عمران خان پاکستانیوں کو ترک ڈراما دیریلش ارطغرل دیکھنے کی تجویز کیوں دے رہے ہیں؟

مشکل حالات میں گھرے مسلمانوں کی زخمی نفسیات کے لیے دیریلش مرہم کی طرح ایک نیا جذبہ پیدا کرتی دکھائی دیتی ہے۔
اپ ڈیٹ اکتوبر 29, 2019 10:02am

وزیرِاعظم پاکستان چاہتے ہیں کہ معروف ترک ٹی وی سیریز دیریلش: ارطغرل پاکستانی ضرور دیکھیں۔

عمران خان نے ایک تقریب میں نہ صرف اس مقبول سیریل کو دیکھنے کی تجویز دی بلکہ ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کے پانچوں سیزنز کو اردو میں ڈب کرکے نشر کرنا چاہیے تاکہ یہاں کے عوام یہ سیریز دیکھ اور سمجھ سکیں۔

وزیرِاعظم کی اس بات نے ان پاکستانی ڈراما اور فلم سازوں پر تو حیرتوں کے پہاڑ ضرور گرائے ہوں گے جو چند برس قبل عشق ممنوع اور حریم سلطان جیسے ترک ٹی وی سیریلز پر مکمل پابندی یا پھر ان کی نشریات محدود کرنے کی لابنگ میں مصروف تھے کیونکہ ان ترک ڈراموں کی مقبولیت نوزائیدہ لیکن غیرمستحکم پاکستانی صنعت کی تباہی کا باعث بن سکتی تھی۔

لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ عمران خان جیسے مقبول رہنما نے ایک غیر ملکی ٹی وی شو دیکھنے کی تجویز دی؟

یہ وجہ ہمیں شاید اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی اس مشہور پس پردہ ملاقات میں مل سکتی ہے جس میں وزیرِاعظم خان ترک صدر رجب طیب اردوان اور ملائشین وزیرِاعظم مہاتیر محمد ایک ساتھ بیٹھے تھے۔

تینوں رہنماؤں کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر اسلاموفوبیا کے ابھرتے مسائل اور اسلام و مسلمانوں کے حوالے سے گمراہ کن سنگین تصورات سے نمٹنے کی خاطر ایک انگریزی چینل کا تصور پیش کیا گیا۔

شمشیر زنی سے بھرپور ایکشن ایڈونچر سیریل دیریلش 12ویں صدی کے انطالیہ (موجودہ ترکی) میں مسلمان اوغوز ترکوں کی منگول حملہ آوروں، بازنطینی مسیحی اور مسلح صلیبی تنظیم کے جنگجوؤں ”نائٹ ٹیمپلرز“ کے صلیبی جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی لڑائیوں کی کہانیوں پر مبنی ہے۔

اس دور کا پس منظر بہتر انداز میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ 1524ء میں عظیم مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر سب سے پہلے لاہور پہنچے تھے۔ 1258ء میں ہلاکو خان نے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی عظیم سلطنت کے دارالحکومت بغداد کو تاخت و تاراج کردیا تھا، اس شہر کی گلیوں کو خون میں نہلایا دیا تھا اور ان گنت قیمتی کتابوں کو دریائے دجلہ میں بہا کر دریا کا پانی سیاہ کردیا تھا۔

وہ کون سی خاص بات ہے جو دیریلش ارطغرل کو اتنا زیادہ مقبول بناتی ہے؟

اکثر ’ترک گیم آف تھرونز‘ کے نام سے جانے والی دیریلش سیریز عالمگیر مقبولیت کی حامل ہے اور 60 سے زائد ملکوں میں اس ٹی وی شو کے مداحوں کی ایک کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ یہ شو نا صرف مغرب میں بکھرے مسلمانوں میں مقبول ہے بلکہ یہ مشرق وسطی، جنوبی افریقہ اور حیرت انگیز طور پر جنوبی امریکا میں بھی زبردست مقبولیت سمیٹ رہا ہے۔

وینزویلا کے صدر نکولس مدورو بھی اس ٹی وی سیریل کے بہت بڑے مداح ہیں اور حال ہی میں شو کے سیٹ پر ان کی آمد کے موقعے پر انہیں خوشگوار موڈ میں ترک جنگجو یا الپ کی ٹوپی پہنے ہوئے پایا گیا۔

ونزویلا کے صدر نکولاس مادورو دیریلش کے سیٹ پر
ونزویلا کے صدر نکولاس مادورو دیریلش کے سیٹ پر

دیریلش کی تحریر و تخلیق کار محمت (محمد) بوزدک ایک منجھے ہوئے فلم ساز ہیں، جن کے ترکی کی قدامت پسند حکمراں جماعت اے کے پی پارٹی سے تعلقات استوار ہیں۔ انہوں نے کمال مہارت سے روایتی اسلامی عقائد کو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بُرائی کے خلاف لڑنے والے ہیرو کی کہانی کے ساتھ ملاکر جس طرح اس شو کے ذریعے پیش کیا ہے وہی اس کی کامیابی کی کنجی ہے۔

اعلیٰ معیار کے حامل پروڈکشن اقدار، اپنے کرداروں کو سنجیدہ لینے والے باصلاحیت اداکار اور ایک ڈائریکٹر جسے یہ معلوم ہے کہ ہر شو کی ہر قسط کو کس طرح دلچسپ بنایا جائے کہ ناظرین آخری وقت تک ٹی وی اسکرین سے نظریں نہ ہٹا سکیں، یہی وہ خصوصیات ہیں جو ناظرین کو اس شو کی لت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

شو کی ایک خاص بات اس میں دکھائی جانے والی لڑائیاں ہیں اور پیش کار نے اس معاملے پر بجٹ کی پرواہ نہیں کی جس کا اندازہ آپ اسی بات سے لگا سکتے ہیں کہ ادارکاروں کی تربیت اور بُرے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ہر لڑائی کے موقعے پر کوآرڈینیشن کے لیے ہولی وڈ کی اسٹنٹ ٹیم نومیڈ (NOMAD) کی خدمات حاصل کی گئیں۔

سلطنتوں کے چوراہوں کے پس منظر پر مبنی اس شو میں ارطغرل غازی کی شخصیت، ان کے خاندان اور دوستوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اس کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے سیریز کے مرکزی اداکار انجن التان دوزیتان (ارطغرل ) نے کہا کہ ’وہ دنیا پر 600 سال حکمرانی کرنے والے سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کے والد تھے۔ دراصل ہمارے پاس اس دور کے بارے میں جاننے کے لیے بہت زیادہ حوالہ جات نہیں ہیں۔ ہمارے پاس حوالہ جات کے لحاظ سے صرف 7 کے قریب صفحے موجود ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ ایک حقیقی ہیرو تھے۔ ان کے لیے حدود رکاوٹ نہیں بنیں۔‘

خود دوزیتان اس سیریل کی کامیابی کی ایک اور کنجی ہیں، صرف چند صفحات کو پڑھ کر اس اداکار نے ایک ایسے یادگار کردار کو تخلیق دیا ہے کہ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے ناظرین بھی اس کردار کی حمایت و ستائش کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ غیر مسلموں میں بھی ارطغرل کے بڑے مداح پائے جاتے ہیں جو ہر قسم کے ثقافتی تعصبات کو ایک طرف رکھ کر اس شو کو خالص تفریحی مواد کے طور پر خاصا پسند کرتے ہیں۔

خود دوزیتان اس سیریل کی کامیابی کی ایک اور کنجی ہیں
خود دوزیتان اس سیریل کی کامیابی کی ایک اور کنجی ہیں

تاریخی پس منظر میں تیار کیے جانے والی فلموں یا ڈراموں میں مسلمانوں کی عکاسی وحشیوں یا ظالموں کے طور پر کی جاتی ہے۔ مسلمان ممالک یا تو جنگ ناموں پر مبنی مواد تیار نہیں کرسکتے یا پھر فلم سازوں میں تاریخ کے معاملے پر عدم توجہی نظر آتی ہے، چنانچہ کلونیل، مغربی نکتہ نظر غالب نظر آتا ہے اور مسلسل اس مواد کو دہرائے جانے کی وجہ سے ایک حد تک ناظرین کی سوچ بھی اس خاص نکتہ نظر کے مطابق ڈھلتی جاتی ہے۔

تاریخ کے پس منظر میں بنائی جانے والی حالیہ بھارتی فلموں کو ہی لیجیے۔ بولی وڈ فلم پدماوت میں دہلی سلطنت کے تاریخ ساز حکمران علاؤ الدین خلجی کو ایک سنکی، گوشت خور وحشی کے طور پر دیکھایا گیا ہے۔

اگرچہ خلجی ایک سخت مزاج آدمی تھا لیکن وہ وقت سے پیچھے اور کسی طور پر بھی غیر مہذب وحشی نہیں تھا کہ جس کی عکاسی موجودہ دور کی بھارتی قوم پرستی کے لینس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

ارطغرل دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے ایلیس (Alice) آئینے کی دوسری طرف بسی طلسماتی دنیا دیکھتا ہے کیونکہ اس شو کے ذریعے ہم ان مسلمان کرداروں کو دیکھتے ہیں جو اچھے فیصلے لیتے ہیں، کمزور کی پرواہ کرتے ہیں، اصولوں کی خاطر کھڑے ہوتے ہیں اور ظلم کے خلاف لڑتے ہیں۔

فلم پدماوت میں خلجی کا کردار نبھانے والے رنویر سنگھ
فلم پدماوت میں خلجی کا کردار نبھانے والے رنویر سنگھ

چونکہ شو کی کہانی افسانوی ہے اس وجہ سے تاریخی درستگی کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔

دیریلش نے کس بات پر خود کو منوایا؟

اگر آپ اس شو کا ذرا گہرائی سے جائزہ لیں تو آپ پائیں گے کہ اس سیریل کی ہر قسط میں روحانی اور زندگی کے اسباق سیکھنے کو ملتے ہیں کیونکہ یہ شو مرکزی کرداروں کو اخلاقی خرابیوں اور انہیں ٹھیک کرنے کے حوالے سے بات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ایک اور خاص بات عالموں یا مذہبی دانشوروں کے کرداروں کا استعمال ہے۔ ابتدائی سیزنز میں معروف اسلامی دانشور اور صوفی ابن عربی کا کردار ارطغرل کو اصلاح کرتے اور مشورے دیتا نظر آتا ہے جبکہ سیریز میں آگے جاکر مقامی امام یا خوجہ کا کردار ان کی رہنمائی کرتا نظر آتا ہے۔

جب بھی ڈرامے میں ہیرو کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو ان اسکالرز کے کردار اسکرین پر نظر آنے لگتے ہیں جو ڈرامے کے اہم کرداروں کو قرآن و حدیث اور خاص طور پر آنحضرت ﷺ کی حیاتِ طیبہ کی روشنی میں یہ سمجھاتے ہیں کہ صورتحال سے کیسے نمٹا جائے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تعلمیات پر بھی بہت زیادہ زور دیا گیا ہے کہ جنہیں ترک جنگجو اپنا سرپرست مانتے ہیں۔

اس سیریل کے سب سے زیادہ قابلِ ذکر اسباق ہیں کہ آپ کا مقصد ہمیشہ عدل و انصاف کے نظام کا قیام، معصوم لوگوں کا تحفظ، خدا پر یقین کامل رکھنا اور کبھی ہمت نہ ہارنا ہونا چاہیے۔ ’فتح ہماری نہیں اللہ کی ہے‘۔ اس ڈرامے کا مقبول ترین جملہ قرار دیا جاسکتا ہے، ایک ایسی سوچ جو سیدھا مسلمانوں کے دل کو چھو لیتی ہے۔

کہانی چاہے کوئی بھی موڑ لیتی ہو ارطغرل کو تین یا اس سے بھی زائد مشکلات گھیرے رکھتی ہیں۔ جیسے خاندانی مسائل، ان کے قبیلے میں داخلی تنازعات، شو کی پوری کہانی میں وہ مسلح صلیبی تنظیم کے جنگجوؤں ”نائٹ ٹیمپلرز“ یا منگولوں جیسے بیرونی دشمنوں سے نمٹ رہے ہوتے ہیں جو ہمیشہ انہیں ختم کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی کردار کو عام طور پر ایک چوتھے سیاسی محاذ کا بھی سامنا ہوتا ہے جو اپنی ہی صفوں میں شامل دشمنوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ دشمن ہمیشہ ارطغرل کی طرح ترک ہی ہوتے ہیں لیکن لالچ، تکبر یا حسد کی وجہ سے اپنی کامیابی کی خاطر وہ کسی بھی قسم کی بغاوت سے دریغ نہیں کرتے۔

باغیوں کی موجودگی کے باعث ولن کرداروں کا ایک بڑا ہی دلچسپ ذیلی گروہ تیار ہوجاتا ہے۔ ان باغیوں میں سے ایک کردوغلو ہے جو خفیہ طور پر ”نائٹ ٹیمپلرز“ کے ساتھ مل کر سازش میں مصروف ہے اور اس کے علاوہ ایک باغی سلجوق سلطان کا منصوبہ بندی کا مشیر امیر سعدالدین (سعدتین کوپبک) ہے اور اس کے بعد مضحکہ خیز طور پر نامعقول دکھایا گیا کردار اورال بے ہے جو بغاوت کرتا ہے۔

اس گروہ کا ایک سب سے دلچسپ ممبر بیبولات بے، ایک ایسا طاقتور سربراہ جو اپنے ہی لوگوں کو دشمنوں کے ساتھ مل کر قتل کرواتا ہے اور ان پر نگرانی رکھتا ہے۔ دیگر شریک کاروں کی ہی طرح وہ یہ کہہ کر خود کو ٹھیک قرار دیتا ہے کہ اس نے اپنے لوگوں کے تحفظ کی خاطر منگولوں کا ساتھ دیا.

اس شو میں بیبولات بے (علی ارسان دورو) کا کردار بہت ہی دلچسپ ہے
اس شو میں بیبولات بے (علی ارسان دورو) کا کردار بہت ہی دلچسپ ہے

ڈرامے کو لکھنے والے مہمت بوزدک نے تمسخر آمیزی سے اجتناب کرتے ہوئے قابلِ شناخت اور حیران کن طور پر پُرمعنی ولن کردار تخلیق کیے ہیں جو ضروری نہیں کہ دوسری دنیا کے شیطان جیسے نظر آتے ہیں۔

مثلاً، ڈراؤنا کردار نویان اور آرک بوکا منگول غلبے اور بدلے کے خواہاں ہوتے ہیں، صلیبی جنگجو تیتوش ”نائٹ ٹیمپلرز“ میں سے ایک ہے جو امید لگائے بیٹھا ہے کہ ایک اور صلیبی جنگ ہو۔ یہ سارے ولن بہادر، ذہین اور حیران کن طور پر روحانیت میں یقین رکھنے والے دکھائے گئے ہیں کیونکہ ان کرداروں کو عبادت یا مراقبہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ان کرداروں کی وجہ سے ایک طرف ارطغرل کے کردار کو تقویت ملتی ہے کیونکہ وہ ان پر غالب آسکتا یا پھر کم از کم اس قسم کے ڈراؤنے اور ذہین ولن کرداروں میں اپنا وجود باقی رکھ پاتا ہے، وہیں دوسری طرف کہانی میں ان کرداروں کا مذکورہ پہلو یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مضبوط یا بہادر ہونا کافی نہیں بلکہ معصوم لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے والا اور انصاف کے لیے کھڑا ہونے والا ہی ایک اصل ہیرو ہوتا ہے۔

ابتدائی اقساط میں ارطغرل اپنی اسی راست بازی کی وجہ سے کئی بار ایسی مشکلات میں پھنس جاتا ہے کہ جن سے جان چھڑانا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے تاہم کبھی نہ ہمت ہارنے کا عزم انہیں ہر مشکل سے خود کو نکالنے میں مدد دیتا ہے۔

اگرچہ یہ اکثر کئی تاریخی و افسانوی ہیرو کرداروں کا خاصہ رہا ہے لیکن جو بات ارطغرل کو ممتاز بناتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی زندگی میں کئی ایسے مواقع آتے ہیں جب ہمت، استقامت، حکمتِ عملی اور چال بازی کافی نہیں ہوتی۔

پھر ان سب چیزوں کے بعد ہر موقعے پر دعا اور تقدیر کا عمل دخل لازمی رہتا ہے جو لاچارگی سے بھرے حالات میں بھی کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی دیتے ہیں۔ چاہے حلب میں واقع سلطان عزیز کے زہر سے بھرے کمرے میں پھنس جانے کا واقعہ ہو یا پھر جب منگول کیمپ میں ان کے ہاتھوں میں کیل ٹھونکے تب صوفیوں کی دعاؤں اور صدق دل سے اللہ سے مانگی گئی ان کی اپنی دعاؤں کی وہ طاقت تھی جو ان کی نجات کا ذریعہ بنی۔

دیریلش ارطغرل کی خواتین کردار کمزور و نازک نہیں

جس طرح مردوں سے متعلق زیادہ تر کہانیوں میں مرد کا تعلق اہم عنصر کے طور پر شامل ہوتا ہے ٹھیک ویسے ہی اس کہانی میں بھی یہ بات نظر آتی ہے، اگرچہ خونی رشتے دوستوں کے درمیان تعلق کے برابر نہیں ہوسکتے لیکن اپنی مرضی سے چنے گئے بھائی کا رشتہ ہی سب سے دیرپا اور مضبوط ہوتا ہے۔

ارطغرل اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ ’بغاوت کرنے والے کو معاف کرنا دراصل مظلوم انسان کے ساتھ جرم ہے۔ اور وفاداری کے اس سبق کو 5 سیزنز کے دوران تورگت الپ، دوگان اور بامسی اور عبدالرحمٰن کے انتہائی خلوص کے باعث مزید تقویت ملتی ہے۔

فلم و ڈراموں میں عمومی طور پر حرم میں چھپی مشرقی تہذیب کے مخصوص تصورات کے حامل کردار میں دکھائی جانے والی عورتوں کے برعکس اس کہانی میں خواتین کے کردار میں دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔

پہلے سیزن میں ایک بڑی ہی قابلِ ذکر تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے جس کی ابتدائی اقساط میں ارطغرل کی ہونے والی بیوی حلیمہ سلطان اور دیگر مرکزی خواتین کو بالوں کو ڈھانپے بغیر بلکہ آدھی آستین کی قمیض میں دکھایا گیا تھا تاہم بعد کی اقساط میں خواتین کے بالوں کو خوبصورت ترک طرز کے حجاب میں مکمل طور پر ڈھکا ہوا دکھایا گیا۔

یہ بات تاریخ کے پس منظر میں لکھی گئی کہانی ایرا مکھوٹی کی کتاب 'ڈاٹرز آف دی سن' کی یاد تازہ کردیتی ہے جو مغل خواتین اور تاریخ میں مسلمان خواتین کی ہونے والی گوشہ نشینی کے رجحان کے بارے میں لکھی گئی تھی۔

مغل خواتین دُور دراز کے خانہ بدوش چغتائی ترک اور تیموری خاندان کی نسل میں سے تھیں جو ریاست کی سرگرم، خود انحصار اور طاقتور ارکان شمار ہوتی تھیں۔ ان کی طاقت آگے بھی بحال رہی لیکن مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں جیسے ہی مغلوں نے بطور حکمران ذمہ داریوں کو سنبھالنا شروع کیا تو خواتین میں بھی قابلِ احترام گوشہ نشینی کا رجحان دھیرے دھیرے بڑھتا گیا۔

دیریلش: ارطغرل کی طاقتور اور پُرعزم خواتین پاکستانی اور بھارتی ڈراموں میں روتی ہوئی خواتین سے تو بہت زیادہ مختلف نظر آتی ہیں مگر وہ اس گیم آف تھرونز کے خواتین کرداروں کے ہم پلہ نہیں جس کا موازنہ اس سیریز کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

اس ڈرامے میں خواتین کو ضرورت پڑنے پر اکثر اوقات اپنے شوہروں کی جگہ بے یا سردار کا کردار ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، وہ تلواروں اور خنجروں سے لڑتی ہیں اور کسی کو خوش کرنے کی خاطر اپنے لیے چُنے گئے کسی مرد سے چپ سادھے شادی نہیں کرتیں چاہے وہ سلطان ہی کیوں نہ ہو۔

سیریز میں بظاہر قدامت پسند ماحول اور خطرناک دور کی منظرکشی کے باوجود بھی خواتین آزادانہ طور پر سفر کرتے ہوئے نظر آتی ہیں اور غیرت کے تصورات کا پاس رکھنا ہی ان کی زندگی کے اہم ترین مقصد کے طور پر نہیں دکھایا گیا۔

تاہم آزادی کا یہ سارا تصور اس وقت ماند پڑتا نظر آتا ہے جب ڈرامے میں خواتین کو آزاد حکمران بننے کی اجازت نہیں ملتی، اصلحان خاتون اور ایلبلغی خاتون کو ورثے میں قیادت تو ملتی ہے لیکن شادی کرنے پر انہیں قیادت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔

یہ تو ہم جانتے ہیں کہ 12ویں صدی کا دور روشن خیالی کے لیے زیادہ معروف نہیں لیکن تاریخ میں ایسی کئی ملکائیں گزری ہیں جو آزادانہ حیثیت میں حکمرانی کرتے ہوئے اپنے اپنے زمانے کی سختیوں کے آگے سینہ سپر ہوئیں۔

اب ہر طرح سے بہترین تو نہیں کہا جاسکتا

اگرچہ بہت سے لوگ اس شو کو ’اسلامی اقدار‘ کی مثال کے طور پیش کرتے ہوئے تعریفوں میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے مگر اس کہانی کے چند پہلو ایسے بھی ہیں جن کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے ڈرامے کی کہانی مذکورہ دعوے پر پورا نہیں اترتی۔

اسلام میں معافی دینے یا درگزر کرنے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے لیکن ڈرامے کی کہانی کا محور کئی بار انتقام پر مبنی انصاف نظر آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی روایت بھی مردوں کو اپنی بیویوں سے مشاورت کرنے کی ترغیب دیتی ہے تاہم ڈرامے میں خواتین کو مضبوط کردار دیے جانے کے باوجود بھی اس بات پر زور نہیں دیا گیا ہے۔

ترکی میں یہ سیریل تنازع کی زد میں بھی رہ چکی ہے کیونکہ سیکولر میڈیا کے ممبران اس سیریز کو نظر انداز اور اہمیت نہ دینے کی کوشش کرچکے ہیں۔

ایک ایوارڈ تقریب کے موقعے پر اداکاروں کی ٹیم کو ایوارڈ جیتنے کے باوجود بھی اسٹیج پر بات کرنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے سیریل کے مداح بھڑک اٹھے اور انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اشرافیہ اور سیکولر یا بایاں بازو کے لوگ قدامت پسند رجحان رکھنے والوں کو خاموش رکھنا چاہتے ہیں جنہیں یہ شو بے حد پسند ہے۔

وہ خواتین و حضرات جو بھارتی اور پاکستانی ڈراموں سے آشنا ہیں انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ انہیں اس شو کی کہانی میں بھی ایسے جانے پہچانے عناصر دیکھنے کو ملیں گے، جیسے اقتدار کی خاطر کی جانے والی دغابازیاں اور اثر و رسوخ کے جھگڑے میں کون کس کا ساتھ دے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں کہانی میں بہت زیادہ مثبت رنگ اور دوستی کا عنصر بھی ملے گا۔

پاکستانیوں کو تو خاص طور پر یہ شو اپنا سا لگ سکتا ہے کیونکہ پانچویں سیزن میں شامل مرکزی کرداروں میں سے ایک بیبولات بے (علی ارسان دورو) کے نین نقش ہمارے ہمایوں سعید سے کافی ملتے ہیں۔

ہمایوں سعید اور  علی ارسان دورو کے نین نقش کافی ملتے جُلتے ہیں
ہمایوں سعید اور علی ارسان دورو کے نین نقش کافی ملتے جُلتے ہیں

عمران خان جیسے رہنماؤں میں دیریلش کی مقبولیت کے پیچھے چھپی اصل وجہ اس کہانی کے ذریعے دیا گیا پُرامید رہنے کا پیغام اور مشکل سے مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہوسکتا ہے۔ مشکل حالات میں گھرے مسلمانوں کی زخمی اجتماعی نفسیات کے لیے دیریلش سیریز مرہم کی طرح ایک نیا جذبہ پیدا کرتی دکھائی دیتی ہے جو مدت سے عالمی برادری کا ایک طاقتور اور سودمند رکن بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

کہانی میں سے مذہبی پہلو نکال بھی دیا جائے تب بھی ارطغرل آپ کو ایک لمحے کے لیے بھی اکتاہٹ نہیں ہونے دے گا۔ اس کے علاوہ بدی پر نیکی کی جیت کے عالمگیر اقدار اور استقامت پسندی کے ذریعے مشکل وقت سے نکلنے کے حوصلے کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ لہٰذا یہ شو آپ کی روح میں ایک نئی توانائی بھر سکتا ہے پھر چاہے آپ کا تعلق کسی بھی عقیدے کے ماننے والوں سے ہو یا پھر سرے سے کوئی عقیدہ ہی نہ رکھتے ہوں۔