ای میل

تھیلیسیمیا کیا ہے؟ اور اس سے نجات کس طرح ممکن ہے؟

تحریر و تصاویر: امجد علی سحاب

اس کی روشن آنکھیں اور پھول جیسے کھلتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کسے گمان گزر سکتا تھا کہ وہ بیمار ہے۔ میں جب بھی اسے وارڈ میں دیکھتا، مسکان زیرِ لبی کے ساتھ وہ میرا استقبال کرتی۔ گلاس پینٹنگ میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ وہ جتنے بھی پیسے کماتی، اس کا بیشتر حصہ اپنے علاج پر خرچ کرنا اس کی مجبوری ہوچکی تھی۔

اس کا نام مہوش تھا۔ 25 یا 26 کے پیٹے میں تھی، مگر خون کے موذی مرض (تھیلیسیمیا) نے اس کی جسمانی ساخت پر اثر کر رکھا تھا۔ 26 سال جم کر لڑی مگر کیا کیا جائے کہ تھیلیسیمیا ہے ہی ایسی بیماری جس کے آگے بالآخر ہار ماننا ہی پڑتی ہے۔

یہ اکیلے مہوش کی کہانی نہیں بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں ہزاروں پھول جیسے معصوم بچے خون کی اسی موذی بیماری سے متاثر ہیں، جب کہ میری جنم بھومی سوات میں اس بیماری سے متاثر بچوں کی تعداد تقریباً 3 ہزار کے قریب ہے۔

تھیلیسیمیا سینٹر میں متاثرہ بچوں کو خون کے عطیات دیے جا رہے ہیں
تھیلیسیمیا سینٹر میں متاثرہ بچوں کو خون کے عطیات دیے جا رہے ہیں

خون کی منتقلی کا تکلیف دہ عمل 3 سے 4 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے
خون کی منتقلی کا تکلیف دہ عمل 3 سے 4 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے

بلاشبہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع سوات میں صوبے کے دیگر ڈویژن اور اضلاع کے مقابلے میں یہ شرح زیادہ ہے۔ یہ خطرناک ترین صورتحال اس وقت مزید پریشان کن بن جاتی ہے جب مالاکنڈ ڈویژن میں بالعموم اور ضلع سوات میں بالخصوص حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔

آئیے سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ تھیلیسیمیا ہے کیا چیز؟ اور کیا واقعی بیرونی حملہ آور اسے اپنے ساتھ لائے تھے؟

اس حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ سعید اپنے ایک تحقیقی مقالے ’تھیلیسیمیا سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟‘ میں لکھتی ہیں کہ ’تھیلیسیمیا خون کے اس مرض کو کہتے ہیں جس میں معیاری خون ناکافی بنتا ہے۔ یہ خون میں ہیموگلوبن کا پیدائشی نقص ہے۔ اس کی 3 اقسام ہیں:

تھیلیسیمیا مائنر

ڈاکٹر فوزیہ سعید تھیلیسیمیا مائنر کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’جو لوگ والدین میں سے ایک سے نارمل اور ایک سے ابنارمل جین حاصل کرتے ہیں، ان کو تھیلیسیمیا مائنر کہتے ہیں۔ ان میں بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوتی۔ لیکن یہ ابنارمل جین اپنے بچے کو منتقل کرسکتے ہیں۔‘

تھیلیسیمیا انٹر میڈیا

تھیلیسیمیا انٹر میڈیا کے حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ رقم کرتی ہیں کہ ’یہ تھیلیسیمیا کی درمیانی قسم ہے، جس میں ہیموگلوبن 7 سے G9 تک رہتی ہے اور تھیلیسیمیا میجر کے مقابلے میں اس میں مریض کو خون لگوانے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ تاہم اس میں ’سائیڈ افکیٹس‘ آسکتے ہیں اور پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔‘

تھیلیسیمیا میجر

تھیلیسیمیا میجر کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ ’یہ خون کی خطرناک بیماری ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کو بروقت خون نہ دیا جائے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘

متاثرہ بچوں کو خون منتقل کیا جارہا ہے
متاثرہ بچوں کو خون منتقل کیا جارہا ہے

خون کی منتقلی کا عمل جاری ہے
خون کی منتقلی کا عمل جاری ہے

تھیلیسیمیا کی تاریخ کیا ہے؟

تھیلیسیمیا کی تاریخ سکندرِ اعظم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ بیماری ہرگز خیبرپختونخوا، مالاکنڈ ڈویژن یا سوات کی اپنی بیماری نہیں ہے۔ اس بارے میں الفجر فاؤنڈیشن سوات (تھیلیسیمیا سینٹر) کے ایڈمنسٹریٹر رحمان علی ساحل کہتے ہیں کہ ’سکندر اعظم اسے جنوبی ایشیا پر حملہ آور ہوتے وقت سیکڑوں سال پہلے اپنے ساتھ یونان سے لائے تھے‘۔

رحمان علی ساحل کی اس بات پر مہرِ تصدیق ڈاکٹر اندرولا الیفتھیریو اپنی انگریزی کتاب میں ثبت کرتے ہیں جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر جویریہ منان ’جانیے تھیلیسیمیا‘ کے صفحہ نمبر 8 پر کچھ اس انداز میں کرتی ہیں کہ ’تھیلیسیمیا ایک یونانی لفظ ’تھیلس‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب سمندر ہے۔ چونکہ یہ بحیرہ روم کے ارد گرد پایا جاتا تھا اور امریکی ماہرِ اطفال تھامس کولی نے ڈاکٹر پرل لی کے ساتھ مل کر پہلی بار 1927ء میں اس کی خصوصیات بیان کیں جو اٹلی کے مریضوں میں مشاہدہ کی گئیں۔‘

مذکورہ کتاب کے صفحہ 118 پر درج ہے کہ 'آغاز میں تھیلیسیمیا ایک خطے کی بیماری سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے۔ یہ جنوب یورپ میں پرتگال سے اسپین، یونان اور وسطی یورپ کے علاوہ روس کے کچھ علاقوں میں بھی موجود ہے۔ وسطی ایشیا میں یہ ایران، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور شمالی چین کے علاوہ افریقہ کے جنوبی ساحل اور جنوبی امریکہ میں بھی موجود ہے۔

حوصلہ افزا بات کتاب کے صفحہ 119 پر کچھ یوں درج ہے: ’اٹلی، یونان اور سائپرس جیسے ممالک نے کامیاب قومی روک تھام کے منصوبوں سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ تھیلیسیمیا میجر پر قابو پایا جاسکتا ہے'۔

واضح رہے کہ تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ والدین سے جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری مریض سے انتقالِ خون، ہوا، پانی، جسمانی یا جنسی تعلق سے منتقل نہیں ہوسکتی اور نہ خوراک کی کمی یا طبی بیماری سے۔ اس حوالے سے رحمان علی ساحل کہتے ہیں کہ 'اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کو تھیلیسیمیا مائنر ہو، تو بچے کو بھی تھیلیسیمیا مائنر ہی ہوگا۔ اگر خدا نخواستہ ماں باپ دونوں کو تھیلیسیمیا مائنر ہو تو ان کے ملاپ سے جنم لینے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر ہوگا۔ اس لیے ضروری بات یہ ہے کہ اگر خاندان کے اندر شادی ہونے جا رہی ہو، تو لڑکا لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔ اگر مائنر بیماری دونوں میں پائی جائے، تو شادی روک دی جائے۔ اس طرح باآسانی تھیلیسیمیا کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔

یہ ایک بیگ خون متاثرہ بچوں کی ایک ماہ کی زندگی ہے
یہ ایک بیگ خون متاثرہ بچوں کی ایک ماہ کی زندگی ہے

عطیہ کیے گئے خون کا جائزہ لیا جا رہا ہے
عطیہ کیے گئے خون کا جائزہ لیا جا رہا ہے

پورے مالاکنڈ ڈویژن کی لاکھوں آبادی اور تقریباً 6 ہزار مریضوں کے واحد تھیلیسیمیا سینٹر الفجر فاؤنڈیشن کے کوورڈینیٹر وجاہت علی کے بقول تھیلیسیمیا کی بیماری پورے ملک میں سب سے زیادہ پشتون بیلٹ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پاکستان میں اس وقت 80 ہزار سے زائد بچے تھیلیسیمیا سے متاثر ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وہ علاقے جہاں پشتون زیادہ تعداد میں آباد ہیں اور وہ خاندان کے اندر شادیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی نسل میں تھیلیسیمیا کی شرح زیادہ ہے۔ اس موذی مرض کا راستہ روکنے کے لیے سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ خاندان کے اندر ہونے والی شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ اگر ایسا کرنا کچھ خاندانوں کے لیے مشکل ہو، تو پھر چاہیے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔‘

سوات کی مصروف شاہراہ پر تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی واک کا منظر
سوات کی مصروف شاہراہ پر تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی واک کا منظر

مینگورہ شہر میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں متاثرہ بچے شریک ہیں
مینگورہ شہر میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں متاثرہ بچے شریک ہیں

تھیلیسیمیا کے ماہرین کے مطابق اگر بیماری کا علاج نہیں ہے، تو ہم سب اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ اس کے حوالے سے آگاہی مہمات چلائیں، شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کروائیں اور سب سے بڑھ کر خاندان کے اندر شادیوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ تب کہیں جاکر ہم اس موذی مرض کے گرد دائرہ ڈالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔


امجد علی سحاب روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔