بخاری
ہندوؤں کا مقدس مقام چندر گپ—سید مہدی بخاری

رات میں چندر گپ، کیچڑ کا آتش فشاں—سید مہدی بخاری
رات میں چندر گپ، کیچڑ کا آتش فشاں—سید مہدی بخاری

300 فٹ کی چڑھائی چڑھتے، ہانپتے کانپتے چندر گپ کے دہانے پر میں کھڑا ستاروں و بادل سے بھرے آسمان کو دیکھتا رہا۔ کنارے پر کھڑے کیچڑ کے ابلنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ یاترا ہوچکی تو واپس نیچے اُتر کر اپنے ٹینٹ میں لیٹا ستارے شمار کرتا رہا اور پھر اچانک نیند کی دیوی نے بانہیں پھیلا دیں۔

صبح سورج کی آمد کے ساتھ آنکھ کُھلی۔ چندر گپ دن کی روشنی میں سامنے کھڑا کسی اوتار کا تخت لگ رہا تھا۔ ملک بھر سے ہندو اس پہاڑ کی یاترا کرنے ہر سال اپریل میں اس مقام پر آتے ہیں۔ دِلوں میں مرادیں لیے اس کے کیچڑ میں لت پت ہوکر اپنے گناہوں کا کفارا ادا کرتے ہیں۔

یہاں تک پہنچنے کے لیے یاتریوں کو ہنگول میں واقع ہنگلاج مندر جسے نانی مندر کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے سے یہاں تک 21 کلومیٹر کی پیدل مسافت کڑکتی دھوپ میں طے کرنا پڑتی ہے لہٰذا یاتریوں کو سب سے زیادہ مشکلات بھی اسی چندر گپ یاترا میں اٹھانی پڑتی ہیں۔

رات بیتی اور جیپ واپس کوسٹل ہائے وے پر دوڑنے لگی۔ کنڈ ملیر کا مقام آیا۔ مچھیروں کی یہ بستی ابھی اونگھ رہی تھی۔ کشتیاں ساحل پر اوندھی پڑی سو رہی تھیں۔ سمندر شانت تھا۔ کنڈ ملیر پلک جھپکنے میں ہی گزر گیا۔ سڑک نے موڑ کاٹا اور سمندر سے جدا ہوگئی۔

کنڈ ملیر کے ساحل پر طلوع آفتاب کا ایک نظارہ—سید مہدی بخاری
کنڈ ملیر کے ساحل پر طلوع آفتاب کا ایک نظارہ—سید مہدی بخاری

کنڈ ملیے کا ساحل—سید مہدی بخاری
کنڈ ملیے کا ساحل—سید مہدی بخاری

ہنگول نیشنل پارک کا آغاز ہوچکا تھا۔ ہنگول پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے۔ 1650 مربع کلومیٹر پر محیط ہنگول طلسماتی دنیا کا دوسرا نام ہے۔ اس کے لینڈ اسکیپ کی رنگا رنگی، بناوٹ اور لمحہ بہ لمحہ بدلتے منظروں میں مقناطیسی کشش ہے۔

کہیں یہ جھک کر سطح سمندر جتنا نیچا ہوجاتا ہے اور کیچ کے میدانوں تک پھیل جاتا ہے تو کہیں آواران کے سربلند پہاڑوں سے خراج وصولتا ہے۔ کہیں بھربھری مٹی کی پہاڑیوں کو ہوا نے اپنی کاٹ سے تراش کر دیو ہیکل مورتیوں، قلعوں، پرانی فصیلوں اور شطرنج کے مہروں کی شبیہہ بنا دیا ہے تو کہیں میلوں تک پھیلی ہاتھ کی ہتھیلی جیسی ہموار وادیاں اور ریت کے ٹیلوں کے انبار ہیں جنہوں نے مل کر صحرا کا روپ دھار رکھا ہے۔

ہنگول نیشنل پارک—سید مہدی بخاری
ہنگول نیشنل پارک—سید مہدی بخاری

ہنگول نیشنل پارک—سید مہدی بخاری
ہنگول نیشنل پارک—سید مہدی بخاری

ہنگول میں مارخور—سید مہدی بخاری
ہنگول میں مارخور—سید مہدی بخاری

ہنگول میں مارخور—سید مہدی بخاری
ہنگول میں مارخور—سید مہدی بخاری

ہنگول نیشنل پارک—سید مہدی بخاری
ہنگول نیشنل پارک—سید مہدی بخاری

یہیں کیچڑ اچھالتے آتش فشاں ہیں اور اسی کے ہمراہ بحیرہ عرب کروٹ بدلتا چلتا ہے۔ میرے سامنے ہنگول کا بابِ طلسم کھلنے لگا اور پھر کھلتا ہی چلا گیا۔

افق پر لالی ابھرنے لگی۔ سمندر ایک بار پھر سڑک کے ساتھ آن ملا۔ یہ گولڈن بیچ تھا۔ ریت کے چھوٹے ٹیلوں کے عقب میں طلوع ہوتے سورج کی شفق کے رنگ سمندر کی لہروں پر پھیل رہے تھے۔

گولڈن بیچ—سید مہدی بخاری
گولڈن بیچ—سید مہدی بخاری

گولڈن بیچ—سید مہدی بخاری
گولڈن بیچ—سید مہدی بخاری

گولڈن بیچ—سید مہدی بخاری
گولڈن بیچ—سید مہدی بخاری

جیپ کچھ دیر کو اس ساحل کنارے رکی۔ سورج ماند پڑتے بادلوں کی پتلی تہہ سے باہر نکلنے لگا۔ وہیں کہیں ساحل کے پاس ڈولفن مچھلیوں کا گروہ تیرتا نظر آیا۔

سمندر کی لہریں میرے پاؤں کو بھگوتی رہیں۔ ڈولفن مچھلیوں کا گروہ کچھ فاصلے پر تیرتا رہا۔ کیمرے کا پردہ گرتا رہا۔ رخصت ہوتے جیپ کی سائیڈ مرر سے آخری بار ڈولفن پر نظر ڈالی اور پھر منظر ڈوب گئے۔

سڑک پھر سے سمندر سے جدا ہوکر بھربھری مٹی کی پہاڑیوں کے دامن میں اُتر گئی۔ دریائے ہنگول کا پل گزرا۔ آگے بوزی پاس تھا۔

ساحل کے پاس ڈولفن مچھلیوں کا گروہ—سید مہدی بخاری
ساحل کے پاس ڈولفن مچھلیوں کا گروہ—سید مہدی بخاری

ساحل کے پاس ڈولفن مچھلیوں کا گروہ—سید مہدی بخاری
ساحل کے پاس ڈولفن مچھلیوں کا گروہ—سید مہدی بخاری

کوسٹل ہائی وے، ہنگول—سید مہدی بخاری
کوسٹل ہائی وے، ہنگول—سید مہدی بخاری

بوزی پاس، ہنگول—سید مہدی بخاری
بوزی پاس، ہنگول—سید مہدی بخاری

بوزی پاس، ہنگول—سید مہدی بخاری
بوزی پاس، ہنگول—سید مہدی بخاری

میرے ہمسفر عادل جدون اور ابوذر نے چلتے چلتے اک بار پھر سڑک کو چھوڑا اور بائیں ہاتھ کیچڑ کے میدان میں جیپ اتار دی گئی۔ کیچڑ سے جیپ لڑتی رہی۔ یہ سارا دلدلی میدان تھا۔ اب کی بار رات گزارنے کی منزل یہاں سے 12 کلومیٹر دُور اس کیچڑ بھرے میدان کو پار کرکے سپت کے مقام پر واقع ساحل پر تھی۔

سپت کا ساحل کرشماتی دنیا ہے۔ ہنگول کا اک اور بابِ طلسم ہوا ہونے کو تھا۔ شام رنگ بکھرنے لگے۔ سپت کا ساحل آیا۔ پھر رات ہوئی اور تارے نکلے۔ تارے کیا نکلے میرے اندر کا سیاح مچل اٹھا۔ رات کو ساحل کنارے فوٹوگرافی کرتے یقین نہیں آتا تھا کہ میں یہ معجزہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ انسانی پہنچ سے دُور ہونے کے سبب اس ساحل پر رات کو سمندر کی لہروں میں ایک قدرتی عمل ظہور پذیر ہوتا ہے جو دنیا میں بہت کم ساحلوں پر دیکھا جاتا ہے۔

بوزی پاس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کوسٹل ہائی وے پر رواں دواں—سید مہدی بخاری
بوزی پاس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کوسٹل ہائی وے پر رواں دواں—سید مہدی بخاری

سپت کے ساحل پر طلوع آفتاب کا نظارہ—سید مہدی بخاری
سپت کے ساحل پر طلوع آفتاب کا نظارہ—سید مہدی بخاری

سپت کا ساحل—سید مہدی بخاری
سپت کا ساحل—سید مہدی بخاری

ساحلوں پر آتی پانی کی لہروں میں نیلی روشنیاں چمکتی ہیں۔ ان نیلی روشنیوں کی وجہ پانی کے اندر موجود کوئی حیاتیاتی مخلوق ہے۔ سائنسدان اس عمل کو Bioluminescence کہتے ہیں۔ ایک حیرت کا باب مزید کھلنے لگا۔ رات تھک ہار کر اپنے کیمپ میں لیٹا تو خواب میں نیلی روشنیاں آتی رہیں۔

رات کا پردہ چاک ہوا تو سپت کے ساحل نے رنگ اوڑھنے شروع کیے۔ طلوعِ آفتاب سے ذرا پہلے آسمان کی سرخی لہروں پر اترنے لگی تھی۔ پھر سورج آیا اور منظر پیلے رنگ میں رنگے گئے۔ پرندوں کی ڈار آسمان سے گزری۔ پہلی روشنی سپت کے ساحل پر اُتری تو وہیں کہیں ایک بڑا کچھوا زمین کھود کر نکلا اور لہروں کی سمت بڑھنے لگا۔

سپت کے ساحل پر موجود سپت ٹاور—سید مہدی بخاری
سپت کے ساحل پر موجود سپت ٹاور—سید مہدی بخاری

سپت کا ساحل اور تاروں کی کہکشاں—سید مہدی بخاری
سپت کا ساحل اور تاروں کی کہکشاں—سید مہدی بخاری

سپت کے ساحل پر محراب—سید مہدی بخاری
سپت کے ساحل پر محراب—سید مہدی بخاری

سپت کے ساحل پر ستاروں کی شماری—سید مہدی بخاری
سپت کے ساحل پر ستاروں کی شماری—سید مہدی بخاری

سورج کرنیں تیز کیے اُبھرتا رہا۔ جیپ نے واپسی کی راہ لی۔ اک بار پھر کیچڑ کا میدان راہ روکے ملا۔ اب کے جیپ ایسی دھنسی کہ صبح سے دوپہر ہوگئی۔

کیچڑ میں اُتر کر لت پت ہوتے جیپ کو دھکے لگاتے آدھا دن بِیت گیا لیکن بلآخر جیپ کیچڑ سے نکل گئی اور کوسٹل ہائے وے پر آتے آتے ہم مٹی کے بھوت بن چکے تھے۔ کپڑوں پر سر سے پاؤں تک لگا کیچڑ سوکھ کر ہمیں پلاسٹر آف پیرس کے مجسمے بنا رہا تھا۔ اک ڈھابے پر رک کر کپڑے بدلے اور اک اور بابِ طلسم میں داخل ہونے لگے۔

سپت کا ساحل—سید مہدی بخاری
سپت کا ساحل—سید مہدی بخاری

سپت ساحل کے آس پاس—سید مہدی بخاری
سپت ساحل کے آس پاس—سید مہدی بخاری

اک اور بابِ طلسم کھلا چاہتا تھا۔ بوزی پاس کی چڑھائیوں سے ذرا پہلے جیپ نے اک بار پھر سڑک کو چھوڑا اور کٹے پھٹے، نوکیلے پہاڑوں کے بیچ ہچکولے کھاتے چلتی رہی۔ لگ بھگ 2 گھنٹے کی آف روڈ مسافت کے بعد میرے سامنے ایسا منظر کھلا جیسے میں بذریعہ کوسٹل ہائے وے مریخ پر نکل آیا ہوں۔

چھوٹے گول پہاڑی ٹیلے تھے جن کے عقب میں نوکیلے پہاڑ اکڑے کھڑے تھے۔ پل بھر کو احساس ہونے لگا کہ یہ سطح مرتفع زمین کی نہیں یا میں کہیں خواب میں چل رہا ہوں۔ اس علاقے کا نام پچھڑی رکھا گیا ہے۔ پچھڑی کیا تھا بس ایک خواب۔ جو دیکھا اور پھر آنکھ کھل گئی۔ اک بابِ طلسم بند ہوا۔ جیپ کوسٹل ہائے وے پر واپس آنے لگی۔

پچھڑی، جہاں گول پہاڑی ٹیلے اور نوکیلے پہاڑ اکڑے کھڑے تھے—سید مہدی بخاری
پچھڑی، جہاں گول پہاڑی ٹیلے اور نوکیلے پہاڑ اکڑے کھڑے تھے—سید مہدی بخاری

پل بھر کو احساس ہوا کہ یہ سطح مرتفع زمین کی نہیں یا میں کہیں خواب میں چل رہا ہوں—سید مہدی بخاری
پل بھر کو احساس ہوا کہ یہ سطح مرتفع زمین کی نہیں یا میں کہیں خواب میں چل رہا ہوں—سید مہدی بخاری

واپسی کے سفر میں مارخور ملے۔ یوں اتنے قریب سے میں نے اس جنگلی جانور کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مارخور کی فیملی بالکل میرے سامنے کھڑی تھی۔ ہنگول کے اتنے اندر شاید انسانوں کو آتے انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا اس لیے وہ ڈرے بنا حیرت میں گم مجھے دیکھتے رہے اور میں اپنی حیرت میں ڈوبا ان کو دیکھتا رہا۔

ابھی نہ تو قدرتی ماحول میں اپنے قریب ڈولفن مچھلیوں کو تیرتے دیکھنے کی حیرت چھٹی تھی اور نہ سپت ساحل کے جادو کا اثر زائل ہوا تھا کہ اک اور حیرت کا سامنا ہوگیا۔ جیپ آگے بڑھی تو حیرت دھول ہوگئی۔ بوزی پاس کی چڑھائیاں شروع ہوا چاہتی تھیں۔

سڑک کے دونوں اطراف شکلیں بنی کھڑی تھیں، ہر موڑ پر مورتیاں بدلتی رہیں۔ ابوالہول کی مورت سے نکلا تو پرنسز آف ہوپ سامنے آن کھڑی ہوئی۔ امید کی دیوی۔ ہوا کا تراشا ایک اور شاہکار۔ سڑک پر چند مقامی سیاحوں کی گاڑیاں کھڑی تھیں جو امید کی دیوی کو دیکھے جاتے تھے۔

پرنسز آف ہوپ—سید مہدی بخاری
پرنسز آف ہوپ—سید مہدی بخاری

سفر کوسٹل ہائی وے کے سنگ سنگ—سید مہدی بخاری
سفر کوسٹل ہائی وے کے سنگ سنگ—سید مہدی بخاری

پرنسز آف ہوپ پیچھے رہ گئی۔ بوزی پاس کی اُترائیاں شروع ہونے لگیں۔ میں اطراف میں کھڑے پہاڑوں کی بناوٹ کو دیکھتا رہا اور سفر ہوتا رہا۔ اورماڑہ کا مقام آنے تک رات پھیل رہی تھی۔ سمندر اک بار پھر سڑک سے آن ملا تھا مگر پل بھر کے لیے۔ سفر میں اک اور رات بسر ہوئی۔ اگلی صبح آسمان سے اترنا چاہتی تھی کہ جیپ گوادر کی سمت چل پڑی۔

پہاڑوں کے دامن سے نکل کر کوسٹل ہائے وے اک بار پھر ریتلے کھلے میدانوں میں دوڑنے لگی۔ پسنی کے آتے آتے سڑک کے اطراف پھر سے چھوٹے پہاڑے ٹیلے ہمسفر ہوئے۔ گاڑی پسنی میں داخل ہوئی۔

پسنی اور تاروں بھری رات—سید مہدی بخاری
پسنی اور تاروں بھری رات—سید مہدی بخاری

پسنی—سید مہدی بخاری
پسنی—سید مہدی بخاری

پسنی میں ملکی وے کہکشاں کا نظارہ—سید مہدی بخاری
پسنی میں ملکی وے کہکشاں کا نظارہ—سید مہدی بخاری

پسنی کا صحرا—سید مہدی بخاری
پسنی کا صحرا—سید مہدی بخاری

شہر کو پار کرکے پسنی کے ساحل پر رکا تو سائیبیریا سے ہجرت کرکے آئے مہمان راج ہنسوں کے غول اُتھلے پانیوں پر بیٹھے تھے۔ عقب میں کھڑی پہاڑیوں پر سورج اپنی پیلاہٹ بکھیر رہا تھا۔

ان راج ہنسوں کو دیکھتے رہنا بھی ایک مشغلہ رہا ہے۔ یہ میرے آبائی شہر سیالکوٹ میں دریائے چناب کے پانیوں پر اتریں یا سالٹ رینج میں واقع سون سکیسر کی جھیلوں پر بسیرا ڈالیں، راج ہنسوں کو دیکھنے کی چاہ میں، مَیں نے کئی سفر کیے ہیں۔

دیکھتے دیکھتے چند راج ہنس اُڑے اور آسمان میں ڈوب گئے. کچھ فاصلے پر ریت کے ٹیلے تھے۔ پسنی کے اس صحرا میں خاک اڑانے کو وافر تھی۔ وہیں ایک کُٹیا تھی اور ایک کُتا اس کی حفاظت پر معمور تھا شاید۔ آبادی سے ہٹ کر صحرا میں یہ کُٹیا کسی مقامی چرواہے نے بنا رکھی ہے۔

پسنی میں اڑتے راج ہنس—سید مہدی بخاری
پسنی میں اڑتے راج ہنس—سید مہدی بخاری

پسنی کا صحرا—سید مہدی بخاری
پسنی کا صحرا—سید مہدی بخاری

پسنی کے صحرا میں کُٹیا—سید مہدی بخاری
پسنی کے صحرا میں کُٹیا—سید مہدی بخاری

میرا دل چاہنے لگا کہ ان مقام پر عمر گزار دوں۔ اک عجب اداسی تھی جو پسنی کے صحرا پر پھیلی تھی۔ شام ہونے کو آ رہی تھی اور میری وحشت تھی کہ صحرا بھی جس پر قابو نہ پاسکا تھا۔ پھر سے رات ہوئی۔ پسنی کے ساحل پر کھڑی کشتیوں کے پاس مقامی بلوچ نوجوان مقامی گیت گانے لگا۔ کیچ کے صحرا میں محبت کی لازوال داستان دفن ہے۔ سسی پنوں کی قبریں ہیں۔ یہ گیت اس محبت کی یاد دہانی تھا۔ سمندر کا شور گلوکار کی آواز سے تال میل خود ہی بنانے لگا۔ رات ڈوبتی رہی۔

اک اور صبح آئی۔ جیپ نے کوسٹل ہائی وے کو چھوڑا اور جیوانی کی راہ لی۔ جیوانی کا ساحل مجھے بُلا رہا تھا۔ پاکستان کی ساحلی پٹی پر گھومنے کے پلان میں جیوانی بھی شامل تھا۔

جیوانی جاتے وقت دریائے دشت سے ایک ملاقات—سید مہدی بخاری
جیوانی جاتے وقت دریائے دشت سے ایک ملاقات—سید مہدی بخاری

جیوانی ساحل—سید مہدی بخاری
جیوانی ساحل—سید مہدی بخاری

جیوانی ساحل—سید مہدی بخاری
جیوانی ساحل—سید مہدی بخاری

مچھیروں کی اس بستی میں ایرانی مصنوعات سے ہماری مہمان نوازی کی گئی۔ مقامی بلوچ نوجوانوں نے اپنی محرومیوں کے قصے سنائے۔ سنتے سنتے شام ہونے لگی۔ جیوانی کا ساحل چھٹا اور جیپ رات گئے گوادر شہر میں داخل ہوئی۔ گوادر سو رہا تھا۔ میں نے اپنے ہوٹل کے کمرے میں سامان پھیلایا اور نیند میری ہمبستر ہوئی۔

اک اور سورج آنے سے ذرا پہلے میں گوادر میں واقع اونچے مقام کوہِ باطل پر کھڑا تھا۔ منہ اندھیرے اس پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا تاکہ سورج کی روشنی میں گوادر کا اوپر سے منظر دیکھ سکوں۔ میرے نیچے گوادر شہر پھیلا تھا۔ کشتیاں ساحل پر لگی سو رہی تھیں۔

گوادر کا نظارہ—سید مہدی بخاری
گوادر کا نظارہ—سید مہدی بخاری

گوادر کا نظارہ—سید مہدی بخاری
گوادر کا نظارہ—سید مہدی بخاری

گوادر کا نظارہ—سید مہدی بخاری
گوادر کا نظارہ—سید مہدی بخاری

آسمان کا پردہ چاک ہوا۔ میرے سامنے اک منظر کھلا۔ مستقبل کی معاشی شہہ رگ میرے سامنے تھی۔ یہیں سے ترقی کے نئے سفر کا آغاز ہونا ہے۔ ہوا کے جھونکے کوہَ باطل کی چوٹی پر کھڑے مجھے تھپک رہے تھے۔

میرے سفر کا اختتام ہو رہا تھا۔ اس سفر میں لکھنے کو بہت کچھ تھا جو ایک کالم میں سمونا ممکن نہیں۔ بلوچ نواجوانوں کے خدشات، سرداروں کے مطالبات، ریاست کی منصوبہ سازی، ترقیاتی کاموں کی رفتار سمیت کئی موضوعات لکھنے کو الگ سے وقت مانگتے ہیں۔

گوادر میں طلوع آفتاب—سید مہدی بخاری
گوادر میں طلوع آفتاب—سید مہدی بخاری

دن کے اجالے میں گوادر کا ایک نظارہ—سید مہدی بخاری
دن کے اجالے میں گوادر کا ایک نظارہ—سید مہدی بخاری

گوادر—سید مہدی بخاری
گوادر—سید مہدی بخاری

پاکستان کی ساحلی پٹی بہت ہی خوبصورت ہے۔ اَن چھوئے مناظر ہیں، شفاف پانیوں کے ساحل ہیں، سنہری ریت کے ٹیلے ہیں اور جنگلی حیات کی بہتات ہے۔ میری کوشش رہے گی کہ پاکستان کے جنوب پر کام کرتا رہوں۔

شمال کی گلیوں میں پھرتے 12 سال کیسے بیتے پتہ ہی نہ چل سکا۔ مُڑ کے دیکھوں تو اک خواب کا سفر لگتا ہے۔ اب اک نیا خواب پاکستان کی تعبیر ہونے کو ہے۔

اک دور تھا جو بِیت چُکا ، اک دور ہے جو آئے گا

اک خواب دیکھا جا چُکا، اک خواب دیکھا جائے گا


لکھاری پیشے کے اعتبار سے شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ فوٹوگرافی شوق ہے، سفر کرنا جنون ہے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کا فیس بک پیج یہاں وزٹ کریں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔