نئے پاکستان کا پہلا سال اور متنازع بیانات

ایک سال کے دوران وزیراعظم عمران خان سمیت مختلف وزرا ایسے کئی بیانات دے چکے ہیں جنہوں نے تنازعات کو جنم دیا۔
اپ ڈیٹ اگست 19, 2019 04:27pm

ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بھی جولائی 2018 کے عام انتخابات سے قبل بلند و بانگ دعوے کرتے رہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وزرا نے ایک سال کے دوران ایسے کئی بیانات بھی دیئے جنہوں نے نہ صرف کئی تنازعات کو جنم دیا بلکہ اپوزیشن کو بھی خوب تنقید کا موقع دیا۔

وزیر اعظم و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ایسے کئی بیانات دیئے جن سے نہ صرف ملکی سیاست میں طوفان آیا بلکہ عوام کی جانب سے بھی ان پر تنقید کی گئی۔

ایک سال کی حکومت کے دوران ہی وزرا کے منفی اور متنازع بیانات اس قدر بڑھ گئے کہ فیاض الحسن چوہان کو ایک متنازع بیانات کی پاداش میں صوبہ پنجاب کی وزارت اطلاعات چھوڑنا پڑی۔

وزیر اعظم عمران خان

'یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا'

پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار سنبھالے چند ماہ ہی گزرے تھے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایسا بیان دیا جس نے ملکی سیاست میں ہلچل سی مچادی۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 'یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب رہنما نہیں ہوتا اور جو یوٹرن لینا نہیں جانتا، اس سے بڑا بےوقوف لیڈر کوئی نہیں ہوتا۔'

عمران خان کا کہنا تھا کہ 'تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔'

ان کے اس بیان پر جب شدید تنقید سامنے آئی تو وزرا اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما تو اپنی جگہ، خود عمران خان اپنا دفاع کرتے دکھائی دیئے اور اگلے بیان میں کہا کہ 'مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یو ٹرن لینا عظیم لیڈر شپ کی شناخت ہو تی ہے، جبکہ چوری شدہ دولت کو بچانے کے لیے جھوٹ بدیانت لوگوں کی شناخت ہوتی ہے۔'

افغانستان میں نگراں حکومت

مارچ میں وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ 'افغان حکومت افغان امن عمل میں رکاوٹ ہے اور طالبان سے بات چیت کے لیے افغانستان میں نگراں حکومت بننی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے افغان طالبان کے ساتھ حال ہی میں ایک ملاقات افغان حکومت کی خواہش پر ملتوی کی، جسے اس ملاقات پر اعتراض تھا۔

عمران خان کے اس بیان پر افغانستان میں نہ صرف حکومت بلکہ افغان سیاستدانوں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

بعد ازاں پاکستانی وزارت خارجہ نے وزیر اعظم کے بیان کی وضاحت دیتے ہوئے بیان میں کہا کہ 'عمران خان کا حال ہی میں افغانستان کے بارے میں دیا گیا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جس کی وجہ سے غیر ضروری رد عمل کا اظہار کیا گیا۔'

بیان میں کہا گیا کہ عمران خان نے پاکستانی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے بات کی تھا جہاں نگراں حکومت، انتخابات کرانے کی ذمہ دار ہوتی ہے لہٰذا اس بیان کو قطعی طور پر اس حیثیت میں نہ لیا جائے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کر رہے تھے۔

ایران میں دہشت گردی کے لیے پاکستان کی سرزمین کا استعمال

اپریل میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ ایران کے دوران ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایک ایسا بیان دیا جس نے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔

دہشت گردی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملک میں مکمل یکجہتی کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کسی دوسرے ملک میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل بلوچستان میں ایران سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان کے 14 سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا اور وہ جانتے ہیں کہ ماضی میں ایران کو بھی ایسے عسکریت پسندوں نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جنہوں نے اس کے لیے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے سیکیورٹی سربراہان مل کر ایسا لائحہ عمل تیار کریں گے جس سے اس کا تدارک کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہو سکے۔

جرمنی اور جاپان 'ہمسایہ' ممالک

اپنے اسی دورہ ایران کے دوران تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جرمنی اور جاپان نے دوسری جنگ عظیم کے دوران لاکھوں لوگوں کو ہلاک کیا، تاہم اس عالمی جنگ کے بعد دونوں ملکوں نے اپنے سرحدی علاقوں میں مشترکہ طور پر صنعتیں قائم کر لیں اور یوں ان دونوں 'ہمسایہ' ممالک میں تعلقات بگڑنے کا سوال ہی باقی نہیں رہا۔

عمران خان کے ان دونوں بیانات پر پاکستان کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی اور اپوزیشن نے وزیر اعظم پر الزام عائد کیا کہ عمران خان نے ایران میں قومی سلامتی کو نشانہ بنایا۔

ارکان نے وزیر اعظم کے جاپان اور جرمنی سے متعلق بیان کو بھی تمسخر کا نشانہ بنایا جس میں وزیر اعظم نے دونوں ممالک کو ہمسایہ ملک قرار دیا تھا۔

غزوہ بدر و احد کے اصحاب سے متعلق متنازع الفاظ

جون میں قوم سے اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم غزوہ بدر و احد کے اصحاب سے متعلق کچھ ایسے الفاظ کہہ گئے جن کے باعث ان پر شدید تنقید کی گئی۔

قوم سے خطاب کے دوران ایک موقع پر عمران خان نے غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے والے صحابہ کے بارے میں نامناسب الفاظ ادا کیے۔

ان کے ان الفاظ کی مختلف حلقوں بالخصوص مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی اور معافی کا مطالبہ کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان کے خطاب میں غزوہ بدر اور غزوہ احد کے حوالوں پر معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی کا ردعمل بھی سامنے آیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ' جنگ اُحد میں تیر انداز دستے کا ٹیلے سے ہٹ جانا ایک اجتہادی لغزش تھی، وہ حضرات یہ سمجھے تھے کہ دشمن بھاگ چکا ہے اور جنگ ختم ہو گئی ہے اس لیے ہمارا یہاں کھڑا رہنا ضروری نہیں ہے۔ اسے جانی بوجھی نافرمانی نہیں کہا جا سکتا اور اس کے لئے لوٹ مار کا لفظ استعمال کرنا بھی بے ادبی ہے۔'

فواد چوہدری

متنازع بیانات داغنے میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور موجودہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور اپنے کئی بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے۔

ہیلی کاپٹر کا فی کلومیٹر خرچہ 55 روپے

عام انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو اقتدار میں آئے ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایسا بیان دیا جس نے سب کو سر کھجانے پر مجبور کردیا اور سیاستدان تو سیاستدان عوامی سطح پر بھی ان کا خوب مذاق اڑایا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما خورشید شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان روزانہ دو مرتبہ بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاؤس ہیلی کاپٹر کے ذریعے آتے جاتے ہیں جس پر 3 لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالہ تک ہیلی کاپٹر کے روزمرہ استعمال پر تنقید کے جواب میں فواد چوہدری نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ 'پی ایم ہاؤس سے بنی گالہ تک ہیلی کاپٹر کا فی کلومیٹر خرچہ 50 سے 55 روپے ہے۔'

وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا اور ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر آڑے ہاتھوں لیا گیا۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے فواد چوہدری کے اس بیان پر خوب طنز کیا گیا۔

بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ہیلی کاپٹر کے خرچے کا حساب انہوں نے کیسے لگایا تو وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے سے ہونے والا خرچہ گوگل کیا تھا لہٰذا آپ بھی گوگل کرکے دیکھ لیں پتہ چل جائے گا، عمران خان وزیر اعظم ہیں کیا وہ ٹیکسی پر بنی گالہ جائیں؟'

علیم خان کا مقدمہ کم سنگین

رواں سال اپریل میں فواد چوہدری نے آمدن سے زائد اثاثے کیس میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما علیم خان کے حوالے سے بیان دیا کہ 'علیم خان کا مقدمہ کم سنگین ہے، اگر اربوں روپے کھانے والے ملزموں کو اتنی آسانی سے ضمانت مل سکتی ہے تو ایک کاروباری آدمی کو جس پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام نہیں ضمانت دینی چاہیے۔'

انہوں نے کہا کہ 'عام تاثر یہ ہے علیم کو اپوزیشن کے شور کی وجہ سے ناکردہ جرم کی سزا دی جارہی ہے۔'

بعد ازاں نیب نے فواد چوہدری کے علیم خان کے مقدمے کے حوالے سے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کے بیانات میں کوئی خلاف ورزی سامنے آئی تو قانون کے مطابق کارروائی کرسکتے ہیں۔'

'احتساب ہم کر رہے ہیں نیب نہیں'

جون 2019 میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد کے نجی ٹی وی چینل کو ایک متنازع انٹرویو کی بھی گونج سنائی دی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے وعدہ کیا تھا ہم احتساب کریں گے، الحمد اللہ تمام وہ جن کا احتساب کرنا تھا ہم نے کامیابی سے کیا۔'

جب پروگرام کے میزبان نے یہ سوال کیا کہ آپ احتساب کر رہے یا نیب؟ فواد چوہدری نے کہا کہ ’ہم کر رہے ہیں، اس سے پہلے نیب کہا تھا۔'

وفاقی وزیر کے اس بیان کا نیب نے نوٹس لیا اور احتساب بیورو نے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'فواد چوہدری کا یہ بیان حقائق کے منافی ہے، جس سے نہ صرف نیب کا تشخص مجروح ہوا بلکہ فرائض اور محنت سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے افسران و اہلکاروں کے کام کی بھی نفی ہوئی ہے۔'

نیب کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کا یہ بیان جاری تحقیقات پر اثر انداز اور تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔

حکومت میں 'اندرونی اختلافات' کا متنازع بیان

جون میں ہی وفاقی وزیر نے ایسا بیان دیا جس سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف میں اندورنی اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔

فواد چوہدری نے نجی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ ’میرا یقین ہے کہ ہماری حکومت کے سیاسی فیصلے کمزور ہیں، اہم فیصلے کیے جاتے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں ہوتا، بہتری کی ضرورت ہے کہ کیسے فیصلہ لیا جائے۔'

تقریباً تمام نجی چینلز نے ان کے اس بیان کو نشر کیا جس کے بعد حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’تمام فیصلے عمران خان کی قیادت میں پارٹی لیڈرز کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔'

بعد ازاں فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'میرے انٹرویو پر مبنی بعض سرخیاں گمراہ کن تھیں۔'

انہوں نے وضاحت دی کہ ’فیصلے منتخب اراکین کو کرنا چاہئیں، غیر منتخب اراکین پر بعض اعتراضات ہیں، جس پر توجہ دینی چاہیے۔'

فواد چوہدری کو اطلاعات و نشریات کی اہم وزارت واپس لے کر نسبتاً کم اہم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت سونپ دی گئی تھی۔

فیاض الحسن چوہان

تحریک انصاف کے ایک اور رہنما و صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور کبھی ایک بیان تو کبھی دوسرے بیان پر تنقید کی زد میں رہے، یہاں تک کہ ان ہی متنازع بیانات کی وجہ سے انہیں وزارت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

اداکارہ نرگس اور میگھا کے خلاف نامناسب گفتگو

اگست 2018 میں فیاض الحسن چوہان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک تقریر میں پاکستان فلم انڈسٹری اور اداکارہ نرگس اور میگھا کے خلاف نامناسب گفتگو کرتے نظر آئے۔

ویڈیو میں انہوں نے عید الاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی فلم ’جوانی پھر نہیں آنی-2‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ کیا کوئی وکھری (weird) جوانی ہے جو سینما گھروں پر آئی ہوئی ہے، کیا یہ انسانیت ہے؟ آدھی ننگی عورتوں کی تصاویر پرنٹ کرکے سینما گھروں کے باہر لگادی ہیں، ایسے لوگوں کے لیے وہ ٹوٹے (porn) موجود ہیں جو وہ دیکھ لیتے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’میری کوشش تھی کہ یہ معاملہ میری وزارتی حدود میں آتا، تو پھر میں نرگس کو حاجی نرگس نہ بناتا اور میگھا سال کے 3 نہیں 300 روزے نہ رکھتی تو آپ مجھے کہتے۔'

سوشل میڈیا پر صارفین نے فیاض الحسن کے اس انداز کو پسند نہ کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

بعد ازاں صوبائی وزیر نے اپنے ویڈیو پیغامات جاری کیے جن میں وہ دونوں اداکاراؤں معافی مانگتے نظر آئے۔

پہلے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’میں نرگس صاحبہ سے معذرت کرتا ہوں، وہ قابل احترام ہیں، وہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کا ایک روشن ستارہ ہیں، وہ پاکستان کی سفیر ہیں، فن کی دنیا میں ان کا ایک مقام ہے، میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔'

ایک اور ویڈیو پیغام میں ان کا اداکارہ میگھا سے معافی مانگتے ہوئے کہنا تھا ’وہ ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ہم سب کو مل کر ایک ساتھ کام کرنا چاہیے، تاکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو آگے لایا جاسکے جو بھارتی فلم انڈسٹری کی وجہ سے کافی پیچھے رہ گئی ہے۔'

'کشمیری' لفظ کا طنزیہ استعمال

اکتوبر میں فیاض الحسن چوہان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شریف خاندان کے ساتھ ’کشمیری‘ لفظ کو طنزیہ لہجے میں استعمال کیا تھا جس کے بعد لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیریوں میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کی یہ گفتگو وائرل ہوئی جس میں پنجاب کے وزیر کو امتیازی رویہ برتنے پر آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا۔

بھارتیوں کے بجائے ہندوؤں پر تنقید

مارچ 2019 میں فیاض الحسن نے لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا جس میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے جواب میں انہوں نے سخت الفاظ میں بھارتیوں کے بجائے ہندوؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کے بیان کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوگئی جس پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

فیاض الحسن چوہان کو نہ صرف اپنی جماعت 'پی ٹی آئی' کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھی اپنے ایک پیغام میں ان کے بیان کی نفی کی۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب کے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا استعفیٰ منظور کر لیا۔

فیصل واڈا

پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا بھی اپنی وزارت کی وجہ سے کم اور اپنے تنازعات کی وجہ سے زیادہ جانے جاتے ہیں اور دیگر وزرا کی طرح وہ بھی کئی بار اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے نہ صرف تنقید کی زد میں آئے بلکہ ان پر توہین مذہب کا الزام بھی لگا۔

'حمزہ شہباز رات کی تاریکی میں ڈیل کیلئے کسی سے ملنے گئے'

4 فروری 2019 کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا نے انکشاف کیا تھا کہ ’پانچ ہفتے قبل حمزہ شہباز رات کی تاریکی میں اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ بدل کر ڈیل کے لیے کسی سے ملنے کے لیے گئے تھے۔ وہاں سے انہیں جواب ملا کہ پرانے پاکستان میں ہم فیصلے کر سکتے تھے، نئے پاکستان میں فیصلے کرنے کی ذات اللہ کے بعد عمران خان صاحب ہیں ۔۔۔۔ میں سب کچھ قوم کو کھل کر نہیں بتا سکتا۔'

انہوں نے پروگرام میں مزید انکشاف کیا کہ ’(ن) لیگ میں فارورڈ بلاک بن رہا ہے اور شہباز شریف اور نواز شریف ایک پیج پر نہیں ہیں۔'

وفاقی وزیر کے اس بیان پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور حکومت پر تنقید کی گئی۔

'اللہ کے بعد عمران خان سب سے عظیم شخص'

3 مارچ 2019 کو ایک ٹی وی پروگرام میں انٹرویو کے دوران فیصل واڈا نے کہا کہ 'اللہ کے بعد عمران خان سب سے عظیم شخص ہیں۔'

اس بیان کے بعد اگرچہ انہوں نے اسی پروگرام کے دوران معذرت بھی کی لیکن وفاقی وزیر کے لیے پارلیمان میں مشکلات بڑھ گئیں، جہاں ان کے خلاف نہ صرف مذمتی قرارداد لانے کی کوشش کی گئی بلکہ ان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

فیصل واڈا کے اس متنازع بیان پر ان کے خلاف راولپنڈی کی سیشن عدالت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دائر کی گئی۔

نوکریوں کی بارش

اپریل میں وفاقی وزیر نے ایک بار پھر ایسا بیان دیا جس پر نہ صرف ان کا مذاق اڑایا گیا بلکہ حکومت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

نجی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے فیصل واڈا نے کہا کہ 'ہفتے، دس دن میں ملک میں نوکریاں زیادہ ہو جائیں گی اور نوکریوں کے خواہش مند کم پڑ جائیں گے، چند ہفتوں میں حالات اتنے اچھے ہو جائیں گے کہ پان سگریٹ والے بھی آکر کہیں گے کہ آﺅ ہم سے ٹیکس لے لو۔'

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہو سکا تو میری تکہ بوٹی کردی جائے۔ اس دوران پروگرام کے میزبان نے سوال کیا کہ رزاق داؤد نے کہا ہے کہ پاکستان تو کنگال ہو چکا جس پر فیصل واڈا بولے کہ وہ منتخب رکن اسمبلی نہیں۔