ای میل

صحرائے تھر جین مندروں کا امین بھی ہے

اختر حفیظ

صحرا کا خیال آتے ہی ذہن میں اُڑتی ریت کا تصور پیدا ہونے لگتا ہے اور وجود کسی سراب کے گرد گھومتا محسوس ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صحرا محض اُڑتی ریت، ویرانی، دھوپ اور مصیبتوں سے بھری زمین کا نام نہیں ہے بلکہ یہاں ہر رنگ میں زندگی کا وجود بسا مل جاتا ہے۔

آج جہاں تاحدِ نظر ریت ہی ریت ہے، کہیں کوئی اِکا دُکا درخت کسی تھکے ہارے مسافر کے لیے تپتی دھوپ میں چھاؤں کا سامان بن کر کھڑا ہے، وہ صحرا کسی زمانے میں سمندر تھا، ذرا تصور کیجیے اس زمانے میں یہاں کا رنگ و روپ کیسا رہا ہوگا؟

آج سے ہزاروں برس قبل تھر سمندر کا حصہ تھا، مگر یہ وقت کی کارستانی ہے کہ صحرا سمندر بن جاتے ہیں اور سمندر صحراؤں کا روپ دھار لیتے ہیں، لیکن کسی بھی صحرا کے رنگ تب کھل اٹھتے ہیں جب وہاں بارش کی پھوار برستی ہے اور بے جان سی نظر آنے والی ریت پر جابجا ہریالی کی صورت ایک نئی زندگی کا جنم ہوتا ہے۔

سندھی میں تھر کے حوالے سے ایک کہاوت ہے کہ ’وٹھو تہ تھر نہ تہ بر ئی بر‘ (برسات ہے تو تھر ہے ورنہ ویرانہ ہی ویرانہ ہے) اس لیے اس صحرا میں خوشی اور شادمانی بارش سے مشروط ہے۔

صحرائے تھر میں واقع بھوڈیسر تالاب—اختر حفیظ
صحرائے تھر میں واقع بھوڈیسر تالاب—اختر حفیظ

میں صبح سورج طلوع ہونے سے قبل ہی تھر کے سفر پر نکل پڑا۔ حیدرآباد سے تھر تک اب سڑکیں کافی اچھی بنی ہوئی ہیں، اس لیے ماضی کے مقابلے میں سفر بہت حد تک آسان ہوگیا ہے۔

مجھے اس بار نگر پارکر اور اس کے آس پاس موجود جین مت کے ان مندروں کو دیکھنا تھا، جنہیں دیکھنے کے بعد انہیں تعمیر کرنے والے مزدوروں کی کاریگری پر واہ واہ کیے بغیر رہا نہیں جاسکتا۔ نگر پارکر جانے سے قبل تھر کا پہلا خوبصورت اور پُرسکون شہر مٹھی آتا ہے۔ جہاں سے آگے کا سفر اور بھی آسان ہے۔

سندھ صدیوں تک جین مت کے پیروکاروں کے اہم مراکز میں سے ایک بنا رہا، مگر اب یہاں ان کے بنائے ہوئے مندر ہی رہ گئے ہیں، کیونکہ اب یہاں جین مت کا ماننے والا ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اس خطے میں جین مت کے اب 4 اہم ترین مندر ہی رہ گئے ہیں، اور ان کی حالت بھی دن بہ دن خستہ حالی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

جین مندر —تصویر اختر حفیظ
جین مندر —تصویر اختر حفیظ

صحرائے تھر میں واقع ایک جین مندر کا اندرونی منظر—تصویر اختر حفیظ
صحرائے تھر میں واقع ایک جین مندر کا اندرونی منظر—تصویر اختر حفیظ

اگر جین مت کی تاریخ پر نظر ڈالی جائی تو پتا چلتا ہے کہ جین مت میں 24 گرو ہیں، سب سے پہلا رشبھ ناتھ اور آخری مہاویر ہے۔ مہاویر اپنے پیشرو پارس ناتھ (777 قبل مسیح) کے بتائے ہوئے راستے پر چلا، جوکہ تاریخی دور میں پہلا اور جین مت کی دیومالائی قصوں میں 23واں ’تیر تھنکر‘ تھا۔

جین مت میں دو قسم کے طبقات ہیں، ایک ’گرہست‘ یعنی خاندان بنا کر رہنے والے جو شادی کرتے ہیں، روزگار کرتے ہیں اور مذہبی احکامات کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، جبکہ دوسرا ’شراوک‘ ہے، سادھو یا شرامن کہلانے والے یہ لوگ پرہیزگاری کی زندگی گزارتے ہیں اور سنگھا (جماعت) بنا کر جین مت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ یہ لوگ دُور دُور تک ویرانوں میں بھٹکتے ہیں، بدھ بکھشوؤں کی طرح چلتے رہتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں ایسے کئی قدیم آثار پائے جاتے ہیں جن کا تعلق جین مت سے ہے۔

جین مت میں تیر تھنکر ہونا ایک اعلیٰ مقام پانے کے مساوی ہوتا ہے۔ کوئی بھی تیر تھنکر ایک ایسا سادھو ہوتا ہے جو پیار اور نفرت کی حدود پار کرکے دھیان کے ذریعے مکمل شعور حاصل کرلیتا ہے۔ جین تنظیم قائم کرتا ہے اور یہ عظیم سادھو اپنے گیان کے مطابق طریقت قائم کرکے دنیا کے تمام تر لوگوں کو جہالت، موہ مایا اور دنیاوی پیار سے دُور کرتا ہے، یعنی نجات کی راہ دکھاتا ہے۔ اس میں ہر ایک تیر تھنکر کو شناخت کے لیے الگ الگ نشانی بھی دی گئی ہے۔ جیسے بیل، مچھلی یا ہاتھی وغیرہ۔

جین مندر میں سنگ تراشی کا خوبصورت نمونہ— تصویر اختر حفیظ
جین مندر میں سنگ تراشی کا خوبصورت نمونہ— تصویر اختر حفیظ

جین مندر کی 1991ء میں عکس بند کی جانے والی ایک تصویر—بشکریہ بدر ابڑو
جین مندر کی 1991ء میں عکس بند کی جانے والی ایک تصویر—بشکریہ بدر ابڑو

میں نے صحرا کا یہ سفر صدیوں سے موجود جین مندروں کو دیکھنے کے لیے طے کیا تھا۔ یہ اس زمانے کے مندر ہیں جب جین مت کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد یہاں آباد تھی۔

ڈاکٹر عبدالمجید میمن سندھی اپنے مضمون ’تھر میں جین دھرم‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہندوستان میں ہندو دھرم کے ردِعمل میں 2 تحریکیں وجود میں آئیں، بُدھ اور جین، آگے چل کر دونوں نے جدا جدا مذاہب کا روپ اختیار کیا یعنی بدھ دھرم اور جین دھرم وجود میں آئے۔ جین تحریک بدھ مت کی ہم عصر ہے۔ جین مت ہندوستان سے باہر نہیں گیا۔

’جین مت کے عقیدے کے مطابق جین مت ایک قدیم مذہب ہے، موجودہ جین مت کے بانی مہاویر سے قبل 23 دھرم نیتا (تیر تھنکر) ہو کر گزرے ہیں، جنہوں نے مختلف زمانوں میں جین دھرم کی تبلیغ کی۔ جین دھرم کی روایتوں کے مطابق ان کی عمریں ناقابلِ یقین حد تک طویل تھیں اور وہ بہت ہی طویل القامت تھے۔

اس زمانے میں ہندوستان میں گوتم بدھ، چین میں کنفیوشس اور لائوزی اور ایران میں زرتشت اپنے اپنے مذاہب کی تبلیغ میں مصروف تھے۔ گوتم بدھ کی طرح مہاویر بھی ایک خوشحال گھر میں پیدا ہوئے، جب وہ 30 برس کے ہوئے تو دنیا کو ترک کرکے 23ویں دھرم نیتا پرسوناتھ کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ 12 برس تک برہنہ رہے اور راہبانہ زندگی گزاری۔ اس پورے زمانے میں وہ جنگلوں میں پھرتے رہے۔‘

اس تاریخی علاقے میں سڈونت سارنگا کے عشق کی داستان مشہور ہے، جس کو یہاں کے مقامی شعرا نے خوب اپنا موضوع بنایا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پاری نگر پر راجا سالیواہن راج کرتا تھا، اسے سڈونت نامی ایک بیٹا تھا جبکہ سارنگا جین دھرم کی ایک امیر کاروباری کی بیٹی تھی۔ جب سارنگا 14 برس کی ہوئی تب اس کے والدین نے جین دھرم کے ایک امیر بیوپاری کے بیٹے سے شادی کرادی، پھر سڈونت اس کی محبت میں پارکر کو چھوڑ کر آجین جا پہنچا۔

مٹھی شہر سے نکلنے کے بعد سب سے پہلا جین مندر گوڑی جو مندر ہے۔

گوڑی مندر

یہ مندر درحقیقت یہاں تعمیر کیے گئے تمام مندروں میں سب سے خوبصورت تھا، مگر اب یہ مندر بھی زبوں حالی کا شکار ہو رہا ہے۔ اس مندر کا نصف حصہ منہدم ہوچکا ہے۔ 7 حصوں پر مشتمل یہ مندر ریتلے میدان پر تعمیر کیا گیا ہے۔

گوڑی مندر کی کچھ سال پرانی تصویر—تصویر بدر ابڑو
گوڑی مندر کی کچھ سال پرانی تصویر—تصویر بدر ابڑو

اس مندر میں 3 مرکزی گنبد جبکہ اس کے اندر 24 چھوٹی چھوٹی کٹیائیں بنائی گئی ہیں جو درحقیقت 24 تیر تھنکروں کی علامت ہیں۔ جہاں جین مت کے تبلیغ کرنے والے اپنی عبادات کیا کرتے تھے اور وہیں خود کو تنہائی میں دنیا سے الگ تھلگ جین مت کا وہ مقام حاصل کرنے میں مشغول ہوجاتے تھے جس کے بنا ان کی عبادت بے سود تھی۔

گوڑی مندر—تصویر اختر حفیظ
گوڑی مندر—تصویر اختر حفیظ

گوڑی مندر کا اندرونی حصہ—تصویر اختر حفیظ
گوڑی مندر کا اندرونی حصہ—تصویر اختر حفیظ

گوڑی مندر کے اندر نقش و نگاری—تصویر اختر حفیظ
گوڑی مندر کے اندر نقش و نگاری—تصویر اختر حفیظ

گوڑی مندر کی دیوار میں گڑی مورتیاں—تصویر اختر حفیظ
گوڑی مندر کی دیوار میں گڑی مورتیاں—تصویر اختر حفیظ

یہ مندر ویرا واہ سے 23 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں سنگِ مرمر کا پتھر استعمال کیا گیا ہے اور اس کے 7 حصوں کے نام رنگ منڈپ، اردھ منڈپ، مہا منڈپ، منڈپ، انترالہ گربھ اور دیوا کلیکا ہیں۔ مندر اندر سے کافی کشادہ ہے اور کئی ستون اس کو سہارا دیے ہوئے کھڑے ہیں۔ اگر اندر کی بات کریں تو کئی نقش و نگار بھی بنے ہوئے ہیں جو جین مت کے تیر تھنکروں اور ان سے منسوب علامتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے ستونوں پر بھی نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ اسی مندر کے عقب میں ایک غار موجود ہے جس کے اندر ایک تہہ خانہ بنایا گیا ہے۔

گوڑی مندر—تصویر اختر حفیظ
گوڑی مندر—تصویر اختر حفیظ

گوڑی مندر کا وہ حصہ جو منہدم ہوچکا ہے—تصویر اختر حفیظ
گوڑی مندر کا وہ حصہ جو منہدم ہوچکا ہے—تصویر اختر حفیظ

گوڑی مندر کا اندرونی منظر—تصویر اختر حفیظ
گوڑی مندر کا اندرونی منظر—تصویر اختر حفیظ

گوڑی مندر—تصویر اختر حفیظ
گوڑی مندر—تصویر اختر حفیظ

ویرا واہ بھوَن

یہ ایک چھوٹا لیکن نہایت ہی خوبصورت مندر ہے۔ آج بھی یہ کافی بہتر حالت میں نظر آتا ہے اور اس کے آس پاس کا احاطہ بھی کافی وسیع ہے۔ ویرا واہ وہیں ہے جہاں کسی زمانے میں پاری نگر ہوا کرتا تھا۔ پاری نگر کا یہ علاقہ اپنے زمانے میں ایک اہم کاروباری مرکز رہا ہے۔

جب یہاں سمندر تھا، اس زمانے میں جین مت کے لوگ یہاں تجارت کیا کرتے تھے۔ یہاں جہاز لنگر انداز ہوا کرتے تھے اور پاری نگر میں جین مت کی آبادی دیگر مذاہب کے لوگوں سے زیادہ تھی۔

ویرا واہ مندر—تصویر اختر حفیظ
ویرا واہ مندر—تصویر اختر حفیظ

ویرا واہ مندر—تصویر اختر حفیظ
ویرا واہ مندر—تصویر اختر حفیظ

ویرا واہ کے گنبد کا اندرونی منظر—تصویر اختر حفیظ
ویرا واہ کے گنبد کا اندرونی منظر—تصویر اختر حفیظ

اس مندر کے دیواروں اور ستونوں پر نقش و نگاری دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مندر میں مورتیاں بھی نظر آتی ہیں جو گنبد اور دروازے پر ہیں۔ رائے چند ہریجن اپنی کتاب تاریخِ ریگستان میں لکھتے ہیں کہ ’پاری نگر کے برباد ہونے کے بعد جب ویرا واہ آباد ہوا تو لوگوں نے بچے ہوئے بت اسی مندر میں رکھے۔ پھر ایک بڑا بت سیاہ ہوگیا تھا جو پاری نگر کے برابر میں موجود ہے۔‘

یہ مندر 4 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے سیڑھی، اردھا منڈپ کے حصے 4 ستونوں پر کھڑے ہیں۔ تیسرے حصے یعنی منڈپ کی دیواروں پر تصاویر بنائی گئی ہیں۔ چوتھا حصہ شکھر ہے، جہاں دیوتا کی مورتی رکھی جاتی تھی۔

ویرا واہ مندر —تصویر اختر حفیظ
ویرا واہ مندر —تصویر اختر حفیظ

ویرا واہ مندر کا ایک ستون—تصویر اختر حفیظ
ویرا واہ مندر کا ایک ستون—تصویر اختر حفیظ

پونی مندر

یہ خوبصورت جین مندر نہایت خستہ حالی کا شکار ہے۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کچھ عرصے بعد شاید اس کا وجود بھی باقی نہ رہے۔ یہ مندر بھوڈیسر تالاب کے پاس واقع ہے۔ یہ مندر دیگر مندروں کے مقابلے میں بلند تو ہے مگر باقیوں کی طرح بڑے رقبے پر نہیں پھیلا۔

معروف محقق اور ماہر آثارِ قدیمہ بدر ابڑو اپنی کتاب ’سندھ میں جین مت‘ میں اس مندر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’پونی مندر کا شکھر زمینی سطح سے 15 سے 16 میٹر اوپر ہے۔ یہ شکھر 10 بائے 10 میٹر جگہ گھیرتا ہے۔‘

پونی مندر—تصویر اختر حفیظ
پونی مندر—تصویر اختر حفیظ

پونی مندر کا خستہ حال شکھر—تصویر اختر حفیظ
پونی مندر کا خستہ حال شکھر—تصویر اختر حفیظ

پونی مندر—تصویر اختر حفیظ
پونی مندر—تصویر اختر حفیظ

پونی مندر—تصویر اختر حفیظ
پونی مندر—تصویر اختر حفیظ

اس مندر میں کافی پائیدار پتھر کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ اس کی دیواروں پر بھی مورتیاں بنی ہوئی ہیں. اس کا بالائی نصف حصہ منہدم ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے مندر کی شکل بگڑ سی گئی ہے۔ اس مندر کا زوال اس وقت آیا جب 2001ء میں ہندوستان کے علاقے بھج میں زلزلہ آیا تھا۔ اس زلزلے کا اثرات صحرائے تھر پر بھی پڑے اور پونی مندر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ آج اس مندر کے ستون بھی مندر کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں مگر ایک اچھی بات یہ بھی ہے اس مندر کا مرمتی کام جاری ہے۔

نگر پارکر جین مندر

یہ مندر نگر پارکر شہر کے مرکزی بازار میں واقع ہے۔ یہ بھی ایک کشادہ مندر ہے۔ مندر میں صحن کے ساتھ گوشالہ بھی ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے جین مت کے ماننے والوں نے یہ 1357ء سے 1449ء کے بیچ میں تعمیر کروایا تھا۔ مگر مندر کے آرائشی کام کو دیکھا جائے تو وہ آنکھوں کو موہ لیتا ہے۔ مندر میں طوطے، شیر، ہاتھی اور دیگر جانوروں کی مورتیاں بھی گڑی ہوئی ملتی ہیں۔ اس کا شکھر بھی کافی خوبصورت اور مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ مرکزی دروازے پر اژدہے کی شبیہہ بنی ہوئی ہے کیونکہ اژدہا محافظ دیوتاؤں میں شامل کیا جاتا ہے۔

نگر پارکر جین مندر—تصویر اختر حفیظ
نگر پارکر جین مندر—تصویر اختر حفیظ

نگر پارکر جین مندر—تصویر اختر حفیظ
نگر پارکر جین مندر—تصویر اختر حفیظ

اس مندر کے 4 دروازے ہیں، جن میں سے ایک مغرب کی جانب اردھا منڈپ میں کھلتا ہے، دوسرا، مشرق کی جانب انتریالہ کی جانب جاتا ہے۔ بقیہ 2 حصے شمال اور جنوب کی جانب گول چکر لگانے کے لیے مخصوص جگہ کی جانب جاتے ہیں۔ اس مندر کے منڈپ میں دیواروں پر گہرے نیلے رنگ کی نقش و نگاری دیکھی جاسکتی ہیں۔ مندر میں کنول کے پھول بھی بنائے گئے ہیں جو کاریگروں کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

تھر جیسے ریگستان میں ان مندروں کی موجودگی اور جین مت سے جڑے کئی قصے کہانیوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ خطہ کسی زمانے میں بے حد عالیشان رہا ہوگا۔

نگر پارکر جین مندر—تصویر اختر حفیظ
نگر پارکر جین مندر—تصویر اختر حفیظ

نگر پارکر جین مندر—تصویر اختر حفیظ
نگر پارکر جین مندر—تصویر اختر حفیظ

افسوس کہ آج یہ سب اجڑ رہا ہے، وہ تہذیب جس کا ذکر لوگوں کے منہ سے سنا یا کتابوں میں پڑھا جاتا ہے اس کا حال جب آنکھوں سے دیکھا تو دکھ ہوتا ہے۔ یہ مندر محض عبادت گاہیں نہیں ہیں بلکہ اس تہذیب کا اہم ترین حصہ ہیں جس کی علامت اب صرف ان مندروں میں ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔


اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔