ای میل

چین کا صوبہ ہینان سیاحوں کی جنت سے کم نہیں

محمد عمران

ہینان چین کا جنوبی صوبہ اور سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے۔ 10 سال پہلے تک چین کے دیگر علاقوں میں بسنے والے لوگ بھی اس خطے کی خوبصورتی سے کم ہی واقف تھے لیکن اب یہ صوبہ نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کی منزل بن چکا ہے۔

چین کا صوبہ ہینان 10 سالوں میں غیر مقبول سے مقبول ترین کیسے بن گیا؟ سیاحوں کی جنت سے کم نہیں

بیجنگ سے 2 ہزار 280 کلومیٹر دُور اس پُرفضا مقام تک پہنچنے کے لیے 4 گھنٹے کا ہوائی سفر کرنا پڑتا ہے لیکن جیسے ہی آپ ہینان کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو جہاز کی کھڑکی سے نیچے جابجا بکھرے نظارے آپ کو تازگی کا احساس بخشتے ہیں اور پھر جب جہاز سے باہر آنے کے ساتھ ہی ٹھنڈی ہوائیں آپ کا استقبال کرتی ہیں تو سفر کی ساری تھکن دُور ہوجاتی۔

ہمارا پہلا پڑاؤ سنیاں شہر تھا جو 14 ملکوں اور خطوں کو ملانے والے 30 مختلف ہوائی روٹس سے جڑا ہے۔ 7 لاکھ 65 ہزار آبادی اور 258 کلومیٹر ساحلی پٹی کے ساتھ سنیاں لگ بھگ 2 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔

یہاں ہر روز 7 گھنٹے مطلع صاف رہتا ہے اور اوسط درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ سیاحت کے لیے مشہور ملکوں کے شہریوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہاں 59 ملکوں کے لیے آن آرائیول ویزہ کی سہولت دی گئی ہے، تاہم اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔

ہینان چین کا جنوبی صوبہ اور سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے—تصویر محمد عمران
ہینان چین کا جنوبی صوبہ اور سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے—تصویر محمد عمران

ہینان نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کی منزل بن چکا ہے—تصویر محمد عمران
ہینان نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کی منزل بن چکا ہے—تصویر محمد عمران

صرف سنیاں شہر میں سیاحوں کی سہولت کے لیے متعدد ریزورٹس اور گیسٹ ہاؤسز میں 40 ہزار کے قریب کمرے دستیاب ہیں، جبکہ مقامی لوگوں نے بھی اپنے گھروں میں ایک کمرہ سیاحوں کے لیے بنایا ہوا ہے۔

ہوٹل صنعت میں دنیا کے تقریباً تمام ہی بڑے برانڈز کی شاخیں یہاں موجود ہیں۔ دبئی کے بعد اٹلانٹس ریزورٹ کی دوسری بڑی شاخ بھی اسی شہر میں ہے جسے اپریل 2018ء میں سیاحوں کے لیے کھولا گیا تھا۔ اس ریزورٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ سیاح جو کسی اور ہوٹل میں ٹھہرے ہوتے ہیں وہ بھی یہاں 500 یوان دے کر ایکوریم، انڈر واٹر ریسٹورینٹ اور وسیع و عریض واٹر پارک کی سہولت استعمال کرسکتے ہیں۔

ہوٹل صنعت میں دنیا کے تقریباً تمام ہی بڑے برانڈز کی شاخیں یہاں موجود ہیں—تصویر محمد عمران
ہوٹل صنعت میں دنیا کے تقریباً تمام ہی بڑے برانڈز کی شاخیں یہاں موجود ہیں—تصویر محمد عمران

ایکوریم—تصویر محمد عمران
ایکوریم—تصویر محمد عمران

صرف سنیاں میں سیاحوں کی سہولت کے لیے متعدد ریزورٹس اور گیسٹ ہاؤسز میں 40 ہزار کے قریب کمرے دستیاب ہیں—تصویر محمد عمران
صرف سنیاں میں سیاحوں کی سہولت کے لیے متعدد ریزورٹس اور گیسٹ ہاؤسز میں 40 ہزار کے قریب کمرے دستیاب ہیں—تصویر محمد عمران

یہاں ہر روز 7 گھنٹے مطلع صاف رہتا ہے اور اوسط درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے—تصویر محمد عمر
یہاں ہر روز 7 گھنٹے مطلع صاف رہتا ہے اور اوسط درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے—تصویر محمد عمر

56 منزلہ اس ہوٹل کی نچلی منزل پر کمرے کا ایک دن کا کرایہ پاکستانی 30 لاکھ روپے کے برابر ہے لیکن میرے خیال میں یہ مہنگی ترین رہائش اس ہوٹل کی بالائی منزل پر نسبتاً سستی رہائش کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ 26ویں منزل پر فیملی سوٹ کی ٹیرس پر گزرے لمحات میرے زندگی کے یادگار لمحوں میں شامل رہیں گے، یہاں نیلے سمندر سے آتی ہوا جو خوشگوار احساس دیتی ہے اس کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔

سنیاں کا 69 فیصد علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے اور اس کی ساحلی پٹی پر 19 ساحل سمندر ہیں۔ بیچ ٹؤرازم کے علاوہ مذہبی اور فیسٹیول ٹؤرازم کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہاں آپ کو روزانہ سیکڑوں نئے شادی شدہ جوڑے شہر کے مختلف خوبصورت مقامات پر اپنی نئی زندگی کے خوشگوار لمحات کو محفوظ کرنے کے لیے فوٹو سیشن کراتے نظر آئیں گے۔

سنیاں کا 69 فیصد علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے—تصویر محمد عمران
سنیاں کا 69 فیصد علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے—تصویر محمد عمران

سنیاں کی ساحلی پٹی پر 19 ساحل سمندر ہیں—تصویر محمد عمران
سنیاں کی ساحلی پٹی پر 19 ساحل سمندر ہیں—تصویر محمد عمران

سنیاں کا ساحل—تصویر محمد عمران
سنیاں کا ساحل—تصویر محمد عمران

سنیاں کا ساحل—تصویر محمد عمران
سنیاں کا ساحل—تصویر محمد عمران

یہاں ساحلی پٹی کا فضائی نظارہ کرنے کے لیے ہیلی سروس بھی موجود ہے، چاہیں تو سرفنگ کا لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔ شوبز کی رنگینیوں سے جڑے لوگوں کو یہاں لانے کے لیے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور مس ورلڈ کے مقابلہ حُسن بھی منعقد کروائے جارہے ہیں۔

سیاحت کے فروغ سے غربت میں کمی لانے کے حوالے سے ہینان صوبہ ایک کامیاب ماڈل ہے، یہاں مقامی حکومتوں کے ذریعے دیہاتوں میں ترقیاتی کاموں اور خوبصورتی میں اضافے کے لیے باقاعدہ مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ جو گاؤں بھی یہ مقابلہ جیتتا ہے اسے اعزاز دیا جاتا ہے۔ ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے کے لیے دیہاتیوں کو آگاہی دی گئی ہے کہ کیسے وہ اپنے علاقے میں رہتے ہوئے اپنی ثقافت کو زندہ رکھ کر بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

سنیاں میں ثقافت کے رنگ —تصویر محمد عمران
سنیاں میں ثقافت کے رنگ —تصویر محمد عمران

چونگ ہائی شہر میں 6 ماہ کے قلیل عرصے میں ترقیاتی کاموں کے ذریعے شومی گاؤں کی خوبصورتی کو نکھار دیا گیا ہے۔ گزشتہ برس فائیو اسٹار ویلیج کا اعزاز پانے والے گاؤں کی مشہور بات یہ ہے کہ وہاں کے لوگ ناک سے بانسری پر دھن بجانا جانتے ہیں، اور یہی ان کا روزگار بھی ہے۔ گاؤں میں مختلف مقامات پر اس فن کا مظاہرہ کرنے والے ٹولیوں کی شکل میں موجود رہتے ہیں اور سیاحوں کو محظوظ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بمبو ڈانس بھی اس گاؤں کی ثقافت کا حصہ ہے۔

ناک سے بانسری بجانے کا فن—تصویر محمد عمران
ناک سے بانسری بجانے کا فن—تصویر محمد عمران

ناک سے بانسری پر دھن بجانا اب ان کا روزگار بھی ہے—تصویر محمد عمران
ناک سے بانسری پر دھن بجانا اب ان کا روزگار بھی ہے—تصویر محمد عمران

ہینان میں ہر طرف آپ کو ناریل اور پام کے درخت نظر آئیں گے۔ یہ درخت خود سے نہیں اُگے بلکہ یہاں کی مقامی انتظامیہ نے اس علاقے کو دنیا کے دوسرے بڑے سیاحتی مقامات کے مقابلے میں لانے کے لیے بے تحاشہ شجرکاری کی ہے۔

یہاں کے پہاڑ مٹیالے ہیں اور اس بات کا بھی خوب فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ وہ کچھ اس طرح کہ پہاڑ پر آم، انناس، امرود اور مختلف پھلوں کے باغات اگائے گئے ہیں۔ آم کے درخت کی لمبائی 3 میٹر سے زیادہ نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ خوب پھل دیتے ہیں۔ پاکستان میں طوطا پری اور ٹبرپال کے نام سے مشہور آم یہاں کی خاص پیداوار ہیں اور ذائقے میں بھی کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔

ہینان میں ہر طرف آپ کو ناریل اور پام کے درخت نظر آئیں گے—تصویر محمد عمران
ہینان میں ہر طرف آپ کو ناریل اور پام کے درخت نظر آئیں گے—تصویر محمد عمران

زمینی ساخت کی وجہ سے یہاں مکئی اور چاول کی کاشت بھی کی جا رہی ہے۔ زراعت کے شعبے میں بہتری کے لیے پیڈی فیلڈز آف نیشنل پارک کے نام سے تحقیقی مرکز بنایا گیا ہے جہاں پاکستان، بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ملکوں کے 500 اقسام کے چاولوں کی کاشت کی جارہی ہے۔ یہاں سیاحوں کی دلچسپی کا عنصر پیدا کرنے کے لیے دیو ہیکل ڈائنا سارز کے مجسمے ایستادہ کیے گئے ہیں۔ آپ جیسے ہی ان مجسموں کے قریب سے گزرتے ہیں تو یہ سر ہلا کر مختلف آوازیں نکالتے ہوئے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

چاروں طرف سے سمندر میں گھرے ہونے اور ناریل کی وافر پیداوار کی خصوصیت کا عکس یہاں کے کھانوں میں بھی جھلکتا ہے۔ آپ بطور کرایہ دار کسی کے گھر پر رک جائیں یا پھر کسی بھی ریزروٹ میں قیام کریں، کھانے کی ٹیبل پر سمندری خوراک اور ناریل کے ساتھ چاول ضرور ملیں گے۔ یہاں تک کے میٹھے میں بھی ناریل اور چاول ہی ملتے ہیں۔

سنیاں کا ایک نظارہ—تصویر محمد عمران
سنیاں کا ایک نظارہ—تصویر محمد عمران

چین یہاں دیگر شعبوں کی طرح کروز اور یاٹس کے شعبے میں بھی ایشیا کے اندر سب کو پیچھے چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ سنیاں میں ایک مصنوعی جزیرے پر کروز پورٹ بنایا گیا ہے اور ابتدائی طور پر اس کا ہدف یہ رکھا گیا ہے کہ یہاں روزانہ 4 کروز لنگر انداز ہوسکیں۔ مصنوعی جزیرے پر ترقیاتی کام جاری ہے۔ یہاں انٹرنیشنل کانفرنس ہال بنایا جائے گا اور پھر مختلف ملکوں سے اس شعبے کے لوگوں کو بلاکر ایک دوسرے سے تجربات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ اسی طرح یاٹ پورٹ پر بھی دنیا کی بڑی کمپنیوں کو کاروبار کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

ڈیوٹی فری اسٹور سیاحوں کے لیے ایک اور بڑی سہولت ہے۔ مقامی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہاں ایشیا کی سب سے بڑی ڈیوٹی فری شاپ موجود ہے لیکن مجھے یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ وہاں موبائل فون اور لیپ ٹاپ دستیاب نہیں، اس کے علاوہ جو چاہو خرید لو اور اگر خریدی ہوئی چیز ہینان سے باہر لے کر جانی ہے تو اس کا الگ طریقہ کار ہے۔

سمندری خوراک اور ناریل یہاں کے کھانوں کا اہم حصہ ہیں—تصویر محمد عمران
سمندری خوراک اور ناریل یہاں کے کھانوں کا اہم حصہ ہیں—تصویر محمد عمران

ایک چینی ڈش—تصویر محمد عمران
ایک چینی ڈش—تصویر محمد عمران

ہینان میں ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے کشادہ ہائی ویز کے علاوہ ہائی اسپیڈ ٹرین کی سہولت بھی موجود ہے۔ چونکہ یہاں راستے میں کئی پہاڑ آتے ہیں لہٰذا سفر کو آسان بنانے کے لیے ٹنل بھی بنائے گئے ہیں۔ یہاں مصروف شاہراہوں کو صاف رکھنے کے لیے روزانہ دھویا جاتا ہے۔

چین کے باقی شہروں کی طرح یہاں بھی حکومت کی طرف سے آن لائن ٹیکسی سروس موجود ہے جو پرائیوٹ ٹیکسی کی نسبت کافی سستی پڑتی ہے۔

یہاں کی ٹرین کی بات کی جائے تو ہائی اسپیڈ ٹرین 245 سے 250 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ ہم نے سنیاں سے چنگ ہائی شہر تک ہائی اسپیڈ ٹرین پر سفر کیا اور میرے لیے یہ ایک بہت ہی زبردست تجربہ تھا کیونکہ ایک بار میں نے پاکستان میں لودھراں سے اسلام آباد جانے کے لیے ٹرین کے سفر کا حوصلہ کیا تھا، جو میرے لیے اتنا مشکل سفر بن گیا تھا کہ مجھے ملتان اسٹیشن پر اتر کر پھر بس پکڑنا پڑی تھی۔ لیکن یہاں ٹرین میں سفر کے بعد ریل سفر کے حوالے سے میرا تصور ہی بدل گیا۔ دوران سفر مجھے پتہ چلا کہ یہ دوسرے درجے کی ہائی اسپیڈ ٹرین ہے، جبکہ پہلے درجے کی ہائی اسپیڈ ٹرین 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہے۔

ہینان میں اپنے 5 روزہ قیام کے دوران مجھے ایک بار سائیکل چلانے کا موقع بھی ملا۔ جب میں اپنے ہوٹل سے سائیکل چلاتے ہوئے ساحل سمندر کی طرف جارہا تھا تو مجھے ٹؤرسٹ پولیس سے واسطہ پڑا۔ ان کی تربیت کا ایک کمال یہ ہے کہ آپ چاہے جس طرح بھی ان سے بات کرلیں وہ غصہ نہیں کریں گے بلکہ آپ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

زیادہ تر چینی باشندوں کو انگلش کی سمجھ نہیں ہے اس لیے ٹرانسلیشن ایپ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ٹؤرسٹ پولیس کے اہلکار بھی جب اشاروں اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات نہ سمجھا پائے تو اسی ایپ کے ذریعے رہنمائی کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

واپسی پر ہائیکو میلان انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے ہم نے بیجنگ تک کا سفر ہینان ائیر لائن کے ذریعے کیا اور وہ 4 گھنٹے ہینان کی خوشگوار یادوں کو سمیٹتے ہوئے کب گزرے، پتہ ہی نہیں چلا۔


لکھاری اسلام آباد میں مقیم رپورٹر ہیں۔