گلابوں کو ترستی قبریں: کورونا وائرس سے مرنے والوں کے غسل اور کفن دفن کا عمل

قبرستان پہنچنے کے بعد اکثر تابوت کو ایمبولینس سے نکالے بغیر ہی 4 سے 5 افراد تابوت کی طرف رخ کرکے نماز جنازہ ادا کرتے ہیں

اپ ڈیٹ اپريل 16, 2020 02:25pm

گزشتہ ہفتے کراچی کے ایک ممتاز فزیشن کورونا وائرس کی زد میں آکر جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی آخری رسومات بڑی سادگی اور حکومت کی جانب سے مرتب کردہ حفاظتی معیارات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ادا کی گئیں۔

ان کی پڑوسی اے زیڈ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئیں کہ ان کی لحد میں اتارنے کی رسومات اس قدر غیر روایتی انداز میں انجام دی گئیں کہ ان سے پیار کرنے والے نہ تو ان کا آخری دیدار کرسکے اور نہ ہی ان کی بیوہ اور بیٹے سے تعزیت کرسکے۔

وہ اس بات پر افسوس کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ان کے بھائی بھی آخری رسومات میں شرکت نہ کرسکے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ناصرف ان کے پڑوسی بلکہ پورے محلے اور دیگر علاقوں کے لوگ بھی ان کی نماز جنازہ میں شرکت کرتے۔

عالمی وبا کے پیش نظر ہسپتال مخصوص معیارات کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں قائم آئسولیشن وارڈ میں جیسے ہی کسی شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوتی ہے اور اسے ہسپتال میں داخل کردیا جاتا ہے تو فوری طور پر حکومتِ سندھ کے صوبائی محکمہ صحت کو اس بارے میں اطلاع دی جاتی ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز کے آئسولیشن وارڈ کی سربراہ شوبھا لکشمی کہتی ہیں کہ 'اگر کسی شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے تو یہ اطلاع ان کے لواحقین کے ساتھ حکومت کو بھی دی جاتی ہے اور پھر ایدھی ایمبولینس لکڑی کے تابوت کے ساتھ وہاں پہنچ جاتی ہے۔ ہم ایمبولینس کے ساتھ آئے رضاکاروں کو حفاظتی سامان فراہم کرتے ہیں جس کے بعد وہ میت کو غسل دیتے ہیں'۔

کمشنر آفس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب تک مردہ خانے میں میت کو پیک کرکے اسے ایدھی رضاکار کے حوالے نہیں کردیا جاتا تب تک ضلعی صحت آفس کا کوئی ایک نمائندہ وہاں موجود رہتا ہے۔

مگر اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ فلاحی ادارہ میت کو غسل دینے کے لیے اپنے مردہ خانے میں لے جاتا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن میں شعبہ ایمبولینس کے انچارج محمد بلال کو حال ہی میں ایک ہسپتال کی جانب سے کورونا کے باعث ہونے والی موت کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

بلال اس بارے میں بتاتے ہیں کہ ’اطلاع ملنے پر میں نے حفاظتی کٹ میں ملبوس ڈرائیور سمیت 3 لوگوں کو ہسپتال بھیجا جہاں ہسپتال حکام نے انہیں جراثیم کشی کے عمل سے گزاری جانے والی پلاسٹک شیٹ میں لپٹی ڈاکٹر کی لاش حوالے کی۔ وہاں سے لاش کو کورنگی میں واقع ایدھی کے مردہ خانے میں لایا گیا جہاں انہیں غسل دیا گیا‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کورونا کا شکار ہونے والوں کی میتوں کو اکثر و بیشتر اسی طرح سے غسل دیا جاتا ہے۔

گزشتہ 30 سالوں سے ایدھی فاؤنڈیشن سے وابستہ 48 سالہ رضاکار بلال کہتے ہیں کہ ہم اپنے 3 مردہ خانوں میں سے سہراب گوٹھ اور کورنگی میں واقع 2 مردہ خانوں کو استعمال کر رہے ہیں جہاں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی میتیں لائی جاتی ہیں اور غسل دینے کے بعد کفن پہنایا جاتا ہے۔

کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کے عمل کے نگران بلال کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے کم و بیش 20 افراد پر مشتمل غسل عملے کو حفاظتی کٹ (بشمول جوتے) پہننے اور اتارنے کے ساتھ ساتھ غسل کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے متعلق تربیت فراہم کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'نصف درجن رضاکاروں اور میں نے سول ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ کے انچارج ڈاکٹر سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی ہے۔ انچارج ڈاکٹر نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہمیں ان کی ہر بات سمجھ آئی ہو اور پھر ہم نے ان سے سیکھی احتیاطی تدابیر کو دیگر رضاکاروں تک پہنچایا۔'

بلال کہتے ہیں کہ جن میتوں کو ایدھی فاؤنڈیشن گھروں سے وصول کر رہا ہے ان کے سارے معاملات مشتبہ کورونا وائرس کیس کے طور پر انجام دیے جاتے ہیں کیونکہ اکثر لوگ بیماری سے منسلک نفرت کے پیش نظر حقیقت چھپاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو مردہ خانہ یا قبرستانوں کا رخ کرنا نہیں چاہتے اور پھر ہم خود ہی ان میتوں کی آخری رسومات ادا کردیتے ہیں'۔

ایدھی فاؤنڈیشن نے کورونا سے مرنے والوں کی میتوں کو اٹھانے کے لیے فی الحال کراچی میں موجود اپنی 350 ایمبولینسوں میں سے 5 ایمبولینسوں کو مختص کیا ہے۔

بلال کہتے ہیں کہ ہم ہر بار ایمبولینس کو استعمال کرنے کے بعد جراثیم سے پاک کرنے کے لیے اسپرے کرتے ہیں اور پھر اسے پانی سے صاف بھی کرتے ہیں۔

غسل

ڈاکٹر لکشمی کہتی ہیں کہ 'چونکہ مرض کے جراثیم تیزی سے ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اس لیے ہر ایک مریض پر استعمال ہونے والی ہر ایک ٹیوب اور دیگر چیزوں کو مناسب حفاظتی معیارات کا دھیان رکھتے ہوئے تلف کیا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے ایک مخصوص شعبہ بھی موجود ہے'۔

لیکن اگر لاش گھر سے وصول کی جائے تو ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار متوفی کے گھر پر جراثیم کش اسپرے اور اگر ممکن ہو تو بلیچ سے بھی صفائی کرتے ہیں۔ اس عمل کے بعد 30 منٹ انتظار کیا جاتا اور پھر میت کو ایمبولینس میں منتقل کرکے سیدھا مردہ خانے لے جایا جاتا ہے جہاں پر غسل کے لیے ایک خاص جگہ موجود ہے۔

بلال کہتے ہیں کہ 'میت کو لپٹا پلاسٹک اتار کر اسے پانی اور صابن سے دھویا جاتا ہے جس کے بعد اسے دوبارہ پلاسٹک شیٹ سے لپیٹنے اور کفن پہنانے کے بعد ایک بار پھر اس پر پلاسٹک کی شیٹ لپیٹ دی جاتی ہے جسے پھسلنے سے روکنے کے لیے سر اور پیروں کی جانب سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد میت کو ایمبولینس میں منتقل کرکے قبرستان پہنچایا جاتا ہے'۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ جس اسٹین لیس اسٹیل پر میت کو غسل دیا جاتا ہے اسے اور فرش کو اچھی طرح سرف کی مدد سے دھویا جاتا ہے۔ بعد ازاں میت کو لکڑی کے بنے تابوت میں بند کرنے بعد اسے ایمبولنس میں منتقل کردیا جاتا ہے۔

نمازِ جنازہ

قبرستان پہنچنے کے بعد اکثر تابوت کو ایمبولینس سے نکالے بغیر ہی امام سمیت 4 سے 5 افراد تابوت کی طرف رخ کرکے نماز جنازہ ادا کرتے ہیں۔

بلال نے بتایا کہ ’تابوت کو ایمبولینس سے اٹھانے والوں میں اکثر گورکن اور ایدھی کا عملہ ہوتا ہے اور وہ تابوت کو قبر میں اتار دیتے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں تابوت لے جانے میں مدد کے لیے مزید 2 افراد بھیجنے کے لیے کہا گیا اور اب ہم یہ کام کر رہے ہیں‘۔ بلال نے مزید بتایا کہ قبرستان میں داخل ہونے والے ہر شخص کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ پی پی ای کٹ کا استعمال کرے۔

ہاں لیکن اس پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ وائرس سے جاں بحق ہونے والے شخص کی تدفین کہاں کی جاسکتی ہے جیسا کہ کراچی میٹرو پولیٹین کارپوریشن (کے ایم سی) کے جاری کردہ ایک اخباری بیان میں بتایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ میئر وسیم اختر کے حوالے سے یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ کارپوریشن نے وائرس متاثرین کے لیے 5 قبرستان محمد شاہ قبرستان، سرجانی قبرستان، مواچھ گوٹھ قبرستان، کورنگی نمبر 6 قبرستان اور اورنگی ٹاؤن میں گلشنِ ضیا قبرستان مختص کیے ہیں، اس خبر کے بعد کے ایم سی کو یہ بیان جاری کرنا پڑا۔

کے ایم سی کے پاس کراچی میں موجود تقریباً 200 قبرستان میں سے 41 رجسٹرڈ ہیں۔ کارپوریشن کے قبرستانوں کے ڈائریکٹر اقبال پرویز نے بتایا کہ انہوں نے لواحقین کی درخواست پر مطلوبہ مقام پر اپنی نگرانی میں بھی تدفین کرائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس میں کوئی پابندی نہیں کہ وائرس زدہ لاشوں کو کسی خاص قبرستان میں ہی دفن کیا جائے۔

اقبال پرویز نے بتایا کہ عام قبر 7فٹ لمبی، 5 فٹ گہری اور 3 فٹ چوڑی ہوتی ہے جبکہ تابوت کی وجہ سے وائرس کے متاثرین کے لیے قبریں معمول کی قبروں سے بڑی ہوتی ہیں یعنی 8 فٹ لمبائی، 7 فٹ گہرائی اور 4 فٹ چوڑائی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک قبر کی تیاری میں 2 گورکن کو عمومی طور پر 4 سے 5 گھنٹے لگ سکتے ہیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے گورکن بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں اور جو مل جائے تو وہ تابوت کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیتا ہے، اس لیے ایدھی کے رضا کار ہی یہ ذمہ داری بخوبی انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اگر قبر تیار ہے تو نمازِ جنازہ پڑھنے اور متوفی کو دفن کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا، ’کاروبار بند ہونے کی وجہ سے قبر پر گلاب کی پتیاں بھی نہیں ڈالی جاتیں‘۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ قبر کی تیاری سے لیکر آخری رسومات تک کا یہ پورا مراحلہ ’انتہائی خاموشی سے، غمزدہ ماحول میں اور فوری طور پر انجام دیا جاتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جب لواحقین گھر لوٹتے ہیں تو غم باٹنے کے لیے وہاں کوئی نہیں ہوتا۔ اے زیڈ نے بتایا کہ ’ہم اپنے متوفی پڑوسی کے اہلِ خانہ کو کھانا نہیں بھیج سکتے، میں جاکر ان کی بیوی کو تسلی اور بچے کو گلے نہیں لگا سکتی، مرحوم کے لیے اجتماعی دعا نہیں کی جاسکتی اور ان کے غم میں شریک نہیں ہوا جاسکتا‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مرحوم کے لواحقین نے وائرس کے عدم پھیلاؤ کے ضوابط پر عمل پیرا ہوکر اپنے آس پاس کے لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کردی ہے۔


لکھاری فری لانس صحافی ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کریں: [email protected]