ڈان تحقیقات:ملیر کے تیسرٹاؤن میں مٹی سے بنے سہانے خواب

انتظامیہ نے پہلی مرتبہ اس کم لاگت کی اسکیم کو 1996 میں شروع کیا لیکن وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔
اپ ڈیٹ جون 10, 2019 02:22pm

مارچ کے مہینے میں کراچی بھر میں کسی بھی سِلک بینک کی برانچ کا دورہ کرتے تو آپ کو لوگوں کی ایک طویل قطار اپنے ایک جیسے خواب کو پورا کرنے کے لیے نظر آتی۔

فارم کے حصول کے لیے ہزاروں افراد ڈیسک تک پہنچنے کی آس میں سکون سے انتظار کرتے اور پھر ایک 3 صفحات کی دستاویز حاصل کرکے چلے جاتے جسے وہ اپنے زندگی کے مقصد کی چابی کے طور پر دیکھ رہے تھے جبکہ اسی قطار میں کھڑی ایک خاتون کے الفاظ تھے کہ ’اپنا گھر بن جائے بس!‘۔

ان سب کی نظریں سہراب گوٹھ سے 20 منٹ کی مسافت پر ایک بڑے مٹی کے میدان پر جمی ہوئی ہیں، یہاں کراچی میں ’بہترین رہائشی اسکیم‘ کے طور پر بہت زیادہ تشہیر کی جانے والی ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) تیسر ٹاؤن اسکیم 45 موجود ہے۔

یہ اس پرانے منصوبے کا نیا آغاز ہے، جس کا وعدہ 2005 سے ہوتا آ رہا ہے کہ کم تنخواہ دار اور متوسط طبقے کے 25 لاکھ خاندانوں کو پناہ گاہ فراہم کی جائے گی۔

تاہم ان تمام باتوں کے بجائے یہ ٹوٹے خواب، ناقص ترقیات، جھاڑیوں، دھول کے بادل اور بھونکتے آوارہ کتوں کی ایک داستان ہے۔

ایم ڈی اے کی جانب سے 1996 میں ابتدائی طور پر شروع کی گئی اس اسکیم کے بعد یہ 23 سال کا عرصہ ہے جبکہ 2005 میں کوئی اور نہیں بلکہ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ایک مرتبہ پھر یہ اسکیم شروع کی گئی جسے 14 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ اسکیم کہاں ہے؟ یا ماضی میں اس منصوبے کے آغاز کا کیا ہوا تو مختلف ممکنہ الاٹیز کہتے ہیں کہ ’سرکاری منصوبہ ہے، فراڈ نہیں ہوگا‘۔

تاہم جب سائٹ کے دورہ کیا جائے تو یہ کچھ اور ہی داستان بیان کرتا ہے، یہ زمین بنیادی شہری ضروریات بجلی، گیس اور پانی سے محروم ہے، ایم ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ اس نے بنیادی انفرا اسٹرکچر تیار کردیا ہے لیکن سائٹ کا دورہ کریں تو وہاں بڑی تعداد میں غیر آباد جگہ، خستہ حال نکاسی آب کا نظام، ایسی ناہموار سڑکیں نظر آئیں گی جو کہیں نہیں جاتیں۔

ایک مقامی اسٹیٹ ایجنٹ اور ٹھیکیدار کی طرف سے ممکنہ خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے ایک 80 گز کا ماڈل گھر تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے اطراف ترقیاتی کام کا کوئی نشان نظر نہیں آتا، اس علاقے میں صرف ایک بستی ہے ، جہاں بجلی موجود ہے (کمپنی کے مطابق غیر قانونی کنکشنزہیں) وہ ایک افغان کیمپ ہے (جنہیں مہاجر کیمپ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے)، اس بستی میں اندرونی طور پر بے گھر (آئی ڈی پیز) افراد کو وفاقی حکومت کی جانب سے رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔

لہٰذا وہ کون لوگ تھے جنہوں نے تیسر ٹاؤن اسکیم 45 اور اس کے 80، 120، 240 اور 400 گز کے 30 ہزار پلاٹس کے لیے بظاہر فارم جمع کرائے اور ایک سے 2 ہزار روپے کی ناقابل واپسی فیس ادا کی؟

یہ ڈرائیورز، کھانا پکانے والے، کام کرنے والے، سیلون ورکرز، کم آمد والے نوکری پیشہ نوجوان، اساتذہ اور یقیناً متوسط آمدنی والے سرمایہ کار ہیں جو اپنی محنت کی کمائی سے بچائی گئی رقم سے کہیں زیادہ واپسی کی تلاش میں ہوتے ہیں کیونکہ کم اور متوسط طبقے کے لوگوں کا جداگانہ حصہ ماہانہ کرائے کی ادائیگیوں کی وجہ سے تھک چکا ہے اور وہ اپنی جمع پونجی پر مستحکم واپسی چاہتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق سالانہ اندازاً گھروں کی طلب 4 لاکھ یونٹس ہے جبکہ اس کی اصل رسد صرف ڈیڑھ لاکھ ہے اور اس میں ڈھائی لاکھ کا شارٹ فال موجود ہے جبکہ گزشتہ برس وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ 5 برس کے دوران ملک بھر میں کم لاگت کے 50 لاکھ گھر بنائیں گے۔

اس شہر کے 5 لاکھ سے زائد رہائشی کچی آبادیوں اور کچی بستیوں میں رہتے ہیں جبکہ کراچی کی نچلے اور نچلےمتوسط طبقے کے خاندان روزانہ کی بنیاد پر زائد کرایوں اور نامناسب انفرااسٹرکچر کے ساتھ گرد آلود رہائش گاہوں کی تلاش کی جدوجہد کرتے ہیں۔

اگر شہر بھر کے کم آمدنی والے علاقوں میں ماہانہ کرائے دیکھیں جائے تو کچن اور چھوٹے باتھ روم کے ساتھ 8 بائی 10 (8x10) کی چھوٹی جگہ کا ماہانہ کرایہ 5 ہزار کے ارد گرد ہے جبکہ 300 اسکوائر فٹ کے 2 کمرے کے اپارٹمنٹ کا کرایہ 8 اور 13 ہزار روپے ماہانہ کے درمیان ہے۔

اس معاملے پر مقامی کمپنی کے لیے کام کرنے والے ڈرائیور محمد علی نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے اسکیم 45 کے لیے 80 اور 120 مربع گز کی کیٹیگری میں فارمز جمع کروائے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وہ قیوم آباد میں 2 بیڈ روم کے گھر میں رہتے ہیں، ’ان کی ایک چھوٹی فیملی ہے جس میں اہلیہ اور بچے ہیں، وہ بمشکل 18 ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں، جس میں سے 8 ہزار سیدھے کرائے میں چلے جاتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کرائے میں بجلی، گیس اور پانی کے اخراجات شامل ہیں، محمد علی کو مالک مکان کی جانب سے ایک ٹی وی، ایک استری اور ایک چھوٹے ریفریجریٹر کے استعمال کی اجازت ہے، تاہم مختلف مالک مکان صرف پنکھے، ٹیوب لائٹس اور کھانا پکانے کے لیے ایک چولہے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ متعدد نے اپنے کرائے داروں کو اس وجہ سے باہر نکال دیا کہ وہ ٹیلی ویژن، واشنگ مشین وغیرہ استعمال کرتے ہوئے پائے گئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پورے شہر میں پلاٹس میری تنخواہ کے مقابلے میں مہنگے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ میں گھر خرید سکتا ہوں، لہٰذا یہ اقساط کا پلان مناسب لگتا ہے‘۔

اس اسکیم کی روایتی میڈیا میں بہت زیادہ تشہیر کی گئی اور مختلف نجی کمپنیوں نے سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے اس کے پیغام کو وسیع طور پر پھیلایا۔

کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھنے والے مختلف درخواست گزاروں نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے علاقوں کے اسٹیٹ ایجنٹس کی جانب سے ان کے پاس آنے اور اس سے متعلق بتانے کے بعد اسکیم کا معلوم ہوا جبکہ کئی درخواست گزاروں سے اسٹیٹ ایجنٹس نے رابطہ کیا جو سلک بینک کی برانچوں کے چکر لگا رہے تھے اور پیش کش کر رہے تھے کہ اگر قرعہ اندازی میں خوش قسمت رہتے ہیں تو انہیں 80 ہزار روپے تک دیے جائیں گے۔

قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھانے کا یہ حربہ بحریہ ٹاؤن کے طریقہ کار سے مستعار لیا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ بحریہ ٹاؤن کے کراچی کے منصوبے میں ایم ڈی اے کا بڑی دھوکا دہی میں اہم کردار رہا تھا، تاہم (پلاٹس کے حوالے سے فیس کی وصولی کے لیے سلک بینک کا کردار محدود ہے، یہ اسٹوری اس کے بارے کسی غیرقانونی طور پر ملوث ہونے کا اشارہ نہیں ہے۔)

علاوہ ازیں لگتا ہے کہ پرانی الاٹمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ تیسر ٹاؤن کے لیے ایس ایم ایس میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ گزشتہ برس تک لوگوں کو زیادہ تر بحریہ ٹاؤن کے پلاٹس کے لیے مخصوص اشتہاری پیغام موصول ہوتے تھے۔

مختلف آن لائن پراپرٹی سائٹس سے زمین کی قیمتوں میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے، کچھ کیسز میں پہلے کی الاٹمنٹ سے 80 اسکوائر یارڈ کے پلاٹ کے لیے قیمت 4 لاکھ سے 10 لاکھ تک بڑھی جبکہ اس علاقے کے کچھ اسٹیٹ ایجنٹوں کو چند کالز ظاہر کرتی ہیں کہ پرانے پلاٹوں کے لیے قیمتوں میں یقیناً اضافہ ہوا لیکن وہاں مزید خریدار نہیں ہیں۔

ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ اور کنٹریکٹر علی مراد کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ برس سے اس علاقے میں ہیں لیکن ’چیزوں نے رفتار پکڑنا شروع کردی ہے اور لوگوں نے دلچسپی لینا شروع کی ہے‘۔

انہوں نے ڈان کو اسکیم 45 میں ماڈل مکان دکھایا (جو ریئلی فرم کی جانب سے قائم کیا گیا ہے، جس کے لیے وہ کام کرتے ہیں) اور اس کی قیمت (زمین کے ساتھ تعمیر کو ملا کر) تقریباً 25 لاکھ روپے ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ’نئی اسکیم کے آغاز سے فیز-ون اور ٹو میں پلاٹس کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں، اس وقت 80 مربع گز کے صرف پلاٹ پر پریمیم/’اون‘ 5 سے 10 لاکھ روپے تک ہے جو پلاٹ کی جگہ پر منحصر ہے، اس کے علاوہ کچھ 11 گھر ایسے ہیں جو زیر تعمیر ہیں اور مجھے امید ہے کہ مزید لوگ بھی تعمیرات شروع کریں گے‘۔

جھوٹی امیدیں

اس اسکیم کے لیے فیس بک اور روایتی میڈیا پر اشتہاری مہم نے صحیح معنوں میں کردار ادا کیا، ایک اشتہار میں اعلان کیا گیا ’ایم ڈی اے حکومت سندھ کا کم لاگت کا بڑا منصوبہ‘، وہیں دوسرے اشتہار میں کہا گیا کہ ’کراچی میں بہترین رہائشی اسکیم جس کے اطراف ہول سیل مارکیٹ قائم کی جارہی ہیں‘۔

ملیر ڈیولمپنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر کے دفتر کی عدم موجودگی ظاہر کرتا ہوا نشان—فوٹو: سمیرا ججہ
ملیر ڈیولمپنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر کے دفتر کی عدم موجودگی ظاہر کرتا ہوا نشان—فوٹو: سمیرا ججہ

تیسرے اشتہار میں ’ناردرن بائی پاس، گلشن معمار اور ڈریم ورلڈ ریزارٹ سے متصل‘ جبکہ چوتھے اشتہار میں ’ سندھ کے شہریوں کے لیے گھر حاصل کرنے کا سنہری موقع‘ لکھا گیا تھا۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ ایم ڈی اے نے فروخت کرنے کی حکمت عملی میں اب پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو شامل کردیا ہے، اسکیم کے نئے نقشے میں ایم 10 روڈ کو دکھایا گیا ہے، جہاں یہ واقع ہے اور سی پیک کے روٹ سے منسلک ہے جبکہ حکام اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ بڑی عمارتیں اور کاروباری ترقی منافع بخش سرگرمیوں کا باعث بنیں گی۔

اگر ریئل اسٹیٹ ایجنٹوں پر یقین کیا جائے تو 8 لاکھ فارم بھرے گئے ہیں جبکہ سلک بینک میں موجود ذرائع یہ تعداد ساڑھے 4 لاکھ بتاتے ہیں، اس کے علاوہ ایم ڈی اے حکام اب تک ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد بھرے ہوئے فارم کے جمع ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم بینک پورے پاکستان کی برانچوں سے اعداد و شمار کو اکٹھا کررہا اور اس تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

مختلف خاندانوں کی جانب سے متعدد فارمز جمع کروائے گئے ہیں، جس میں 80 مربع گز کے لیے ایک ہزار روپے (ناقابل واپسی) کے ساتھ ساتھ 9 ہزار روپے قابل واپسی بکنگ فیس، 120 مربع گز کے لیے 15 ہزار بکنگ اور 2 ہزار روپے (ناقابل واپسی) کے ساتھ ساتھ 240 مربع گز کے لیے 30 ہزار اور 400 مربع گز کے لیے 50 ہزار روپے قابل واپسی بکنگ فیس کے طور پر ادا کیے گئے ہیں۔

اس بارے میں ایک پینٹر احمد کہتے ہیں کہ ’ہم نے جتنے زیادہ فارم جمع کروائے ہیں، اتنے ہی مواقع زیادہ ہیں‘، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے، اپنی اہلیہ اور بیٹے کے شناختی کارڈ پر 3 فارم جمع کروائے ہیں۔

احمد کا کہنا تھا کہ ’میں نے 30 ہزار روپے تک جمع کروائے ہیں لیکن میں پرامید ہوں کہ مجھے پلاٹ ملے گا‘، تاہم اب تک قرعہ اندازی کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

لہٰذا اس اسکیم کا اصل میں کیا مستقبل ہے جو پہلی مرتبہ 1996 میں شروع کی گئی تھی؟

اس بارے میں کراچی میں خدا کی بستی سمیت حیدرآباد اور لاہور میں کم لاگت گھروں کے منصوبوں پر کام کرنے والی این جی او سائبان کے سربراہ تسنیم صدیقی کا کہنا تھا کہ ’جب ایم ڈی اے کو رقم کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اخبار میں اشتہار شائع کرکے کہتے ہیں کہ اتنے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کی جائے گی، براہ کرم رقم جمع کروادیں، یہ فنڈز حاصل کرنے کا اچھا راستہ ہے‘۔

در حقیقت، اسکیم 45 میں موجود خدا کی بستی، انکریمنٹل ہاؤسنگ ماڈل کی ابتدائی مثال ہے، درخواست گزاران کی ضرورت کی تشخیص کی جاتی ہے اور فوری بنیادوں پر زمین دی جاتی۔

کامیاب درخواست گزاروں کے لیے پلاٹ پر رہائش قائم کرنا لازم ہے اور فوری طور پر گھر کی تعمیر کا آغاز کرنا ضروری ہے، زمین کی رقم کی ادائیگی قسطوں میں کی جاتی ہے اور چند سال بعد زمین کی ملکیت دی جاتی ہے جبکہ کلیکشن پول کے استعمال سے انفرااسٹرکچر تعمیر کیا جاتا ہے، اس سے مشکوک افراد اور سرمایہ کاروں کو دور رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈی جی تسنیم صدیقی نے اسکیم کی حالت زار سے متعلق سیاسی قوتوں پر الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ 1999 میں مشرف کی حکومت اور ایم کیو ایم نے شراکت داری قائم کرکے اس اسکیم کے ذریعے کروڑوں روپے کمائے، ایم ڈی اے ڈی جی امیرزادہ کوہاٹی( جن کے خلاف بعد ازاں کئی کرپشن ریفرنس دائر کیے گئے تھے اور وہ دبئی چلے گئے تھے) اور گورنر سندھ عشرت العباد اس میں ملوث تھے، کسی کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ قرعہ اندازی کے دوران کتنی رقم حاصل کی گئی تھی۔ ان فنڈز کا کیا ہوا؟‘

ایم ڈی اے کے ایک اور بڑے منصوبے، نیشنل ہائی وے کے قریب نیو ملیر ہاؤسنگ سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’ وہاں بھی یہی صورتحال موجود ہے،کوئی ترقی نہیں، وہاں لوگوں کے منتقل ہونے کے لیے ترقیاتی کام کی ضرورت ہے‘۔

این ای ڈی یونیورسٹی میں ڈپارٹمنٹ آف آرکیٹیکچر اور پلاننگ کے چیئرمین نعمان احمد نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ حالیہ اسکیم ایک مرتبہ پھر دھوکے بازوں کے ہاتھ لگ جائے گی اور نعمان احمد نے کہا کہ ’ اس میں سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ ایم ڈی اے نے ضروریات کا جائزہ نہیں لیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی کمرشل ڈیولپرز سے مختلف نہیں ہے، کھلی درخواستوں کے ذریعے دعوت دی جائے اور کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے طے کیا جائے کہ کسے پلاٹ ملے گا‘۔

تسنیم صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم ڈی اے اسکیم 45 کے لیے بڑے پیمانے پر قرعہ اندازی کی جانب جارہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جنہیں واقعی اپنا گھر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ فوری اپنا گھر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسرے سرمایہ کار ہوتے ہیں جو ان اسکیم کے پلاٹس سے سرمایہ کمانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے پلاٹس عام طور پر سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش ہوتے ہیں تاہم جس چیز کا انہیں اندازہ نہیں ہوپاتا وہ یہ ہے کہ ان کی سرمایہ کاری تباہ ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ 1979 میں نیشنل ہائی وے پر کے ڈی اے نے شاہ لطیف ٹاؤن کا منصوبہ شروع کیا تھا جس میں 43 ہزار پلاٹس موجود تھے جن میں 60، 80 اور 120 گز کے پلاٹس شامل تھے۔ ان کی قرعہ اندازی ہوگئی، لوگوں کو ’الاٹمنٹ لیٹر‘ جاری کردیے گئے لیکن ان میں ایسے افراد کے نام شامل نہیں تھے جنہیں فوری طور پر گھر کی ضرورت تھی۔

اسی وجہ سے اس علاقے میں فرضی مقصد کے لیے ان پلاٹس کو اپنے پاس رکھا گیا جس کی وجہ سے طویل عرصے تک اسکیم پر کوئی قبضہ نہیں ہوا اور پھر آخر کار خالی پلاٹس پر تجاوزات قائم ہونا شروع ہوگئیں۔

اسی طرح کی صورتحال اسکیم 45 میں بھی سامنے آئی جہاں کامیاب خریدار کا اپنی زمین پر قبضہ کرنے اور انہیں تعمیر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

ایک نامکمل عمارت—فوٹو: سمیرا ججا
ایک نامکمل عمارت—فوٹو: سمیرا ججا

دریں اثنا ایک سابق افسر کے مطابق اسکیم 45 کے سیکٹر 53 اور 54 میں خریداروں کی اقساط پوری ہونے کے باوجود انہیں نہ صرف الاٹمنٹ لیٹر سے محروم رکھا گیا بلکہ سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کے دور میں لیاری ایکسپریس کی تعمیر سے متاثرہ خاندانوں کو اس زمین پر بسا دیا گیا تھا۔

(اسی طرح ایک اور کم قیمت ہاؤسنگ اسکیم ’ہاکس بے ہاؤسنگ اسکیم-46‘ سازش کی شکار نظر آتی ہے جس کا کاغذ پر ذکر تو موجود ہے لیکن اس کی کوئی زمینی حقیقت نہیں ہے، جو اب ایک گھوسٹ ہاؤسنگ اسکیم ہے)۔

تاریک آغاز

سندھ بورڈ آف ریونیو، صوبے کی پوری زمین کی مالک ہے جس پر ریونیو جمع کرنے اور زمینوں کا ریکارڈ سنبھالنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

علاقے کی بنجر زمین—فوٹو: سمیرا ججہ
علاقے کی بنجر زمین—فوٹو: سمیرا ججہ

مذکورہ ادارہ شہریوں اور سوسائیٹیز کو بھی زمین الاٹ کرتا ہے ان میں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( کے ڈی اے)، ایم ڈی اے اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) شامل ہیں۔

تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کی منظوری سب سے پہلے 1986 میں کے ڈی اے کی جانب سے کراچی کے شمال مشرقی علاقے میں 20 ہزار 5 سو 70 ایکڑ کے کنٹرولڈ علاقے کے لیے منظوری دی گئی تھی، اس اراضی میں موکھی، نانگن، بجار جی بھٹی اور تیسر شامل تھے، ان سب علاقوں کے نام لوک کرداروں کے نام سے منسوب ہیں۔

جیسا کہ مائی تیسر موکھی کی بہن کو کہا جاتا ہے، موکھی کا ذکر شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری میں لوک ہیروئن کے طور پر کیا گیا ہے۔

بعدازاں 1993 میں ملیر ڈیولمپنٹ اتھارٹی ایکٹ 1993 کے تحت ایم ڈی اے تشکیل کی گئی تھی۔

اس اتھارٹی کے پاس ’ کراچی ڈویژن کے بعض علاقوں کی ترقی اور ایسے علاقوں کے عوام کی سماجی و اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کا مینڈیٹ حاصل تھا‘۔

کے ڈی اے نے 1996 میں کسی ترقی کے بغیر تیسر ٹاؤن اسکیم 45 ایم ڈی اے کو منتقل کردی تھی۔

ملیر ڈیولمپنٹ اتھارٹی نے 9 ہزار 5 سو 12 ایکڑ کے علاقے پر کم خرچ کی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت ستمبر 2005 میں اسکیم کا اجرا کیا تھا اور اس کے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کا آغاز کیا تھا۔

مذکورہ منصوبے میں کمرشل اور دیگر پلاٹ کے علاوہ ایک لاکھ 12 ہزار افراد کے لیے 98 ہزار ایک سو 76 رہائشی پلاٹ شامل تھے۔

15 جنوری 2006 کو اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے گورنر ہاؤس کراچی میں اسکیم 45 کے لیے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی تھی۔

اس میں اس وقت کے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب رحیم، سٹی ناظم مصطفیٰ کمال ، نائب ناظم نسرین جلیل اور سندھ کابینہ کے دیگر اراکین شامل تھے، اسکیم میں گورنر ہاؤس کے ملازمین کے لیے علیحدہ کوٹہ مختص کیا گیا تھا۔

6 مئی 2006 کو اخباروں میں شائع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’ الائیڈ بینک کو کم اخراجات کی ہاؤسنگ اسکیم، تیسر ٹاؤن کے لیے مجموعی طور پر 3 لاکھ 93 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، بینکوں میں مجموعی طور پر 4 ارب 79 کروڑ40 لاکھ روپے جمع کروائے گئے جن میں فارمز کی قیمت کی مد میں 15 کروڑ 40 لاکھ روپے جمع کروائے گئے‘۔

اگست 2007 تک پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں تاخیر سے متعلق شکایات کا اندراج ہونا شروع ہوا تھا۔

7 اگست 2007 کو شائع ہونے والی علیحدہ رپورٹ میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) ایم ڈی اے نے کہا تھا ’ تقریباً 4 لاکھ افراد نے تیسر ٹاؤن کی مختلف کیٹیگریز کے پلاٹوں کے لیے درخواست دی تھی اور صرف 70 ہزار افراد کامیاب ہوئے تھے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے سندھ حکومت سے باقی درخواست گزاران کو دیہہ پائی اور دیہہ گھگر میں ابتدائی طور پر 6 ہزار ایکڑ زمین الاٹ کرنے کی درخواست کی تھی۔

دلچسپ بات ہے کہ 1985 سے اسکیم 45 میں 1879.53 ایکڑ زمین 45 نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو الاٹ کی گئی ہیں جن میں سے اکثر کامیاب نجی سیکٹر میں تبدیل ہوگئے ہیں جن میں گارڈن سٹی اور کریم ہاؤسنگ پروجیکٹ شامل ہیں۔

اس سیکٹرز میں سے لیاری ایکسپریس وے ری سیٹیلمنٹ پروجیکٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں، یہ تمام انفرااسٹرکچر کے لیے ایم ڈی اے پر انحصار کرتے ہیں۔

’ کاغذ پر پلاٹس‘

اس اسکیم کے تحت پلاٹ حاصل کرنے والے افراد میں سے عارف پرویز نے کہا کہ ’ مجھے 2006 میں 400 مربع گز کا پلاٹ الاٹ کیا گیا اور میں نے 12 لاکھ روپے ادا کیے تھے، آخری ادائیگی 2009 کی تھی‘۔

عارف پرویز چند سال قبل بہت جدوجہد کےبعد اپنے پلاٹ کے مقام کا دورہ کرنے میں کامیاب ہو پائے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’ وہاں ایک مرکزی دروازہ موجود ہے لیکن مجھے پلاٹ کی اصل جگہ کے متعلق علم نہیں، یہ بظاہر صرف کاغذ پر ہی موجود ہے۔

ایک معمر خاتون (مسمات ن) جو اپنا پورا نام استعمال نہیں کرنا چاہتی تھیں نے بتایا کہ ان کے شوہر کو 2006 میں پلاٹ الاٹ کیا گیا تھا۔

خاتون کا کہنا تھا کہ ’میرے شوہر کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ہم دبئی سے واپس آگئے تھے، ہم کلفٹن میں ایک مناسب اپارٹمنٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن ہمیں ایک گھر چاہیے تھا جہاں ہم اپنے بیٹوں کے ساتھ رہ سکتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ میں اس دن پر افسوس کرتی ہوں ہم نے گلشنِ معمار کا علاقہ دیکھا، اس سے متاثر ہوئے اور اسکیم 45 میں پلاٹ لینے کا فیصلہ کیا، میرے شوہر چند برس پہلے انتقال کرگئے اور اس وقت سے لے کر اب تک میرے بیٹے ہمارے نام پر 400 گز کا پلاٹ منتقل کروانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے ہیں، ہم نے پوری رقم ادا کی تھی تو اب ہم رشوت کیوں دیں ؟‘۔

سہیل خان کے پاس اسکیم 45 میں 120 مربع گز کے پلاٹ کا قبضہ موجود ہے لیکن وہ کہتے ہیں شاید وہ وہاں اپنا مکان دیکھنے سے پہلے وفات پا جائیں۔

اپنا مکان نہ بیچنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ اگر میں اسے بیچ دوں، میں کبھی بھی شہر کے کسی دوسرے حصے میں اتنا بڑا پلاٹ نہیں خرید سکوں گا۔

ریٹائرڈ اسکول ٹیچر نے کہا کہ ’ گزشتہ 12 سال سے میں انتظار کررہا ہوں اور مکان کی تعمیر کے لیے پیسے جمع کررہا ہوں لیکن ہر مرتبہ میں اس جگہ کا دورہ کرتا ہوں تو یہ پہلے جیسی ہی ہے‘۔

یہاں تک کہ گورنر ہاؤس کے ملازمین جنہیں کوٹہ کے تحت پلاٹ الاٹ کیے گئے تھے سہولتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے مکانات کی تعمیر نہیں کرپاتے ۔

درحقیقت 2000 سے لے کر اب اکثر متاثرین اسکیم کے اجرا کے کئی مراحل کے بعد مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے خطوط میں اپنی امیدوں پر پانی پھرجانے پر آواز اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔

3 مئی 2004 کو ڈان اخبار میں شائع ہونے والے خط میں کہا گیا کہ ’میں متعلقہ حکام کی توجہ اسکیم نمبر 45 میں زمین کی الاٹمنٹ کے لیے مارچ 1985 میں دی گئی درخواست کی جانب دلاناچاہتا ہوں، جب یہ زمین کے ڈی اے کے ماتحت تھی۔مذکورہ معاملہ سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کو 13 جنوری 1990 کو ذاتی طور پر ارسال کیا گیا تھا اور مسئلے کے حل کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ تاہم یہ افسوس ناک ہے کہ زمین الاٹ نہیں کی گئی نہ ہی پہلے ادا کیے گئے کروڑوں روپے واپس کیے گئے‘۔

ایک اور مایوس سرمایہ کار کی جانب سے 23 اپریل 2010 کو شائع کیے گئے خط میں لکھا گیا کہ ’ مجھے 120 مربع گز کا پلاٹ الاٹ کیا گیا تھا، جس کے تمام واجبات کلیئر ہیں، میں تاحال الاٹمنٹ کے احکامات سے متعلق سوچ رہا ہوں‘۔

13 مارچ 2019 کو شائع ہونے والے ایک اور خط میں کہا گیا کہ ’ ہمیں ایم ڈے کی جانب سے بیلٹ کے ذریعے 27 فروری 2007 کو تیسر ٹاؤن میں 240 مربع گز پلاٹ کی زمین الاٹ کی گئی تھی، اس بات کو 12 سال ہوگئے ہم زمین کا قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کوئی نتائج حاصل نہیں ہوئے‘۔

تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کا آفیشل فیس بک پیج ایسے افراد کی روداد سے بھرا پڑا ہے جنہیں وقت پر ادائیگی کے باوجود قبضہ نہیں ملا۔

اکثر کی جانب سے یہ نقطہ اٹھایا جاتا ہے کہ کس طرح یہ جگہ بے کار زمین کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ایم ڈی اے ان شکایات کو ’ حریفوں کی جانب سے پروپیگنڈا‘ قرار دے کر مسترد کرتی اور اس حوالے سے بیانات بھی جاری کیے گئے کہ اگر کوئی منفی تشہیر میں ملوث پایا گیا تو اس سے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے ) نمٹے گا‘۔

کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ایم ڈی اے کن ’ حریفوں ‘ پر الزام عائد کررہی ہے؟بہر حال یہ اس رئیل اسٹیٹ کی مالک ہے، تاہم اتھارٹی خود کو نجی ڈیولپر کی طرح ظاہر کرتے ہوئے خریداروں کو متوجہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

’سب ٹھیک ہے‘

نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے پیچھے اپنے دفتر میں سیکریٹری ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) محمد ارشد خان خادمین سے گھرے ہوئے نظر آتے ہیں. یہاں چائے آتی جاتی رہتی ہے کیونکہ ایک کے بعد ایک اسسٹنٹ اسکیم 45 سے متعلق فائلیں اور نقشے ان کے سامنے پیش کرتا رہتا ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے محمد ارشد خان نے بھرپور انداز میں اسکیم 45 کے ایک مرتبہ پھر ناکام ہونے کے ابہام کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ’ آپ ایک ہزار روپے فی مربع گز جگہ کراچی کے کون سے علاقے میں حاصل کر سکتے ہیں؟ ہمارے گرد و نواح میں ہی نجی ڈیولپرز 35 سے 40 ہزار فی مربع گز کی زمین بیچ رہے ہیں۔ یہ ان جعل ساز لوگوں اور پرائیویٹ ڈیولپرز کا پروپیگنڈا ہے جن کے اس علاقے میں مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘

اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے سیکریٹری ایم ڈی اے کا کہنا تھا کہ یہ وہ پلاٹ ہیں جو 2006 سے 2008 کے درمیان فیز ون اور فیز ٹو کی بیلٹنگ کے دوران استعمال نہیں ہوئے تھے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان پلاٹس پر اب تک تعمیراتی کام شروع کیوں نہیں کیا گیا تو انہوں نے ان پلاٹس کے مالکان کو مکمل ادائیگی نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قبل اسکیمز میں 64 فیصد ہی ادائیگی موصول ہوسکی تھی، تاہم ہم نے اب مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ ترتیب دیا ہے جبکہ فیز ون میں لوگوں کو قبضے دیے جارہے ہیں۔

اس کے علاوہ سیکریٹری ایم ڈی اے اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ پلاٹ کا قبضہ حاصل کرنے والے افراد اس زمین پر اپنے گھروں کی تعمیر شروع کریں۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فنڈز کی کمی نے بھی حکام کو بحریہ ٹاؤں میں اہم سڑکیں، بلیوارڈز، پلیہ اور پل بنانے سے نہیں روکا جس نے لوگوں کو اس ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹس خریدنے پر متاثر کیا۔

نہ صرف یہ بلکہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں واقع ہزاروں ایکڑ اراضی، جو ایم ڈی اے کی جانب سے ڈیولپرز کو بطور تحفہ دی گئی تھی، کو اضافی زمین مثلاً کم قیمت ہاؤسنگ اسکیم کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

گزشتہ برس سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ سامنے آیا تھا جس میں بحریہ ٹاؤن کی ضلع ملیر میں ایم ڈی اے سے حاصل کی گئی زمین کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا، ابتدا میں ایم ڈی اے کو سندھ حکومت اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان ڈیل کے لیے پراپرٹی ڈیلر وضع کیا تھا اور ریمارکس دیے تھے کہ اس قسم کے کاروبار غریب عوام کے لیے کوئی معنی نہیں رکھ سکے۔

ایم ڈی اے کی جانب سے دکھائی گئی دستاویزات کے مطابق اب تک صرف 8 سو 7 افراد کو حکام کی جانب سے فیز ون میں ان کے پلاٹس پر قبضہ دیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر اب بھی 59 ہزار 4 سو 81 افراد ایسے ہیں جنہوں فیز ون اور ٹو میں قبضہ دیا جانا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن افراد نے پلاٹ کی کل قیمت کی کچھ اقساط ادا کردی ہیں تو کون سی چیز انہیں قبضہ حاصل کرنے سے روک رہی ہے۔

ایم ڈی اے میں موجود ذرائع کہتے ہیں کہ موسمی سرمایہ کار اور سادہ لوح انسان جانتے ہیں کہ حکام ان کے پلاٹس منسوخ نہیں کریں گے، تاہم اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو وہ سپریم کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرلیں گے۔

جب اسکیم میں سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کی جانب ان کی توجہ مبذول کروائی گئی تو انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر خریدار قبضہ حاصل نہیں کرتے بلکہ بیٹھ کر انتظار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں سرمایہ کار پلاٹس اپنے پاس رکھتے ہیں، تاہم اس مرتبہ اس مشق کو ختم کرنے کے لیے ایسی اسکیم تیار کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صرف ایک شناختی کارڈ پر ایک پلاٹ دیا جارہا ہے جبکہ تمام ادائیگی پوری ہونے کے بعد خریدار سے ترقیاتی چارجز کا مطالبہ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ کام اکیلے نہیں کر سکتے، تاہم تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کو تعمیر کرنے کے لیے کے-الیکٹرک، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کو بھی ساتھ لینے کی ضرورت ہے ورنہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایم ڈی اے کے ساتھ ان اداروں کو گرد و نواح میں چلنے والی اسکمیوں کے لیے کس طرح ساتھ ملایا جاتا ہے تو انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’مجھے نہیں معلوم‘۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ 2016 میں کے ڈبلیو ایس بی نے پہلے ہی ان علاقوں میں پانی کی 4 تین انچ قطر کی پائپ لائنیں دے دی تھیں جب وہاں صرف بحریہ ٹاؤن موجود تھا جبکہ دوسرا کوئی منصوبہ یہاں نہیں پہنچا تھا۔

دریں اثنا رواں برس مارچ میں مقامی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں ایڈیشنل ڈائریکٹر (ڈی جی) ایم ڈی اے سہیل خان نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کہنا نا انصافی ہے کہ حکام کوئی کام نہیں کر رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کارپیٹنگ سڑکیں تعمیر نہیں کی تھیں، لیکن اہم شاہراہوں تک پہنچنے کے لیے مضبوط اور پائیدار راستے بنادیے تھے، اگر 2004 میں ہم کارپیٹنگ سڑکیں بنادیتے تو وہ 2 بارشیں بھی برداشت نہیں کرپاتیں اور عوام ہم پر کرپشن کے الزامات لگا دیتے۔‘

اسی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایم ڈی اے نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں نیو ملیر ہاؤسنگ اسکیم میں 52 کروڑ روپے کے کمرشل پلاٹس بیچ کر ایم ڈی اے اسٹاف کی 4 ماہ کی تنخواہیں دی گئی تھیں، تاہم حادثاتی طور پر ایم ڈی اے کے سابق ڈی جی کے کردار پر بحریہ ٹاؤن کیس میں وسیع انداز میں سوالیہ نشانہ لگایا گیا۔

ایم ڈی اے کی جانب سے اسکیم 45 میں حاصل کی جانے والی مشاورتی سروس کی تاریخ بھی قابل بیان کہانی ہے، جہاں 2003 میں ایم ڈی اے نے پہلی مرتبہ ای سی آئی ایل پرائیویٹ لمیٹڈ کی خدمات حاصل کی تھیں جس کا مقصد علاقے میں سروے، تحقیقات، منصوبے کے ڈیزائن کی تیاری اور اسکیم میں تعمیراتی کام کی نگرانی کرنا تھا۔

اس کمپنی کے بارے میں ایم ڈی اے نے بتایا تھا کہ یہ ایک معتبر ادارہ ہے جس کے پاس 19 ممالک میں کام کرنے کا تجربہ موجود ہے۔

دوسری جانب ای سی آئی ایل کی ویب سائٹ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں ’ ماسٹر پلاننگ 20 ہزار 5 سو 70 ایکٹر برائے تیسر ٹاؤن اسکیم 45‘ کا خلاصہ دیکھا جاسکتا ہے جس میں اس منصوبے کی حیثیت ’جاری ہے‘ لکھی ہوئی ہے۔

تقریباً 10 سال قبل 2009 میں وفاقی وزارت مواصلات نے 2007 میں کراچی کے علاقے شیرشاہ میں پل گرنے کی انکوائری رپورٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ساتھ ای سی آئی ایل کو ہی اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے مذکورہ پل کا افتتاح کرنے کے 20 روز بعد ہی یکم ستمبر 2007 کو ہی یہ پل گر گرگیا تھا جس میں تقریباً 6 لوگ مارے گئے تھے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے جبکہ قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔

وزارت مواصلات کی جانب سے رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ ای سی آئی ایل کو فوری طور پر حکومت کی جانب سے منظور شدہ مشاورتی کمپنیوں کی فہرست میں سے نکال دیا جائے جبکہ اس کمپنی کا نام 2015 میں ملتان ایئرپورٹ کی ناقص تعمیرات کے سلسلے میں بھی منظر عام پر آیا تھا۔

اتنا خراب ماضی رکھنے کے باوجود ایم ڈی اے حکام نے تیسر ٹاؤن اسکیم کے لیے ای سی آئی ایل کی ہی خدمات حاصل کیں۔

دریں اثنا انتظامی مشاورتی کمپنی پیراگون پرائیویٹ لمیٹڈ کی اسکیم 45 کے لیے خدمات حاصل کی گئیں، جو پہلے ہی ایم ڈی اے کی جانب سے خراب کارکردگی پر بلیک لسٹ کی گئی تھی تاہم اس کی دوبارہ خدمات حاصل کرلی گئیں۔

افغانیوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں سے زمین واگزار کروانے سے متعلق سیکریٹری ایم ڈی اے کہتے ہیں کہ حکومت ان کو دوسری جگہ منتقل کرے گی۔‘

ان آباد کاروں نے ایک ہزار سے زائد جھونپڑیوں اور کچے گھروں پر مشتمل پورا ایک قصبہ بنالیا ہے۔ یہ لوگ 2013 میں یہاں آئے تھے جنہیں وفاقی حکومت نے 2015 تک یہاں رہنے کی اجازت دی تھی تاہم جسے بڑھا کر 2019 تک کردیا گیا تھا۔

تاہم ایم ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ اس نے انسداد تجاوات مہم چلاتے ہوئے یکم اپریل کو اسکیم کے سیکٹر 11 کی تقریباً 45 ایکڑ زمین واگزار کروائی اور غیر قانونی تعمیرات کو گرادیا گیا۔

پروفیسر نعمان کہتے ہیں کہ ایم ڈی اے کو ایک طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے جو اس اسکیم کو موثر بنانے کے ساتھ غریب عوام کو فائدہ بھی پہنچائے جبکہ انہوں نے زور دیا کہ حکام کو ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جنہیں فوری طور پر گھر کی ضرورت ہے۔

دریں اثنا 31 مارچ جیسے ہی قریب آئی تو سلک بینک کے باہر اسکیم میں شامل ہونے والوں کی ایک لمبی قطار لگ گئی۔

تاہم لوگوں کی اتنی دلچسپی اور ممکنہ وصولی کو دیکھتے ہوئے ایم ڈے اے حکام نے فارم جمع کروانے کی تاریخ کو 31 مارچ سے بڑھا کر پہلے 15 اپریل اور پھر 23 اپریل تک کردیا تھا۔

لیکن اس وقت تک کروڑوں روپے ایم ڈی اے کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کیے جاچکے تھے، جبکہ کمپیوٹر کی مدد سے قرعہ اندازی کا اعلان نہیں کیا گیا تھا، اس کے باوجود ایم ڈی اے کے لیے موصول ہونے والی رقم اپنا منافع حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔

اب تک قرعہ اندازی کے لیے تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 6 ماہ تک قرعہ اندازی کا کوئی امکان نہیں ہے، تاہم اسے 60 روز کے اندر ہوجانا چاہیے، تب تک جمع ہونے والے اربوں روپے اپنا منافع حاصل کرلیں گے۔

اس تمام پس منظر میں ایک چیز واضح ہے کہ اب تک ایم ڈی اے کے منصوبے کاغذ پر بہت مضبوط ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان منصوبوں کے پلاٹ حاصل کرنے والے افراد کی دستاویزات پر گرد جم رہی ہے جبکہ ان کے پلاٹس پر ریت اُڑ رہی ہے۔


یہ رپورٹ 06 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی